زندگی ایسے گزاریں۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

ابتدائیہ

اسلامی آداب واخلاقیات؛ حسن معاشرت کی بنیاد ہیں، ان کے نہ پائے جانے سے انسان نہ صرف لوگوں کے دِلوں میں اپنی محبت پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے بلکہ دنیوی واُخروی کامیابیوں سے بھی یکسر محروم ہو جاتا ہے۔ گویا ان کے فقدان سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیثِ مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کے اعمال کو صرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیا گیا۔ جیسا کہ صحابہ کرام نے نبیﷺ سے ایک عورت کا ذِکر کیا کہ وہ صوم وصلوٰۃ کی تو بہت پابند ہے لیکن اس کی زبان درازی سے اس کے ہمسائے بہت تنگ ہیں، تو آپ ﷺ نے اس کی نمازوں اور روزوں کی پروا کیے بغیر فرما دیا کہ وہ جہنمی ہے۔ بلکہ آپ ﷺ نے تو مسلمان ہونے کی علامت ہی یہ بیان فرما دی کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ قصہ کوتاہ اخلاقیات اسلام کا ایک ایسا ستون ہے کہ جس کے بغیر دین کی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی۔

حسنِ اخلاق سے مراد صرف گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کو بہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے، کیونکہ سب سے بڑی اخلاقی گراوٹ غیراسلامی رسوم ورواج اور مغربی تہذیب کا دِلدادہ ہونا ہے۔ آج کل مسلم معاشرے کی اخلاقی زبوں حالی کا جو عالم ہے وہ یقینا ناگفتہ بہ ہے۔ وہ معاشرہ کہ جو کبھی اخلاقیات کے حوالے سے ایک مثال ہوا کرتا تھا آج اس قدر انحطاط کا شکار ہے کہ الامان والحفیظ۔ اور وہ تہذیب کہ جو کبھی ہماری تھی ہی نہیں اور نہ ہو سکتی ہے؛ اسے ہم نے نادانستہ بلکہ دانستہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ اپنوں کا پاس ولحاظ اور عزت واحترام بھلے دور کی باتیں لگنے لگی ہیں، گفتگو میں شائستگی اور نرمی ناپید ہوگئی ہے اور اپنے والدین سمیت دیگر اکابر کی خدمت بجالانا تو درکنار؛ ان کے ساتھ اظہارِ تعلق میں بھی عار محسوس ہونے لگی ہے۔ غرض ہم نے ہر اس بری عادت کو اپنانے میں فخر محسوس کیا ہے کہ جو مادرپدر آزاد مغربی معاشرے سے ہمارے ہاں امپورٹ ہوئی ہیں۔ ایسے ہی نام نہاد مسلمانوں کی حالتِ زار پر اشک باری کرتے ہوئے اقبالؒ نے کہا تھا:

وضع میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اس پستی اور ادبار سے خلاصی کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم جادۂ مغرب سے ہٹ کر قرآن وسنت کی بتلائی ہوئی راہ پر گامزن ہوجائیں اور غیر مہذب ہونے میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی مغربی قوم کی نقالی اور تقلید سے اپنا دامن آلودہ کرنے کی بہ جائے ان درخشاں شرعی اصول وتعلیمات پر عمل پیرا ہوں جو انسان کے دِین ودنیا اور عزت وجان کی حفاظت کی ضامن ہیں۔ یہ امتیاز فقط اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس نے انسان کو سعادت مندانہ زندگی گزارنے کے لیے ایسے زرّیں اصول مہیا فرمائے ہیں کہ جنہیں اپنا کر نہ صرف دنیوی زندگی میں کامیابی کا سہرا اپنے سر سجایا جا سکتا ہے بلکہ آخرت میں سرخرو ہونے والوں میں بھی اپنا نام رقم کروایا جا سکتا ہے۔

اسی موضوع کی شدتِ اہمیت کے پیشِ نظر حضرتِ امام بیہقی﷫ نے اس پر قلم اٹھایا اور اس کتاب میں آیاتِ قرآنیہ واحادیثِ نبویہ کا اس قدر ذخیرہ جمع کر دیا کہ جو اس موضوع پر تقریباً جملہ امور کو محیط ہے۔ امام صاحب کا حسنِ انتخاب ہی اس کتاب کی بڑی خوبی ہے۔ اگر کوئی خوش بخت صدقِ دِل اور نیتِ عمل سے اس کتاب کا مطالعہ کرے گا تو بلا شائبہ خیرِکثیر پائے گا۔ وہ دنیا وآخرت کی کامیابیوں کو بھی اپنے حصے میں مرقوم کرا لے گا اور اللہ، اس کے رسول اور لوگوں کی نظر میں محبوب بھی بن جائے گا۔ اور اگر قاریٔ کتاب اس بات کا اہتمام کر لے کہ اس کتاب کے مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنے ضمیر کا بھی جائزہ لیتا رہے تو نہ صرف اس کی اخلاقی کوتاہیوں سے پردے ہٹ جائیں گے بلکہ اسے اپنی اصلاح کی توفیق اور تڑپ بھی بہ خوبی میسر آسکے گی۔

میں نے اس کتاب کی تیاری میں جو کام کیا ہے؛ وہ یہ ہے:

٭ اس کتاب کو متن کی ہی کتاب رکھنے کی بجائے عام مطالعاتی کتاب کی صورت دی ہے، تاکہ عام قاری بھی اس سے کامل طور پر حظ اٹھا سکے۔

٭ مکررات کو حذف کر دیا ہے تاکہ تکرار سے منزہ جامع نسخہ مرتب ہو سکے۔

٭ صرف صحیح اور حسن روایات پر مشتمل مجموعۂ احادیث پیش کرنے کی خواہش کے پیشِ نظر ضعیف روایات کو خارج کردیا ہے۔

٭ چند طویل ابحاث کو ختم کرکے متعلقہ احادیث کی وضاحت میں ان کی طرف مختصراً اشارہ کردیا ہے، تاکہ کتاب طولِ ممل اور اختصارِ مخل سے مبرا رہے۔

٭ ابواب کی طویل عربی عبارات کو بعینہٖ اردو قالب میں ڈھالنے کی بہ جائے مختصر اور جامع سے عنوانات دے دیے ہیں۔

٭ احادیث کی اصل مصادر سے تخریج اور شیخ البانی﷫ کی تحقیق سے استفادہ کیا ہے۔

میں رب تعالیٰ کے حضور تشکروامتنان کے جذبات سے معمور ہوں کہ اس نے اس سراپاناکار کو اپنے پیارے پیغمبرﷺ کے ارشادات وفرمودات کی ترجمانی اور وضاحت بیانی کی سعادت بخشی، یقینا یہ فقط اسی کے فضلِ خاص سے ممکن ہوپایا ہے ورنہ میری تساہلی ہی اس میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی تھی۔

آخر میں ان تمام احباب کا شکرگزار ہوں جنہوں نے کسی نہ کسی طور پر اس کتاب کی تیاری میں اپنا حصہ ڈالا۔ خاص طور پر میں ممنون ہوں گرامی قدر جناب فہداللہ مراد صاحب کا، کہ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوصف فقیر کی عرضی منظور کی اور حضرتِ امام اور ان کی کتاب کا تعارف اس خوبصورتی سے پیش کیا کہ بے شائبہ حق ادا کردیا۔ بعدازیں شکریے کے مستحق ہیں جناب ضیاء نعمانی صاحب، کہ انہوں نے کتاب کی باطنی خوبیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ظاہری حسن بھی اس قدر بھر دیا کہ چارچاند لگ گئے۔

بارگاہِ ایزدی میں التجا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہر قاری کے لیے نفع مند بنائے اور اسے پڑھ کر اس کے دِل میں اپنی اخلاقی حالت سنوارنے اور اخروی زندگی کو کامیاب بنانے بنانے کا داعیہ پیدا کر دے۔ نیز ان تمام احباب کی کاوش کو اپنی جناب میں شرفِ قبولیت سے نوازے جو اس کتاب کی تیاری اور اسے منصہ شہود پر لانے میں میرے معاون رہے اور میری اس بے خلوص نیکی کو بھی ایسی عزت بخشے کہ اسے میری، میرے والدین اور اساتذہ کرام کی مغفرت کا ذریعہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین

والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک

آداب واخلاقيات میں سب سے اوّليں امريہی ہے، اسى ليے اسلام نے اس كے اہتمام پربہت زور ديا ہے۔ قرآن وسنت میں بہ كثرت ايسى نصوص وارد ہوئى ہیں کہ جن سے اس معاملے كى اہمیت واضح ہوتی ہے۔ والدين كے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسنِ مصاحبت ہر باشعور مسلمان كا امتيازى وصف ہے۔ قرآنِ كريم میں متعددمقامات پراللہ تعالىٰ نے اپنى بندگى كے حكم كے متصل بعد والدين كے ساتھ نيك سلوك كرنے كاحكم فرماياہے، گويا اللہ تعالىٰ نے اپنى عبادت كے بعد جس اَمر كو ديگر تمام امورسے اہم سمجھا وہ یہی ہے، جيساكہ فرمانِ بارى تعالىٰ ہے:

﴿وَقَضٰى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾

’’اور تمہارا پروردگار صاف صاف حکم دے چکاہے کہ تم اس کے سواکسی اورکی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگرتیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے ’’اُف‘‘ تک نہ کہنااورنہ ہی انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔‘‘ (سورة الاسراء: 23)

سیدناعبداللہ بیان کرتے ہیں :

سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا». قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ». قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ». قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهَذِهِ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.

(صحيح بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب فضل الصلاة لوقتها، رقم الحديث:527؛ صحيح مسلم، کتاب الايمان، باب بيان كون الايمان بالله تعالى أفضل الأعمال، رقم الحدیث:85)

’’میں نے رسول اللہﷺسے سوال کیاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونساہے؟ آپﷺ نے فرمایا:

’’نمازکوبروقت اداکرنا۔‘‘

میں نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپﷺنے فرمایا:

’’والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔‘‘

میں نے کہا: پھرکونسا؟ آپﷺ نے فرمایا:

’’اللہ کی راہ میں جہادکرنا۔‘‘

راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ نے مجھے یہی باتیں بتلائیں، البتہ اگرمیں مزید پوچھتا تو آپﷺ اور بھی بتلاتے۔‘‘

مذکورہ حدیثِ مبارکہ میں نبیﷺنے بھی پہلا افضل عمل باری تعالیٰ کی بندگی یعنی نماز ذِکر فرمایا اور اس کے بعدديگرتمام اعمال پرفضیلت کاحامل جوعمل بتلایا وہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔

گویا قرآن وسنّت کے طرزِبیان سے ہی اس عمل کی فضیلت واہمیت اوراس کی بجاآوری کے تقاضے کی شدّت کااحساس ہوتاہے۔

٭٭٭

حضرت فضیل بن عیاض﷫سے تواضع و انکساری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

’’تواضع و انکساری اختیار کرنے والا وہ ہے جو حق بات پر جھک جائے اور حق بات کہنے والا خواہ کوئی بھی ہو، اسے فوری قبول کرے۔‘‘ (مدارج السالكين: 2؍243)

تبصرہ کریں