زندگی ایسے گزاریں (قسط 17)- مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

امربالمعروف ونہی عن المنکر

سیدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ» (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان وأن الإيمان يزيد وينقص:49 -سنن أبوداؤد، كتاب الصلاة، باب الخطبة يوم العيد: 1140 -سنن ترمذى، أبواب الفتن، باب ما جاء في تغيير المنكر باليد أو باللسان أو بالقلب: 2172-سنن ابن ماجه، كتاب الصلاة، باب ما جاء في صلاة العيدين: 1275)

’’تم میں سے جو شخص برائی دیکھے، اگر تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے ختم کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے ایسا کرنا چاہیے، لیکن اگراس کے پاس اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے منع کرے اور اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دِل سے ہی بُراجانے، اوریہ ایمان کاکمزورترین درجہ ہے۔‘‘

اس حدیثِ مبارکہ میں برائی کوختم کرنے کے تین مراتب بیان ہوئے ہیں:

1۔سب سے افضل مرتبہ یہ ہے کہ برائی کوہاتھ سے روکاجائے۔

2۔اس سے کم فضیلت والامرتبہ یہ ہے کہ برائی کرنے والے کو زبان سے منع کیا جائے۔

3۔تیسرامرتبہ ان دونوں سے کم فضیلت والاہے، وہ یہ کہ برائی کودِل میں ہی بُراجاناجائے۔ یادرہے کہ دوسرا مرتبہ تبھی اختیار کیا جا سکتا ہے جب پہلے پر عمل کی طاقت نہ ہو اور تیسرا بھی اسی صورت میں اختیار کیا جائے گا جب دوسرے کی بھی استطاعت نہ ہو، لیکن اگر افضل درجے کی استطاعت موجود ہو تو ادنیٰ درجے کو اختیار کرنا درست نہیں ہے بلکہ اسی پر عمل کرنا ضروری ہے جس کاوہ اہل ہے۔ پھریہ فریضہ صرف علماء کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ ہر صاحبِ ایمان شخص پر اس کی حیثیت واستطاعت کے مطابق واجب ہے۔

حُسنِ خُلق، فراخ دِلی اورنرم مزاجی

سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ

إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا»(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء، وما يكره من البخل: 6035 -صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب كثرة حيائه ﷺ : 2321)

’’رسول اللہﷺ بد زبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے، آپﷺ فرمایا کرتے تھے:یقیناً تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جواخلاق کے لحاظ سے تم سب سے اچھاہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ : «بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» (سنن أبوداؤد، كتاب السنة، باب الدليل على زيادة الإيمان…: 4682-مسند أحمد: 2/250 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:284)

’’مؤمنوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ شخص ہے جو ان میں بہ اعتبارِ اخلاق سب سے اچھا ہے۔ اور رسول اللہﷺ کافرمان ہے: مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی بھیجاگیاہے۔‘‘

گویا جوشخص اخلاقی اوصاف سے کامل طورپرمتصف نہ ہو وہ کامل مؤمن بھی نہیں ہوتا اور خود کو کامل مؤمن بنانے کے لیے اخلاقِ حسنہ کااہتمام ضروری ہے۔

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا:

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ قَائِمِ اللَّيْلِ وَصَائِمِ النَّهَارِ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حسن الخلق:4798)

’’بلاشائبہ بندۂ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے رات کو قیام کرنے اور دِن کو روزہ رکھنے والے شخص کا درجہ پا لیتاہے۔‘‘

یعنی خود کو اچھے اخلاق سے متصف کر لینے سے آدمی اتنے اجر وثواب کا حقدار بن جاتاہے، جتنا ثواب وہ شخص کماتاہے جو دِن کو روزہ رکھتا ہو اور رات اللہ کے حضور کھڑے ہو کر نماز میں بسر کرتا ہو۔‘‘

سیدنا ابودرداء سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:

«مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ» وَقَالَ ﷺ : «أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ خُلُقٌ حَسَنٌ إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ» (سنن ترمذى، أبواب البروالصلة، باب ما جاء في حسن الخلق: 2002 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:519)

’’جسے نرمی سے کچھ حصہ عطا کر دیا گیا اسے بھلائی کے کچھ حصے سے نواز دیا گیا اور جو نرمی کے کچھ بھی حصے سے محروم رہا اسے خیروبھلائی کے حصے سے ہی محروم کر دیا گیا اور آپﷺ کا فرمان ہے: ’’میزانِ عمل میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہے، بلاشبہ اللہ بے حیاء اور بد زبان شخص سے نفرت کرتا ہے۔‘‘

سیدنا سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ اللّٰهَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ وَمَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ، وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا»

(سلسلة الأحاديث الصحيحة:1378)

’’یقیناًاللہ تعالیٰ بہت صاحبِ کرم ہے، وہ عالی ظرف اور بلند اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور کمینہ خصلت کو ناپسند فرماتا ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حسن العشرة: 4790-سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في البخيل: 1964 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:935)

’’مومن سادہ لوح اور کشادہ ظرف ہوتا ہے، جبکہ فاجر چالاک فریبی اور تنگ ظرف ہوتاہے۔‘‘

یعنی چالاکی، فریبی، دغابازی، کم ظرفی اورگھٹیاپن جیسے تمام خصائلِ رزیلہ ایک حقیقی مؤمن کی شان کے لائق نہیں ہیں بلکہ یہ فاجر وفاسق وفاجر شخص کی خصلتیں ہیں۔ مومن کا تو ان سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہوناچاہیے۔

سیدنا سہل بن سعد نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» (مسند أحمد: 5/35 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:426)

’’مؤمن اُلفت ومحبت رکھنے والا ہوتا ہے اور ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی جو نہ تو خود کسی سے اُلفت رکھتا ہو اور نہ ہی اس سے کوئی رکھے۔‘‘

اگرکوئی شخص اپنے مسلمان بھائیوں سے خود الفت ومحبت رکھے گا تو ہی وہ ان کی محبت پائے گا، لیکن اگر وہ کسی کو اس لائق ہی نہ گردانے کہ اس پہ اپنی محبت نچھاور کرے تو اسے بھی کوئی قابلِ التفات نہیں سمجھے گا اور ایساشخص بہ فرمانِ نبویﷺ خیروبھلائی سے قاصر ہوتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کے دِلوں میں اپنی محبت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بھی محبت کا مقام دیا جائے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«مَنْ كَانَ هَيِّنًا لَيِّنًا سَهْلًا قَرِيبًا حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَلَى النَّارِ»(سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2488 -مسند أحمد: 1/415-سلسلة الأحاديث الصحيحة:938)

’’جوشخص باوقار وسنجیدہ، نرم مزاج، (لوگوں کے لیے) آسانی پیدا کرنے والا اور قربت رکھنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ پرحرام کردیتا ہے۔‘‘

سیدنا مکحول نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ، كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ الَّذِي إِنْ قِيدَ انْقَادَ، وَإِنْ أُنِيخَ اسْتَنَاخَ عَلَى صَخْرَةٍ» (سلسلة الأحاديث الصحيحة:936)

’’باوقار اور سنجیدہ مؤمنین نکیل والے اس اونٹ کے مانند ہیں کہ جسے باندھ دیا جائے تو وہ بندھ جائے اور اگر اسے بیٹھنے کو کہا جائے تو وہ چٹان پر بھی بیٹھ جائے۔‘‘

یعنی حقیقی مؤمن کی یہ صفت ہوتی ہے کہ اس میں اکڑ اور اَنا نہیں ہوتی، بلکہ نہایت عاجز، منکسرمزاج اور فرمانبردار شخص ہوتا ہے۔

سیدنا جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«رَحِمَ اللّٰهُ عَبْدًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، سَمْحًا إِذَا اشْتَرَى، سَمْحًا إِذَا اقْتَضَى»

(صحيح بخارى، كتاب البيوع، باب السهولة والسماحة في الشراء والبيع: 2076)

’’اللہ تعالیٰ اس بندے پررحم فرمائے جو(سودا)بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، خریدتے وقت بھی اور جب تقاضا کرتا ہے تب بھی نرمی سے کام لیتاہے۔‘‘

نبی کریم ﷺنے ایسے شخص کے یے رحم کی دعا فرمائی ہے جو ہر معاملے میں نرمی اپناتا ہے، کسی بھی کام میں سختی و درشتی کا قائل نہیں ہوتا۔ وہ ہستی کہ اللہ تعالیٰ کے بعد اسی کادرجہ ہے اور وہ تمام جہانوں سے افضل و اعلیٰ ہے،اس ہستی کی دعا کا حقدار بننے کے لیے اپنے آپ میں نرمی پیدا کر لینا کوئی بڑا عمل نہیں ہے۔

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ

مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ الْتَقَمَ أُذُنَ النَّبِيِّ ﷺ فَيُنَحِّي رَأْسَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأْسَهُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ أَخَذَ بِيَدِهِ رَجُلٌ فَيَتْرُكُ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ . (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حسن العشرة: 4794)

’’میں نے کبھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ اس نے نبیﷺ کے کان میں کوئی بات کہی ہو تو آپﷺ نے اپنا سر دُور کر لیا ہو، یہاں تک کہ وہ آدمی خود ہی اپنا سر دُور کر لیتا تھا اور نہ ہی میں نے ایساکبھی دیکھاکہ کسی نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑا ہو تو آپﷺ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو، یہاں تک کہ وہ آدمی خودہی آپﷺ کاہاتھ چھوڑدیتاتھا۔‘‘

یعنی آپﷺ اخلاقیات سے متعلقہ چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ مبادا کسی شخص کے دل میں کوئی بات نہ آ جائے۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر

سیدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»

(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان وأن الإيمان يزيد وينقص: 49 -سنن أبوداؤد، كتاب الصلاة، باب الخطبة يوم العيد: 1140 -سنن ترمذى، أبواب الفتن، باب ما جاء في تغيير المنكر باليد: 2172 -سنن ابن ماجه، كتاب الصلاة، باب ما جاء في صلاة العيدين:1275)

’’تم میں سے جو شخص برائی دیکھے، اگر تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے ختم کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے ایسا کرنا چاہیے، لیکن اگر اس کے پاس اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے منع کرے اور اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دِل سے ہی بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘

اس حدیثِ مبارکہ میں برائی کو ختم کرنے کے تین مراتب بیان ہوئے ہیں:

1۔سب سے افضل مرتبہ یہ ہے کہ برائی کوہاتھ سے روکاجائے۔

2۔اس سے کم فضیلت والامرتبہ یہ ہے کہ برائی کرنے والے کو زبان سے منع کیا جائے۔

3۔تیسرامرتبہ ان دونوں سے کم فضیلت والاہے، وہ یہ کہ برائی کو دِل میں ہی بُراجاناجائے۔

یادرہے کہ دوسرا مرتبہ تبھی اختیار کیا جا سکتا ہے جب پہلے پر عمل کی طاقت نہ ہو اور تیسرا بھی اسی صورت میں اختیار کیا جائے گا جب دوسرے کی بھی استطاعت نہ ہو، لیکن اگر افضل درجے کی استطاعت موجود ہو تو ادنیٰ درجے کو اختیار کرنا درست نہیں ہے بلکہ اسی پر عمل کرنا ضروری ہے جس کا وہ اہل ہے۔ پھر یہ فریضہ صرف علماء کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ ہر صاحبِ ایمان شخص پر اس کی حیثیت واستطاعت کے مطابق واجب ہے۔

حُسنِ خُلق، فراخ دِلی اورنرم مزاجی

سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ

إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا» (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب حسن الخلق والسخاء، وما يكره من البخل: 6035 -صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب كثرة حيائه ﷺ:2321)

’’رسول اللہﷺ بد زبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے، آپﷺ فرمایا کرتے تھے:یقیناًتم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اخلاق کے لحاظ سے تم سب سے اچھاہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ : «بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» (سنن أبوداؤد، كتاب السنة، باب الدليل على زيادة الإيمان: 4682 -مسند أحمد: 2/250 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:284)

’’مؤمنوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ شخص ہے جو ان میں بہ اعتبارِ اخلاق سب سے اچھا ہے۔ اور رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی بھیجاگیاہے۔‘‘

گویا جو شخص اخلاقی اوصاف سے کامل طور پر متصف نہ ہو وہ کامل مؤمن بھی نہیں ہوتا اور خود کو کامل مؤمن بنانے کے لیے اخلاقِ حسنہ کا اہتمام ضروری ہے۔

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا:

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ قَائِمِ اللَّيْلِ وَصَائِمِ النَّهَارِ» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حسن الخلق:4798)

’’بلاشائبہ بندۂ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے رات کوقیام کرنے اوردِن کوروزہ رکھنے والے شخص کادرجہ پالیتاہے۔‘‘

یعنی خود کو اچھے اخلاق سے متصف کر لینے سے آدمی اتنے اجر وثواب کا حقدار بن جاتا ہے جتنا ثواب وہ شخص کماتا ہے جو دِن کو روزہ رکھتا ہو اور رات اللہ کے حضور کھڑے ہو کر نماز میں بسر کرتا ہو۔

سیدنا ابودرداء سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:

«مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ». وَقَالَ ﷺ : «أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ خُلُقٌ حَسَنٌ إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ» (سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في حسن الخلق: 2002 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:519)

’’جسے نرمی سے کچھ حصہ عطا کر دیا گیا اسے بھلائی کے کچھ حصے سے نواز دیا گیا اور جو نرمی کے کچھ بھی حصے سے محروم رہا اسے خیر وبھلائی کے حصے سے ہی محروم کر دیا گیا اور آپﷺ کا فرمان ہے: میزانِ عمل میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بے حیاء اور بد زبان شخص سے نفرت کرتا ہے۔‘‘

سیدنا سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ اللّٰهَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ وَمَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ، وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا»

(سلسلة الأحاديث الصحيحة: 1378)

’’یقیناً اللہ تعالیٰ بہت صاحبِ کرم ہے، وہ عالی ظرف اور بلند اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور کمینہ خصلت کو ناپسند فرماتاہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حسن العشرة: 4790- سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في البخيل: 1964 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:935)

’’مومن سادہ لوح اورکشادہ ظرف ہوتاہے، جبکہ فاجرچالاک فریبی اورتنگ ظرف ہوتاہے۔‘‘

یعنی چالاکی، فریبی، دغابازی، کم ظرفی اورگھٹیاپن جیسے تمام خصائلِ رزیلہ ایک حقیقی مومن کی شان کے لائق نہیں ہیں بلکہ یہ فاجروفاسق وفاجرشخص کی خصلتیں ہیں۔ مومن کاتوان سے دُورکابھی واسطہ نہیں ہوناچاہیے۔

سیدنا سہل بن سعد نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» (مسند أحمد: 5/35-سلسلة الأحاديث الصحيحة:426)

’’مؤمن اُلفت ومحبت رکھنے والا ہوتا ہے اور ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی جو نہ تو خود کسی سے اُلفت رکھتا ہو اور نہ ہی اس سے کوئی رکھے۔‘‘

اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائیوں سے خود الفت ومحبت رکھے گا تو ہی وہ ان کی محبت پائے گا، لیکن اگر وہ کسی کو اس لائق ہی نہ گردانے کہ اس پہ اپنی محبت نچھاور کرے تو اسے بھی کوئی قابلِ التفات نہیں سمجھے گا اور ایسا شخص بہ فرمانِ نبویﷺ خیروبھلائی سے قاصر ہوتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کے دِلوں میں اپنی محبت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بھی محبت کا مقام دیاجائے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«مَنْ كَانَ هَيِّنًا لَيِّنًا سَهْلًا قَرِيبًا حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَلَى النَّارِ» (سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2488 -مسند أحمد:1/415 -سلسلة الأحاديث الصحيحة:938)

’’جو شخص باوقار وسنجیدہ، نرم مزاج، (لوگوں کے لیے) آسانی پیدا کرنے والا اور قربت رکھنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ پرحرام کردیتا ہے۔‘‘

سیدنا مکحول نبی کریمﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ، كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ الَّذِي إِنْ قِيدَ انْقَادَ، وَإِنْ أُنِيخَ اسْتَنَاخَ عَلَى صَخْرَةٍ»(سلسلة الأحاديث الصحيحة:936)

’’باوقار اور سنجیدہ مؤمنین نکیل والے اس اونٹ کے مانند ہیں کہ جسے باندھ دیا جائے تو وہ بندھ جائے اور اگر اسے بیٹھنے کو کہا جائے تو وہ چٹان پر بھی بیٹھ جائے۔‘‘

یعنی حقیقی مؤمن کی یہ صفت ہوتی ہے کہ اس میں اَکڑ اور اَنا نہیں ہوتی، بلکہ نہایت عاجز، منکسر مزاج اور فرمانبردار شخص ہوتاہے۔

سیدنا جابربن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«رَحِمَ اللّٰهُ عَبْدًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، سَمْحًا إِذَا اشْتَرَى، سَمْحًا إِذَا اقْتَضَى»

(صحيح بخارى، كتاب البيوع، باب السهولة والسماحة في الشراء والبيع: 2076)

’’اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو (سودا)بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، خریدتے وقت بھی اور جب تقاضا کرتا ہے تب بھی نرمی سے کام لیتاہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کے لیے رحم کی دعا فرمائی ہے جو ہر معاملے میں نرمی اپناتا ہے، کسی بھی کام میں سختی و درشتی کا قائل نہیں ہوتا۔ وہ ہستی کہ اللہ کے بعد اسی کادرجہ ہے اور وہ تمام جہانوں سے افضل و اعلیٰ ہے،اس ہستی کی دعا کا حقدار بننے کے لیے اپنے آپ میں نرمی پیدا کر لینا کوئی بڑا عمل نہیں ہے۔

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ

مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ الْتَقَمَ أُذُنَ النَّبِيِّ ﷺ فَيُنَحِّي رَأْسَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأْسَهُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ أَخَذَ بِيَدِهِ رَجُلٌ فَيَتْرُكُ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ . (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في حسن العشرة:4794)

’’میں نے کبھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ اس نے نبیﷺ کے کان میں کوئی بات کہی ہو تو آپﷺ نے اپنا سر دُور کر لیا ہو، یہاں تک کہ وہ آدمی خود ہی اپنا سر دُور کر لیتا تھا اور نہ ہی میں نے ایسا کبھی دیکھاکہ کسی نے آپﷺ کاہاتھ پکڑا ہو تو آپﷺ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو، یہاں تک کہ وہ آدمی خود ہی آپﷺ کاہاتھ چھوڑدیتاتھا۔‘‘

یعنی آپﷺ اخلاقیات سے متعلقہ چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ مبادا کسی شخص کے دل میں کوئی بات نہ آ جائے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں