زندگی ایسے گزاریں (قسط 13)- مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

غیبت اورمسلمانوں کے عیوب کی ٹوہ لگانے کی ممانعت

االلہ عزّوجلّ فرماتاہے:

﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ﴾ (سورۃ الحجرات: 12)

’’تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیاتم میں سے کوئی بھی اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ اسے تو تم ناپسندکرتے ہو۔‘‘

سیدنا ابوبرزہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَبَّعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبَّعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ يَتَّبَّعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبَّعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الغيبة: 4880)

’’اے وہ لوگوکہ جواپنی زبان سے تو ایمان قبول کر چکے ہو مگر دِلوں میں ابھی جاگزیں نہیں ہوا! تم مسلمان بھائیوں کی غیبت مت کرو اور نہ ہی ان کے مخفی عیوب ٹٹولنے لگو، کیونکہ جو اپنے بھائی کے عیب ٹٹولنے لگے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیب ٹٹولنے لگ جائے گا اور اللہ جس کے عیوب ٹٹولنے لگ پڑے تو اسے گھرکے اندر بھی رُسوا کر کے چھوڑتاہے۔‘‘

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«لَمَّا عَرَجَ بِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظَافِرُ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الغيبة: 4878-مسند أحمد:3/224)

’’جب میرا رب مجھے معراج پر لے گیا تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہواجن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سِینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا:

اے جبرائیل!یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا:

’’یہ وہ لوگ ہیں جولوگوں کا گوشت کھاتے تھے اوران کی عزتیں اچھالتے تھے۔‘‘

غیبت کہتے کس کوہیں؟

اس کی وضاحت خودنبی کریمﷺنے فرمائی ہے، جیساکہ سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟» قَالُوا: اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ.» قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ.»

(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم الغيبة: 2589-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الغيبة: 4874-سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في الغيبة: 1934)

’’کیا تم جانتے ہوکہ غیبت کیاہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا:اللہ اوراس کارسول ہی بہترجانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم اپنے (مسلمان)بھائی کے متعلق ایسی بات بیان کروکہ جسے وہ ناپسندکرتاہو۔ ‘‘ پوچھاگیاکہ اگروہ بات جومیں کہہ رہاہوں اس میں پائی جاتی ہوتواس کے بارے میں آپﷺ کاکیاخیال ہے؟ آپﷺنے فرمایا: ’’اگروہ بات جوتم کہتے ہو وہ اس میں پائی جاتی ہوتوتم نے اس کی غیبت کی ہے، اوراگرتمہاری کہی ہوئی بات اس میں موجودنہ ہوتوتم نے اس پربہتان باندھاہے۔‘‘

یعنی غیبت کہتے ہی اس عیب کے بیان کرنے کو ہیں جو اس شخص میں پایا جاتا ہو جس کی غیبت کی جارہی ہے، اور اگر وہ عیب اس میں پایا ہی نہ جاتا ہو تو پھر یہ بہتان ہو گا، جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔

گالی دینے، عاردِلانے اورکسی کی عزّت اچھالنے کی ممانعت

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا – يُشِيرُ إِلٰى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ – بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ.»

(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم ظلم المسلم، وخذله، واحتقاره ودمه، وعرضه، وماله:2564)

’’ایک دوسرے سے حسد مت کرو، باہم بُغض مت رکھو، ایک دوسرے پر بڑھا چڑھا کر بولی مت لگاؤ، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور تم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے، اے اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ(کیونکہ)مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، نہ اس پرظلم کرتاہے، نہ اسے رُسوا کرتا ہے اور نہ اسے نِیچا دِکھاتا ہے۔ تقوٰی یہاں ہے(آپﷺ نے یہ)اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے(فرمایا)۔ آدمی کے بُرا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے، ہرمسلمان پر دوسرے مسلمان کاخون، مال اورعزّت حرام ہے۔‘‘

سیدنا اسامہ بن شریک بیان کرتے ہیں کہ

شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ مِنْ جُنَاحٍ فِي كَذَا؟ فَقَالَ: «عِبَادَ اللّٰهِ وُضِعَ الْحَرَجُ إِلَّا امْرُؤٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ.» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَا خَيْرُ مَا يُعْطَى الْعَبْدُ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ.»

(سنن ابن ماجه، كتاب الطب، باب ما أنزل الله داء، إلا أنزل له شفاء: 3436- مسند أحمد: 4/278- سلسلة الأحاديث الصحيحة:433)

’’میں بھی اس وقت بدوی لوگوں کے پاس موجود تھا جب وہ نبیﷺ سے سوال کر رہے تھے کہ کیا فلاں کام کرنے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو!گناہ کو اُٹھا لیا گیا ہے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت سے ایک حصہ کاٹ لیا تو یہ وہ شخص ہے جس نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ پھر انہوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول! بندے کو جو(اللہ کی طرف سے)بہترین چیز عطا کی گئی ہے، وہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اچھااخلاق۔‘‘

عزت اچھالنے یاعزت کاایک حصہ کاٹ لینے سے مراد یہ ہے کہ دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی ایسی بات کرنایاکسی ایسے عمل کامظاہرہ کرناجس سے اس کی عزت پر آنچ آتى ہو، خواہ اس کاکوئی جسمانی عیب بیان کیاجائے، اخلاقی خصلت ذکرکی جائے یا اس کے گھرکی عزت کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش کی جائے، غرضیکہ قولی وفعلی کسی طورپربھی اسے تضحیک کانشانہ بنانا اس کی عزت اچھالنا ہے اور ایک مومن کے لائقِ مقام نہیں ہے کہ وہ ایسی گھناؤنی حرکت کرے۔

سیدنا عبداللہ نبی کریمﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ.»

(صحيح بخارى، كتاب الإيمان، باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر: 48 -صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان قول النبي صلى الله عليه وسلم: «سباب المسلم فسوق وقتاله كفر»: 64)

’’مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔‘‘

سیدنا ابوذر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریمﷺکو فرماتے سنا:

«لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفِسْقِ وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما ينهى من السباب واللعن: 6045-مسند أحمد:5/181)

’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص پرفاسق یا کافر ہونے کا الزام نہ لگائے، کیونکہ اگراس کاساتھی(جسے اس نے یہ کہاہو)ایسانہ ہوا تو اس الزام کامورَد وہ خودہی ٹھہرے گا۔‘‘

یعنی اگراس کے الزام کے مطابق وہ شخص کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہو کہ جس سے کفر یا فسق لازم آتا ہو تب تو اس کی یعنی الزام لگانے والے کی معافی کی گنجائش ہے لیکن اگراس میں ایسی کوئی برائی نہ پائی جاتی ہو تو پھر اپنے اس الزام کامورَدوہ خودہی ٹھہرے گا۔

سیدنا جابربن سلیم بیان کرتے ہیں کہ

رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هٰذَا؟ قَالُوا: رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ -مَرَّتَيْنِ- قَالَ: «لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ»، قَالَ قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰهِ؟ قَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللّٰهِ، الَّذِي إِذَا كَانَ بِكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ.» قَالَ: قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ قَالَ: «لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا.» قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً، قَالَ: «وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلٰى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ إِلَيْكَ وَعَلَيْهِ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار: 4084-سنن ترمذى، أبواب الإستئذان، باب ما جاء في كراهية أن يقول عليك السلام مبتدئاً: 2722-سلسلة الأحاديث الصحيحة:1403)

’’میں نے ایک آدمی کودیکھاکہ لوگ اس کی باتوں کو سن رہے تھے، وہ جوبھی حکم جاری کرتا لوگ اسے مان لیتے تھے، میں نے پوچھا:یہ کون ہے؟ تولوگوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسولﷺہیں۔ میں نے کہا: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَارَسُولَ اللّٰهِ میں نے یہ دو مرتبہ کہا۔ آپﷺنے جواب میں فرمایا: عَلَيْكَ السَّلَامُ نہ کہو، کیونکہ یہ میّت کاسلام ہے، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ کہو۔

سیدنا جابر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا:آپ اللہ کے رسول ہیں؟ توآپﷺنے فرمایا:(ہاں)میں اللہ کا رسول ہوں، (وہ اللہ)کہ جب تجھے کوئی دُکھ تکلیف پہنچتی ہے اور تُو اسے پکارے تو وہ (تيرى تكليف) دُور کر دیتا ہے، اگرتجھ پہ قحط چھا جاتا ہے اور تُو اسے پکارتاہے تو وہ تیری فصل کو اُگاتا ہے اور جب تُو کسی بنجر زمین یا صحراء میں ہو اور تُو اپنی سواری کھو بیٹھے پھر تُو اسے پکارے تو وہ تجھے تیری سواری لوٹا دیتا ہے۔

سیدنا جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا:مجھے کوئی وصیّت فرما دیجیے۔ آپﷺنے فرمایا: ’’کسی کو گالی بالکل نہ دے۔‘‘

سیدنا جابر کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعدآزاد، غلام، اونٹ اور بکری کسی کوبھی کبھی گالی نہیں دی۔ آپﷺ نے (مزيد) فرمایا: ’’کسی نیکی کو ہرگز کمتر مت سمجھ، اپنے بھائی سے بات کرتے ہوئے ہنستے اور کھلتے چہرے سے بات کر، کیونکہ یہ بھی نیکی ہے، اپنے تہہ بند کو نصف پنڈلی تک اُٹھا کر رکھ، اگر اتنا نہیں کر سکتا تو ٹخنوں تک کر، البتہ ٹخنوں سے نیچے تہہ بند لٹکانے سے بچ، کیونکہ یہ تکبّرکی علامت ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تکبّرکوپسندنہیں فرماتا اور اگر کوئی شخص تجھے گالی دے یا تجھ میں پائی جانے والی کسی ایسی بات پرتمہیں عار دِلائے جسے وہ جانتا ہو تو تُو اس کی کسی ایسی بات پر عار نہ دِلا جو تُو جانتا ہو، کیونکہ اس کاوبال اسی پر ہو گا۔‘‘

سیدنا سعیدبن زید نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَأَنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَمَنْ قَطَعَهَا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الغيبة: 4876-مسند أحمد:1/190)

’’سب سے بڑا سُود(زیادتی)کسی مسلمان کی عزّت پر ناحق دست درازی کرنا ہے۔ اور رَحِمْ (رشتے داری) رحمان کی شاخ ہے، سوجس نے اسے کاٹااس پراللہ تعالیٰ جنّت حرام کردے گا۔‘‘

سیدنا ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا:

«مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجَّلَ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يُدَّخَرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في النهي عن البغي: 4902- سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2511- سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب باب البغي: 4211-مسند أحمد: 5/36- سلسلة الأحاديث الصحيحة:918)

’’سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی بھی گناہ ایسا نہیں ہے کہ جس کے مرتکب کواللہ تعالیٰ جلدہی اس دنیامیں بھی سزا سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کے لیے سزا باقی رکھے گا۔‘‘

٭٭٭

15 شعبان کی رات میں گھروں کی صفائی ستھرائی اور روحوں کی حاضری کا عقیدہ رکھنا

15 شعبان کی رات میں گھروں کی لپائی پوتائی اور نئے کپڑوں کی تبدیلی کا اہتمام بھی بعض لوگ کیا کرتے ہیں، نیز گھروں میں اگربتی جلاتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس رات میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں، لہٰذا ان کے استقبال میں ایسا کیا کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ بالکل فاسد اور مردود ہے، یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں؛کیوں کہ کوئی بھی انسان مرنے کے بعد اس دنیا میں نہیں آتا ہے مومن ہے تب بھی اور مشرک، کافر ہے تب بھی۔ چنانچہ جامع ترمذی کی حدیث نمبر 1071 میں اس کی وضاحت موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’جب میت کو قبر میں داخل کردیا جاتا ہے تو دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے سوال جواب کرتے ہیں اگر بندہ مومن ہوتا ہے تو ان کے جوابات صحیح صحیح دیتا ہے اور اس کی قبر کو کشادہ کردیا جاتا ہے اور فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ تو سو جا اس دلہن کی طرح جس کے گھر کے افراد میں سب سے زیادہ محبوب اس کو جگاتا ہے یہاں تک کہ اللہ اس کو قیامت کے دن اٹھائے گا اور اگر بندہ منافق ہوتا ہے تو وہ ان کے سوالات کے جواب میں کہتا ہے ہائے! ہائے میں نہیں جانتا، اس کی قبر کو تنگ کردیا جاتا یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ اس کو اٹھائے گا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ بندہ مومن ہو یا کافر و مشرک یا منافق کسی بھی صورت میں وہ دنیا میں نہیں آتا، لگتا ہے یہ عقیدہ بھی ہندوؤں کے باطل عقیدے آوا گبن سے جاہل مسلمانوں میں در آیا ہے!

غرض یہ کہ اس قبیل کی تمام رسمیں خرافات اور بے اصل ہیں، جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں؛ لہٰذا ان سب چیزوں سے احتراز لازم ہے، ہماری کامیابی نبی کریم ﷺ کے اتباع میں ہی مضمر ہے۔

تبصرہ کریں