زندگی ایسے گزاریں (قسط 4)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

مخلوقِ خداکاایک دوسرے كے ساتھ رحم وکرم كارويّہ

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا:

«جَعَلَ اللّٰهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ، وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ رِجْلَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب جعل الله الرحمة مائة جزء، ح: 6000-صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب في سعة رحمة الله تعالى وأنها سبقت غضبه، ح:2752)

’’اللہ تعالیٰ نے رحمت کے 100حصے بنائے ہیں، 99 حصوں کواپنے پاس رکھاہے اورایک حصے کوزمین پہ اتاراہے، چنانچہ مخلوقِ خداکاباہم رحم وکرم سے پیش آنا(بلکہ)یہاں تک کہ گھوڑاجواس ڈرسے اپنے بچے سے اپنی ٹانگ کواٹھائے ركھتاہے کہ کہِیں اس کی ٹانگ اس کے بچے کونہ کچل دے، یہ سب رحمت کے اسی ایک حصے سے ہے۔‘‘

مذکورہ حدیث میں اللہ کی رحمت کابیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سوحصوں میں سے اس نے صرف ایک حصہ زمین پراتاراہے اورتمام مخلوقِ خدا،خواہ وہ جِن وانس ہوں یاچرندوپرند، وہ سب آپس میں جورحم وکرم سے پیش آتے ہیں وہ صرف اس ایک حصے کے بدولت ہے، حتىٰ كہ ايك گھوڑااگركھڑاہواورنيچے اس كابچہ بيٹھاہواورگھوڑے كى وہ ٹانگ جواس كے بچے كى طرف ہوتی ہے وہ اسے صرف اس خدشے كے باعث اوپراٹھائے ركھتاہے کہ اگروہ زمين پرركھے گا تو كہيں اس كابچہ نيچے آكركچلاہى نہ جائے۔ توفرماياكہ گھوڑے كی يہ محبت بھى رحمتِ الہٰى كے اسى ايك حصے میں سے ہوتی ہے۔ چنانچہ اندازہ کیجیے کہ باقی 99 حصے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہیں تواس كى رحمت كاكياعالم ہوگااوروہ کس درجہ مہربان ہوگا؟

سیدنا جریربن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«لَا يَرْحَمُ اللّٰهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ»

(صحيح بخارى، كتاب التوحيد، باب قول الله تبارك وتعالى: ﴿قُلِ ادْعُوْا اللهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيَّامّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْأسماء الحسنى﴾، ح: 7376-صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب رحمته ﷺ الصبيان والعيال وتواضعه وفضل ذلك، ح: 2316)

’’اللہ تعالیٰ ایسے شخص پررحم نہیں فرماتاجولوگوں پررحم نہ کرتاہو۔‘‘

سیدنا جریربن عبداللہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللّٰهُ»

(صحيح بخارى، كتاب التوحيد، باب قول الله تبارك وتعالى: ﴿قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن أيا ما تدعوا فله الأسماء الحسنى﴾، ح: 7376- صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب رحمته ﷺ الصبيان والعيال وتواضعه وفضل ذلك، ح: 2316)

’’جوشخص لوگوں پررحم نہیں کرتااللہ تعالیٰ بھی اس پررحم نہیں فرماتا۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرحمة، ح: 4941- سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة المسلمين، ح: 1924- صحيح الجامع للألبانى: 7467)

’’رحم کرنے والوں پررحمان (عزوجل)رحم فرماتا ہے، سوتم زمین والوں پررحم کیاکروتم پرآسمان والا رحم فرمائے گا۔‘‘

مذکورہ احادیث سے معلوم ہواکہ رحمتِ الہٰی کامستحق بننے کے لیے مخلوقِ خداپررحم کرناضروری ہے اورجواس کااہتمام نہیں کرتاوہ اللہ تعالیٰ کے رحم كاحقدارنہیں ٹھہرتا۔

سیدنا عیاض بن حمار سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْتَصِدٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبٰى وَمُسْلِمٍ، وَفَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ»

(صحيح مسلم، كتاب صفة الجنة، باب الصفات التي يعرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، ح: 2865)

’’جنّتی لوگ تین طرح کے ہوں گے: (پہلا) ایسا صاحبِ سلطنت شخص کہ جو میانہ روہو، صدقہ وخیرات کرنے والاہو اور(بھلائی)کی توفیق سے نوازا گیا ہو، (دوسرا) وہ مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دِل ہواور(تیسرا)وہ غریب شخص جو(لوگوں سے مانگنے)سے بچتا ہوا اور(حتی الوسعت)صدقہ وخیرات کرتاہو۔‘‘

گويا وہ شخص بھى جنت كاحقدارہے جولوگوں كے ليے اپنے دِل ميں نرم گوشہ ركھتاہے اورپھراس كايہ رویّہ بلاتفريق ہوتاہے، يعنى خواہ اس کاکوئی قرابت دار ہو یا غیر ہو، سب كے ساتھ اس كاسلوك رحم وكرم كا ہوتاہے۔

سیدنا نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَوَاصُلِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوٌ مِنْهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب قتل الولد خشية أن يأكل معه، ح:6011-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم، ح: 2586)

’’مسلمانوں کا آپس میں رحم وکرم، محبت ومودّت اور میل جول کامعاملہ ایک جسم کے مانندہے، جب اس کے جسم کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بخار اور بے خوابی کے ساتھ اس کی تکلیف میں شریک ہوجاتاہے۔‘‘

یعنی جس طرح جسم کے ایک عضومیں تکلیف ہونے سے سارا جسم بے آرام وبے سکون ہو جاتا ہے اسی طرح ایک مسلمان کے دُکھ، تکلیف اورکسی بھی قسم کی پریشانی میں مبتلاہوجانے سے تمام مسلمانوں کوبے چین ہوجاناچاہیے اوراپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس کے دُکھ، درد اور پریشانی کا مداوا کرنا چاہیے۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے صادق ومصدوق ابوالقاسمﷺکوفرماتے سنا:

«لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرحمة، ح: 4942-سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في رحمة المسلمين، ح: 1923-مسند أحمد: 2/301)

’’رحمت وشفقت سوائے بدبخت کے کسی سے نہیں چھِینی جاتی۔‘‘

یعنی جو کسی پر رحم اور شفقت نہیں کرتا وہ بدبخت شخص ہے، اور اس بدبختی کو دُور کرنے اور سعادت مندی سے بہرہ مندہونے کے لیے دِل کو مہربان کرنا ضروری ہے۔

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَخْفِقُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ»

(صحيح بخارى، كتاب الأذان، باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي، ح: 709-صحيح مسلم، كتاب الصلاة، باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام، ح: 470)

’’میں نمازشروع کرتا ہوں تو لمبی نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں، ليكن جب کسی بچے کے رونے کی آواز ميرے كان ميں پڑتى ہے تو میں اس بچے کی ماں کو اس کے باعث ہونے والی سخت بے چینی کوجان کر اس کی وجہ سے نمازمختصرکردیتاہوں۔‘‘

یعنی آپﷺ کے دِل میں رحم اور شفقت اس قدر تھی کہ ایک ماں کا اپنے بچے کی وجہ سے بے چین ہو جانا بھی آپﷺ پر گراں گزرتا تھا اور اس کی خاطر آپﷺ نماز کو مختصر فرما دیتے تھے جوکہ بندگیٔ الہٰی کا عالی ترین مظہرہے۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي طَرِيقٍ أَصَابَهُ عَطَشٌ فَجَاءَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَلَ الرَّجُلُ إِلَى الْبِئْرِ فَمَلَأَ خُفَّهُ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ أَمْسَكَ الْخُفَّ بِفِيهِ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللّٰهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ». فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ.»

(صحيح بخارى، كتاب المساقاة، باب فضل سقي الماء، ح: 2363-صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل ساقي البهائم المحترمة وإطعامها، ح: 2244)

’’ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھاکہ اسے پیاس لگ گئی، وہ (پانی پینے کے لیے)کنویں کے پاس آیا اور اتر کر پانی پیا، پھرنکلنے لگا تو اس نے دیکھاکہ ایک کُتا پیاس کے مارے مٹّی چاٹ رہاہے، وہ دوبارہ کنویں کے پاس آیا اور اپنے موزے کو پانی سے بھر کر کتّے کے منہ سے لگا دیا، کتّے نے پانی پی لیا، تواللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدرکی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ كرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!کیاہمارے لیے چوپایوں میں بھی اجر ہے؟ تورسول اللہﷺ نے فرمایا: ہرتازہ جِگر(جان کی خدمت)میں اجرملتاہے۔‘‘

ہرجاندارپررحم کرنے میں اللہ تعالیٰ نے اجررکھاہے، حتیٰ کہ ہماری نظرمیں جوحقیرترین جانورکُتاہے اس کو پانی پلانے سے ایک شخص کی مغفرت ہوگئی، تو گویا نیکی کے کسی معاملے کوبھی حقیرنہیں جانناچاہیے خواہ وہ کسی جانورکی خدمت ہی کیوں نہ ہو۔

قُرہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَذْبَحُ الشَّاةَ وَأَنَا أَرْحَمُهَا، قَالَ: «وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللّٰهُ.»

(مسند أحمد: 3/436- الأدب المفرد للبخارى: 373- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 26)

’’اے اللہ کے رسول!میں جب بکری ذبح کرنے لگتا ہوں تو اس پر رحم کرتا ہوں، آپﷺ نے فرمایا: اگر تو بکری پر بھی رحم کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے گا۔‘‘

بکری کوذبح کرتے ہوئے رحم کرنے سے مرادیہ ہے کہ اسے اچھی طرح پکڑا یا باندھا جائے تاکہ وہ قابومیں رہے اوردرمیانِ ذبح چھُوٹ کر تڑپنے نہ لگے، اورذبح کرنے کاآلہ تیزدھارہوناچاہیے تاکہ وہ ایک ہی دفعہ اسے ذبح کرڈالے، ایسانہ ہوکہ وہ کُندہواورتیزنہ چلنے کی وجہ سے بکری کوتڑپانے کاباعث بنے، اسی طرح ذبح کرنے سے پہلے آلۂ ذبح جانورکے سامنے تیز کرنے سے بھی احتراز کرنا چاہیے تاکہ وہ جانور ذبح ہونے سے پہلے ہی موت کے خوف میں مبتلا نہ ہو جائے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں