گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

تمہیدی کلمات

میں اور میری ہستی کیا! میری زندکی میں کون سے ایسے کارنامے ہیں کہ جن کے گُن گا کر خراج تحسین کی امید رکھوں، تادم جو کچھ اس ذیل میں قرطاس وقلم کے حوالے ہو چکا ہے، وہ میزبان انگریزی “Sheikh Suhaib Hasan Blog” کے تحت فیس بک میں اپنی پیدائش (نومبر 1942ء، مالیرکوٹلہ) سے لے کر، ہجرت از ہندوستان، آمد لاہور، پاکستان میں دورِ تعلیم پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں طلب علم اور بعد ازاں مشرقی افریقہ کے ایک گل گلزار ملک کینیا کے دار السلطنت نیروبی میں نو سالہ دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کا احاطہ کر کے اپنی دنوں فارغ ہوا ہوں۔ اس حکایت دراز کے لیے انگریزی کا انتخاب کیوں ہوا کہ میں اپنے ابناء و احفاء کو جو برطانیہ کے اسکولوں اور کالجوں کے خوب شناسا ہیں، ان کھٹن مراحل کی تصویر دکھا سکوں جن میں ان کے باپ (اور ان میں سے کئی کے لیے دادا اور نا نا) نے اپنی زندگی کے ابتدائی چونتیس سال میں قوس وقزح کے رنگ بھرے تھے۔ جولائی 1976ء میں جب یہ بندہ عاجز نیروبی سے لندن منتقل ہوا تو اس کی ہجرت درہجرت کا سلسلہ کسی ٹھکانے لگتا دکھائی دیتا تھا۔

خیال آیا کہ تادم تحریر جو کچھ لکھ چکا ہوں وہ انباء و احفاد کے شوق تجسس کو رام کرنے کے لیے کافی ہے اور موجودہ قارئین اگر اس میں شریک ہونا چاہیں تو وہ مذکورہ بلاگ تک رسائی حاصل کر کے میرے قاضی سے رشتہ جوڑ سکتے ہیں۔

اب یہ ایک نیا سلسلہ ہے جس کا آغاز صراط مستقیم کی میزبانی کا مرہون منت ہے، سلسلہ کلام اب لندن سے جڑا ہوا ہے۔ میں اب پچھلے 45 سال کی زندگی کے نشیب وفراز کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا بلکہ اپنے ایک مصری مہربان شیخ حسن الشافعی (سابق صدر انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد اور حالیہ صدر المجمع اللغوی، قاہرہ) کی تصنیف ’حیاتی فی حکایاتی‘ کے طرز پر ہر سال کے اکا دکا واقعات وحکایت کو بیان کرتا چلوں گا کہ شاید قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو۔

میں زندگی کی 78 بہاریں دیکھ چکا ہوں، نہ اب کسی کی مدح وستائش کا متمنی ہوں اورنہ کسی کی طرف سے تنقیص ومذمت کی پرواہ کرتا ہوں۔ البتہ دعا کا ضرور خواستگار ہوں اور یہ جو اپنی زندگی کے واقعات اور تجربات کا نچوڑ پیش کرنے چلا ہوں تو اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگر اس کے مطالعہ سے کسی بھی قارئ کو خیر کی طرف رغبت ہو اور دعوت الیٰ اللہ کے جذبہ میں حرارت پیدا ہوتی محسوس ہو تو وہ میرے حق میں بھی چند دعائیہ کلمات کہہ دے۔

کوشش کروں گا کہ واقعات کے بیان میں زبانی تسلسل قائم رہے لیکن عین ممکن ہے کہ کسی شخصیت کے تعارف میں یا کسی واقعہ کے بیان میں ماضی اور حال کی طنابیں گھل مل جائیں تاکہ اس موضوع کا ایک ہی جگہ کماحقہ احاطہ ہو جائے اور اعادہ کلام کی ضرورت نہ باقی رہے۔

تو لیجیے میں راجعوا پر قلم کو دعوت دیتا ہوں کہ اللہ کا نام لے اور کاغذ وقرطاس کی جولان گاہ میں رفتار صبا کو اپنا، پر خود نمائی سے اپنے آپ کو بچا کررکھ، اللہ تیرا حامی وناصر ہو۔

گاہے گاہے بازخواں ایں قصہ پارینہ را

تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے سینہ را

’’کبھی کبھی یہ پرانے قصے پھر سے پڑھ لیا کر اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے سینے کے داغ تازہ رہیں۔‘‘

1۔لندن میں میری اولین اقامت گاہ

میں لندن میں بالکل نو وارد تھا۔ اہلیہ اور پانچ بچوں کا ساتھ تھا۔ بھلا کرے میرے ایک مدنی دوست حافظ نثار الدین احمد جو ہیتھرو ائرپورٹ پر ہمارے لیے چشم براہ تھے۔ انہوں نے ہمارے عارضی طور پر شیفرڈ بش میں ایک مکان کرائے پر لے لیا تھا، ہم ان کے گھر ہوتے ہوئے اپنی جائے اقامت تک پہنچے۔

لندن کی سڑکیں اور گلیاں زیادہ تر دو منزلہ یا سہ منزلہ مکانوں پر مشتمل ہوتی ہیں جس کی دیوار سے دیوار متصل ہوتی ہے گویا کسی ایک کمپنی کی تعمیر کردہ ہوں۔ اگر زیادہ فراخ دلی مطلوب ہو تو دو متصل گھروں کے بعد ایک راہداری کا فاصلہ اگلے دو گھروں سے قبل نظر آئے گا۔ مزید دریا دی کا منظر دیکھنا ہو تو ہر مکان اپنے حدود اربعہ کے ساتھ اگلے مکان سے اپنے فاصلے کو برقرار رکھے کا۔

میرا یہ عارضی مستقر پہلی نوعیت کا تھا، دو چار گھروں کے بعد ایک مے خانہ تھا جسے (PUB) پبلک جائے شراب کہا جاتا ہے۔

مزے کی بات یہ ٹھہری کہ اس مکان کی دو منزلوں میں کوئی غسل خانہ نہیں تھا۔ گلی کے آخر میں ایک پبلک حمام کی موجودگی اس نقص کی تلافی کے لیے موجود تھی لیکن ہمارے لیے وہاں جانا بھی ایک کارے دارد تھا، اس لیے اپنے اس مکان کی نچلی منزل کے عقبی حصہ میں باورچی خانہ سے متصل باہر کی طرف ایک مسقف احاطہ (SHED) کو عارضی طور غسل خانہ کی شکل دی گئی اور اس کی ایک کھلی جانب کو چادر ڈال کر باپردہ بنایا گیا۔

یہاں پر میرا قیام تقریباً ایک ماہ رہا۔ اس دوران مشرقی لندن کی قدیم ترین مسجد سے آگاہی ہو چکی تھی۔ یہ مسجد اس وقت پہلےسے تیار کردہ تختے یعنی (Pre-Fabricated Sheets) جوڑ کر ایک بڑے سے ہال میں سمائی ہوئی تھی۔ باقاعدہ ایک عمارت کی شکل میں نہ تھی۔ ہفتہ وار درس قرآن کا آغاز کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مشرقی لندن میں زیادہ تر ہمارے بنگالی مسلمان آباد ہیں لیکن سابقہ مشرقی پاکستان کی نسبت سے اردو خوب جانتے ہیں، اس لیے درس بزبان اردو کو خوش آمدید کیا۔

الحمد للہ جس درس کا آغاز اگست 1976ء میں کیا تھا، تیرہ سال تک اس کی پابندی کرتا رہا، غالباً سورۃ الشعراء تک جا پہنچا تھا کہ جب اسے اپنی قائم کردہ مسجد (یعنی مسجد توحید) میں منتقل کرنا مناسب سمجھا کہ جس کی تفصیل بعد میں آتی رہے گی۔

شیفرڈبُش لندن کا مغربی حصہ ہے اور مسجد کا قریب ترین انڈرگراؤنڈ اسٹیشن (ALDGATE EAST) بالکل مشرق میں، چنانچہ یہ سفر ٹیوب یا انڈر گراؤنڈ ریلوے کا مرہون منت رہا۔

اس عارضی اقامت اگاہ کو چھوڑنے کے اسباب جلد ہی پیدا ہو گئے۔ ایک دن دیکھا کہ پڑوس کے مے خانہ میں چاقوزن کی واردات ہوئی ہے۔ پولیس کی نفری پہنچ چکی ہے۔ پکڑ دھکڑ جاری ہے، یا اللہ! یہ کیسا پڑوس میسر آیا ہے اور اس پر مستزاد یہ معلومات کہ کئی مرتبہ رات کے وقت مے خانہ کے عقبی باغیچہ میں مے نوش حضرات میں سے کوئی نہ کوئی حضرت مکانوں کی درمیانی باڑ (FENCE) کو پھلانگ کے ہمارے باغیچے میں غل غپاڑہ کرتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ اگست کا مہینہ تھا جب کہ موسم گرم رہتا ہے اور رات گئے تک روشنی باقی رہتی ہے۔

اس دوران جناب رشید احمد صدیقی سے ملاقات ہو چکی تھی، وہ یو کے اسلامک مشن سے وابستہ تھے۔ ہماری ان سے پرانی شناسائی تھی، وہ 1957ء کے لگ بھگ لائل پور کے ایک اسکینڈری اسکول کے ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے وہاں مقیم تھے اور والد محترم مولانا عبد الغفار حسن سے گہرا تعلق رکھتے تھے، ان کا بمع اہلیہ ہمارے ہاں آنا جانا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب میں خود میٹرک کے امتحان سے فارغ ہو کر گورنمنٹ کالج لائل پور (حال فیصل آباد) میں داخل ہو چکا تھا اور شام کے اوقات میں مولانا عبد الرحیم اشرف کے قائم کردہ جامعہ تعلیمات اسلامیہ کا اولین طالب علم بن چکا تھا کہ جس کے اولین استاد بھی والد محترم ہی تھے۔

صدیقی صاحب سے مکان کا ذکر آیا تو انہوں نے مژدہ سنایا کہ ان کے اپنے علاقے (Wood Green) میں ایک کرائے کا مکان ان کی دسترس میں ہے کہ جسکے پاکستانی مالک ایک استاد کی حیثیت سے تین سال کی مدت کے لیے نائیجریا سدھار چکے ہیں۔ ہم نے یہا منتقل ہونے میں عافیت سمجھی۔

(Granger Road) وُڈگرین کا یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا لیکن اس عالم ہمارے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ بچوں کا پرائمری اسکول چند قدم کے فاصلہ پر تھا اور مارکیٹ اور ڈاک خانہ بالکل بغل میں۔

ہمارے اگلے تین سال اس مکان میں گزرے۔ سردیوں میں مکان کو گرم رکھنے کے لیے ابھی ریڈایٹر عام نہیں ہوئے تھے۔ ہم مٹی کے تیل سے جلنے والا ایک ہیٹر لے آئے جو سرد دنوں اور کڑاکے کی سرد راتوں کو حرارت بخشتا رہا۔ بجلی اور گیس کے میٹر کو آن کرنے کے لیے دس پنس کے سکے کا سہارا لینا پڑتا تھا اورہماری کوشش رہتی کہ سکے وافر مقدار میں موجود رہیں تاکہ بجلی وگیس سے ہمارا ناطہ برقرار رہے۔

2۔ دعوتی سرگرمیوں کا آغاز

جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا ہوں، اللہ بھلا کرے مسجد شرق لندن کی انتظامیہ کا کہ جنہوں نے مجھے خوش آمدید کہا، یکم اگست 1976ء یعنی لندن آمد سے تین دن بعد وہاں خطبہ جمعہ دینے کی سعادت حاصل ہوئی اور پھر 24 ستمبر کو خطبہ عید بھی، ہفتہ وار درس قرآن کا بھی آغاز ہو گیا جس کی تسلسل اگلے تیرہ سال جاری رہا۔

لندن کے (Pentonville) جیلخانہ تک بھی رسائی حاصل ہو گئی جہاں دسمبر 1976ء سے ہفتہ وار حاضری کی سبیل پیدا ہو گئی۔ مسلم قیدیوں کو جمعہ کی نماز پڑھانا اور ان کی دینی رہنمائی کا فرض انجام دینا اصل مطلوب ومقصود تھا۔

مزید تعارف حاصل ہوا تو ایسٹ ھیم کی مسجد اور پھر بریڈ فورڈ اور میڈں ہیڈ کی مساجد میں بھی خطاب کاموقع ملا۔

فروری 1977ء میں اپنی محبوب مادر علمی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے دعوت اور دعاۃ کے موضوع پر ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی تو عجب فرحت کا احساس ہوا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے تین سو علماء ومفکرین کو دعوت دی گئی تھی۔ کانفرنس کی صدارت کے لیے شیخ عبد العزیز بن باز کا نام تجویز کیا گیاتھا جو کہ اس وقت ریاض کے مقتدر علمی ادارے دار الافتاء کے صدارت کے منصب پر فائز تھے، سعودیہ کے مفتی اعظم تھے لیکن انہوں نے جامعہ کے رئیس شیخ عبد المحسن حمد العباد کی صدارت پر اصرار کیا کہ وہی اس کانفرنس کے میزبان تھے اور پھر جب کانفرنس کی نظامت کا مسئلہ درپیش ہوا تو مصر کے سابق مفتی شیخ حسنین محمد مخلوف نے شیخ یوسف القرضاوی کا نام تجویز کیا لیکن انہوں نے بھی شیخ ابن باز کی سنت پر عمل کرتے ہوئے بجائے اپنے شیخ محمد الغزالی کا نام تجویز کیا جس کی تائید مشہور شامی عالم محمد المبارک نے اور یوں شیخ محمد الغزالی اس کانفرنس کے ناظم قرار دیئے گئے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی ٹیلی ویژن نے کانفرنس کی کارروائی کو نشر کرنے کے لیے اجازت چاہی تو شیخ عبد المحسن آڑ آ گئے انہوں نے کہا کہ تصویر کشی حرام ہے اور میں اس حرام کام کی اجازت نہیں دے سکتا۔

چندذیلی کمیٹیوں کی تشکیل کی گئی۔ میں پانچویں کمیٹی میں شامل رہا کہ جس میں اسلام کے خلاف تحریکات کا جائزہ لینا مقصود تھا۔ ہمارے استاد شیخ عبد القادر شیبۃ الحمد کی تجویز پر اس کمیٹی کی صدارت استاد محمود عبد الوہاب فائد اور نظامت اس ناچیز کے سپرد ہوئی۔ حقانیہ کانفرنس کے اگلے پانچ دن خوب مصروف گزرے۔ باقی چار کمیٹیوں کے ناظمین کو شیخ عبد المحسن، شیخ محمد الغزالی اور استادمحمود شیث الخطاب کی رہنمائی حاصل رہی۔ شیخ یوسف القرضاوی نے کانفرنس کی تمام قراردادوں کا مسودہ تیار کیا اور ہماری کمیٹی کی پیش کردہ 39 تجاویز میں سے 25 کو کانفرنس کے اعلامیہ میں جگہ دی۔

اس کانفرنس کے توسط سے اپنے پرانے کئی احباب اور دوستوں سے ملاقات رہی جن میں محباسہ سے محمد ابراہیم خلیل، مشرقی افریقہ میں متعین مبعوثین کےسربراہ محمد احمد مدخلی، کینیا کے محمد علی مرزا اور برازیل سے تشریف لانے والے جامعہ کے ایک ساتھی احمد صالح المحایری بھی شامل تھے۔ مؤخر الذکر کا تعلق ملک شام سے تھااور ایام طالب علمی میں وہ علامہ احسان الٰہی ظہیر کے ہم سبق بلکہ ہم نوالہ وہم پیالہ رہے تھے، کانفرنس کی سرگرمیوں کی مزید تفصیلات تو ذہن میں حاضر نہیں رہیں۔ اپنی ایک پرانی تحریر سے یاد آیا کہ لندن واپسی کے سفر میں پاکستان کی دو اہم شخصیتوں سے ملاقات رہی جو سعودیہ کی فلائٹ میں ہمسفر تھے۔ ایک تو قاضی حمود الرحمٰن جو پاکستان کے چیف جسٹس رہے تھے اور سانحہ مشرقی پاکستان کے بارے میں اپنی رپورٹ کے حوالے سے کافی معروف رہے تھے اور دوسرے جناب شریف پیرزادہ جو بعہد صدر ایوب خان ایک وزارت کی صدارت سنبھالے ہوئے تھے۔

لندن ائرپورٹ پر جناب سید سلیم کیانی تشریف لے آئے تھے اور پھر ان کی معیت میں گھر پہنچنے کی راہ آسان ہو گئی۔

اس سال شیخ ابن باز کے پرسنل سیکرٹری شیخ عبد العزیز بن ناصر الباز جو ان کے عم زاد بھی ہین، اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک نجی دورے پر لندن تشریف لائے۔ میرا ان سے گہرا تعلق رہا تھا اس لیے لندن کے مختلف اداروں کا تعارف کرانے میں ان کی راہنمائی کرتا رہا۔ سعودی سفیر سے ملاقات کے لیے وہ مجھے ساتھ لے گئے۔ سفارت خانہ میں فرسٹ سیکرٹری عبد اللہ بری سے ملاقات ہوئی۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے کہا کہ ہمیں تو ایسے شخص کی تلاش ہے جو ہمیں یہاں کی مسلم کیمونٹی کی ضروریات اور ان کے مسائل سے آگاہ کرتا رہے۔ شیخ عبد العزیز نے بلاجھجھک میرا نام پیش کر دیا اور پھر یوں عبد اللہ برّی سے وہ رضاکارانہ تعلق قائم ہوا جو اگلے پندرہ بیس برس جاری رہا۔ وہ ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں سفیر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد برطانیہ سے رخصت ہوئے۔

اس طویل عرصہ میں سفارت خانہ میں موصول ہونے والی تمام وہ درخواستیں جن میں مساجد اور مدارس کے قیام یا ان کی فلاح وبہبود کے لیے امداد طلب کی جاتی تھی، استاذ عبد اللہ بری کے توسط سے مجھ تک پہنچتیں اور پھر میں ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیےبرطانیہ بلکہ سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے طول وعرض کو بھی ناپتا رہا اور اس ضمن میں چند واقعات کا تذکرہ میری اگلی ’حکایات‘ میں بھی آتا رہے گا۔ (جاری ہے)

٭٭٭

شان سیدنا عمر

شانِ عمرؓ میں اور تو کچھ کیا کہیں گے ہم بس محرمِ شریعتِ اعلیٰ کہیں گے ہم

چلتا جو سلسلہ تو عمرؓ ہوتے خود نبی

جیسا کہا رسول ؐ نے ویسا کہیں گے ہم

مانگا تھامصطفیٰؐ نے عمرؓ کو بہ صد نیاز

ربّ کریم کا انہیں تحفہ کہیں گے ہم

تائید ان کی رائے کی قرآن سے ہوئی

رائے عمرؓ کو دین کی منشا کہیں گے ہم

ڈاکٹر تابش مہدی ،دہلی

تبصرہ کریں