زندگی ایسے گزاریں (قسط 7)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

ہمسائے کے ساتھ حسنِ سلوک

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (سورۃ النساء: 36)

’’والدین کے ساتھ، قریبی رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، قرابت دارہمسائے، اجنبی ہمسائے، پہلُو کے ساتھی اور راہ چلتے مسافرکے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔‘‘

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.» (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب الوصاة بالجار: 6014، صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب الوصية بالجار والإحسان إليه: 2624)

’’جبرائیل علیہ السلام مجھے ہمسائے کے ساتھ (حسنِ سلوک کی)مسلسل وصیّت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگاکہ وہ اسے وراثت میں شریک کردیں گے۔‘‘

سیدنا جبرائيل نبى كريمﷺ كو ہمسائے کے ساتھ حسنِ سلوک کی اس قدر شدید اور مسلسل تاکید فرماتے رہے کہ آپﷺ كو یہ گمان گزرنے لگا کہ شاید اسے وراثت میں ہی شامل کر دیا جائے گا، یعنی جس طرح وارث اپنے مورّث کے مال کا حقدار ہوتا ہے اسی طرح ہمسائے کے بھی اس حق کا اہل ہونے کا گمان ہونے لگا۔

سیدنا ابوشریح خزاعی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلٰى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.» وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ: «فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب إكرام الضيف، وخدمته إياه بنفسه: 6135، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الحث على إكرام الجار والضيف، ولزوم الصمت إلا عن الخير:48)

’’جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت (کے واقع ہونے)پر یقین رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزّت کرنی چاہیے، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے ہمسائے کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے اور جو اللہ و روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے یا تو اچھی بات کرنی چاہیے یا پھر خاموش ہی رہنا چاہیے اور سیدنا ابوسلمہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ (نبیﷺ نے فرمایا:) وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے۔‘‘

گویا ایمان کا یہ تقاضاہے کہ ہمسائے کے ساتھ اچھا سلوک کیاجائے جس سے پتہ چلتاہے کے ہمسائے کے ساتھ بُراسلوک کرنے والاکامل طورپرمومن نہیں ہے۔

سیدنا ابوشریح کعبی نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«وَاللّٰهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللّٰهِ لَا يُؤْمِنُ.» ثَلَاثَةً، قَالُوا: وَمَنْ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ.» قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ: «شَرُّهُ.» (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب إثم من لا يأمن جاره بوايقه:6016)

’’اللہ کی قسم!وہ مومن نہیں ہے، اللہ کی قسم!وہ مومن نہیں ہے، آپﷺنے یہ تین مرتبہ فرمایا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کون ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:جس کا ہمسایہ اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ ہو۔ صحابہ نے پوچھا: اس کی تکلیفوں سے کیا مراد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کاشر۔‘‘

اس امر کی شدّت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ نبی مکرمﷺ نے اللہ کی قسم اُٹھا کر ایک بار نہیں بلکہ تین بار فرمایا کہ وہ شخص ایمان سے متصف نہیں ہے جس کی شرانگیزیوں اور فتنہ پردازیوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔

سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلٰى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ: «إِلٰى أَقْرَبِهِمَا مِنْكَ بَابًا.»

(صحيح بخارى، كتاب الشفعة، باب أي الجوار أقرب؟: 2259، مسند أحمد: 6/239)

’’اے اللہ کے رسول!میرے دو ہمسائے ہیں، میں ان میں سے کسے تحفہ بھیجوں؟ آپﷺنے فرمایا:ان دونوں میں دروازے کے لحاظ سے جوتمہارے زیادہ قریب ہو۔‘‘

ایک گھر کے بہت سے ہمسائے ہوتے ہیں، اگر تو اتنی استطاعت ہو کہ سبھی کو تحفہ دیا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا انتہائی فضیلت کا حامل عمل ہو گا، لیکن اگر اتنی استطاعت نہیں ہے بلکہ کسی ایک کو ہی دینے كى گنجائش ہو تو پھر اس ہمسائے کو تحفہ دینا چاہیے جس کا دروازہ آپ کے گھرکے قریب پڑتا ہو، کیونکہ وہی اس کازیادہ حق رکھتاہے۔

سیدنا ابوذر فرماتے ہیں کہ

أَوْصَانِي النَّبِيُّ ﷺ أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَلَوْ لِعَبْدٍ مُجَدَّعِ الْأَطْرَافِ، وَإِذَا صَنَعْتُ مَرَقَةً أَنْ أُكْثِرَ مَاءَهَا، ثُمَّ أَنْظُرُ أَهْلَ بَيْتٍ قَرِيبٍ مِنْ بَيْتِي فَأُصِيبُهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ.

(صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية، وتحريمها في المعصية: 1837، الأدب المفرد للبخارى:113)

’’نبیﷺنے مجھے (امیرکی)سمع واطاعت کی وصیت فرمائی، اگرچہ وہ ناک کان کٹاغلام ہی ہو، اور(یہ بھی وصیت فرمائی کہ)جب میں سالن تیارکروں تواس میں پانی زیادہ ڈال لیاکروں، پھرمیں دیکھوں کہ کونساگھرمیرے گھرکے قریب ہے توانہیں بھی مناسب سادے دوں۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا:

«يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ.»

(صحيح بخارى، كتاب الهبة، باب الهبة وفضلها والتحريض عليها: 2566، صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب الحث على الصدقة، ولو بالقليل ولا تمتنع من القليل لاحتقاره: 1030)

’’اے مسلمان عورتو!کوئی بھی عورت اپنی ہمسائی (کو تحفہ دینے) کے لیے (کسی بھی چیز کو) ہرگز حقیر نہ سمجھے، اگرچہ وہ بکری کاکھُرہی ہو۔‘‘

حقِ ہمسائیگی اداکرنے کے لیے کسی بھی چیز کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ جس قدر استطاعت ہو حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے، خواہ وہ ہنڈیا میں پانی زیادہ ڈال کے شوربا بنا كر اپنے سالن سے ہمسائے كو بھى حصہ دینے سے ہو یا بکری کا ایک کھُر ہی میسر آنے پر اسے اپنے ہمسائے كو بہ طورِتحفہ پیش کردینے سے ہو، کسى بھی طرح سے حُسنِ سلوك كا جس قدر بھى مظاہرہ کیا جا سکتاہے کرناچاہیے۔

امام مجاہد﷫بیان کرتے ہیں کہ

كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَغُلَامُهُ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لِغُلَامِهِ: يَا غُلَامُ إِذَا فَرَغْتَ فَابْدَأْ بِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: تَذْكُرُ الْيَهُودِيَّ أَصْلَحَكَ اللّٰهُ، قَالَ: إِنَّنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حق الجوار: 5152، سنن ترمذى، أبواب البروالصلة، باب ما جاء في حق الجوار: 1943)

’’ہم سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے غلام نے ایک بکری ذبح کی تو انہوں نے اپنے غلام سے فرمایا: اے غلام!جب تُو فارغ ہو جائے تو پہلے ہمارے یہودی ہمسائے کو (گوشت) دینا، آپﷺ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، لوگوں میں سے ایک آدمی بولا: اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے آپ یہودی کی بات کررہے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو ہمسائے کے ساتھ حسنِ سلوک کی اس قدر وصیت فرماتے سناکہ ہمیں گمان ہونے لگ گیاتھاکہ آپﷺ اسے وراثت میں بھی حصے داربنادیں گے۔‘‘

معلوم ہوا کہ اگر ہمسایہ غیرمسلم ہے تو اس کے ساتھ بھی اچھاسلوک کرناچاہیے، یہ حكم صرف مسلمان ہمسایوں کے بارے میں خاص نہیں ہے۔

سیدنا ابنِ عباس نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلٰى جَنْبِهِ.» (الأدب المفرد للبخارى: 112، مستدرك حاكم: 4/167، سلسلة الأحاديث الصحيحة: 149)

’’وہ شخص مومن نہیں ہے جو(خودتو)سیرشكم ہو، جبکہ اس کے پہلُومیں اس کاہمسایہ بھُوکاہو۔‘‘

آپﷺنے ایسے شخص کومومنین کی صف سے خارج فرمایاہے جوخودتوپيٹ بھركركھاناكھائے ليكن اس كے پہلُوميں اس ہمسايہ بھُوكاہو۔

مہمان نوازی

ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب إكرام الضيف، وخدمته إياه بنفسه: 6135، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الحث على إكرام الجار والضيف:48)

’’جوشخص بھی اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اچھی بات ہی کہنی چاہیے، یا پھر خاموش رہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دِن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے ہمسائے کی عزت کرنی چاہیے اور جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی عزت كرنی چاہیے، ایک دِن اور ایک رات پرتكلف مہمان نوازی کرنی چاہیے اورتین دِن تک پُرتكلّف اور تين دِن تك مناسب مہمان نوازی كرنی چاہیے اور جواس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے، اور مہمان کے لیے بھی جائزنہیں ہے کہ وہ اس کے پاس ہی بیٹھ رہے کہ اسے پریشانی میں ہی ڈال دے۔‘‘

مہمان کی ضیافت ہرمسلمان کااخلاقی فرض ہے، رسولِ مکرمﷺنے ہر مومن شخص کو حکماً اس کی تاکید فرمائی ہے۔ مہمان کی میزبانی کی کم ازکم مدت جو لازم ہے وہ ایک دِن ہے جبکہ تین دِن تک وہ اس کا حق رکھتاہے، یعنی ایک دِن اس کی پُرتکلف خدمت کی جائے اور باقی دو دِن جو میسرہو اور اگر تین دِن کے بعد بھی میزبان اس کی خاطرتواضع کرتاہے تویہ اس کے لیے صدقہ ہوگا، یعنی ميزبان كو اس مہمان نوازى كے بدلے ميں صدقے كا اجر وثواب ملے گا۔ البتہ مہمان کے لیے بھی نبی کریمﷺ نے یہ حکم فرمایا ہے کہ اسے اپنے میزبان کے ہاں بیٹھ نہیں رہناچاہیے کہ اسے مشقت میں ہی ڈال دے بلکہ وہ کوشش کرے کہ جتناجلدی ممکن ہواپنے گھرکوروانہ ہوجائے۔

اشہب بیان کرتے ہیں کہ

سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ.» قَالَ: تُكْرِمُهُ، وَتُتْحِفُهُ، وَتَخُصُّهُ، وَتَحْفَظُهُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ضِيَافَةً. قَالَ: وَقَالَ سُلَيْمَانُ الْخَطَّابِيُّ: مَعْنَاهُ يَتَكَلَّفُ لَهُ إِذَا نَزَلَ بِهِ الضَّيْفُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، فَيُتْحِفُهُ وَيَزِيدُهُ فِي الْبِرِّ عَلَى مَا يَحْضُرُهُ فِي سَائِرِ الْأَيَّامِ، وَفِي الْيَوْمَيْنِ الْآخَرَيْنِ يُقَدِّمُ لَهُ مَا خَفِيَ، فَإِذَا أَمْضَى الثَّلَاثَ فَقَدْ قَضَى حَقَّهُ، فَإِنْ زَادَ عَلَيْهِ اسْتَوْجَبَ بِهِ أَجْرَ الصَّدَقَةِ. (سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في الضيافة: 3748)

’’امام مالک﷫ سے نبیﷺکے فرمان:

’’مہمان کی ایک دِن اورایک رات تک مہمان کی اچھی طرح ضیافت کی جائے۔‘‘ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

میزبان اپنے مہمان کی عزت کرے، اسے تحفہ دے، اسے خصوصی اہمیت دے اور پورا ایک دِن اور ایک رات اس کی حفاظت کرے اور مہمان نوازی تین دِن تک ہوتی ہے۔

سیدنا سلیمان خطابی فرماتے ہیں کہ

اس کامطلب یہ ہے کہ جب مہمان اس کے ہاں آئے تو ایک دِن اور ایک رات اس کی پُرتکلّف خدمت کرے اور اسے تحفہ دے اور دیگر ایام میں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور دوسرے دو دِنوں میں جو کچھ باقی ہو اسے پیش کر دے اور جب تین دِن گزر جائیں تو اس نے اپنا(مہمان نوازی کا)حق ادا کر دیا، لیکن اگر وہ اس سے بھی زیادہ کرے گا تو اس کے لیے صدقے کا اجر وثواب لازم ہو جائے گا۔‘‘

مہمان نوازی صرف قیام وطعام کی نہیں ہوتی بلکہ مہمان کی ہرلحاظ سے خدمت، حفاظت، اکرام وتعظیم کرنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اسے تحفہ دینابھی مہمان نوازی میں شامل ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ الھروی اس حدیث کے مفہوم کویوں بیان کرتے ہیں کہ تین دِن تک مہمان نوازی کرے، پھر اسے اتنا دے دیا جائے کہ جو ایک دِن اور ایک رات کی مسافت میں کفایت کر سکے۔

يَحُوزُاصل میں حِيْزَةسے ہے، اس کامطلب یہ ہے کہ کھانے اور پینے کی وہ مقدار جو مسافر ایک منزل سے دوسری منزل تک كے سفرکے دوران استعمال کرتاہے۔

شقیق بیان کرتے ہیں کہ

دَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبِي عَلَى سَلْمَانَ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خُبْزًا وَمِلْحًا وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَانَا عَنِ التَّكَلُّفِ تَكَلَّفْنَا لَكُمْ. فَقَالَ صَاحِبِي: لَوْ كَانَ مِلْحُنَا فِيهِ زَعْتَرٌ فَبَعَثَ بِمَطْهَرَتِهِ إِلَى الْبَقَّالِ فَرَهَنَهَا وَجَاءَ بِزَعْتَرٍ فَأَلْقَاهُ فِيهِ، فَلَمَّا أَكَلْنَا قَالَ صَاحِبِي: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا، فَقَالَ سَلْمَانُ: لَوْ قَنَعْتَ بِمَا رُزِقْتَ لَمْ تَكُنْ مَطْهَرَتِي مَرْهُونَةً. (مستدرك حاكم: 4/123، المعجم الكبير للطبرانى: 6/288، سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2392)

’’میں اور میرا ایک ساتھی سلمان کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں روٹی اور نمک پیش کیا اور فرمایا: اگرنبیﷺ نے ہمیں تکلّف سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم تمہارے لیے پُرتکلّف کھانا تیار کرتے۔ تو میرے ساتھی نے کہا:

کاش!اگراس نمک میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جائے(تو بہتر ہو جائے)، تو سلمان نے اپنا لوٹا سبزی فروش کو ديا اور اسے گروی رکھ کر اس کے عوض میں پہاڑی پودینہ لے آئے اور اس میں ڈال دیا۔ جب ہم کھاناکھاچکے تومیرے ساتھی نے کہا:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا

’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس رزق پرقناعت کی توفیق دی جواس نے ہمیں عطاکیا۔‘‘

تو سلمان فرمانے لگے کہ اگرتم نے اللہ کے دِیے ہوئے رزق پر کفایت کی ہوتی تو میرا لوٹا گروی نہ پڑا ہوتا۔‘‘

اس سے مراد بےجا تکلف ہے کہ آدمی اپنی استطاعت سے بڑھ کر اور ضرورت سے زائدضیافت کا اہتمام کرے، لیکن اگرایسانہ ہوتومناسب تکلف میں حرج نہیں ہے، وگرنہ جومیسرہووہی پیش کر دینا چاہیے اورمہمان کوبھی اسی پرقناعت کرنی چاہیے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں