زندگی ایسے گزاریں (قسط 12)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

مسلمان بھائی کے رازکی حفاظت

سیدنا جابربن عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«إِذَا حَدَّثَ الْإِنْسَانُ حَدِيثًا فَرَأَى الْمُحَدَّثُ الْمُحَدِّثَ يَلْتَفِتُ حَوْلَهُ فَهِيَ أَمَانَةٌ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في نقل الحديث: 4868-سنن ترمذى، أبواب المناقب، باب كيف الرقى: 3896-مسند أحمد:3/352- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 1090)

’’جب انسان کوئی بات کررہاہواورجس شخص کے پاس وہ بات کررہاہووہ اسے اِدھراُدھردیکھتاپائے تووہ بات امانت ہوتی ہے۔‘‘

یعنی جب ایک شخص دوسرے سے کوئی بات کرتے ہوئے اپنے اِردگردديكھتارہتاہے كہ کہیں كوئى سُن ہی نہ لے، تودوسرے شخص کوسمجھ جاناچاہیے یہ اس کی رازکی بات ہے جووہ اس کے پاس بہ طورِامانت بیان کر رہاہے، لہٰذااسے چاہیے کہ وہ بات کرنے والے کی وضاحت کے بغیرہی اس بات کوامانت سمجھے اورکسی کے پاس بیان نہ کرے۔

چغل خوری کی مذمت

سیدنا ہمام بیان کرتے ہیں کہ

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ حُذَيْفَةَ مَرَّ رَجُلٌ، فَقَالُوا: هٰذَا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى السُّلْطَانِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما يكره من النميمة: 6056-صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان غلظ تحريم النميمة: 105)

’’میں سیدنا حذیفہ کے پاس بیٹھاہواتھاکہ ایک آدمی گزرا، لوگوں نے کہاکہ یہ آدمی بادشاہ کوباتیں پہنچاتاہے۔ توسیدنا حذیفہ کہنے لگے کہ رسول اللہﷺکافرمان ہے: چُغل خورجنّت میں نہیں جائے گا۔‘‘

سیدنا ابنِ عباس نبیﷺسے ان دولوگوں کے بابت روایت کرتے ہیں جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیاجارہاتھا، کہ آپﷺنے فرمایا:

«أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الوضوء، باب من الكبائر أن لا يستتر من بوله: 216-سنن أبوداؤد، كتاب الطهارة، باب الاستبراء من البول: 20- سنن ترمذى، أبواب الطهارة، باب التشديد في البول: 70-سنن نسائى، كتاب الطهارة، باب التنزه من البول:31)

’’ان میں سے ایک چُغلی کیاکرتاتھا۔‘‘

سیدنا عبادہ بن صامت نبیﷺسے بيعت كا ذكر كرتے ہوئے بيان کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا:

«وَلَا يَعْضَهُ بَعْضُنَا بَعْضًا.»

(صحيح مسلم، كتاب الحدود، باب الحدود كفارات لأهلها: 1709-مسند أحمد:5/313)

’’اورہم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے پرقبیح الزام نہیں تھونپے گا۔‘‘

سیدنا ابنِ مسعود نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ؟ هِيَ النَّمِيمَةُ، الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ.»

(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم النميمة: 2606-مسند أحمد:1/437)

’’کیامیں تمہیں بتلاؤں نہ کہ قبیح الزام کیاہے؟ وہ چُغل خوری ہے، جولوگوں میں دشمنی ڈال دیتی ہے۔‘‘

سیدنا انس نبیﷺسے چُغل خوری کی تفسیرکے بابت روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«نَقْلُ الْحَدِيثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلٰى بَعْضٍ»، لِيُفْسِدَ بَيْنَهُمْ.

(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم النميمة: 2606-مسند أحمد:1/437)

’’لوگوں میں سے ایک کی بات سُن کردوسرے کو بتلانا، تاکہ ان میں بدسلوکی پیداہوجائے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«تَجِدُ شِرَارَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ: الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما قيل في ذي الوجهين: 6058-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب خيار الناس:2526)

’’روزِقیامت تُولوگوں میں سے بُراشخص اسے پائے گا جو دورُخا(یعنی دوغلا)ہوگا، جواِن کے پاس آکرکچھ اور بات کرتاتھااوراُن کے پاس جاکرکچھ اورکہتاتھا۔‘‘

مذکورہ بالاتمام تراحادیث چُغل خوری کی مذمت میں بیان ہوئی ہیں، چُغل خوری کی تعریف خودنبی کریمﷺ نے فرمادی ہے کہ صرف فتنہ وفساد ڈالنے کی غرض سے ایک شخص کی بات سُن کردوسرے کو جا كر بتلانا چُغل خوری کہلاتاہے اور اس قبیح خصلت کے حاملین کاانجام آپ پڑھ چکے ہیں۔

دوسرے مسلمان بھائی کے لیے بھى وہی پسند کرنا جو اپنے لیے ہو۔

کمالِ ایمان سے متصف ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی کچھ پسند کیا جائے جوبندہ اپنے لیے کرتاہے، اس کے بارے میں بہت سی احادیث واردہوئی ہیں جن میں سے چندایک یہ ہیں:

سیدنا انس نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الإيمان، باب من الإيمان أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه: 13 -صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الدليل على أن من خصال الإيمان أن يحب لأخيه المسلم ما يحب لنفسه من الخير:45)

’’تم میں سے کوئی بھی تب تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے(مسلمان)بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرنے لگے جووہ اپنے لیے پسندکرتاہے۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَلْتُدْرِكُهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ»

(صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب الأمر بالوفاء ببيعة الخلفاء، الأول فالأول: 1844- مسند أحمد:2/192)

’’جوشخص یہ پسندکرے کہ اسے جہنم سے بچالیاجائے اور جنّت کاداخلہ نصیب کردیاجائے تواسے اس حالت میں موت آنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اورروزِقیامت پر ایمان رکھتاہو اوروہ لوگوں کوبھی وہی کچھ دینا پسند کرتا ہو جووہ اپنے لیے دیاجاناپسندکرتاہے۔‘‘

سیدنا شعبہ﷫ بیان کرتے ہیں کہ

انْتَهَيْتُ إِلٰى رَجُلٍ يُحَدِّثُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ، فَقَالَ: أَنَا بِمِنًى غَادِيًا إِلٰى عَرَفَاتٍ، فَدَنَوْتُ فَأَخَذْتُ بِالزِّمَامِ أَوْ قَالَ: بِالْخِطَامِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: «تُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ، خَلِّ عَنْ وُجُوهِ الرِّكَابِ.»

(مسند أحمد: 5/372- سلسلة الأحاديث الصحيحة:1477)

’’میں ایک آدمی کے پاس پہنچاجولوگوں کوحدیثیں بیان کررہاتھا، میں (بھی وہاں)بیٹھ گیا، اس نے کہا: میں منٰی میں تھااورعرفات کوجانے کاارادہ کررہاتھا، تو میں (آپﷺکے)قریب ہو گیا اور (آپﷺ کی سواری کی)لگام پکڑلی اورعرض کیا:اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایساعمل بیان کیجیے جومجھے جنّت کے قریب کر دے اور جہنّم سے دُور کر دے، آپﷺ نے فرمایا:نمازقائم کیاکر، زکاۃ کی ادائیگی کیاکر، بیت اللہ کاحج کر، ماہِ رمضان کے روزے رکھاکر، لوگوں کے لیے وہی کچھ پسندکرجواپنے لیے پسندکرتاہے اور وہی کچھ ان کے لیے ناپسند کر جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہے، چلواب سواری کے سامنے سے ہٹ جاؤ۔‘‘

بدگمانی اورجاسوسی سے اجتناب

بغیرتصدیق وتحقیق کے کسی کے بارے میں اپنی طرف سے ہی یا سُن سناکرکوئی منفی رائے قائم کر لینا بدگمانی اورلوگوں سے چھُپ کریاان کی لاعلمی میں ان کی ایسی باتیں سنناکہ جن کاکسی اورکوپتہ چل جاناانہیں پسندنہ ہو، جاسوسی کہلاتاہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ (سورۃ الحجرات: 12)

’’اے ایمان والو!بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اورتم جاسوسی بھی مت کیاکرو۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما قيل في ذي الوجهين: 6058-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب خيار الناس:2526)

’’یقیناًلوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جو دو رُخا (یعنی دوغلا)ہے، وہ اِن کے پاس ایک رُخ لے کے آتاہے اور اُن کے پاس اپنا دوسرا رُخ دِکھاتاہے۔‘‘

اور رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا﴾: 6066-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم الظن، والتجسس، والتنافس، والتناجش ونحوها: 2563)

’’گمان کرنے سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اورجاسوسی مت کرو، ٹوہ مت لگاؤ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش مت کرو، ایک دوسرے سے حسدمت کرو، باہم بُغض مت رکھو اور اے اللہ کے بندو!آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘

حسدسے اجتناب اورحاسدکے شرسے پناہ مانگنے کاحکم

کسی شخص کی کوئی خوبی، اچھائی، کامیابی، خوشحالی، مال ودولت یاعلم ومنصب میں برتری دیکھ کرکسی دوسرے شخص کے نفس میں ایسی جلن (Jealousy) پیدا ہوتی ہے جس سے وہ یہ خواہش کرنے لگتاہے کہ وہ نعمت اس سے زائل ہوکراسے مل جائے، اسے حسد سے تعبیرکیاجاتاہے۔

اللہ جلّ شانہ کافرمان ہے:

﴿وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾ (سورۃ الفلق: 5)

’’(اے پیغمبر!آپﷺ کہہ دیجیے)میں حاسدکے شرسے(پناہ مانگتاہوں)جب وہ حسدکرے۔‘‘

اورنبیﷺکافرمان ہے:

«وَلَا تَحَاسَدُوا.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما ينهى عن التحاسد والتدابر:6064-صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهي عن التحاسد والتباغض والتدابر:2558-سنن أبوداؤد، کتاب الأدب، باب فيمن يهجر أخاه المسلم: 4910-سنن ترمذی، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في الحسد: 1935-سنن ابن ماجه، كتاب الدعاء، باب الدعاء بالعفو والعافية :3849)

’’ایک دوسرے سے حسدمت کرو۔‘‘

سیدنا زبیربن عوام سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنَّهَا تَحْلِقُ الدِّينَ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ لَكُمْ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ.»

(سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2510- مسند أحمد:1/156-الإرواء:3/238)

’’تم میں پہلی اُمتوں کی بیماری یعنی حسد اور بغض سرایت کرجائيں گے، یہ (دونوں)مُونڈکے رکھ دینے والے ہیں، میری مرادیہ نہیں کہ یہ بال مُونڈ دیتے ہیں بلکہ یہ دِین کومُونڈکے رکھ دیتے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم تب تک جنّت میں نہیں جاسکتے جب تک کہ ایمان والے نہ بن جاؤ اور تب تک ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیامیں تمہیں ایساعمل نہ بتلاؤں جوتمہیں محبت میں پُختہ کردے؟ آپس میں سلام پھیلاؤ۔‘‘

یعنی ايك دوسرے كوكثرت سے سلام كہنامحبت كى پختگى كاسبب ہے اورحسدوبغض كى بيمارى سے سلامت رہنے کابہترین ذريعہ ہے۔

٭٭٭

بدعات رجب سے متعلق مختلف فتاویٰ

1۔ شیخ صالح بن فوزان الفوزان﷫ فرماتے ہیں :

’’رجب کے پہلے روز روزہ رکھنا بدعت ہے شریعت کا حصہ نہیں اور نبی کریم ﷺ سے رجب میں خاص طور پر روزوں کا اہتمام ثابت نہیں ۔ لہٰذا ماہ رجب کے پہلے روز روزہ رکھنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ عمل سنت ہے ، گناہ اور بدعت ہے۔‘‘

(فتاویٰ فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان :1؍33)

2۔ شیخ ابن باز ﷫ نے فرماتے ہیں:

’’رجب یا کسی بھی دوسرے مہینے میں شب معراج کی تعیین کے متعلق صحیح احادیث میں کچھ بھی مذکور نہیں اور اس رات کی تعیین میں جو کچھ بھی مروی ہے وہ محدثین کی تحقیق کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں اور اگر بالفرض اس رات کی تعیین ثابت بھی ہو جائے تب بھی مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے بعض عبادات کے لئے خاص کریں یا اس میں مختلف مجالس ومحافل کا انعقاد کریں۔

کیونکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور اگر ایسا کوئی بھی کام مشروع ہوتا تو نبی ﷺ اپنے قول یا فعل کے ذریعے امت کے سامنے اس کی وضاحت ضرور فرما دیتے۔‘‘

(مجموع فتاویٰ ومقالات متنوعۃ :1؍188)

3۔ سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی نے یہ فتویٰ دیا ہے:

’’رجب کے پورے مہینے کے روزے رکھنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ۔ لہٰذا جوبھی ایسا کرے گا وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپﷺ کے طریقے کی مخالفت کرے گا اور بدعت کا مرتکب ٹھہرے گا۔‘‘(فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء، رقم الفتویٰ:5169)

4۔ شیخ ابن عثیمین﷫ سے کسی نے دریافت کیاکہ کچھ لوگ ماہ رجب میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ رجب میں اس کی خاص فضیلت ہے تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

جواب میں شیخ﷫ نے فرمایا کہ یہ درست نہیں ۔ اگر تو وہ لوگ عبادت سمجھ کر ایسا کرتے ہیں تو یہ بدعت ہے اور اگر ان کے اموال پر سال ہی اسی مہینے پورا ہوتا ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ۔

(البدع والمحدثات:ص462)

٭٭٭

تبصرہ کریں