زندگی ایسے گزاریں (قسط 2)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک

آداب واخلاقيات میں سب سے اوّليں امريہی ہے، اسى ليے اسلام نے اس كے اہتمام پربہت زور ديا ہے۔ قرآن وسنت میں بہ كثرت ايسى نصوص وارد ہوئى ہیں کہ جن سے اس معاملے كى اہمیت واضح ہوتی ہے۔ والدين كے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسنِ مصاحبت ہر باشعور مسلمان كا امتيازى وصف ہے۔ قرآنِ كريم میں متعددمقامات پراللہ تعالىٰ نے اپنى بندگى كے حكم كے متصل بعد والدين كے ساتھ نيك سلوك كرنے كاحكم فرماياہے، گويا اللہ تعالىٰ نے اپنى عبادت كے بعد جس اَمر كو ديگر تمام امورسے اہم سمجھا وہ یہی ہے، جيساكہ فرمانِ بارى تعالىٰ ہے:

﴿وَقَضٰى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾

’’اور تمہارا پروردگار صاف صاف حکم دے چکاہے کہ تم اس کے سواکسی اورکی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگرتیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے ’’اُف‘‘ تک نہ کہنااورنہ ہی انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔‘‘ (سورة الاسراء: 23)

سیدناعبداللہ بیان کرتے ہیں :

سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا». قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ». قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ». قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهَذِهِ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.

(صحيح بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب فضل الصلاة لوقتها، رقم الحديث:527؛ صحيح مسلم، کتاب الايمان، باب بيان كون الايمان بالله تعالى أفضل الأعمال، رقم الحدیث:85)

’’میں نے رسول اللہﷺسے سوال کیاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونساہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نمازکوبروقت اداکرنا۔‘‘

میں نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپﷺنے فرمایا: ’’والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔‘‘ میں نے کہا: پھرکونسا؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہادکرنا۔‘‘

راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ نے مجھے یہی باتیں بتلائیں، البتہ اگرمیں مزید پوچھتا تو آپﷺ اور بھی بتلاتے۔‘‘

مذکورہ حدیثِ مبارکہ میں نبیﷺنے بھی پہلا افضل عمل باری تعالیٰ کی بندگی یعنی نماز ذِکر فرمایا اور اس کے بعدديگرتمام اعمال پرفضیلت کاحامل جوعمل بتلایا وہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔

گویا قرآن وسنّت کے طرزِبیان سے ہی اس عمل کی فضیلت واہمیت اوراس کی بجاآوری کے تقاضے کی شدّت کااحساس ہوتاہے۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ: «أُمُّكَ». قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ». قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَبُوكَ.»

(صحيح بخاری، کتاب الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبة:5971-صحيح مسلم، کتاب البروالصلة، باب برالوالدين وأيهما أحق به:2548)

’’اے اللہ کے رسولؐ!میرے اچھے سلوک کاسب سے زیادہ حقدارکون ہے؟ آپﷺنے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے عرض کیا: پھر کون حق رکھتا ہے؟ آپﷺنے فرمایا: پھرتمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کس کا حق ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: پھر تمہارے باپ كا۔‘‘

ایک روایت میں یوں ہے کہ اس صحابی نے کہا:

يَا نَبِيَّ اللّٰهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: «أُمَّكَ». قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمَّكَ». قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمَّكَ». قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أَبَاكَ».

(صحيح مسلم، کتاب البروالصلة، باب برالوالدين وأيهما أحق به:2548 -سنن ابن ماجه، کتاب الأدب، باب برالوالدين:3658)

’’اے اللہ کے نبی(ﷺ)!میں کس کے ساتھ نیک سلوک کروں؟ آپﷺنے فرمایا:

اپنی ماں کے ساتھ۔ اس نے کہا: پھرکس سے؟ آپﷺنے فرمایا:’’پھراپنی ماں سے۔‘‘ اس نے پوچھا:پھرکس سے؟ آپﷺنے فرمایا: ’’پھربھی اپنی ماں سے۔‘‘

اس نے پھرعرض کیاکہ پھرکس سے نیک سلوک کروں؟ آپﷺنے فرمایا: ’’پھراپنے باپ سے۔‘‘

یعنی ماں حسنِ سلوک کاتین چوتھائی حق رکھتی ہے اورباپ ایک چوتھائی، اس کی وجہ واضح ہے کہ ماں کوبچے کی پیدائش کے اوّل تاآخرکئی تکلیف دہ مراحل سے گزرناپڑتاہے اورپھراس کی پرورش ونگہداشت کی ذِمہ داری بھی ماں ہی کے سرہوتی ہے، علاوہ ازیں اس کی ابتدائی تعلیم وتربیت میں بھی باپ کی بہ نسبت ماں کازیادہ کردارہوتاہے، ان تمام امورکی بناپرماں کوباپ پرفضیلت وفوقیت دی گئی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن دینار سیدنا عبداللہ بن عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللّٰهِ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ، وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ: فَقُلْنَا لَهُ: أَصْلَحَكَ اللّٰهُ، إِنَّهُمُ الْأَعْرَابُ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ: إِنَّ أَبَا هٰذَا كَانَ وَادًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ.»

(صحيح مسلم، کتاب البروالصلة، باب بر الوالدين وأيهما أحق به: 2552- سنن أبوداؤد، کتاب الأدب، باب فی برالوالدين: 5143-سنن ترمذى، أبواب البروالصلة، باب ماجاء فى إكرام صديق الوالد :1903)

’’ایک بدوی شخص انہیں مکہ کے کسی راستے میں ملا، تو سیدنا عبد اللہ نے اسے سلام کہا اور اسے اس سواری پر بٹھا لیا جس پہ خود سواری کیا کرتے تھے اور اپنے سر سے پگڑی اتار کر اسے دے دی۔ سیدنا ابنِ دینار﷫ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا:

’’اللہ تعالیٰ آپ میں نیکی کا (مزید) جذبہ پیدافرمائے، یہ بدوی لوگ توتھوڑے بہت پرہی خوش ہوجاتے ہیں(آپ نے اتنا کیوں کیا؟)۔‘‘

تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ’’اس شخص کا والد (میرے والد) سیدنا عمر ابن خطاب کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ سب سے بڑا نیک سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں سے میل جول رکھے۔‘‘

یعنی صرف باپ پرہی حسنِ سلوک کاسلسلہ ختم نہیں کردیناچاہیے بلکہ باپ کی وفات کے بعدان کے دوستوں سے میل جول اوراچھابرتاؤرکھنابھی باعثِ اجروثواب ہے۔

صِلہ رحمى كاحكم

رَحِمْ سے مراد قرابت داری ہے اور صلہ رحمی کا مطلب ہے کہ رشتے داروں سے میل جول اورتعلق وناتہ جوڑے رکھنا۔ صلہ رحمی کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الحِسَابِ﴾

’’اور(جنّتی)لوگ وہ ہیں جوان رشتوں کوملاتے ہیں جنہیں ملانے کا انہیں حکم دیا گیا ہے اور وہ برے حساب سے ڈرتے ہیں۔‘‘(سورۃ الرعد: 2)

اورقطع رحمی کرنے والے کے بارے میں فرمایا:

﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمٰى أَبْصَارَهُمْ﴾

’’اور تم سے یہ بھی بعیدنہیں ہے کہ اگرتم کوحکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر ڈالو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی گئی ہے۔‘‘ (سورۃ محمد: 22۔23)

يعنى اللہ تعالىٰ نے اس آيت میں فسادفى الارض كے ساتھ قطع رحمى كوبھی موجبِ لعنت قراردياہے۔

سیدنا ابوایوب انصاری بیان کرتے ہیں کہ

أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِنَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَأَخَذَ بِحَكَامِ النَّاقَةِ أَوْ زِمَامِهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ.»

(صحيح بخاری، کتاب الزكاة، باب وجوب الزکاة:1396-صحيح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان الإيمان الذى يدخل به الجنة:13)

’’کسی سفرمیں ایک بدوی نبیﷺ کے پاس آیا اور اس نے (آپﷺ کی) اونٹنی کی لگام یا لگام کا کڑا پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!، یا(کہا) اے محمد! مجھے کوئی ایساعمل بتلائیے جومجھے جنّت کے قریب کر دے اور جہنّم سے دُورکردے۔ تو آپﷺنے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرا، نمازقائم کر، زکاۃ دے اورصلہ رحمی کر۔‘‘

مذکورہ حدیث میں رسولِ مکرمﷺنے صلہ رحمی یعنی عزیز واقارب کے ساتھ میل جول رکھنے، تعلق وناتہ جوڑنے اور اچھاسلوک کرنے کے عمل کوجنّت کے قریب اور جہنّم سے دُور کر دینے والا عمل بتلایا ہے۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ، قَالَتِ الرَّحِمُ: هٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلٰى يَا رَبِّ، قَالَ: فَذَلِكَ لَكِ.» قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمٰى أَبْصَارَهُمْ﴾ [سورة محمد: 22،23]

(صحيح بخاری، کتاب الأدب، باب من وصل وصله الله: 5987- صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، باب صلة الرحم وقطيعة رحمها:2554)

’’جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرنے سے فارغ ہوا تو رشتے داری نے کہا:قطع رحمی سے پناہ مانگنے والے کایہ مقام ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ہاں، کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ میں اسے ملاؤں جوتجھے ملائے اور میں اس سے تعلق توڑوں جو تجھ سے تعلق توڑے؟ رشتے داری نے کہا:

اے پروردگار!کیوں نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تیرے لیے یہی ہے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کایہ فرمان پڑھ لو:

﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ، أُولٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمٰى أَبْصَارَهُمْ﴾

’’اورتم سے یہ بھی بعیدنہیں ہے کہ اگرتم کوحکومت مل جائے توتم زمین میں فسادبرپاکرڈالو اوررشتے ناتے توڑ ڈالو۔یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی گئی ہے۔‘‘

سیدنا جبیربن مطعم نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» (صحيح بخاری، کتاب الأدب، باب إثم القاطع: 5984- صحيح مسلم، کتاب البروالصلة، باب صلة الرحم وقطيعة رحمها :2556)

’’قطع رحمی کرنے والاجنّت میں نہیں جائے گا۔‘‘

مذکورہ دونوں حدیثوں سے یہ بات احاطۂ علم میں آتی ہے کہ جس طرح صلہ رحمی موجبِ اجر وثواب ہے اسی طرح قطع رحمی باعثِ غضب وعذاب ہے۔ غضب اس طرح کہ جوشخص رشتے داری کو توڑتا ہے وہ اللہ کا غضب مول لیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لیتا ہے اور باعثِ عذاب یوں کہ ایساشخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلٰكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا.»

(صحيح بخاری، کتاب الأدب، باب ليس الواصل بالمكافئ: 5991-سنن أبوداؤد، کتاب الزكاة، باب فی صلة الرحم:1697 -سنن ترمذى، أبواب البروالصلة، باب ماجاء فى صلة الرحم: 1908-مسند أحمد:2/163)

’’صِلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہوتا جو بدلے میں صِلہ رحمی کرے، بلکہ صِلہ رحمی کرنے والاوہ ہے کہ جس سے رشتہ داری توڑی جائے اور وہ (پھربھى) اسے ملائے۔‘‘

اس حدیث میں صلہ رحمی کامفہوم بتلایا گیاہے کہ صلہ رحمی کایہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرا رشتے دارمیل جول رکھے توتبھی اس سے رشتہ داری رکھی جائے بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ وہ آپ سے میل جول رکھے یا نہ رکھے، اچھاسلوک کرے یا نہ کرے آپ کو کسی صورت اس سے رشتہ ناتہ نہیں توڑنا چاہیے، بلکہ صلہ رحمی کہتے ہی اسی کو ہیں کہ دوسرا ناتے کو توڑے اور آپ اس سے جوڑیں، کیونکہ بدلے میں صلہ رحمی کرنا تو بدلے کی نیکی ہوئى، لیکن اس عظیم عمل کا اظہار اسی صورت میں ہے کہ فریقِ ثانی خواہ کیسابھی سلوک کرے مگر آپ اس سے صلہ رحمی کاہی معاملہ کریں۔

سیدہ اُمِ کلثوم بنت عقبہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ.»

(مستدرك حاكم:1/406 -المعجم الكبير للطبرانى: 18/258- صحيح الإرواء:892)

’’سب سے زیادہ فضیلت کاحامل صدقہ وہ ہے جوبہت زیادہ دشمنی رکھنے والے رشتہ دارپرکیاجائے۔‘‘

گویاکوئی عزیزورشتے داراگردشمنی کی طرح کاسلوک کرتاہوتواس پرصدقہ کرناسب سے زیادہ فضیلت کاحامل ہے، اوریہ صدقہ صرف مالی مرادنہیں ہے بلکہ کسی بھی طرح سے اس کے کام آنا، اس کی مددکرنایااس کادُکھ بانٹناسب امورِصدقہ میں شامل ہیں کیونکہ نبی مکرمﷺکایہ ارشادِگرامی ہے کہ ہرنيك کام صدقہ ہے۔

سیدہ ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللّٰهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُهُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في النهي عن البغي: 4902-سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2511-سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب باب البغي: 4211- مسند أحمد:5/36-سلسلة الأحاديث الصحيحة: 918)

’’سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی بھی گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس کا عذاب آخرت میں برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اس گناہ کے مرتکب کو دنیا میں بھی سزاسے دوچارکرے۔‘‘

گویارشتے ناتے توڑنا ایسا قبیح گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا ہر دوجہاں میں دیتا ہے، دنیا میں بھی اسے سزا سے دوچار کرتا ہے اور آخرت میں بھی جنّت سے محروم رکھے گا۔

سیدنا عبدالرحمان بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا اللّٰهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَشَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنَ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ، أَوْ قَالَ: بَتَتُّهُ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في صلة الرحم: 1694- سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في قطيعة الرحم: 1907- الأدب المفرد للبخارى: 53- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 520)

’’اللہ تعالیٰ فرتا ہے:

میں اللہ ہوں اور میں رحمان ہوں، میں نے ہی رحم (یعنی رِشتہ داری) کو پیدا کیا اور اس کا نام اپنے نام کو پھاڑ کر اس سے رکھاہے، سو جو کوئی اسے ملائے گا اسے میں ملاؤں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے توڑوں گا۔ یا یہ فرمایا کہ میں اسے کاٹ کے رکھ دوں گا۔‘‘

سیدہ اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ

قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ قُلْتُ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ، أَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ.» قَالَ سُفْيَانُ: وَفِيهَا نَزَلَتْ:

﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ﴾ الْآيَةَ (الممتحنة:8)

(صحيح بخارى، كتاب الهبة، باب الهدية للمشركين: 2620- صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين والزوج والأولاد والوالدين ولوكانوا مشركين: 1003)

’’میری والدہ عہدِرسالت میں بھی مشرکہ ہی تھیں، وہ (ایک مرتبہ)میرے پاس آئیں تومیں نے رسول اللہﷺ سے یہ فتویٰ طلب کیاکہ میرے پاس میری والدہ آئی ہیں اور انہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا، تو کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ سیدنا سفیان﷫ کہتے ہیں کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ﴾ الْآيَةَ

’’جولوگ تم سے دین کے معاملے میں لڑتے بھِڑتے نہیں ہیں ان سے (اچھاسلوک کرنے سے)اللہ تعالیٰ تمہیں منع نہیں کرتا۔‘‘

یعنی والدین اگرمشرک ہوں تب بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کامعاملہ کرناچاہیے، بشرطیکہ وہ اللہ کی نافرمانی کاکام کرنے کونہ کہیں، لیکن اگروہ کوئی ایساکام کرنے کوکہیں کہ جس سے اللہ کی نافرمانی ہوتی ہوتوایسی صورت میں ان کی اطاعت لازم نہیں ہے۔

جیساکہ سیدنا سعد بیان کرتے ہیں کہ

قَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللّٰهُ بِبِرِّ الْوَالِدَةِ، فَوَاللّٰهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا، وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا، حَتَّى تَكْفُرَ أَوْ تَمُوتَ. فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا أَوْ يَسْقُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا، ثُمَّ أَوْجَرُوهَا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَنَزَلَتْ:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا﴾ [العنکبوت:8] .

(صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب فى فضل سعد بن وقاص: 1748-مسند أحمد:3/176)

’’اُمِ سعد(یعنی ان کی والدہ)نے (ان سے)کہا:کیا اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم نہیں فرمایا؟ اللہ کی قسم!میں تب تک کچھ نہ کھاؤں پیوں گی جب تک تُو کافر نہیں ہو جاتا یا مر نہیں جاتا۔ سو جب وہ انہیں کچھ کھلانا یا پلانا چاہتے تو چھڑی کے ساتھ ان کا منہ کھولتے پھر کھانا یا پانی ان کے حلق میں اتارتے، تو(اس موقع پر)یہ آیت نازل ہوئی:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ﴾

’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کی وصیت کی، لیکن اگر وہ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تُو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تجھے علم نہیں ہے، توان کی بات مت مان۔‘‘

٭٭٭

 

دوبارہ گناہ کیوں ہوتا ہے؟

شيخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:

’’بے شک بندہ گناہ کی طرف اپنے دل میں اس کے باقی آثار کی وجہ سے لوٹتا ہے۔ لہٰذا جب اس کے دل سے شبہ اور شہوت نکل جاتی ہے تب وہ گناہ کی طرف نہیں لوٹتا ہے۔‘‘ (جامع المسائل: 7؍280)

 

استغفار عظیم ترین نیکی

“الاستغفار أكبر الحسنات، وبابه واسع، فمن أحسّ بتقصير في قوله أو عمله أو رزقه أو تقلب قلبه فعليه بالاستغفار”

(فتاوى ابن تیمیہ: 11؍698)

’’استغفار عظیم ترین اور وسیع ترین نیکی ہے، لہذا جو شخص اپنے قول وعمل اور رزق میں کمی محسوس کرے یا قلبی اضطراب وبے چینی ہو تو اسے استغفار کو لازم پکڑنا چاہئے۔‘‘

 

تبصرہ کریں