زندگی ایسے گزاریں (قسط 12)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

انفاق كى فضيلت اوربخل كى مذمت

اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والوں کی تعریف میں فرماتاہے:

﴿وَسَارِعُوا إِلٰى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ، الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ﴾ (سورہ آل عمران: 133)

’’اپنے رب کی مغفرت اورجنّت کی طرف جلدی کرو (وہ جنّت)کہ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، وہ ان متّقین کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشحالی وتنگی میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘

ایک مقام پہ اللہ تعالیٰ بخیل لوگوں کی مذمت میں فرماتاہے:

﴿وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ، الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ﴾

’’اوراللہ تعالیٰ اِترانے والے شیخی خوروں کوپسندنہیں فرماتا، جوخودبھی بخل کرتے ہیں اورلوگوں کوبھی بخیلی سے کام لینے کاکہتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحديد: 24)

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الْآخَرُ: اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» (صحيح بخارى، كتاب الزكاة، باب قول الله تعالى: ﴿فأما من أعطى واتقى، وصدق بالحسنى…﴾:1442، صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب في المنفق والممسك: 1010)

’’کوئی دِن ایسانہیں ہوتاکہ جب بندے صبح کواُٹھتے ہیں تو(آسمان سے) دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتاہے:اے اللہ!خرچ کرنے والے کو اس کا اچھا بدلہ دے اور دوسرا کہتاہے: اے اللہ!مال کو (خرچ کرنے سے)روک رکھنے والے کامال تلف کر دے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثَدْيِهِمَا إِلٰى تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ سَبَغَتِ الدِّرْعُ عَلَيْهِ، أَوْ مَرَّتْ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ يَعْنِي الدِّرْعَ، وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى أَخَذَتْ بِعُنُقِهِ أَوْ بِتَرْقُوَتِهِ فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَهِيَ لَا تَتَّسِعُ.»

(صحيح بخارى، كتاب الزكاة، باب مثل المتصدق والبخيل: 1443- صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب مثل المنفق والبخيل:1021)

’’خرچ کرنے والے اورکنجوسی کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جو لوہے کے دو کُرتے زیب تن کیے ہوئے ہوں، جوچھاتی سے لے کرہنسلی تک ہوں۔ جب خرچ کرنے والاخرچ کرناچاہتاہے تو وہ کُرتا کشادہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے سارے جسم کو چھُپا لیتا ہے اور اس کے نشانات کو مٹاتا جاتا ہے اور جب کنجوس خرچ کرنے کاارادہ کرتاہے تو وہ کُرتا سُکڑ جاتاہے اور اس کا ہر حلقہ اپنی جگہ سے چِمٹ جاتاہے، یہاں تک کہ وہ اس کی گردن کو یا اس کی ہنسلی کو پکڑ لیتا ہے، بخیل اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتاہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوپاتا۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ سخی شخص خرچ کرنے سے فرحت محسوس کرتاہے اور اس کا دِل فراخ وکشادہ ہوجاتاہے جبکہ بخیل پہلے ہی مرحلے میں تنگ زِرہ کی طرح اپنے ہاتھوں کواپنے جسم سے چِمٹا لیتا ہے اور انہیں اپنی جیب تک جانے ہی نہیں دیتا کہیں وہ اپنا مال کم نہ کر بیٹھے، اس طرح اسے خرچ کرنے کی توفیق ہی نہیں مل پاتی اور یُوں وہ فرحت وکشادگی سے محروم رہتاہے۔

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّهُ عِنْدَ اللّٰهِ ظُلْمَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ وَالْبُخْلَ فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ إِلٰى أَنْ يَقْطَعُوا أَرْحَامَهُمْ فَقَطَعُوهَا، وَدَعَاهُمْ إِلٰى أَنْ يِسْتِحُلُّوا مَحَارِمَهُمْ فَاسْتَحَلُّوهَا، وَدَعَاهُمْ إِلٰى أَنْ يَسْفِكُوا دِمَاءَهُمْ فَسَفَكُوهَا.» (مسند أحمد: 302- صحيح ابن حبان: 1561- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2/357)

’’بے حیائی سے بچوکیونکہ اللہ تعالیٰ بے حیائی کامظاہرہ کرنے والے اور گالیاں بکنے والے کوپسندنہیں فرماتا، ظلم کرنے سے بھی خود کو بچائے رکھو کیونکہ ظلم روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھیرے کاباعث ہو گا اور انتہائی کنجوسی اور بخیلی سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اسی نے اپنے رشتے داروں سے قطع تعلقی پر مجبور کیا اور انہوں نے رشتے ناتے توڑ ڈالے، اسی نے انہیں حرام امورکوحلال کرنے پر اکسایا اور اسی نے انہیں اپنے خون بہانے پر بھڑکایا اور انہوں نے خون بہائے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الجهاد، باب في الجرأة والجبن:2511 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:560)

’’آدمی میں جوبُری خصلتیں ہوسکتی ہیں(وہ یہ ہیں)کہ (ایک تو وہ) کچے دِل والا انتہائی کنجوس ہو اور (دوسرا) دِل چھوڑدینے والاانتہائی بُزدِل ہو۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے ہی مرفوعاًمروی ہے کہ

«لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ»

(السنن الكبرى للبيهقى: 9/161-مستدرك حاكم: 2/72 -السنن الكبرى للنسائى:4319- صحيح الجامع للألبانى: 7616)

’’ایک بندے کے دِل میں کنجوسی اورایمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔‘‘

گویاکنجوسی ایمان کے منافی امورمیں سے ہے، جس دِل میں ایمان ہوگااس میں کنجوسی نہیں ہوسکتی اور جس میں کنجوسی ہوگی وہ ایمان سے قاصرہوگا۔

نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورة المائدة: 2)

’’اور تم نیکی اور پرہیزگاری کے معاملے میں ایک دوسرے سے تعاون کیا کرو، برائی اورزیادتی کے سلسلے میں تعاون مت کیاکرو۔‘‘

سیدنا ابوموسیٰ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا». وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ » (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب تعاون المؤمنين بعضهم بعضا: 6026-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم: 2585)

’’ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کے مانندہے، جس کاایک حصہ دوسرے حصے کومضبوط کرتا ہے۔ آپﷺنے یہ فرماتے ہوئے اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک دی۔‘‘

آپﷺنے تشبیک دے کریعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کے دونوں ہاتھوں کوآپس میں مضبوطی سے ملاکرفرمایاکہ ایسے ہی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے مضبوطی کاباعث ہوتاہے۔

سیدنا نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا:

«إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ مِثْلُ رَجُلٍ – أَوْ كَرَجُلٍ – وَاحِدٍ، وَإِذَا اشْتَكَى عَيْنَاهُ اشْتَكَى كُلُّهُ، وَإِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ.» (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم: 2586)

’’تمام مسلمان (آپس میں) ایک ہی آدمی کے مانند ہیں، جب اس کی آنکھوں کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم ہی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور (اسی طرح) جب اس کا سر درد ہوتا ہے تو سارا جسم ہی درد ہونے لگتاہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ، وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، حَيْثُ لَقِيَهُ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في النصيحة والحياطة: 4918- الأدب المفرد للبخارى:239-سلسلة الأحاديث الصحيحة: 926)

’’مومن، مومن کاآئینہ ہے، مومن، مومن کابھائی ہے، جہاں کہیں بھى وہ اسے ملتاہے اس کونقصان سے بچاتاہے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرتاہے۔‘‘

اس کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کرنے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس کی عدم موجودگی میں اس کی بُرائی بیان نہ کرے، اس کی غیبت اورچُغلی نہ کرے، اس پرتہمت والزام نہ لگائے اور اس کے عیوب بیان نہ کرے، دوسرامطلب یہ کہ اگروہ گھر میں موجود نہ ہو تو اس کے گھروالوں کی اور اس کے مال کی حفاظت کرے، اس کی عزت کامحافظ بنے اور اسے رسوانہ کرے۔

سیدنا سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللّٰهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (صحيح بخارى، كتاب المظالم، لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه: 2442-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم الظلم: 2580)

’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ تو اس پرظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے تنہا چھوڑتاہے اورجوشخص اپنے (مسلمان) بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگتاہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرنے میں لگ جاتا ہے اورجوکسی مسلمان کادُکھ دُورکرتاہے اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کادُکھ دُور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کے عیب پرپردہ ڈالااللہ تعالیٰ روزِقیامت اس کے گناہوں پرپردہ ڈالے گا۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُسْلِمٍ يَسَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللّٰهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللّٰهِ يَتْلُونَ فِيهِ كِتَابَ اللّٰهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللّٰهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ» (صحيح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر: 2699)

’’جس نے اپنے(مسلمان)بھائی سے دنیاکی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دُورکی تواللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دِن کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دُور کردے گا، جس نے کسی مسلمان(کے عیوب)کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیاوآخرت میں اس (کے عیوب)پر پردہ ڈالے گا، جس نے کسی مسلمان کے لیے آسانی پیداکی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیاوآخرت میں آسانیاں پیدا کر دے گا، اللہ تعالیٰ تب تک بندے کی مددمیں رہتاہے جب تک بندہ اپنے (مسلمان) بھائی کی مددمیں رہتاہے، جوشخص حصولِ علم کی نیّت سے گھرسے نکلے اللہ تعالیٰ اس کی (اس نیکی) وجہ سے جنّت کاراستہ اس کے لیے آسان کر دیتا ہے، جولوگ اللہ تعالیٰ کی مساجدمیں سے کسی بھی مسجدمیں فقط کتاب اللہ کی تلاوت اور اسے مل کر پڑھنے اورسمجھنے کے لیے بیٹھتے ہیں فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت ان پہ سایہ فگن ہوجاتی ہے اوراللہ تعالیٰ ان لوگوں کاذکراپنے پاس موجودافرادکے پاس کرتاہے اور جسے اس کے عمل نے پیچھے چھوڑدیااسے اس کانسب آگے نہیں بڑھاسکتا۔‘‘

حدیث میں بیان آخری بات کامطلب یہ ہے کہ آخرت میں صرف اورصرف نیک اعمال ہی کام آئیں گے۔ اگرکسی کے پاس اعمال نہ ہوئے تووہ حسب ونسب کے لحاظ سے خواہ کتناہی عظیم کیوں نہ ہو، اس کی نجات کاذریعہ نہیں بن پائے گا۔ وہاں صرف نیک اعمال یااللہ کی رحمت ہی بچاپائے گی۔ اگرنسب کی وجہ سے رعایت ہوتی تونبیﷺاپنی پیاری صاحبزادی سیدہ فاطمہ سے یہ نہ فرماتے کہ نیک اعمال کرلو، کیونکہ روزِقیامت میں تمہارے کسی کام نہیں آسکوں گا۔

سیدنا ابومسعودانصاری بیان کرتے ہیں کہ

أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي، فَقَالَ:

«مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، وَلَكِنِ ائْتِ فُلَانًا»، فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ.»

(صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب فضل إعانة الغازي في سبيل الله بمركوب وغيره، وخلافته في أهله بخير: 1893-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الدال على الخير: 5129-سنن ترمذى، أبواب العلم، باب ما جاء الدال على الخير كفاعله:2671)

’’نبیﷺکے پاس ایک آدمی آیااوراس نے عرض کیا:اے پیغمبرِخدا!میری سواری ہلاک ہوگئی ہے مجھے کوئی سواری عنایت کر دیجیے۔ تو آپﷺ نے فرمایا: میرے پاس توکوئی سواری نہیں ہے جومیں تجھے دوں، لیکن فلاں شخص کے پاس جا(وہ تجھے دیدے گا۔) چنانچہ وہ آدمی اس کے پاس گیاتواس نے اسے سواری دے دی، وہ(دوبارہ)رسول اللہﷺکے پاس آیا اور آپﷺ کواس کا بتلایا تو رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے بھلائی کے کام پرکسی کی راہنمائی کی تو اسے بھى بھلائی کرنے والے کے اجروثواب جتنا اجر ملے گا۔‘‘

یعنی نیکی اوربھلائی کاکام کرنے والے کوتواجروثواب ملنا ہی ہے، لیکن جوشخص اسے نیکی کی راہ دکھاتاہے اسے بھی نیکی کرنے والے کے مثل اجر وثواب ملتا ہے۔ گویانیک کام کی راہنمائی کرناخودنیکی کرنے کے مترادف ہے۔

سیدنا ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ»، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: «فَلْيَعْمَلْ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ»، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: «فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ». أَوْ قَالَ: «بِالْمَعْرُوفِ»، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: «فَلْيُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ.»

(صحيح بخارى، كتاب الزكاة، باب على كل مسلم صدقة، فمن لم يجد فليعمل بالمعروف: 1445-صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف: 1008)

’’ہرمسلمان پرصدقہ کرنالازم ہے۔ صحابہ نے عرض کیا:اگراس کے پاس کچھ نہ ہو تو؟ آپﷺ نے فرمایا:پھروہ اپنے ہاتھ سے کچھ کماکرخودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کردے۔ صحابہ نے پوچھا: اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے، یاوہ ایسانہ کرے تو؟ آپﷺنے فرمایا:پھروہ(لوگوں کو) بھلائی اورنیکی کی ترغیب دے۔ صحابہ نے کہا: اگر وہ یہ بھی نہ کرے؟ آپﷺنے فرمایا:پھروہ (لوگوں کو) برائی سے روکے، یقیناًیہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔‘‘

معلوم ہواکہ ہرمسلمان صدقہ کرنے کااہل ہوتاہے، لازمی نہیں کہ وہ مالی صدقہ ہی کرے بلکہ اس حدیث کے مطابق لوگوں کونیکی کے کاموں کی ترغیب دینا اور برائی کے کاموں سے منع کرنابھی صدقہ ہی ہے۔

سیدنا حذیفہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ» (صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف: 1005- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في المعونة للمسلم:4947)

’’ہرنيك کام صدقہ ہے۔‘‘

یعنی خيروبھلائى اورنيكى كاہروہ کام جواللہ کی رضا اور لوگوں کے فائدے کاباعث بنے وہ صدقہ ہے، اس میں تعبدی امورکے علاوہ اخلاقیات اورمعاشرت کے تمام امورشامل ہیں۔

سیدنا ابوسلام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر نے فرمایا:

عَلٰى كُلِّ نَفْسٍ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مِنْ أَيْنَ نَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ؟ قَالَ:

«إِنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْكَةَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَةٍ لَهُ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا، وَتَرْفَعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ إِلَى اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ، وَلَكَ فِي جِمَاعِ زَوْجَتِكَ أَجْرٌ» قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ أَجْرَهُ، ثُمَّ مَاتَ أَكُنْتَ تَحْتَسِبُهُ؟». قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:

«أَفَأَنْتَ خَلَقْتَهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلِ اللّٰهُ خَلَقَهُ، قَالَ: «أَفَأَنْتَ هَدَيْتَهُ؟». قَالَ: قُلْتُ: بَلِ اللّٰهُ هَدَاهُ، قَالَ:

«أَفَأَنْتَ كُنْتَ تَرْزُقُهُ؟«. قَالَ: قُلْتُ: بَلِ اللّٰهُ يَرْزُقُهُ، قَالَ:

«فَكَذَلِكَ يَضَعُهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنَّبَهُ حَرَامَهُ، فَإِنْ شَاءَ اللّٰهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ، وَلَكَ أَجْرُهُ» (مسند أحمد: 5/168 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:575)

’’ہربندے پرروزانہ صدقہ کرنالازم ہے، سیدنا ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس تومال ودولت ہی نہیں ہے ہم کہاں سے صدقہ کریں؟ توآپﷺنے فرمایا:

یہ امور بھی صدقے کی قبیل سے ہی ہیں(کہ تُویہ پڑھے:)

سبحان الله، الحمد لله، لا الٰه إلا الله، الله أکبر اور استغفر الله،

نیکی کرنے کا حكم دے اور برائی سے منع کرے، لوگوں کی گزرگاہ سے کانٹے، ہڈی اور پتھر کو ہٹا دے، نابینے کو راستہ دکھائے اور گونگے بہرے کوبات سمجھائے، کسی کام میں راہنمائى کے طلبگارکی اچھی طرح سے راہنمائی کرے (کہ کسی اورسے پوچھنے کی اس کوضرورت نہ رہے)، اپنی کاوشوں کومہمان کے لیے خاص کرے اور داد رسی کے لیے فریادکرنے والے سے تعاون کرے، یہ تمام امورتیری جان پرصدقے کے ہی قبیل سے ہیں، (یہاں تک کہ)اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے میں بھی تجھے ثواب ملے گا۔ سیدنا ابوذر نے عرض کیا:

اپنی شہوت کی تکمیل کرنے میں ہمیں کیسے ثواب مل سکتاہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:

تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارا بچہ ہو، وہ تجھے مل جائے اور تُو اس سے ثواب کی امید بھی رکھتا ہو، پھر وہ فوت ہو جائے تو کیا تُو اس سے اجرکی امیدرکھے گا؟ انہوں نے جواب دیا:جی ہاں، تو آپﷺ نے فرمایا:

کیا تُو نے اسے پیدا کیا تھا؟ سیدنا ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے کہا:

(نہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا تھا، آپﷺ نے پوچھا:

کیاتُونے اسے ہدایت دی تھی؟ انہوں نے جواب دیا:

(نہیں)بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہی اسے ہدایت دی تھی، آپﷺنے فرمایا:

کیا اسے رزق تُو دیا کرتا تھا؟ انہوں نے عرض کیا:(نہیں)بلکہ اللہ تعالیٰ ہی اسے رزق دیا کرتا تھا، توآپﷺنے فرمایا:

اسی طرح وہ اس بچے کواس کے حلال مقام پہ رکھتاہے اوراسے حرام سے بچاتاہے، سواگراللہ تعالیٰ چاہے تو اسے زندہ رکھے اور اگرچاہے تو اسے موت دیدے، لیکن تمہیں اس کااجرملے گا۔‘‘

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا» قَالُوا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هٰذَا يَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ يَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ:«تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ».

(صحيح بخارى، كتاب المظالم، باب أعن أخاك ظالماً أو مظلوماً: 2444- سنن ترمذى، أبواب الفتن، باب منه: 2255)

’’اپنے (مسلمان)بھائی کی مددکر، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! بندہ کسی مظلوم کی مدد تو کر سکتاہے، لیکن وہ ظالم کی مددکیسے کرے؟ آپﷺ نے فرمایا:

(اس کی مددیہ ہے کہ)تُواسے ظلم کرنے سے روکے۔‘‘

يعنى اگر اسے ظلم كرنے سے روكے تويہ برائى سے منع كرنے كى وجہ سے نیکی کے کام میں تعاون ہوگا۔

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ

إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ فَتَنْطَلِقُ بِهِ فِي حَاجَتِهَا. (صحيح، كتاب الأدب، باب الكبر: 6072-سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب البراءة من الكبر والتواضع: 4177)

’’اگر اہلِ مدینہ میں سے ایک لونڈی بھی رسول اللہﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا کرتی تو آپﷺ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ بھی چل دیا کرتے تھے۔‘‘

نبیﷺاس معاملے میں چنداں عارنہیں سمجھتے تھے کہ وہ ایک لونڈی کا کہا کیوں مانیں یااس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے زحمت کیوں کریں، بلکہ آپﷺ تو یکسانیت کے درس کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ

آپﷺ آزاد وغلام ميں كوئى فرق نہ كرتے تھے اور سب كو ايك ہی درجہ دیتے اور ایک ہی نظرسے ديكھتے تھے، یہاں تک کہ اگر ایک لونڈی بھی آپﷺ سے اپنی کوئی حاجت بیان کر دیتی تو آپﷺ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اس کے ساتھ چل پڑتے تھے۔

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رسول اللہﷺکی اس خصلتِ مدیحہ کاذکرفرماتے ہیں کہ

“وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ.”

(سنن نسائى، كتاب الجمعة، باب مايستحب من تقصير الخطبة: 1414- مستدرك حاكم: 2/614- صحيح الجامع للألبانى:5005)

’’آپﷺبیواؤں اورمساکین کے ساتھ جاکران کی ضرورت پوری کرنے کوناپسندنہیں فرماتے تھے۔‘‘

سفارش کابیان

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا﴾ (سورة النساء: 85)

’’جوشخص کسی نیکی یابھلے کام کی سفارش کرے، تواسے بھی اس کاحصہ ملے گا۔‘‘

سیدنا ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ إِذَا جَاءَهُ سَائِلٌ قَالَ: «اشْفَعُوا لِتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللّٰهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ»(صحيح بخارى، كتاب الزكاة، باب التحريض على الصدقة والشفاعة فيها: 1432- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب الشفاعة فيما ليس بحرام: 2627)

’’رسول اللہﷺکے پاس جب کوئی مانگنے والا آتا تو آپﷺ فرماتے:

سفارش کر دیا کرو، تاکہ تمہیں اجر سے نوازا جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر وہی فیصلہ کرتے ہیں جووہ چاہتاہے۔‘‘

یعنی ہونا تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا ہے مگر سفارش کر دینے سے سفارش کرنے والا اجر وثواب کا حقدار بن جاتاہے۔

٭٭٭

لوگوں کی ضروریات پوری کرنا

قال أبو داود الطيالسي:

كنا عند شعبة فجاء سليمان بن المغيرة يبكي وقال: مات حماري وذهبت مني الجمعة وذهبت حوائجي ، قال :

بكم أخذته ؟ قال : بثلاثة دنانير . قال شعبة: فعندي ثلاثة دنانير ، والله ما أملك غيرها ، ثم دفعها إليه .

امام ابوداؤد طیالسی﷫ کا بیان ہے کہ

ہم محدث شعبہ ﷫ کے پاس بیٹھے تھے کہ سلیمان بن مغیرہ﷫ روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے:

میرا گدھا مر گیا ہے، تو میرا جمعہ بھی ضائع ہو گیا اور ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہا۔ امام شعبہ﷫ نے پوچھا:

گدھا کتنے میں خریدا تھا؟ کہا: تین دینار میں۔

امام شعبہ﷫ نے فرمایا:

میرے پاس یہ تین دینار ہیں اور ان کے سوا کچھ بھی موجود نہیں۔ پھر وہ دینار سلیمان کو دے دیے۔

(سیر اعلام النبلاء: 7؍211)

٭٭٭

امام عبداللّٰہ بن غالب ﷫ کو دفن کیا گیا ، تو ان کی قبر کی مٹی سے کستوری کی خوشبو پھوٹ پڑی۔ کسی نے خواب میں انھیں دیکھا تو اس کے متعلق پوچھا۔ فرمایا: وہ تلاوتِ قرآن اور (روزے کی) پیاس کی خوشبو ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء: 6؍248)

٭٭٭٭

تبصرہ کریں