زندگی ایسے گزاریں (قسط 23)- مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

تین باراجازت طلبى

سیدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ

كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَأَتَى أَبُو مُوسٰى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا حَتَّى وَقَفَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللّٰهَ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ: «الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ؟» قَالَ أُبَيٌّ: وَمَاذَا بِكَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ: قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغُلٍ، فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ: فَوَاللّٰهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ، أَوْ لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هٰذَا. قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: فَوَاللّٰهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا، قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَقُمْتُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهﷺ يَقُولُ هٰذَا

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب التسليم والاستئذان ثلاثاً: 6245-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب الاستئذان: 2153)

’’ہم سیدنا اُبَی بن کعب کی مجلس میں شریک تھے کہ سیدنا ابوموسٰی اشعری غصے کی حالت میں آئے اور (ہمارے پاس آ کر )کھڑے ہوگئے اور بولے: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا ہے کہ تین مرتبہ اجازت لی جائے اور اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ہے وگرنہ واپس چلاجائے؟ سیدنا اُبَی نے پوچھا: ہوا کیاہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے کل سیدنا عمر بن خطاب سے(ان کے پاس حاضرہونے کی) تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی، سو میں واپس چلا آیا۔ پھرآج میں ان کے پاس گیا اور انہیں بتلایا کہ میں کل بھی آیا تھا اور تین مرتبہ سلام کہا (یعنی اندر آنے کی اجازت مانگی، لیکن اجازت نہیں ملی)تومیں واپس چلا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تمہارا سلام سنا تو تھا لیکن ہم اس وقت کسی کام میں مشغول تھے، تو تم تب تک اجازت کیوں نہ مانگتے رہے جب تک کہ تمہیں اجازت دے نہ دی جاتی؟ میں نے کہا: میں نے تو اسی طریقے کے مطابق اجازت مانگی تھی جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا۔ انہوں نے کہا: قسم بخدا!یا تو تُو اپنی اس بات پرکوئی گواہ لے کرآ، یا پھر میں تیری پُشت اور پیٹ کو ضرور تکلیف سے دوچار کروں گا (یعنی تمہیں سزا دوں گا)، سیدنا اُبَی بن کعب نے (یہ سُن کر)فرمایا:اللہ کی قسم!تیرے ساتھ (گواہی کے لیے) ہم میں سب سے کم عمر کھڑا ہو گا، اے ابوسعید!اُٹھو۔ چنانچہ میں اُٹھا اور سیدنا عمر کے پاس جا کر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے سناہے۔‘‘

بہ وقتِ اجازت ’میں‘ کہنے کی کراہیت

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ

أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ فِي دَيْنٍ عَلَى أَبِي، فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ: «مَنْ ذَا؟.» فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: «أَنَا أَنَا.» مَرَّتَيْنِ، كَأَنَّهُ كَرِهَهُ

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب إذا قال: من ذا؟ فقال: أنا: 6250- صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب كراهة قول المستأذن أنا، إذا قيل من هذا:2155)

’’میں اپنے باپ پرقرض کے مسئلے میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپﷺنے فرمایا:

کون ہے؟ تومیں نے کہا:میں، آپﷺنے فرمایا:

میں، میں۔ گویاکہ آپﷺ نے اس انداز کو ناپسند فرمایا۔‘‘

یعنی اگرصاحبِ خانہ آنے والے سے اس کانام پوچھے تو اسے اپنا نام ہی بتانا چاہیے نہ کہ یوں کہنا چاہیے کہ ’’میں ہوں‘‘ نبیﷺ نے ایسا کہنے کو ناپسند فرمایا ہے۔

مجلس میں شرکت وبرخاستگی کے وقت سلام

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَجْلِسَ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ قَامَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنَّ الْأُولَى لَيْسَتْ بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب: 5208-سنن ترمذى: 2706)

’’جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تواسے سلام کہناچاہیے، سواگروہ کھڑاہواورلوگ بیٹھے ہوں تواسے ہی سلام کہناچاہیے، کیونکہ پہلادوسرے کی نسبت زیادہ حق نہیں رکھتا۔‘‘

لمحہ بھرکی مفارقت کے بعدبھی سلام

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپﷺکوفرماتے سنا:

«مَنْ لَقِيَ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ حَائِطٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرجل يفارق الرجل…:5200)

’’جو اپنے (مسلمان) بھائی کو ملے تو اسے سلام کہنا چاہیے، اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور جب وہ اس سے ملے تو اسے پھر سلام کہنا چاہیے۔‘‘

سلام کیسے کہناچاہیے؟

سیدنا عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ

كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ وَقَالَ:

«عَشَرَةٌ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ، فَرَدَّ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ: «عِشْرُونَ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ: «ثَلَاثُونَ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب: 5195- سنن ترمذى، أبواب الإستئذان، باب ما ذكر في فضل السلام: 2689 -عمل اليوم واليلة للنسائى:118)

’’ہم نبیﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا، تورسول اللہﷺ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا:

’’اس نے (10 نیکیاں) حاصل کیں۔‘‘ پھر دوسرا آیا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ کہا تو نبیﷺ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا:

’’ اس نے (20نیکیاں)حاصل کیں۔‘‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ کہا، تو آپﷺنے اس کا بھی جواب دیا اور فرمایا:

’’اس نے( 30 نیکیاں)حاصل کیں۔‘‘

سلام میں ایک کاعمل پوری جماعت سے کفایت

سیدناعلی بن ابی طالب مرفوعاًروایت کرتے ہیں:

«يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ، إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ، وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في رد الواحد عن الجماعة: 5210-سلسلة الأحاديث الصحيحة:1148)

’’جب کوئی جماعت گزرے اوران میں سے ایک بندہ بھی سلام کردے تواس جماعت کو کفایت کرجائے گا، اور(اسی طرح)مجلس میں سے ایک بھی شخص سلام کا جواب دے دے توان سب کوکفایت کرجائے گا۔‘‘

یعنی اگرزیادہ لوگ ہوں اورانہوں نے کسی کوسلام کہنا ہو یا پھر انہیں کوئی شخص سلام کہہ دے تو پوری جماعت کاسلام کہنا یا سب کا جواب دینا ضروری نہیں ہے بلکہ ان میں سے ایک شخص بھی سلام کہہ دے یا سلام کرنے والے کا جواب دے دے تو تمام کی طرف سے کفایت کرجاتاہے۔

بچوں کوسلام

سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ (صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب التسليم على الصبيان: 6247 -صحيح مسلم، كتاب السلام: 2168)

’’رسول اللہﷺ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کہا۔‘‘

عورتوں کوسلام

سیدہ اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں کہ

مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ ﷺ وَنَحْنُ نِسْوَةٌ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في السلام على النساء: 5204- سنن ترمذى، أبواب الإستئذان، باب ما جاء في التسليم على النساء:2697)

’’نبیﷺہم عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپﷺ نے ہمیں سلام کہا۔‘‘

امام بیہقی﷫ فرماتے ہیں کہ

’’اس پر وہی شخص عمل کر سکتا ہے جسے عورتوں کے فتنے سے محفوظ رہنے میں اپنے آپ پر اعتماد ہو، یا پھر ان عورتوں کو سلام کہا جا سکتا ہے جن کی شادی کی عمر گزر چکی ہو، لیکن اگرکسی کو عورتوں کے فتنے سے محفوظ رہنا ممکن نظرنہ آتا ہو یا جسے وہ سلام کرناچاہے وہ نوجوان عورت ہوتوایسی صورت میں سلام نہیں کرناچاہیے۔‘‘

٭٭٭

بیویاں ایسی بھی ہوتی ہیں…!

عمران بن حطان بڑا عالم تھا مگر ایک خوب صورت خاتون پہ دل آ گیا جو خوارج کے فرقے سے تعلق رکھتی تھی- کہا: میں اس سے شادی کر کے اسے اہل سنت کے مذہب پہ لے آؤں گا لیکن ہوا یہ کہ بیوی کے زیرِ اثر خود خارجی لیڈر بن گیا–!

(سیر اعلام النبلاء: ص 214)

٭٭٭

تبصرہ کریں