زندگی ایسے گزاریں (قسط 5)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

چھوٹے پرشفقت اوربڑے کی عزّت

سیدنا عبداللہ بن عمرو نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرحمة، ح: 4943- مسند أحمد: 1/257-صحيح الجامع للألبانى:6540)

’’جو شخص ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کونہیں پہچانتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘

شارحینِ حدیث نے لَيْسَ مِنَّا کے متعدد معانی کیے ہیں، ان سب کاخلاصہ یہ ہے:

وہ ہماری سُنّت کی پیروی کرنے والا، ہمارے بتائے ہوئے راستے پرچلنے والا، ہماری ہدایت کوقبول کرنے والا، ہمارے علم وعمل کی اقتداء کرنے والااورہمارے بتائے ہوئے حکم پرعمل پیرا ہونے والا نہیں ہے۔

(فتح الباری بشرح صحيح البخاری: 9؍70؛ شرح صحيح البخاری لابن بطال: 2؍281؛ شرح مسلم للنووی:1؍109-شرح مسلم للسيوطی:1؍83)

سیدنا ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللّٰهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ، وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْمُغَالِي فِيهِ وَالْجَافِي عَنْهُ، وَإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في تنزيل الناس منازلهم: 4843؛ صحيح الجامع للألبانى:2199)

’’بلاشبہ بوڑھے مسلمان، غُلو وتقصیرسے بچنے والے صاحبِ قرآن اورمنصف حکمران کی عزت کرنا اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں سے ہیں۔‘‘

یعنی بزرگ شخص كى عزت واحترام اللہ تعالىٰ كى تعظیم كرنے كے مترادف ہے۔

بيوى کے حقوق

سیدنا جابربن عبداللہ عرفات میں دیے گئے نبی کریمﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا:

«اتَّقُوا اللّٰهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللّٰهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللّٰهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ»

(صحيح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبيﷺ: 1218؛ سنن أبوداؤد، كتاب المناسك، باب باب صفة حجة النبي ﷺ: 1905؛ سنن ابن ماجه، كتاب المناسك، باب حجة رسول الله ﷺ :3074)

’’عورتوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، کیونکہ تم انہیں اللہ تعالیٰ کی امانت سے حاصل کرتے ہو اور اللہ کے کلمے سے ان کے ساتھ ہمبستری کو جائز کرتے ہو، یقیناً ان کے ذمے بھی تمہارے کچھ حقوق ہیں(وہ یہ کہ)وہ تمہارے بستروں پرایسے کسی شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرو، اور اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو، لیکن ایسی مارنہ ماروکہ جو انہیں زخمی کردے، اور تمہارے ذِمے ان کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کی معروف انداز میں ذِمہ داری ادا کرنا ہے۔‘‘

سیدنا معاویہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا:

مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟ قَالَ: «أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ، وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسٰى، وَلَا يَهْجُرَ إِلَّا فِي الْبَيْتِ، وَلَا يَضْرِبَ الْوَجْهَ، وَلَا يُقَبِّحَ» (سنن أبوداؤد، كتاب النكاح، باب في حق المرأة على زوجها: 2142؛ سنن ابن ماجه، كتاب النكاح، باب حق المرأة على الزوج: 1850؛ إرواء الغليل للألبانى:2033)

’’عورت کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپﷺنے فرمایا:یہ کہ جب وہ خودکھائے تو اسے بھی کھلائے، جب وہ خود(نيا لباس)پہنے تو اسے بھی پہنائے، اور صرف گھر ہی میں اسے تنہا چھوڑے، نہ اس کے چہرے پہ مارے اورنہ ہی اسے بُرابھلاکہے۔‘‘

ان دونوں حدیثوں میں زوجین کے حقوق وفرائض بیان کیے گئے ہیں، خوشحال ازدواجی زندگی کے لیے آپﷺ کے بتلائے ہوئے ان زرِّیں اصولوں کو اپنانا ناگزیرہے۔سیدنا ابومسعودانصاری نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْمُسْلِمُ إِذَا أَنْفَقَ نَفَقَتَهُ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةً» (صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين والزوج والأولاد، والوالدين ولو كانوا مشركين: 1002-مسند أحمد:4/120)

’’مسلمان جب اپنی کمائی کو نیکی کی نیّت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ لکھ دی جاتی ہے۔‘‘

یعنی اگرکوئی شخص اس نیّت سے اپنے اہلِ خانہ پرخرچ کرتا ہے کہ میں اللہ کے حکم کی بجاآوری میں اپنے بیوی بچوں پرخرچ کر رہا ہوں تو اس کے لیے وہ بھی صدقہ بن جاتاہے۔ سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«دِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَدِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ مِسْكِينًا، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ. قَالَ: الدِّينَارُ الَّذِي تُنْفِقُهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا» (صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب فضل النفقة على العيال والمملوك، وإثم من ضيعهم أو حبس نفقتهم عنهم: 995)

’’ایک دینار وہ جو تُو نے راہِ خدا میں دے دیا، ایک دینار وہ جو تُونے کسی مسکین کو دے دیا اور ایک دینار وہ جو تُونے اپنے گھر والوں پرخرچ کیا، فرمایاکہ ان تینوں دیناروں میں سے اجر وثواب کے لحاظ سے سب سے عظيم دینار وہ ہے جو تُونے اپنے گھروالوں پرخرچ کیا۔‘‘

اس حدیث سے معلوم ہواکہ اپنے بیوی بچوں پرخرچ کرنا راہِ خدا میں اور مساکین پر خرچ کرنے سے بھی زیادہ فضیلت رکھتاہے، لیکن اگراہلِ خانہ کے حقوق بہت عمدہ اندازمیں ادا ہو رہے ہوں اور مالی وسعت بھی ہو تو پھر حسبِ حال اللہ تعالیٰ کی راہ میں اورمحتاج ومساکین پرخرچ کرنابھی اہم ہوجاتاہے۔سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ وَلَا تَقَعُوا فِيهِ» (سنن ترمذى، أبواب المناقب، باب في فضل أزواج النبي ﷺ: 3895-سلسلة الأحاديث الصحيحة:285)

’’تم میں سے بہتروہ ہے جواپنے گھروالوں کے حق میں بہتر ہو، اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں، اور جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو تم اس کے لیے دعا کیا کرو اور اس کی برائیاں مت بیان کیاکرو۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهُ، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ» (صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب المداراة مع النساء، وقول النبي ﷺ: «إنما المرأة كالضلع»: 5184-صحيح مسلم، كتاب الرضاع، باب الوصية بالنساء: 1468)

’’بِلاشک عورت ٹیڑھی پسلی کے مانندہے، اگر تُو اسے سیدھا کرنے لگے گا تو توڑ بیٹھے گا اور اگر تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اس کے ٹیڑھے پَن کے باوجود بھی فائدہ اٹھا سکتاہے۔‘‘

نبیﷺ کے فرمان کے مطابق عورت کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے ہوئی ہے، اس بناء پراس کے ساتھ اس ٹیڑھے پن کے ہوتے ہوئے ہی گزارا کیا جا سکتا ہے، اسے سیدھا کرنا یا سدھارنا سعی لاحاصل ہے کیونکہ فطری امورکوتبدیل نہیں کیاجاسکتا۔

خاوندکے حقوق

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:

«لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، لِمَا عَظَّمَ اللّٰهُ مِنْ حَقِّهِ عَلَيْهَا» (سنن ترمذى، أبواب النكاح، باب ما جاء في حق الزوج على المرأة: 1159-إرواء الغليل للألبانى:1998)

’’اگر میں کسی کو سجدہ کرنے كا حكم ديتا تو عورت کو دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اس تعظیم کی وجہ سے جواللہ تعالیٰ نے خاوندکے حق سے عورت پرلازم کی ہے۔‘‘

سجدہ سوائے مسجودِ خلائق کے کسی کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے بلکہ ایساکرنے والادائرۂ اسلام سے خارج ہے، لیکن آپﷺ نے فرمایاکہ اگراللہ کے سواکسی اور کو سجدہ جائز ہوتا تو میں عورت کو اپنے خاوندکے آگے سجدہ ریز ہونے کا حکم فرماتا۔ اس فرمان سے خاوند کے مقام کا بخوبی اندازہ ہوجاتاہے کہ عورت کو کس درجے تک اس كے حقوق كى ادائیگى کاپاس ولحاظ رکھناچاہیے۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلٰى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانًا عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ» (صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها: 5193-صحيح مسلم، كتاب النكاح، باب تحريم امتناعها من فراش زوجها: 1436)

’’جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ(آنے سے)انکار کر دے اور(وہ آدمی)اس سے ناراضگی کی حالت میں رات بسرکرے، توصبح ہونے تک فرشتے اس عورت پرلعنت بھیجتے رہتے ہیں۔‘‘

سیدنا حصین بن محصن انصاری بیان کرتے ہیں:

أَنَّ عَمَّتَهُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا فَرَغَتْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟.» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتِ؟» قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: «انْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ» (مسند أحمد: 4/341؛ مستدرك حاكم: 2/189- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2612)

’’ان کی (یعنی حصین کی)پھوپھی نے انہیں بتلایاکہ وہ کسی کام کی غرض سے رسول اللہﷺ کے پاس آئیں، جب وہ فارغ ہوگئیں تورسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تمہارا خاوند ہے؟ انہوں نے جواب دیا:جی ہاں، آپﷺ نے فرمایا: تم کیسی ہو(یعنی اپنے خاوند کے ساتھ تمہارا رویہ کیساہے؟) انہوں نے کہا:میں اس کی اپنی عجز کی انتہا تک پرواہ نہیں کرتی، آپﷺ نے فرمایا: اس سے اپنے مقام کوپہچانو(یعنی اس کے حقوق کاخیال رکھو)، کیونکہ وہ تیری جنّت اورتیری جہنم ہے۔‘‘

عجزکی انتہاء سے مراد یہ ہے کہ میں اس کابہت زیادہ خیال نہیں رکھتی بلکہ مناسب سی دیکھ بھال کرتی ہوں، تو آپﷺ نے اسے ناکافی سمجھتے ہوئے فرمایاکہ وہ تیری جنت اور جہنم ہے، یعنی اگر تُو اس کے حقوق کو احسن انداز سے ادا کرے گی تو جنت کی حقدار ٹھہرے گی اور اگر اس کے حقوق کا خیال نہیں رکھے گی توجہنم میں بھی جاسکتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ عَنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ» ( صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب لا تأذن المرأة في بيت زوجها لأحد إلا بإذنه: 5195)

’’عورت کا خاوند جب(گھرمیں)موجود ہو تووہ اس کی اجازت کے بغیرروزہ نہیں رکھ سکتی، نہ ہی وہ اس کے گھر میں موجود ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر (کسی کو گھر آنے کی) اجازت دے سکتی ہے، اور عورت اپنے خاوندکی کمائی سے اس کی اجازت کے بغیر جو بھی(راہِ خدامیں)خرچ کرے اس کا آدھا ثواب خاوند کو بھی ملے گا۔‘‘

اس سے مرادنفلی روزہ ہے فرضی نہیں، کیونکہ فرائض کی ادائیگی میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور مال خرچ کرنے کے بارے میں بعض اہلِ علم کاقول ہے کہ عورت اپنے خاوندکی اجازت کے بغیرصرف اس مال سے خرچ کر سکتی ہے جو خاوندنے اسے اس کے خرچے وغیرہ کے لیے دیاہو۔

٭٭٭

زندگی ایک جنگ ہے، اس جنگ میں فتح پانے کے 7 طریقے

ہر صبح جب آپ آنکھ کھوتے ہیں تو ایک جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس جنگ میں ایک قوت یہ چاہ رہی ہوتی ہے کہ آپ خود اپنی زندگی کا بہترین ورژن ہوں اور دوسری چاہتی ہے کہ آپ بدترین ورژن بن جائیں۔ ان قوتوں میں سے کچھ اندرونی ہیں اور کچھ بیرونی۔ یہ قوتیں ہر وقت ایک دوسرے سے محوِ جنگ رہتی ہیں اور کوشش کرتی رہتی ہیں کہ آپ پہ غلبہ پا کے اپنا ساتھی بنا لیں۔ اور ہر دن آپ اپنے عمل کے ذریعے دونوں میں سے ایک قوت کو مضبوط تر کرتے چلے جاتے ہیں۔ اپنی زندگی کو جنگ کے طور پہ سوچنا کچھ عجیب ضرور ہے۔ تاہم یہ ایک طاقتور استعارہ ہے جو آپ کی ذاتی ترقی (پرسنل ڈیویلپمنٹ) اور بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جب نبی کریمﷺ ایک جنگ سے واپس لوٹ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہم نے چھوٹا جہاد ختم کیا اب ہم بڑا جہاد شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ آپﷺ نے بتایا کہ باہر کے دشمن سے جنگ چھوٹا جہاد ہے جبکہ خود سے جنگ کرنا بڑا جہاد ہے۔

جب آپ جنگ کرتے ہیں تو دو میں سے ایک نتیجہ ممکن ہوتا ہے۔ یا تو جیت آپ کے قدم چومے گی یا پھر ہار مقدر ٹھہرے گی۔ کوئی بھی انسان ہار نہیں چاہتا، اس لیے ہم آپ کے سامنے اس جنگ کو جیتنے کے سات طریقے بتانے جا رہے ہیں:

1۔ جنگ سے قبل رات کو ہی خود کو تیار کیجئے

کوئی بھی آرمی بغیر کسی مناسب منصوبہ بندی کے میدانِ جنگ میں گھس نہیں سکتی۔ بالکل اسی طرح اگر آپ اپنی زندگی کی جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ خود سے سوال کیجئے: ’’میرے کل کو کون سی چیز مضبوط کرے گی۔‘‘ اپنی منصوبہ بندی میں آپ جتنا تفصیل میں جائیں گے اتنا ہی جیت کے زیادہ قریب ہوں گے۔

2۔ چھوٹی غلطیوں پر بھی نظر رکھیے

ہر جنگ میں غلط اقدام کے کچھ نتائج ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح خود سے جنگ کے دوران بھی چھوٹی سی غلطی کے نتائج ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی فون تھام لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو یاد رکھیے کہ آپ اپنے فوکس کی جنگ اگلے تین چار گھنٹوں کے لیے ہار چکے ہیں۔ اگر آپ کا ناشتہ موبائل فون سے ہو رہا ہے تو آپ اپنے انرجی لیول کی جنگ ہار رہے ہیں۔ محتاط رہیے۔

3۔ جنگ تو چالبازی ہے

جنگ میں کامیابی کے لیے بسا اوقات دشمن کو چکمہ دینا پڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح کئی دفعہ آپ کو خود کو چکمہ دینے اور کچھ سمارٹ فیصلے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ، خود سے کہیے کہ میں صرف 5 منٹ کی مارننگ واک کے لیے جا رہا ہوں۔ اور پھر جب آپ نے گھر سے باہر قدم رکھ دیا تو اس واک کو 30 منٹ تک پھیلا دیجیئے۔

4۔ دوسروں سے سیکھیے

ایک اہم اصول یہ ہے کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس میں کچھ کوتاہیاں ہیں اور کوئی ایسا ہے جو اسے کچھ نیا سکھا سکتا ہے تو ضرور اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اگر آپ ایک طویل مدت سے کسی بری عادت کو اپنائے ہوئے ہیں تو دوسروں سے سیکھیے کہ انھوں نے کیسے اس بدعادت سے چھٹکارا پایا۔

5۔ ہارنے کے بعد کبھی مایوس مت ہوں

کچھ جنگوں میں جیت ہوتی ہے کچھ میں ہار۔ جب کبھی آپ جنگ ہار جائیں، اپنے زخموں کو بھلائیے اور اگلے دن اپنے بہترین ورژن کے لیے میدان میں آ جائیے۔

6۔ جیتنے پہ غرور کو پاس مت آنے دیجیے

اگر آج کا دن آپ نے اچھا اور عمدہ گزار لیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ہمیشہ کے لیے پرفیکٹ ہو گئے ہیں۔ عاجزی و انکساری اپنائیے۔ اور محنت کا دامن مت چھوڑئیے۔

7۔ یقین رکھیے

زندگی کی مشکلات کا سامنا ذرا مشکل ہو سکتا ہے۔ آپ جنھیں کنٹرول کر سکتے ہیں توجہ صرف انھی پہ رکھیے۔ اور یقین رکھیے باقی خود ٹھیک ہو جائیں گی۔ ہر دن کے آخر پہ خود سے سوال کیجئے: کیا آج میں زندگی کی جنگ جیتا ہوں؟ اگر جواب ہاں میں ہو تو شکر ادا کیجئے اور اپنی کارکردگی یونہی جاری رکھیے۔ اگر جواب نہ میں ہو تو ذرا رک کے سوچیے کہ میں کل کا دن زیادہ بہتر کیسے بنا سکتا ہوں۔ (ڈاکٹر عمران اسلم)

تبصرہ کریں