زندگی ایسے گزاریں (قسط 3)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

اولادکے ساتھ شفقت

اولادسے محبت وشفقت اللہ کے رحم وکرم کاموجب عمل ہے اورجواس سے قاصرہوتاہے وہ اللہ کے رحم سے محروم ہوتاہے۔

جیساکہ سیدنا ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ قَبَّلَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا قَطُّ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ فَقَالَ: «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ.» ([صحيح] صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته: 5997-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب رحمته صلى الله عليه وسلم الصبيان والعيال وتواضعه وفضل ذلك: 2318)

’’رسول اللہﷺنے سیدنا حسن بن علی کابوسہ لیا تو اقرع بن حابس پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول (ﷺ)!میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے توان میں سے کسی کابھی کبھی بوسہ نہیں لیا۔ رسول اللہﷺنے اس کی طرف نظراٹھائی اور فرمایا: جو(کسی پر)رحم نہیں کرتااس پربھی رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘

اورسیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ

جَاءَ أَعْرَابيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ، فَمَا نُقَبِّلُهُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ: «أَوَ أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللّٰهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ.»

([صحيح] صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته :5998- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب رحمته ﷺ الصبيان والعيال وتواضعه وفضل ذلك: 2317)

’’ایک دیہاتی نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا آپﷺ بچوں کو چومتے ہیں؟ ہم تو انہیں نہیں چومتے، تورسول اللہﷺ نے فرمایا: اگراللہ نے ہی تمہارے دِل سے شفقت چھین لی ہو تو پھر میں تمہارا کیا کر سکتاہوں۔‘‘

گویا اپنے بچوں کوپیار نہ کرنا اللہ کی طرف سے رحمت وشفقت چھِن جانے کی دلیل ہے اوررحمتِ الہٰی کے حقدار ٹھہرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی اولادکے ساتھ محبت کااظہارکیاجائے، ان پرشفقت كي جائے اور ان كے ساتھ نرم رويہ ركھا جائے، تاکہ اولاد والدین کی شفقت سے اوروالدین اللہ کی رحمت سے محروم نہ ہوپائیں۔

سیدنا اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْأَيْمَنَ، ثُمَّ يَضُمُّنَا، ثُمَّ يَقُولُ: «اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا.»([صحيح] صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب وضع الصبي على الفخذ: 6003-مسند أحمد:5/205)

’’رسول اللہﷺمجھے پکڑکراپنی (بائیں)ران پر اورحسن کودائیں ران پر بٹھا لیا کرتے تھے، پھر ہمیں (محبت سے)بھِینچ لیتے(یعنی زور سے سِینے سے لگالیتے) اورفرماتے:اے اللہ!ان دونوں پررحم فرما! کیونکہ میں بھی ان پرشفقت کرتاہوں۔‘‘

یہ كمالِ شفقت كے اظہاركااندازہے، اس حديث سے يہ بات بھی احاطہ علم ميں آتى کہ اپنی اولادکے لیے رب تعالیٰ کے حضوردست بہ دعابھی رہناچاہیے۔

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ

جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَضَعَتِ ابْنَتَيْنِ لَهَا تَسْأَلُنِي، فَلَمْ أَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا، فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ ﷺ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: «مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ سِتْرًا لَهُ مِنَ النَّارِ.»

([صحيح] صحيح بخارى، كتاب الزكاة، باب اتقوا النار ولو بشق تمرة والقليل من الصدقة: 1418-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب فضل الإحسان إلى البنات: 2629)

’’میرے پاس ایک عورت آئی، اس نے اپنی 2 بیٹیوں کو اٹھارکھاتھا، وہ مجھ سے(کھانے کے لیے کچھ)مانگنے لگی تومیرے پاس سوائے ایک کھجورکے اورکچھ نہ تھا، میں نے وہی کھجوراسے دے دی۔ اس نے وہ کھجور پکڑی اور اس کے دو ٹکڑے کر کے اپنی بیٹیوں کو کھلا دی لیکن خود اس سے ذرہ بھی نہ کھائی، پھروہ اُٹھی اور اپنی بیٹیوں کو لے کر چلی گئی۔ جب نبیﷺمیرے پاس تشریف لائے تومیں نے یہ واقعہ آپﷺ سے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کو بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا اور اس نے اچھے طریقے سے ان کی پرورش کی، تووہ اس کے لیے (جہنم کی)آگ سے آڑبن جائیں گی۔‘‘

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں :

جَاءَتْ مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا، وَأَعْطَيْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا تَمْرَةً، وَرَفَعَتْ إِلٰى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا، فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا، فَأَعْجَبَتْنِي، فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ ﷺ فَقَالَ: «إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ، وَأَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ» ([صحيح] صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل الإحسان إلى البنات: 2630- مسند أحمد:5/252)

’’ایک مسکین عورت اپنی دوبیٹیوں کواٹھائے ہوئے آئی، میں نے اسے تین کھجوریں دِیں تواس نے اپنی دونوں بیٹیوں کوایک ایک کھجوردے دی اورباقی ایک کھجورکو(خودکھانے کے لیے)اپنے منہ کی طرف بڑھایاہی تھاکہ اس کی بیٹیوں نے وہ بھی مانگ لی، تواس عورت نے وہ کھجورجسے وہ خودکھاناچاہتی تھی دوٹکڑے کرکے ان دونوں کودے دی۔ مجھے اس کی یہ بات بہت پیاری لگی، میں نے رسول اللہﷺکے پاس یہ بیان کی توآپﷺنے فرمایا: یقیناًاللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں اس عورت کے لیے جنّت کوواجب کردیااوراسے جہنّم سے آزادکردیا۔‘‘

ماں کامعاملہ ہی اللہ تعالیٰ نے سب سے جُدارکھاہے، یہ ایسی ہستی ہے کہ جواپنی اولادکی خوشی کے لیے اپنی ادنیٰ سی خوشی سے لے کراپنی زندگی بھرکے آرام وسکون کوقربان كردینے میں دورائے نہیں رکھتی، انسان ماں کی محبت کولفظوں میں قیدکرنے سے قاصرہے، محبتِ حقیقی کایہ واحدایساجذبہ ہے کہ جس کااندازہ اس ہستی کے سواکوئی بشرنہیں لگاسکتا۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ.» ([صحيح] صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب إلى من ينكح، وأي النساء خير، وما يستحب أن يتخير لنطفه من غير إيجاب: 5082-صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب إذا أعتق نصيبا في عبد، وليس له مال، استسعي العبد غير مشقوق عليه: 2527)

’’اونٹ پرسواری کرنے والی عورتوں میں سے بہترین عورت قریش کی نیک عورت ہوتی ہے، جواپنے بچے کے بچپن میں اس سے بہت زیادہ شفقت کرتی ہے اوراپنے خاوندکے مال واسباب میں اس کی نگہبان ہوتی ہے۔‘‘

حدیث میں مذکور أَحْنَا کالفظ حَنْيٌ سے ہے، اور حَنْيٌ کامطلب ہے انتہادرجے کی شفقت ومہربانی کرنا، جب اس لفظ کااستعمال عورت کے ساتھ ہوتاہے توپھرمطلب ہوتاہے کہ ایک بیوہ عورت کااپنے بچوں پراس درجے تک شفیق ومہربان ہوناکہ ان کی وجہ سے وہ دوسری شادی نہ کرے تاکہ پوری توجہ سے ان کی دیکھ بھال کرسکے۔ اس حديث میں ایسى عورت كو نبىﷺ نے بہترين عورت قراردياہے۔

سیدنا سہل بن سعدالساعدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ». قَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .

([صحيح] صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب فضل من يعول يتيما: 6005-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب باب في من ضم اليتيم: 5150-سنن ترمذى، أبواب البروالصلة، باب ما جاء في رحمة اليتيم وكفالته:1918)

’’میں اوریتیم کی کفالت کرنے والاجنّت میں ان دو(انگلیوں)کی طرح(ایک ساتھ اکٹھے) ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپﷺنے اپنی انگشتِ شہادت اوردرمیانی انگلی کے ساتھ(اشارہ کرکے)فرمایا۔‘‘

یعنی جس طرح انگشتِ شہادت اوردرمیان والی انگلی باہم ملی ہوئی ہیں اوران میں کوئی فاصلہ نہیں ہے اسی طرح یتیم کی کفالت کرنے والاشخص رسولِ مکرم ﷺکے بالکل ساتھ ہوگا۔

سیدہ اُمِ سعید اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا:

«أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ.» وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِإِصْبَعَيْهِ. ([صحيح] السنن الكبرى للبيهقى: 6/283 -الأدب المفرد للبخارى:133-سلسلة الأحاديث الصحيحة:800)

’’میں اوراپنے یاکسی غیرکےیتیم کی کفالت کرنے والاجنّت میں ان دو(انگلیوں)کی طرح ہوں گے۔ سفیانؒ نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے اپنی دوانگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔‘‘

یعنی کفالتِ یتیم کایہ اجروثواب اپنے کسی عزیزبچے کی کفالت کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ وہ یتیم اگرکسی اورکابھی ہوتواس کی کفالت میں بھی اسی قدراجرملے گا۔ سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى يَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ كَهَذَيْ.» وَضَمَّ إِصْبَعَيْهِ.

([صحيح] صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل الإحسان إلى البنات: 2631-سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في النفقة على البنات والأخوات: 1914)

’’جس شخص نے اپنی دوبچیوں کی ان کے جوان ہونے تک کفالت کی، وہ روزِقیامت یوں آئے گاکہ وہ اور میں ان دو (انگلیوں)کی طرح ہوں گے۔ آپﷺ نے یہ فرماتے ہوئے اپنی دوانگلیوں کوملایا۔‘‘

سیدنا عقبہ بن عامر نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ كَانَتْ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، فَأَطْعَمَهُنَّ، وَسَقَاهُنَّ، وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ كُنَّ لَهُ حِجَابًا.»

([صحيح] سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب بر الوالد والإحسان إلى البنات،: 3669- الأدب المفرد للبخاری: 76-سلسلة الأحاديث الصحيحة:294)

’’جس کی 3 بیٹیاں ہوں اور وہ ان پہ صبر کرے اور جو کچھ میسر ہو اس میں سے انہیں کھلائے پِلائے اور (لباس) پہنائے، تووہ (روزِقیامت)اس کے لیے (عذاب سے) آڑبن جائیں گی۔‘‘

جس شخص کی دویاتین بچیاں ہوں وہ ان کی اچھی طرح کفالت کرے، ان کی تعلیم وتربیت کااہتمام کرے اور دیگرحقوق بھى بہ خوبی ادا کرے تووہ بھی نبیﷺ کا ساتھ پائے گااوروہ بچیاں اس کے لیے جہنّم سے آڑ بن جائیں گی یعنی اس عمل کے بہ دولت اللہ تعالیٰ اسے جہنّم سے بچالیں گے۔

تبصرہ کریں