زندگی ایسے گزاریں (قسط 28)۔مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

قریب المرگ شخص کوکلمے کی تلقین

سیدنا ابوسعید نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ.» (صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب تلقين الموتى لا إله إلا الله: 916، سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب في التلقين،: 3117، سنن ترمذى، أبواب الجنائز، باب ما جاء في تلقين المريض عند الموت والدعاء له عنده: 976، سنن نسائى، كتاب الجنائز، باب تلقين الموت:1826، سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ما جاء في تلقين الميت لا إله إلا الله:1445)

’’اپنے قریب المرگ لوگوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کی تلقین کیاکرو۔‘‘قریب المرگ مریض کے پاس بیٹھے شخص کے لیے یہ عمل کرنامستحب ہے۔

بہرحال اس کااہتمام لازمی کرنا چاہیے شایدکہ دوسرے شخص کے منہ سے کلمہ سُن کر وہ بھی کلمہ پڑھ لے اوریوں اس کی مغفرت کا سامان ہو جائے، کیونکہ نبی مکرمﷺ کاارشادِگرامی ہے کہ

«مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ.» ’’جس شخص کاآخری کلام لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ہوا وہ جنّت میں جائے گا۔‘‘ (سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب في التلقين:3116، سنن ترمذی، أبواب الجنائز، باب ما جاء في تلقين المريض عند الموت: 977)

تجہیزوتکفین اورجنازے میں شرکت کی فضیلت

سیدنا سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَأْتِي ضُعَفَاءَ الْمُسْلِمِينَ وَيَزُورُهُمْ، وَيَعُودُ مَرْضَاهُمْ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ

(مستدرك حاكم: 2/466، سلسلة الأحاديث الصحيحة:2112)

’’رسول اللہﷺ کمزور(غریب)مسلمانوں سے ملنے آیا کرتے، ان کے بیمار لوگوں کی عیادت فرماتے اور ان کے جنازوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔‘‘

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی یہ رِیت پڑ چکی ہے کہ صرف اسی شخص کی تیمارداری کے لیے زحمت کی جاتی ہے جس سے کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل ہونے کی امید ہو، یا پھر اس کی عیادت سے نام و نمود کی نمائش مقصود ہو یا فقط حاضری ہی ملحوظِ نظر ہو کہ بیمار شخص کے علم میں آ جائے کہ فلاں بھی تیمار داری کے لیے آیا تھا اور اس کے برعکس اگر کوئی بے نام، غریب اور مِٹا ہوا شخص خواہ بسترِمرگ پر تڑپ تڑپ مر جائے اس کی مالی مدد تو درکنار اس کے احوال پوچھنے کے لیے بھی اس کی کٹیا میں جانا اپنی شان کے شایاں نہیں سمجھا جاتا۔ حالانکہ نبیﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد طبقاتی تقسیم ختم کرنا بھی تھا اور اسی وجہ سے آپﷺ نے تمام بنی نوعِ انسانیت کی یکسانیت کے بارے میں نہ صرف بے شمار ارشادات فرمائے بلکہ عملی طور پر بھی اس کی مثالیں مہیا فرمائیں، جیسا کہ مذکورہ حدیث میں بھی ذکر ہے۔ اس لیے ہمیں آپﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اس قبیح تقسیم کو ختم کرنا چاہیے۔

سیدنا ابورافع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَكَتَمَ عَلَيْهِ غَفَرَ اللّٰهُ لَهُ أَرْبَعِينَ مَرَّةً، وَمَنْ كَفَّنَ مَيِّتًا كَسَاهُ اللّٰهُ مِنَ السُّنْدُسِ وَإِسْتَبْرَقِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ حَفَرَ لِمَيِّتٍ قَبْرًا فَأَجَنَّهُ فِيهِ أُجْرِيَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَأَجْرِ مَسْكَنٍ أَسْكَنَهُ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.»

(السنن الكبرى للبيهقى: 3/395، مستدرك حاكم:1/354)

’’جس نے کسی میّت کوغسل دیا اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کی تواللہ تعالیٰ اسے چالیس مرتبہ معاف فرماتا ہے، جس نے کسی میّت کوکفن پہنایا اللہ تعالیٰ اسے نرم وباریک اورموٹے ریشم کاجنتی لباس پہنائے گا اورجس نے میت کے لیے قبرکھودی اور اسے اس میں دفنایا تو اسے ایسا اجر دیا جائے گاکہ جیسے اس نے اس(میت)کوقیامت تک کے لیے رہائش فراہم کر دی ہو۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا:

«مَنْ خَرَجَ مَعَ جِنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ.»

(صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب فضل الصلاة على الجنازة واتباعها:945، سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب فضل الصلاة على الجنائز وتشييعها:3169)

’’جوشخص میّت کے گھرسے جنازے کے ساتھ روانہ ہو، پھر وہ اس کی نمازِ جنازہ ادا کرے، پھر اسے دفنا دِیے جانے تک اس کے پیچھے (یعنی ساتھ) رہے تو اسے دو قیراط اجر وثواب ملتاہے، اور جو نما زِجنازہ پڑھ کر واپس آجائے تو اسے اُحدپہاڑکے مِثل ایک قیراط اجر وثواب ملتاہے۔‘‘

قیراط سے مراد وزن کی پیمائش ہے جومختلف زمانوں میں بدلتی رہتی ہے، یہ مقدارمیں بہت کم وزن اور ماپ پر بولا جاتاہے لیکن یہاں اسے اُحد پہاڑ کی مماثلت سے بیان کیا گیا ہے، جس کی احتمالی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نبیﷺ نے اس حدیث میں مذکور عمل کے اجر وثواب کو اُحد پہاڑ کے ساتھ تشبیہ دے کر بتلایا ہے کہ بظاہر اس چھوٹے سے عمل کابھی اہتمام کیا جائے تواس کااجربہت بڑاہوسکتاہے۔

قبروں کی زیارت کاحکم

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«زُوْرُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ»

(صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب استئذان النبي ﷺ ربه عز وجل في زيارة قبر أمه: 976، سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب في زيارة القبور:3234، سنن نسائى، كتاب الجنائز، باب زيارة قبر المشرك: 2034، سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ما جاء في زيارة قبور المشركين: 1572)

’’قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔‘‘

سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:

«نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً.»

(صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب استئذان النبي ﷺ ربه عز وجل في زيارة قبر أمه: 977، سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب في زيارة القبور:3235، سنن ترمذى، أبواب الجنائز، باب ما جاء في الرخصة في زيارة القبور:1054)

’’(پہلے)میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا، لیکن (اب)تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ ان کی زیارت میں (موت کی)یادہے۔‘‘

سیدنا انس نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، ثُمَّ بَدَا لِي فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا.»

’’(پہلے)میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا، پھر(یہ بات)مجھ پر واضح ہو گئی، چنانچہ تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ دِل کو نرم کرتی ہیں، آنکھوں کو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد دِلاتی ہیں، سوتم زیارت کیا کرو اور بیہودہ گوئی نہ کیاکرو۔‘‘

چونکہ قبرستان جانے سے انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ جس طرح آج یہ لوگ یہاں مدفون ہیں اسی طرح کل میں بھی یہاں منوں مٹی تلے پڑا ہوں گا۔ اس احساس سے اس کا دل نرم پڑ جاتا ہے اور اپنی موت کو یاد کر کے اشک بہانے لگتا ہے اور یوں قبروں کی زیارت اس کی آخرت کے بہتر ہو جانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

محمدبن قیس بن مخرمہ بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ نے فرمایا:

أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ ﷺ؟ قُلْتُ: بَلٰى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْبَقِيعِ قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «قُولِي: السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» وَزَادَ فِیْ رِوَايَةٍ: «أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ نَسْأَلُ اللّٰهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ»

(صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لأهلها: 974، سنن نسائى، كتاب الجنائز، باب الأمر بالاستغفار للمؤمنين:2037)

’’کیامیں تمہیں اپنی ایک بات اور رسول اللہﷺکی حدیث بیان نہ کروں؟ میں نے عرض کیا:

کیوں نہیں، توانہوں نے بقیع(قبرستان)کی طرف جانے کا واقعہ بیان کیا اور انہوں نے (رسول اللہﷺ سے) کہا:

اے اللہ کے رسول! (میں قبرستان میں داخل ہوتے ہوئے) کیا کہوں؟ تو آپﷺ نے فرمایا: تُو کہہ

اَلسَّلَامُ عَلٰى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ

’’مؤمنوں اورمسلمانوں کے گھروں والوں پرسلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے چلے جانے والوں پر اور ہم سے بعدمیں آنے والوں پر رحم فرمائے اور بلاشبہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آملنے والے ہیں۔‘‘ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ

أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ نَسْأَلُ اللّٰهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ

’’تم ہم سے پہلے پہنچ چکے ہو اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کاسوال کرتے ہیں۔‘‘

فوت شدگان کوبُرابھلاکہنے کی ممانعت

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلٰى مَا قَدَّمُوا.»

(صحيح بخاری، كتاب الجنائز، باب ما ينهى من سب الأموات: 1393، سنن نسائى، كتاب الجنائز، النهي عن سب الأموات:1936)

’’فوت شدگان کو برامت کہو، کیونکہ انہوں نے جیسے اعمال کیے تھے ان کابدلہ پا لیا ہے۔‘‘

سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ

مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ، فَقَالَ: «أَثْنُوا عَلَيْهِ»، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ: «وَجَبَتْ.» قَالَ: ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: «أَثْنُوا عَلَيْهِ»، فَقَالُوا: بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللّٰهِ، فَقَالَ: «وَجَبَتْ، أَنْتُمْ شُهُودُ اللّٰهِ فِي الْأَرْضِ.»

(صحيح مسلم، كتاب الجنائز، باب فيمن يثنى عليه خير أو شر من الموتى:949، شرح السنة للبغوى:5/386)

’’رسول اللہﷺکے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپﷺ نے فرمایا:

اس کی تعریف کرو)یعنی مجھے بتاؤکہ یہ کیساشخص تھا؟( توصحابہ نے کہا:ہم تو یہی جانتے ہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا اور صحابہ نے اس کی تعریف کی، تو آپﷺ نے فرمایا:

(اس پر جنّت) واجب ہو گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ پھرایک جنازہ لے جایا گیا تو آپﷺ نے فرمایا:

’’اس کی تعریف کرو۔ تو صحابہ نے کہا:

اللہ کے دِین میں یہ بہت بُرا آدمی تھا، تو آپﷺ نے فرمایا:

(اس پرجہنم) واجب ہو گئی، تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔‘‘

اس روایت کے معنیٰ میں یہ احتمال ہے کہ آپﷺ نے انہی لوگوں کے بابت ایسا پوچھا ہو جن کی نیکی یا برائی تمام لوگوں پرواضح تھی اور سب کو ان کے اچھے برے اعمال کاپتہ تھا، اور آپﷺ نے بری تعریف والے شخص کے بابت اس لیے پوچھا تاکہ ان جیسے دیگر لوگ اس کا انجام سن کر برائی کرنے سے باز آ جائیں۔

خودپسندی اورتحقیرکی ممانعت

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ.»

(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم ظلم المسلم، وخذله، واحتقاره ودمه، وعرضه، وماله: 2564، سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في شفقة المسلم على المسلم:1927)

’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رُسوا کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے، آدمی کے بُراہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کوحقیرسمجھے۔‘‘

سيدنا عبد اللہ بن مسعود نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْكِبْرُ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ»

(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب تحريم الكبر وبيانه:91)

’’تکبر یہ ہے کہ جو حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر جانے۔‘‘

سیدنا جندب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا:

أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللّٰهِ لَا يَغْفِرُ اللّٰهُ لِفُلَانٍ، قَالَ اللّٰهُ: «مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَى أَنَّنِي لَا أَغْفِرُ لِفُلَانٍ، فَإِنِّي غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ.»

(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب النهي عن تقنيط الإنسان من رحمة الله تعالى:2621، سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب لا يقال خبثت نفسي:4983)

’’ایک آدمی نے کہاکہ اللہ فلاں شخص کومعاف نہیں فرمائے گا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’جوشخص اس بات پر قسم اُٹھائے کہ میں فلاں شخص کومعاف نہیں کروں گا تو یقیناً میں فلاں کو تو معاف کر دوں گا لیکن تیرے عمل ضائع کر دوں گا۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ: هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ.»

(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب النهي عن قول هلك الناس:2623، سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب لا يقال خبثت نفسي:4983)

’’جب تم کسی آدمی کو یہ کہتا سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والاہے۔‘‘

گویا نبیﷺ نے ایسے شخص کے لیے بد دعا کی صورت میں سرزنش فرمائی ہے جو خود پسندی کا شکار ہو اور ہر دم خود ستائی میں ہی لگا رہے اور دوسرے لوگوں کو حقیر اور نکما سمجھے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں