زندگی ایسے گزاریں (قسط 13)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

ظالم سے انتقام لينے كى بجائے عفوودرگزر

گوکہ ظالم سے بدلہ لینے کی قدرت نہ ہونے کے باوجود بھی اسے معاف کر دینا نیکی ہے کیونکہ اس سے ظلم کرنے والے کا عِنداللہ مواخذہ نہیں ہوتا، لیکن بدلے اور انتقام کی قدرت کے باوجودظالم کومعاف کرنا بہت بڑی نیکی ہے، کیونکہ اس صورت میں معاف کر دینے کی وجہ خالصتاً رضائے الہٰی کاحصول ہوتاہے۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ

جَعَلَ رَجُلٌ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَجَعَلَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ، قَالَ: «فَإِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَنْ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ قَعَدَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ.» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ مَظْلِمَةً فَغَضَى عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللّٰهُ بِهَا نَصْرَهُ.»

(مسند أحمد: 2/436- سلسلة الأحاديث الصحيحة:2231)

’’ایک آدمی سیدنا ابوبکر کو بُرا بھلا کہے جا رہا تھا، حالانکہ رسول اللہﷺ بھی تشریف فرما تھے، آپﷺ کواس کی یہ حرکت بہت عجیب لگی اور آپﷺ مسکرانے لگے۔ لیکن جب وہ بہت زیادہ ہی بولنے لگ گیا، تو سیدنا ابوبکر نے بھی اس کی کسی بات کا جواب دے دیا، تورسول اللہﷺ غصے میں آ گئے اور اُٹھ کر چلے گئے۔ سیدنا ابوبکر پیچھے گئے اور عرض کیا:

اے اللہ کے رسول!جب تک وہ مجھے بُرا بھلا کہتا رہا تو آپﷺ بیٹھے رہے اورجب میں نے اس کی ایک بات کاجواب دے دیا، تو آپﷺ نے غصہ کر لیا اور اُٹھ کر آ گئے۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’اس لیے کہ (اللہ کی طرف سے)تیرے ساتھ (ایک فرشتہ) مقرر تھا جو تیری طرف سے اسے جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم نے اس کا جواب دیا تو شیطان (وہاں آ کر)بیٹھ گیا، اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا تھا۔‘‘

پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’اے ابوبکر!جس بندے پربھی ظلم کیاجائے اور وہ اللہ کی خاطر خاموش رہے تواللہ تعالیٰ اپنی مددکے ساتھ اسے عزت وغلبہ عطافرمادیتاہے۔‘‘

سیدنا سعیدبن مسیّب﷫ بیان کرتے ہیں کہ

بَيْنَمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَعَ رَجُلٌ بِأَبِي بَكْرٍ فَآذَاهُ، فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ، فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ، فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَجَدْتَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ، فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الانتصار:4896)

’’رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اسی دوران ایک آدمی سیدنا ابوبکر (کو بُرا بھلا کہہ کر) تکلیف دینے لگا، سیدنا ابوبکر خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے دوسری بار اذِیّت دی، سیدنا ابوبکر پھر بھی خاموش رہے، اس نے تیسری مرتبہ ایذاء رسانی کی تو سیدنا ابوبکر نے بھی جواب دے کراس سے بدلہ لے لیا۔ جب سیدنا ابوبکر نے بدلہ لیا تو رسول اللہﷺ اُٹھ کر چلے گئے۔ سیدنا ابوبکر نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!کیاآپﷺ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ اترا تھا جو اس آدمی کی ان باتوں کی تکذیب کر رہا تھا جو وہ کہہ رہا تھا، لیکن جب تُو نے بدلہ لیا تو شیطان آ گیا اور جب شیطان آ گیاتومیں وہاں نہیں بیٹھ سکتاتھا۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللّٰهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ.»

(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب العفو والتواضع:2588-سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في التواضع: 2029)

’’صدقہ مال کو کم نہیں کرتا اور نہ کسی کو معاف کر دینے سے (عزت میں کمی ہو جاتی ہے، بلکہ(اللہ تعالیٰ عزّت میں اضافہ ہی فرماتاہے، اورجوشخص بھی اللہ کیلئے جھک جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند کر دیتا ہے۔‘‘

معاشرتی جاہلی رویّوں میں مخالف سے انتقام نہ لینا بزدلی اور ذِلّت کی علامت سمجھا جاتا ہے جو کہ فساد پھیلانے کا سراسر شیطانی ہتھکنڈہ ہے، حالانکہ درحقیقت معاف کرنا ہی عزت سے ہم کنار ہونے کا موجب عمل ہے۔

غصے سے اجتناب

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [آلعمران: 134] ’’غصے کوپی جانے والے اورلوگوں سے درگزرکرنے والے، اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والے )ایسے(لوگوں کو پسندفرماتاہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرْعَةِ.» قَالُوا: فَمَنِ الشَّدِيدُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب الحذر من الغضب: 6114- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل من يملك نفسه عند الغضب وبأي شيء يذهب الغضب: 2609)

’’مدِّمقابل کو پچھاڑ دینے والا سخت جان نہیں ہوتا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر سخت جان کون ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:وہ شخص جو غصے کے وقت اپنے آپ پرقابورکھے۔‘‘

یعنی آپﷺ نے فرمایا کہ بہادر اور سخت جان وہ نہیں ہوتا کہ جس کی کسی سے لڑائی ہو تو وہ مدِمقابل کو چِت کر دے، بلکہ حقیقی بہادر وہ شخص ہوتاہے جوغصے کے وقت اپنے آپ پرقابو رکھے، جس پرغصہ ہواسے اللہ کی رضاکی خاطرمعاف کر دے اور جذبات میں آ کر کوئی ایساکام نہ کر بیٹھے جس سے بعدمیں ندامت اور پچھتاوا ہو۔

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرْعَةِ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب الحذر من الغضب: 6114- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل من يملك نفسه عند الغضب وبأي شيء يذهب الغضب: 2609)

’’مدِّمقابل کو پچھاڑ دینے والا سخت جان نہیں ہوتا بلکہ (درحقیقت) غصے کے وقت خود پر قابو رکھنے والاسخت جان ہوتاہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ

جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مُرْنِي وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعْقِلُهُ، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ.» فَأَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «لَا تَغْضَبْ.» وَفِي رِوَايَةٍ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، الْحَدِيثَ.

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب الحذر من الغضب: 6116- سنن ترمذى، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في كثرة الغضب: 2020- مسند أحمد:2/362)

’’ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: مجھے (کسی عمل کا)حکم فرمائیے، لیکن بہت زیادہ احکام مت دیجیے، تاکہ میں اسے سمجھ سکوں۔ آپﷺ نے فرمایا: غصہ مت کیاکر۔ آپﷺ نے اسی بات کو بار بار دوہرایا اور فرمایا:

’’غصہ مت کیاکر۔‘‘

ایک روایت میں یوں ہے کہ اس آدمی نے کہا:

(اے اللہ کے رسول!)مجھے کوئی ایساعمل بتلائیے کہ جس پرعمل پیرا ہو کر میں جنّت میں جا سکوں۔ اس کے بعدوہی ساری حدیث آخرتک۔‘‘

اس سائل نے نبیﷺ سے موجبِ جنت عمل کے بارے میں سوال کیا اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ میں بہت زیادہ احکام یاد نہیں رکھ سکتا بلکہ صرف ایک ہی جامع ساحکم بتلادیجیے، توآپﷺنے اسے فرمایاکہ غصہ مت کیاکر۔ توگویاغصہ نہ کرنا بقیہ تمام احکام سے اہم ہے، کیونکہ آپﷺ نے یقیناًاسے وہی حکم فرمایا ہو گا جوآپﷺ کی نظرمیں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل اور جامع ہو گا۔

البتہ یہ یادرہے کہ

جن دیگر امور پر اس عمل کو فضیلت دی گئی ہے وہ نفلی امورہیں، ان میں فرائض شامل نہیں ہیں، فرائض وواجبات کاحکم اپنی جگہ برقرار رہے گاکیونکہ ان کی کسی بھی شخص کے لیے معافی نہیں ہے۔

سیدنا ابوذر نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما يقال عند الغضب: 4782- مسند أحمد: 5/152)

’’جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو اسے بیٹھ جانا چاہیے، سو اگر اس سے غصہ چلا جائے تو(ٹھیک ہے)اور اگر پھر بھی ختم نہ ہو تو لیٹ جائے۔‘‘

یہاں نبیﷺنے غصہ دُورکرنے کاایک شاندارنسخہ بتلایا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق بھی اگرغصے کے دوران انسان کی حالت (Position) تبدیل کر دی جائے تو غصے کے باعث اس کے خون کی گردش میں جوتیزی آئی ہوتی ہے اس میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور یوں جذبات قابو میں آجاتے ہیں اورغصہ ختم ہوجاتاہے۔ اس لیے جب بھی انسان کو غصہ آئے اگر وہ کھڑا ہو تو اسے فوراً بیٹھ جانا چاہیے اور اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جانا چاہیے تاکہ وہ ان جذبات سے مغلوب ہونے کی بجائے انہیں ختم کرسکے۔

سیدنا سلیمان بن صرد نبیﷺسے سخت غصے والے شخص کے بابت روایت کرتے ہیں کہ

آپﷺ نے فرمایا:

«إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ: أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ.»

(صحيح بخارى، كتاب بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده: 3282- صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل من يملك نفسه عند الغضب وبأي شيء يذهب الغضب: 2610)

’’میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کہ اگروہ اسے(غصے کے وقت)پڑھ لے گاتواس کاغصہ جاتارہے گا، (وہ کلمہ یہ ہے:) أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ’’میں شیطان مردودسے اللہ کی پناہ میں آتاہوں۔‘‘

یہ بھی غصہ ختم کرنے کانہایت مؤثرعلاج ہے، کیونکہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے اور أعوذ باللہ پڑھنے سے شیطان بھاگ جاتا ہے تو غصہ بھی جاتا رہتا ہے۔

سیدنا ابنِ عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا جَرَعَ عَبْدٌ جَرْعَةً أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ.»

(سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب الحلم:4189)

’’کوئی بھی گھُونٹ بندہ ایسانہیں پِیتاکہ جواللہ تعالیٰ کے ہاں رضائے الٰہی کی خاطر غصے کا گھُونٹ پینے سے بڑھ کر اجر وثواب کاحامل ہو۔‘‘

مراد یہ ہے کہ رضائے الہٰی کی خاطر غصہ پی جانا اور کسی پر اس کا نفاذ نہ کرنا اجر وثواب کے لحاظ سے سب سے عظیم عمل ہے۔

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا عَثْرَتَهُ أَقَالَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في فضل الإقالة: 3460۔ سنن ابن ماجه، كتاب التجارات، باب الإقالة:2199)

’’جوکسی مسلمان کا سودا واپس کر لے، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کے گناہ معاف فرمادے گا۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانبیﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ، مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الحد يشفع فيه: 4375- مسند أحمد:6/181-سلسلة الأحاديث الصحيحة:638)

’’عزّت دارلوگوں کی لغزشیں معاف کردیاکرو، جب تک کہ وہ کسی قابلِ حَدجرم تک نہ پہنچیں۔‘‘

یعنی اگر کسی معززشخص سے کوئی خطاولغزش ہوجائے تواس سے در گزر کر دینا اور انتقام نہ لینا ہی افضل ہے، کیونکہ حقیقت میں وہ ایسانہیں ہوتاکہ کسی کونقصان پہنچائے یاکسی کی دِل آزاری کا باعث بنے بلکہ غیرارادی طور پر شیطان کے بہکاوے میں آ کر ایسا کر بیٹھتا ہے۔

حِلم وبردباری اورمحبت وچاہت

سیدنا ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺنے اشج بن عبدالقیس سے فرمایا:

«إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللّٰهُ وَرَسُولُهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ.»

(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الأمر بالإيمان بالله ورسوله، وشرائع الدين، والدعاء إليه:18)

’’تم میں دوخصلتیں ایسی ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس كا رسول پسندفرماتے ہیں:بردباری اوروقار۔‘‘

سیدنا سعد اس حدیث کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ

«التُّؤْدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرفق: 4810- سلسلة الأحاديث الصحيحة:1794)

’’آخرت کے کام کے سواکسی بھی کام میں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

٭٭٭

علم ایک نور ہے اسے گناہوں سے مت بجھاؤ

علامہ ابن القیم﷫ گناہوں کے قبیح آثار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’انہیں میں سے ایک اثر علم سے محرومی ہے، اس لئے کہ علم ایک نور ہے جسے اللہ بندے کے قلب میں ڈال دیتا ہے، اور معصیت اس نور کو بجھا دیتی ہے۔‘‘

جب امام شافعی﷫ امام مالک﷫ کے سامنے زانوئے تلمذ تے کرتے ہیں اور پڑھنا شروع کرتے ہیں، تو امام مالک﷫ ان کی ذھانت وفطانت، بیدار مغزی اور کمال فہم کو دیکھ کر تعجب میں پڑ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل میں ایک نور ڈال دیا ہے تو تم اسے گناہوں کی تاریکی سے مت بجھانا۔‘‘ (الداء والدواء ص 56)

 

تبصرہ کریں