زندگی ایسے گزاریں (قسط 8)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

غلاموں کے ساتھ اچھارویّہ

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ إِلٰى قَوْلِهِ: ﴿وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [النساء:۳۶]

’’والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔۔۔ اور ۔۔۔اپنے زیرِملکیت لوگوں کے ساتھ اچھابرتاؤکرو۔‘‘

سیدناعلی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ

كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ: «الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، اتَّقُوا اللّٰهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حق المملوك: 5156، سنن ابن ماجه، كتاب الوصايا، باب هل أوصى رسول الله ﷺ: 2698)

’’رسول اللہﷺکی آخری کلام یہ تھی: نماز، نماز، (اور)اپنے زیرِملکیت لوگوں (یعنی غلاموں اورلونڈیوں)کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔‘‘

سیدہ اُمِ سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مرض الموت میں فرمایا:

«اللّٰهُ، اللّٰهُ، الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ». فَمَا زَالَ يَقُولُهَا، حَتَّى مَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ.( سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ما جاء في ذكر مرض رسول الله ﷺ:1625، مسند أحمد:6/290)

’’اللہ، اللہ، نمازکااہتمام کرنااوراپنے زیرِملکیت لوگوں کاخیال رکھنا، آپﷺ مسلسل یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ آپﷺ کی زبان مبارک رُک گئی۔‘‘

گویاآپﷺنے بہ وقتِ رحلت بھی جن اہم امورکے اہتمام کی بہ طورِخاص وصیّت فرمائی ان میں سے ایک امرغلاموں کے ساتھ اچھاسلوک کرناہے۔

معروربن سویدبیان کرتے ہیں کہ:

رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّنِي سَابَبْتُ رَجُلًا فَشَكَانِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ؟». قُلْتُ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللّٰهُ أَيْدِيَكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ.» (صحيح بخارى، كتاب الإيمان، باب المعاصي من أمر الجاهلية، ولا يكفر صاحبها بارتكابها إلا بالشرك:30، صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب إطعام المملوك مما يأكل … :1661)

’’میں نے سیدنا ابوذرغفاری کودیکھاکہ وہ ایک عمدہ پوشاک پہنے ہوئے ہیں اوران کے غلام نے بھی ایک عمدہ پوشاک پہنی ہوئی ہے، تومیں نے ان سے اس بارے میں پوچھاتوانہوں نے جواب دیا:ایک مرتبہ ایک شخص سے میری گالم گلوچ ہوگئی، اس نے رسول اللہﷺ کو میری شکایت کر دی، تو رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا:کیاتم نے اسے اس کی ماں کی عار دِلائی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپﷺ نے فرمایا: یقیناًتمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اگرچہ انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماتحتی میں دے رکھاہے، سوجس شخص کابھی بھائی اس کے ماتحت ہو اسے اس کوبھی وہی کچھ کھلاناچاہیے جووہ خودکھائے اور اسے بھی وہی پہنائے جو وہ خود پہنے اور ان کی طاقت سے زیادہ تم انہیں تکلیف مت دو اور اگر ان کی طاقت سے زیادہ ان پربوجھ لادو بھی تواس کام میں ان کی مددکرو۔‘‘

جس شخص کے ساتھ سیدنا ابوذر کایہ واقعہ پیش آیا تھا وہ سیدنا بلال تھے اور گالی گلوچ سے مراد لڑائی جھگڑے میں اُونچ نِیچ ہو جانا یا بُرا بھلا کہنا مراد ہے۔ سیدنا بلال چونکہ غلام تھے اس لیے نبیﷺ نے اس کا ذمہ دار سیدنا ابوذر کو ٹھہرایا اور تمام مسلمانوں کے لیے یہ حکم جاری فرمایاکہ غلاموں کے ساتھ امتیازی سلوک کی بجائے انہیں مساویانہ حقوق دِیے جائیں اور انہیں بھی ان سب سہولیات سے نوازاجائے جواپنے لیے ہوں۔

سیدنا ابوذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَنْ لَمْ يُلَائِمْكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللّٰهِ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حق المملوك:5161، مسند أحمد:5/158)

’’تمہارے غلاموں اورلونڈیوں میں سے جوتمہارے موافق ہوں انہیں بھى تم وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور جو ان میں سے تمہارے موافق نہ ہوں تو انہیں بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو عذاب مت دو۔‘‘

موافق ہونے سے مرادیہ ہے کہ وہ تمہاری خدمت کرتے ہوں، اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرتے ہوں اور تابع فرمانی بجا لاتے ہوں، اگروہ یہ سب کرتے ہوں تو پھر انہیں اپنے جیسا کھلاؤ پلاؤ اور لباس پہناؤ اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اگر وہ یہ سب نہ کرتے ہوں تو پھر انہیں سزائیں نہ دو یا ان کے حقوق سلب نہ کرو بلکہ ان کاحل یہ ہے کہ انہیں کسی اور کو بیچ دو مگر ان پر ظلم ہرگز نہ کرو۔

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ.»

(صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب إطعام المملوك مما يأكل، وإلباسه مما يلبس، ولا يكلفه ما يغلبه: 1662)

’’غلام کو اچھے طریقے سے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور اسے اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی کام کی تکلیف نہ دی جائے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«إِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ لَهُ طَعَامًا فَجَاءَ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا، فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ»(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب إطعام المملوك مما يأكل، وإلباسه مما يلبس، ولا يكلفه ما يغلبه: 1663، سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب في الخادم يأكل مع المولى: 3846)

’’جب تم میں سے کسی شخص کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کر کے اسے پیش کرے اور(چونکہ)اس نے (تیار کرتے وقت) اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہوتا ہے(اس لیے) اسے (يعنى اس كے مالك كو) چاہیے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھاکرکھلائے، لیکن اگر کھانا کم ہو اور کھانے والے زیادہ ہوں تو پھر بھی ایک یا دو لقمے اس کے ہاتھ پہ رکھ دینے چاہییں۔‘‘

افضل تویہ ہے کہ اپنے غلام یا خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا جائے لیکن اگرکسی وجہ سے اسے ساتھ بٹھانا ممکن نہ ہو تو پھر کھانے میں سے کچھ نہ کچھ، خواہ ایک یا دو لقمے ہی ہوں، اس کو تھما دینے چاہییں تاکہ اس نے جو کھانا پکاتے ہوئے آگ کی تپش برداشت کی ہے اس کاتھوڑاساصِلہ مل جائے۔

ابومسعودانصاری بیان کرتے ہیں کہ

كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي فَسَمِعْتُ صَوْتًا: «اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، اللّٰهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ». فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ ﷺ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللّٰهِ تَعَالَى، قَالَ: «أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ.»

(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب صحبة المماليك، وكفارة من لطم عبده: 1659، سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حق المملوك: 5159، سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب النهي عن ضرب الخدم وشتمهم: 1948)

’’میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ میں نے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! یاد رکھ، ابومسعود! یاد رکھ، ابومسعود! یاد رکھ کہ تیری اس پر قدرت سے کہيں زیادہ اللہ تعالیٰ تجھ پرقادرہے۔ میں نے پيچھے مُڑ كر ديكھا تو وہ نبیﷺ تھے۔ میں نے (اسی وقت)کہا:اے اللہ کے رسول! یہ رضائے الٰہی کیلئے آزاد ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا:سنو!اگرتم یہ نہ کرتے توآگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔‘‘

سیدنا ابنِ عمر نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ، أَوْ ضَرَبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ.»(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب صحبة المماليك، وكفارة من لطم عبده: 1657)

’’جس نے اپنے غلام یا لونڈی کو تھپڑ لگایا یا اسے مارا، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ وہ اسے آزادکردے۔‘‘

گویا غلام کو مارنا اس قدر بڑا جرم ہے کہ اس کا کفارہ اس غلام کی آزادی ہے، یعنی اسے آزاد کر کے ہی وہ اس گناہ سے بری ہوسکتاہے۔

سیدنا ابوہریرہ نبی کریمﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا، أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ»

(صحيح بخارى، كتاب المحاربين، باب قذف العبيد: 6858، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب التغليظ على من قذف مملوكه بالزنا: 1660)

’’جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی تو اس پر روزِ قیامت (تہمت کی) حَد لگائی جائے گی، سوائے اس کے کہ وہ اسی طرح ہو جیسے اس نے کہا۔‘‘

یعنی اگراس کاغلام یا لونڈی حقيقتاً ویسا ہی ہو جیسا اس نے کہا ہو تو اس صورت میں معافی ہو سکتی ہے وگرنہ روزِ قیامت اسے اس تہمت کی سزامیں حَدلگائی جائے گی۔

سیدنا ابنِ عمر نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ سے پوچھاگیا:

كَمْ تَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ قَالَ: «أَعْفُو عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً.»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حق المملوك: 5164، سنن ترمذى، أبواب البر والصلة: 1949)

’’آپﷺ خادم سے کتنی مرتبہ درگزر کرتے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا:میں اس سے ہر روز 70 مرتبہ درگزر کرتا ہوں۔‘‘

اگر خادم یا نوکر ایک دِن میں 7 مرتبہ بھی غلطی کرتاہے تو نبیﷺ کے عمل کے مطابق اسے ستّربارہی معاف کردیاجائے، گویااس کے باربارغلطی کرنے پراسے شائستگی اورنرمی سے سمجھایاتوجاسکتاہے مگرزدوکوب نہیں کیاجاسکتا۔

جب خادم حُسنِ عمل کامظاہرہ کرے

سیدنا ابوموسیٰ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْمَمْلُوكُ الَّذِي يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَيُؤَدِّي إِلٰى سَيِّدِهِ الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ وَالنَّصِيحَةِ وَالطَّاعَةِ لَهُ أَجْرَانِ: أَجْرُ مَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَأَجْرُ مَا أَدَّى إِلٰى مَلِيكِهِ الَّذِي عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ.» (صحيح بخارى، كتاب العتق، باب كراهية التطاول على الرقيق، وقوله: عبدي أو أمتي: 2551)

’’وہ غلام جو اچھے طریقے سے اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور اس پر اس کے مالک کے جو خیرخواہی اور فرمانبرداری کے حقوق ہیں انہیں بھی بہ طریقِ احسن ادا كرتا ہے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، ایک اجر اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت کرنے کا اور دوسرا اجر اپنے اوپر عائد ہونے والے اپنے آقا کے حقوق کی ادائیگی کا۔‘‘

لیکن اگروہ اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک یاان دونوں میں سے کسی ایک کے حقوق کی ادائیگی ميں كوتاہی کرتا ہے تو پھر وہ اس فضیلت کا حق دار نہیں بلکہ اس کے برعکس گناہ کاسزاوارٹھہرے گا۔

سیدنا ابوبردہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ آمَنَ بِالْكِتَابِ الْأَوَّلِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللّٰهِ تَعَالَى وَحَقَّ مَوَالِيهِ.»(صحيح بخارى، كتاب العلم، باب تعليم الرجل أمته وأهله: 97، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد ﷺ …: 154)

’’تین لوگ ایسے ہیں جنہیں دوہرے اجر سے نوازا جائے گا: (ایک)وہ بندہ جوپہلی کتاب پربھی ایمان لایا اور اس پر بھی جو محمد(ﷺ)پر نازل کی گئی، (دوسرا) وہ شخص جس کی ملکیت میں لونڈی تھی، اس نے اس کی اچھے انداز میں تربیت کی پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لی اور(تیسرا)وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالکوں کا حق بھی ادا کرتا ہے۔‘‘

زیرِنگِیں لوگوں کے بارے میں مسؤلیت

سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ رَاعٍ وَكُلَّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَامْرَأَةُ الرَّجُلِ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.» (صحيح بخارى، كتاب الأحكام، باب قول الله تعالى: ﴿وَأطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾: 7137، صحيح مسلم، كتاب الأمارة، باب فضيلة الإمام العادل: 1829)

’’سنو!تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے زیرِنگیں لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، امیر(حکمران) لوگوں پر نگران ہے اور اس سے اپنی رعایاکے بارے میں پوچھا جائے گا، آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے اپنے زیرِنگیں لوگوں کے بابت سوال ہوگا، آدمی کی بیوی اپنے خاوندکے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے اور اس سے ان کے بابت پوچھاجائے گا اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال پر نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا، سنو!تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک اپنے زیرِنگِیں کے بارے میں مسؤل ہے۔‘‘

دنیا میں آنے والا ہر شخص کسی نہ کسی فرد یا اَفراد کا نگران ہے اور اس سے اس کے زیرِنگیں لوگوں کے بارے میں سوال کیاجائے گاکہ تمہارى نگرانى ميں فلاں فلاں لوگ تھے، تم پران کی ذِمہ داری عائدتھی تو تم نے وہ کس قدر نبھائی ہے؟ وہ الله ورسول كے فلاں فلاں حكم سے سرتابى كيا كرتے تھے تو تم نے انہیں کیوں نہیں سمجھايا؟ ان كى خبر كيوں نہیں لی؟ جاننے كے باوجودبھى ان سے الله ورسول كى نافرمانى ترك كروا كر ان كے احكام كی بجا آورى كا انہیں پابند كيوں نہیں بنایا؟ چنانچہ وہ رب کے حضور اپنے علاوہ اپنے زیرِنگرانی لوگوں کے بابت بھی جوابدہ ہوگا۔ اس لیے ہرشخص کواس ذِمہ داری کااحساس کرتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑنا چاہیے تاکہ کل روزِقیامت رب تعالیٰ کے حضورجواب دہی کے معاملے کوآسان بنایا جا سکے۔

کسی نوکر کواس کے مالک کے خلاف بھڑکانے کاگناہ

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهِ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا.»

(السنن الكبرى للبيهقى:8/13، مسند أحمد: 2/397، سلسلة الأحاديث الصحيحة:324)

’’جس نے کسی نوکرکواس کے مالک کے خلاف بھڑکایاوہ ہم میں سے نہیں، اورجس نے کسی عورت کااس کے خاوندکے خلاف ذہن بگاڑاوہ بھی ہم میں سے نہیں۔‘‘

نوکر کو مالک کے خلاف اور بیوی کو اس کے خاوند کے خلاف بھڑکانا بہت بڑے فساد کا باعث بنتا ہے، اس کی قباحت کی وجہ سے آپﷺ نے ایسے عملِ بدکے مرتکب کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار فرمایا ہے کہ ایسا شخص ہمارے طریقے اور راستے پرنہیں ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں