ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے(اداریہ)۔محمد حفیظ اللہ خان المدنی

فلسطین، فلسطین، فلسطین۔ اگر دیکھا جائے کہ گزشتہ دو تین ہفتوں میں عالمی سطح پر کس لفظ کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا رہا ہے، تو بلاشبہ لفظ فلسطین ہی سرفہرست ہو گا ۔کیوں نہیں؟ اس وقت امریکہ، یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی عام شاہراہوں پر فلسطین کے مظلوم ، مقہور اور بے کس مسلمانوں کی حمایت اور ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک جم غفیر امنڈ پڑا ہے۔ اس کو کسی خاص ملک کی حمایت حاصل ہے نہ ہی کسی حکومت کی سرپرستی، یہ ان عوام الناس کے دلوں سے اٹھنے والی صدا ہے جو انسانیت کے ہمدرد ہیں، مظلوم کا ساتھ دینا چاہتے ہیں اور ظالم کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ شہروں کی عام شاہراہیں ان کے اس درد بھرے پیغام کو عام کرنے کا بہترین ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ نیز جہاں حکومت کی سرپرستی میں چلنے والا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا 24 گھنٹے ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔ اس سے کہیں زیادہ مؤثر اور فعال سوشل میڈیا فلسطینیوں پر ظلم وجبر سے بھری خونچکاں داستانیں سنا رہا ہے۔ یقیناً حالات بدل رہے ہیں کہ امریکی سینٹ کے درو دیوار بھی فلسطین کے حق میں لگائے جانے والے نعروں سے گونج رہے ہیں۔ سابق اسرائیلی فوجی جوان بھی اسرائیلی مظالم کے راز فاش کرتے اور اعتراف جرم کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ لندن اور نیو یارک کی سڑکوں پر منصف مزاج یہودیوں کی ایک بڑی تعداد حق کا ساتھ دینے والوں کے شانہ بشانہ فلسطین کی حمایت میں آ کھڑی ہے۔ ظلم کی ایک انتہا ہوتی ہے۔

ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

گزشتہ ستر سالوں سے لگاتار فلسطینی مسلمان اسرائیلی بربریت، ظلم وستم اور قتل وغارت گر ی کاشکار چلے آر ہے ہیں۔ مگر اب حالات کی تبدیلی نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔ یقیناً لمحات قریب آ چکے ہیں۔

جب ظلم وستم کے کوہ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

دنیا کے بیشتر ملکوں میں فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آواز محض زبان خلق نہیں بلکہ نقارہ خدا بن کر امت کو بیدار کر رہی ہے کہ فلسطین کی بازیابی اور ارض مقدسہ کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرے، جو کہ ناممکن نہیں۔ بشرطیکہ امت مسلمہ اولاً اپنی فکر اور کردار کو اسلامی سانچےمیں ڈھالے، اپنے قبلہ کو درست سمت دے۔ اغیار پر تکیہ کرنے کے بجائے محض اسلام پر کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھے۔ فقیہ الامہ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ﷫ کے بقول ’’ مسلمانوں نے اپنے دور زریں میں فلسطین، مدائن اور روم کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا۔ اے کاش آج ہمارے نوجوان اس حقیقت کا ادراک کر لیتے کہ حقیقی کامیابی محض مسلم شناختی کارڈ کے بل بوتے پر حاصل نہیں ہوتی بلکہ حقیقی اسلام پر عمل پیرا ہو کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔

محض عروبہ کی بنیاد پر فلسطین کی بازیابی خام خیالی ہے ، اس کا واحد ذریعہ وہ حقیقی اسلام ہے جس پر رسول اکرم ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام عمل پیرا رہے۔ ہمارے مذمتی بیانات اور اجتماعی نعرے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تاوقتیکہ ہم اسلام کو اپنے اوپر نافذ نہ کر لیں۔

فرمانِ الٰہی ہے کہ

﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾ (سورة الأنبياء: 105)

’’ہم نے زبور میں پند ونصائح کے بعد واضح طور پر لکھ دیا ہے،کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہیں۔‘‘

تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں میں جب تک صالحیت کا عنصر باقی رہا۔ کامیابی اور اقتدار ان کے قدم چومتی رہی۔ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ کی اطاعت سے روگردانی کی، اقتدار ، سطوت، تمکین فی الارض اور سرخروئی سے محروم کر دیے گئے۔ اپنے اندر صالحیت کو فروغ دیجیے، کسی محنت مشقت اور جدوجہد کے بغیر آپ بآسانی اس سرزمین کے وارث قرار دیے جائیں گے۔

سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز ﷫ کی یہ نصیحت بھی مسئلہ فلسطین کےواضح حل کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں آپ نے فرمایا کہ

’’مسئلہ فلسطین اول و آخر خالص اسلامی مسئلہ ہے۔ جس کو دشمنان اسلام نے پوری عیاری کے ساتھ عربیت کا لبادہ پہنانے کی سرتوڑ کوشش کی۔ وہ تقریباً اس کوشش میں کسی قدر کامیاب بھی ہو گئے، میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ اس کو خالص اسلامی مسئلہ سمجھا جائے اور اسی بنیاد پر امت میں اتحاد واتفاق کو فروغ دیا جائے۔

ثانیاً : تمام مسلمانوں ، خصوصاً فلسطینی مسلمانوں کو ان عناصر سے چوکنا رہنے کی اشد ضرورت ہے جو مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی بے لوث اور اخلاص پر مبنی قربانیوں کو رائیگاں کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ہماری آستین کے سانپ ثابت ہو رہے ہیں اور وہ بھی ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی آزادی کے حوالے سے جن کے روابط ان عناصر کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں، جو مسجد اقصیٰ کے وجود کے ہی منکر ہیں اور جن کی تاریخ امت کے ساتھ غداری، دھوکہ بازی اور بغاوت سے بھری پڑی ہے۔

قارئین کرام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ غزہ کے رہائشی علاقوں پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری کا اسرائیل کو کس نے موقع فراہم کیا، جس میں 252 مسلمان مرد و خواتین اور معصوم بچے بھی شہید کر دیے گئے۔

ان فلسطینی مسلمانوں نے نہیں جو مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے گراؤنڈ پر شیخ جراح پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ کی کوشش پر برافردختہ ہو کر احتجاج کر رہے تھے ، جن کا اسرائیلی مسلح افواج کے کمانڈروں نے مسجد اقصیٰ تک پیچھا کیا اور مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مصروف مسلمانوں پر گولیاں برسائیں اور مسجد اقصیٰ کے تقدس کو پامال کیا۔

اس وحشیانہ بمباری کی وجہ محدود رینج کے وہ راکٹ تھے جو غزہ کے اسرائیلی علاقے میں فائر کیے گئے جن کا نقصان تو حسب سابق انتہائی محدود رہا، مگر اسرائیل نے اس بہانے 252 مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔

ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو ان کے گھروں سے محروم کر دیا گیا۔ اس سےکہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ محض ان چند راکٹوں کی وجہ سے ساری دنیا کی ہمدردیاں اسرائیل کے حق میں ہو گئیں اور فلسطینی مسلمانوں کو ملزمان کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ اس قدر جانی ، مالی اور نفسیانی نقصان کے باوجود جب جنگ بندی کا اعلان کیا گیا توغزہ میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، خوشی کے شادیانے بجائے گئے، اسرائیل پر فتح کی خوشخبریاں دی گئیں۔

یہ کس قسم کی فتح ہے کہ جس میں 250 سے زائد مسلمان شہید ، ہزاروں سخت زخمی اور لاکھوں بےگھر اور بے آسرا بنا دیے گئے۔ سینکڑوں رہائشی عمارتیں زمین بوس کر دی گئیں اور پھر اسرائیل کی یک طرفہ ظلم و زیادتی کو دو طرفہ جنگ کے طور پر تسلیم کر لیا گیا، یہ کس قسم کی جنگ تھی کہ ایک جانب جدید ترین اسلحہ سے لیس فوج ظفر موج ہے اور دوسری جانب نہتے فلسطینی لٹے پٹے مسلمان جو لمحہ لمحہ مر مر کر جی رہے ہیں جن کی اپنی نگاہوں کے سامنے ان کے جگر گوشوں کو گولیوں سے بھونا جا رہا ہے ۔ جنازوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔ یہ جنگ نہیں بلکہ جنگ کے نام پر ایک دھوکہ ہے۔

غزہ سے راکٹوں کا فائر کیا جانا پھر اسرائیلی بمبار جہازوں کا رہائشی علاقوں میں لگاتار حملے اور پھر مختلف گوشوں سے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب پر لعن طعن کا سلسلہ، اس پر الزامات کی بھرمار اور اسی بہانے کچھ اور گروپس کی تعریفوں کے پل باندھنا اور پھر جنگ بندی اور مصالحت کا اعلان۔ یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے اسی ترتیب سے جاری ہے۔ جب کہ سعودی عرب کی فلسطینی کاز کے لیے خدمات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، فلسطین کی آزادی کا مسئلہ ہمیشہ اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس حوالے سے وہ دامے درمے اور سخنے ہر قسم کا بیش بہا تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ آج بھی سعودی عرب کا شمار فلسطین کے ان دوستوں میں کیا جاتا ہے جو پورے اخلاص اور محبت کے ساتھ فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلوانے کی انتہائی سنجیدہ اور مضبوط بنیادوں پر کوششیں کر رہے ہیں۔ بہرحال موجودہ حالات میں امت مسلمہ کو اپنوں اور غیروں کا فرق روا رکھنا ہو گا اور فلسطین کی آزادی کو اسلام کی بنیادوں کے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ وما علينا إلا البلاغ

تبصرہ کریں