زندگی ایسے گزاریں (قسط 27)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

چھینکناپسندیدہ اورجمائی لیناناپسندیدہ عمل

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ، أَوْ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، كَانَ حَقًّا عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، وَإِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ الشَّيْطَانُ فَلْيُخْفِهِ مَا اسْتَطَاعَ.»(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما يستحب من العطاس وما يكره من التثاؤب: 6223-سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء إن الله يحب العطاس ويكره التثاؤب:2747)

’’یقیناًاللہ تعالیٰ چھینک کوپسندفرماتاہے اورجمائی کو ناپسند فرماتا ہے۔ سو تم میں سے جب کسی کوچھینک آئے تو اسے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہناچاہیے، یاوہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہے توسننے والے کایہ حق ہے کہ وہ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ (یعنی اللہ تم پررحم فرمائے)کہے۔ اورجب وہ جمائی لیتا ہے توشیطان ہنستاہے، اس لیے جس قدر ہو سکے اسے روکناچاہیے۔‘‘

سيدنا ابوہریرہ نبی کریمﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، وَيَقُولُ هُوَ: يَهْدِيكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في تشميت العاطس: 5033- صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما يستحب من العطاس وما يكره من التثاؤب: 4622)

’’جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ(یعنی ہرحال میں تمام ترتعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں) اور اس کے (مسلمان)بھائی، یا (فرمایا:)اس کے ساتھی کو يَرْحَمُكَ اللّٰهُ کہنا چاہیے، اور پھر اس کے جواب میں وہ (یعنی چھینکنے والا) يَهْدِيكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ کہے(یعنی اللہ تمہیں ہدایت سے نوازے اور تمہارا معاملہ درست فرمائے)۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح سے مروی ہے کہ

«شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا، فَمَا زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب كم مرة يشمت العاطس:5034)

’’اپنے بھائی کی چھینک کاتین بارجواب دو، اور جو اس سے زیادہ بار چھینکے تو وہ زکام ہے۔‘‘

یعنی اگر زکام کی وجہ سے کوئی بار بار چھینک رہا ہو تو اس صورت میں يَرْحَمُكَ اللهُ سے جواب نہ بھی دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ جن چھینکوں کے جواب کا حکم ہے وہ صرف پہلی تین چھینکیں ہیں، اس کے بعد والی زکام کے باعث ہوتی ہیں اس لیے ان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔

سیدنا سلمہ بن اکوع روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ»، ثُمَّ عَطَسَ أُخْرٰى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَزْكُومٌ». وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرٰى فِي الثَّالِثَةِ

(صحيح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب تشميت العاطس، وكراهة التثاؤب: 2993- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب كم مرة يشمت العاطس: 5037-سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء كم يشمت العاطس: 2743)

’’ایک آدمی نے نبیﷺ کے پاس چھینک ماری تو آپﷺ نے فرمایا: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، پھر اس نے دوسری مرتبہ ماری تو نبیﷺ نے فرمایا: مَزْكُومٌ (یعنی اسے زکام لگاہواہے)۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کے تیسری مرتبہ چھینکنے پرآپﷺ نے یہ فرمایا تھا۔‘‘

اس روایت میں دوسری یا تیسری مرتبہ کے چھینکنے کو بھی زکام کہا گیا ہے، البتہ تین چھینکوں تک جواب دینا بہتر عمل ہے۔

جوچھینک کرالحمدللہ نہ کہے

سيدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ

عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ عَطَسَ رَجُلَانِ فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ، فَقَالَ: «إِنَّ هٰذَا حَمِدَ اللّٰهَ، وَإِنَّ هٰذَا لَمْ يَحْمَدْ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب الحمد للعاطس: 6221- صحيح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب تشميت العاطس، وكراهة التثاؤب:2991)

’’نبیﷺکے پاس دو آدمیوں نے چھینک ماری، تو آپﷺ نے ان میں سے ایک کاجواب(يَرْحَمُكَ اللّٰهُ کہہ کر) دے دیاجبکہ دوسرے کا نہ دیا۔ میں نے عرض کیا:اے پیغمبرِخدا!دو آدمیوں نے چھینک ماری اور آپﷺ نے ایک کا جواب دیا اور دوسرے کا نہیں دیا۔ توآپﷺنے فرمایا:اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہاتھااوراس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِنہیں کہا۔‘‘

یعنی جس شخص نے الحمد للہ کہا تھا آپﷺ نے اس کا جواب دے دیا اور جس نے نہیں کہا تھا اسے جواب نہیں دیا۔ اس لیے رحمتِ خداوندی کی دعا لینے کے لیے ضروری ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہا جائے۔

سیدنا ابوموسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:

«إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللّٰهَ فَشَمِّتُوهُ، وَإِذَا لَمْ يَحْمَدِ اللّٰهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ.»

(صحيح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب تشميت العاطس، وكراهة التثاؤب: 2992- الأدب المفرد للبخارى:941)

’’جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اوروہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہے تو(يَرْحَمُكَ اللّٰهُ کہہ کر)اس کاجواب دو، اوراگروہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِنہ کہے تواس کاجواب مت دو۔‘‘

اس حدیث میں بھی اسی بات کاذکرہے کہ چھینک کے جواب میں رحمت کی دعالینے کاوہی حقدارہے جوپہلے الحمدللہ کہے، اورجوچھینکنے پر الحمدللہ نہیں کہتااسے جواب میں ’یرحمك اللہ‘بھی نہیں کہاجائے گا۔

آہستہ آوازمیں چھینکنامسنون عمل

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ إِذَا عَطَسَ غَضَّ صَوْتَهُ وَحَمُرَ وَجْهُهُ.(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في العطاس: 5029- سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء في خفض الصوت وتخمير الوجه عند العطاس: 2745-مسند أحمد:2/439)

’’رسول اللہﷺ جب چھینک مارتے تھے تو اپنی آواز کو پست رکھتے اور آپﷺ کاچہرۂ مبارک سُرخ ہو جاتا۔‘‘

معلوم ہوا کہ چھینتے وقت آواز کو پست رکھنا سُنّتِ رسول ہے۔

کھانے کی دعوت قبول کرنے کاحکم

سیدنا ابنِ عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ فَلْيُجِبْ.»(صحيح مسلم، كتاب النكاح، باب زواج زينب بنت جحش، ونزول الحجاب، وإثبات وليمة العرس:1429- سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في إجابة الدعوة: 3738)

’’جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو شادی کی یا اس جیسی کوئی اور دعوت دے تو اسے قبول کرنے چاہیے۔ ‘‘

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلٰى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ.»

(صحيح مسلم، كتاب النكاح: 1431-سنن أبوداؤد، كتاب الصيام، باب في الصائم يدعى إلى وليمة: 2460-سنن ترمذى، أبواب الصوم، باب ما جاء في إجابة الصائم الدعوة:780)

’’جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، سو اگر تو اس نے روزہ نہ رکھا ہو تو اسے کھا لینا چاہیے لیکن اگر روزے سے ہو تو اسے دعا کر دینی چاہیے۔‘‘

یعنی وہاں حاضر ضرور ہونا چاہیے، البتہ انہیں بتا دیا جائے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اس لیے کھا نہیں سکتا اور ان کے لیے برکت کی دعا کر دینی چاہیے۔

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.»

(صحيح مسلم، كتاب النكاح، باب زواج زينب بنت جحش، ونزول الحجاب، وإثبات وليمة العرس: 1430-سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في إجابة الدعوة: 3740-سنن ابن ماجه، كتاب الصيام، باب من دعي إلى طعام وهو صائم: 1751)

’’جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، پھر اگر وہ چاہے تو کھالے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔‘‘

یعنی دعوت ٹھکرانی نہیں چاہیے بلکہ قبول ضرور کر لینی چاہیے، وہاں جا کر اگر دِل چاہے تو کھالے ورنہ رہنے دے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ دعوت کو قبول ہی نہ کرناخلافِ سُنّت بات ہے۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ.»

(صحيح بخارى، كتاب الهدية، باب القليل من الهبة: 2568-مسند أحمد: 2/424)

’’اگر مجھے پائے(کے گوشت)کی دعوت دی جائے تو بھی میں قبول کر لوں گا اور اگر مجھے بازو (کا گوشت) تحفے میں دیا جائے تو اسے بھی میں قبول کر لوں گا۔‘‘

گویا اگر کسی بھائی کی طرف سے کھانے پر مدعو کیا جائے تو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ ان کے ہاں کھانے کا اہتمام کیسا ہے، کہ اگر اچھا ہو تو چلا جائے اور اگر پر تکلف نہ ہو تو پھر شرکت نہ کرے۔ ایسا کرنا شرعاً و اخلاقاً ہر دو لحاظ سے برا عمل ہے۔ سنت کی اتباع اور اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ خواہ کیسے ہی کھانے پر مدعو کیا جائے دعوت کو قبول کرنا چاہیے۔

سیدنا ابوہریرہ فرمایاکرتے تھے:

شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى الْغَنِيُّ وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ، وَهِيَ حَقٌّ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ.

(صحيح بخارى، كتاب النكاح، باب من ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله: 5177-صحيح مسلم، كتاب النكاح، باب زواج زينب بنت جحش، ونزول الحجاب، وإثبات وليمة العرس: 1432)

’’بدترین کھانا ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں مالداروں کو دعوت دی گئی ہو اور غریبوں کو نہ بلایا گیا ہو، یہ حق ہے، سو جس نے اسے چھوڑا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‘‘

حق سے مرادیہ ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق ہیں ان میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ جب وہ اسے دعوت دے تو اسے قبول کرنی چاہیے، اور چھوڑنے سے مراد دعوت قبول نہ کرنا ہے، یعنی جو دعوت قبول کرنے سے انکار کر دے اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرنی کی۔ علاوہ ازیں اس روایت میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جس دعوتِ ولیمہ میں صرف امراء، صاحبِ حیثیت اور بااثر افراد کو ہی مدعو کیا گیا ہو اور فقراء وغرباء کو دعوت نہ دی گئی ہو، ایسی دعوت بدترین دعوت ہے۔

سیدنا انس روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي دُخُولِهِ الْبَيْتَ وَأَكْلِهِ عِنْدَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في الدعاء لرب الطعام إذا أكل عنده: 3854-سنن ابن ماجه، كتاب الصيام، باب في ثواب من فطّر صائماً:1747)

’’رسول اللہﷺنے سعدبن عبادہ سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر (ان کے گھرمیں داخلے کی) اجازت لی، پھر سیدنا انس نے طویل حدیث بیان کی جس میں آپﷺ کا ان کے گھرتشریف لے جانے اور ان کے ہاں کھانا تناول فرمانے کا ذکر تھا، پھر جب آپﷺ فارغ ہوئے تویہ دعاپڑھی: أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ

’’نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، فرشتے تمہیں دعائیں دیں اور روزے دار لوگ تمہارے ہاں افطاری کریں۔‘‘

مریض کی عیادت

سیدنا ابوسعیدخدری سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

«عُودُوا مَرْضَاكُمْ وَاتْبَعُوا الْجَنَائِزَ تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ.»

(مسند أحمد: 3/23- الأدب المفرد للبخارى: 518- سلسلة الأحاديث الصحيحة:1981)

’’اپنے بیمار لوگوں کی عیادت کیا کرو اور جنازوں میں شرکت کیاکرو، یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔‘‘

بیماروں کی عیادت اور جنازوں میں شرکت سے دل میں خوف اور نرمی پیدا ہوتی ہے اور بندے کو اپنی موت اور آخرت کا معاملہ یاد رہتا ہے، جس سے وہ اپنا تزکیہ اور محاسبہ کرتا رہتا ہے اور اپنی آخرت کو بہتر بنانے والے عمل کرتا رہتا ہے۔

عیادت کی فضیلت

سیدنا ثوبان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ.» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «جَنَاهَا.»(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب فضل عيادة المريض: 2568)

’’جس نے کسی بیمار کی عیادت کی وہ ہمیشہ جنّت کے میووں میں رہتاہے۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! جنّت کے میوے کیا ہیں؟ فرمایا:اس کے چنے ہوئے پھل۔‘‘

سیدناعلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا:

«إِذَا أَتَى رَجُلٌ أَخَاهُ يَعُودُهُ مَشَى فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب في فضل العيادة على وضوء: 3100-سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ما جاء في ثواب من عاد مريضاً: 1442-سلسلة الأحاديث الصحيحة:1367)

’’جب کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی عیادت کرنے آتا ہے تووہ (مریض کے پاس آکر)بیٹھ جانے تک جنّت کے چنیدہ پھلوں میں چلتا آتاہے، اورجب وہ بیٹھ جاتاہے تورحمت اس پرسایہ فگن ہوجاتی ہے، پھر اگروہ صبح کو(عیادت کے لیے)آیا ہو تو شام تک ستّر ہزار فرشتے اس کے حق میں دعائیں کرتے رہتے ہیں اور اگر وہ شام کو آیا ہو تو صبح تک ستّر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔‘‘

سیدنا جابربن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ

جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ ولَا بِرْذَوْنٍ.

(صحيح بخارى، كتاب المرضى، باب عيادة المريض، راكبا وماشيا، وردفا على الحمار: 5664- سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب المشي في العيادة: 3096-سنن ترمذى، أبواب المناقب، باب مناقب جابر بن عبد الله رضي الله عنهما: 3851)

’’نبیﷺ میری عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، آپﷺ نہ کسی خچر پر سوار تھے اور نہ ہی کسی گھوڑے پر۔‘‘

یعنی آپﷺ مسلمان کے اس حق کی ادائیگی کے لیے پیدل ہی تشریف لے گئے، لہٰذاجس طرح سے بھی اپنے مریض مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جانا ممکن ہو اسی طرح چلے جانا چاہیے اور تکلّفات میں پڑنے سے بچنے کی خاطر اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے، جیساکہ ہمارے معاشرے میں عموماً ہوتا ہے کہ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا ہو تو اس کے لیے بے شمارتکلّفات اُٹھائے جاتے ہیں، خواہ وہ مریض کی خدمت داری کے لیے ہوں یااپنی ٹھاٹھ باٹھ کے لیے اور بسااوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ وسائل کی عدمِ دستیابی پر یہ بے جا تکلّفات ترک کرنا گوارہ نہیں کیا جاتا بلکہ مسلمان کاایک عظیم حق یعنی تیمارداری چھوڑ دینا گوارہ کر لیا جاتا ہے، جبکہ اس نیکی پرعمل کے لیے درحقیقت کوئی چیزبھی مانع نہیں ہے۔

سیدنا زیدبن ارقم بیان کرتے ہیں کہ

عَادَنِي رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنِي

(سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب في العيادة من الرمد:3102)

’’میری آنکھ میں تکلیف تھی تورسول اللہﷺنے میری عیادت فرمائی۔‘‘

یعنی ضروری نہیں ہے کہ عیادت صرف اسی کی کی جائے جو بہت زیادہ بیمار ہو یا کسی بڑی تکلیف میں مبتلا ہو، بلکہ چھوٹی موٹی بیماری یا تھوڑی بہت طبیعت خراب والے شخص کی بھی عیادت کرنی چاہیے تاکہ اس مسلمان بھائی کا حق ادا ہو جائے اور اپنے نامہ اعمال میں اجر وثواب لکھوایا جا سکے، جیساکہ نبی کریمﷺ نے سیدنا زیدبن ارقم کو آنکھ کی تکلیف ہونے پران کی عیادت فرمائی۔

عیادت کامسنون طریقہ

سیدنا سعد بیان کرتے ہیں کہ

اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ فَجَاءَنِي رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ يَعُودُنِي، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ.» (صحيح بخارى، كتاب المرضى، باب وضع اليد على المريض: 5659)

’’میں مکہ میں بیمار پڑ گیا، تو رسول اللہﷺ میری عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، آپﷺ نے اپنا دستِ مبارک میری پیشانی پر رکھا اور پھر اسے میرے سینے اور پیٹ پر پھیرا، پھر فرمایا: اے اللہ! سعد کو شفا دے اور اس کی ہجرت کو پورافرما۔‘‘

ہجرت کو پورا فرمانے سے مراد یہ تھا کہ اسے صحت دے اور ہجرت تک زندگی عطا فرما، تا کہ یہ مدینہ طیبہ پہنچ جائے۔

سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَ وَجْهَهُ وَصَدْرَهُ وَقَالَ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.» قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلْتُ آخُذُ بِيَدِهِ لِأَجْعَلَهَا عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ هَذِهِ الْمَقَالَةَ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنِّي، وَقَالَ: «اللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِي الرَّفِيقَ الْأَعْلَى.» (صحيح مسلم، كتاب السلام، باب استحباب رقية المريض: 2191-مسند أحمد:6/126)

’’رسول اللہﷺجب کسی بیمار کی عیادت فرماتے تو اس کے چہرے اور سینے پر ہاتھ پھیرتے، اوریہ دعا پڑھتے:

أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

’’اے لوگوں کے پالنہار! (اس کی) تکلیف کو دُور کر دے اور شفا عطا فرما، تُوہی شفادینے والاہے اورتیری شفاکے علاوہ کوئی شفانہیں ہے، ایسی شفا عطا فرما جو کسی بھی بیماری کوباقی نہ رہنے دے۔‘‘

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپﷺمرض الموت میں مبتلاتھے تومیں آپﷺ کاہاتھ پکڑنے لگی تاکہ اسے آپﷺ کے سینے پررکھ کر یہ دعا پڑھوں، تو آپﷺ نے مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا:اے اللہ!مجھے اعلیٰ رفیق میں شامل کردے۔‘‘

سیدنا ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ عَلَيْكَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ.»(صحيح بخارى، كتاب المرضى، باب ما يقال للمريض، وما يجيب:5662)

’’نبیﷺایک بدوی صحابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اورفرمایا:

لَا بَأْسَ عَلَيْكَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ

’’فکر کی کوئی بات نہیں ہے، اگراللہ نے چاہا تو یہ بیماری گناہوں سے پاکیزگی کاذریعہ بن جائے گی۔‘‘

ابومجلزفرماتے ہیں کہ

لَا يُحَدَّثُ الْمَرِيضُ إِلَّا بِمَا يُعْجِبُهُ.

شعب الإيمان للبيهقى:11/426

’’مریض کے پاس وہی باتیں کرنی چاہییں جواسے اچھی لگتی ہوں۔‘‘

لیکن اس کایہ مفہوم ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ مریض کوجس طرح کی بھی باتیں اچھی لگتی ہوں اس کے پاس وہی کی جائیں، اگراس کادِل کسی ایسے موضوع پربات کرنے کو چاہے کہ جوخلافِ شرع ہویاکسی ممنوعہ امور کا ارتکاب کرے مثلاً چغلی، غیبت یا الزام تراشی وغیرہ، تو ایسے امور میں ہرگز مریض کا ساتھ نہیں دینا چاہیے بلکہ اسے منع کرناچاہیے، ہاں ان امورکے علاوہ کوئی ایسی بات کہ جس میں شرعاً کوئی قباحت نہ ہو اور مریض کی اس بات سے طبیعت بہلتی ہو تو اس کاساتھ دینا چاہیے تاکہ اس کے لیے خوش طبعی کا ساماں ہو سکے۔

امام طاؤس﷫ فرماتے ہیں کہ

أَفْضَلُ الْعِيَادَةِ أَخَفُّهَا.

(شعب الإيمان للبيهقى:11/433)

’’سب سے زیادہ فضیلت والی وہ عیادت ہے جوخفیف ترین ہو۔‘‘

خفیف ترین ہونے سے مرادیہ ہے کہ مریض کے پاس کم سے کم وقت بیٹھاجائے اوراس کی عیادت اور مناسب گفتگوکے بعداُٹھ جاناچاہیے۔

تبصرہ کریں