زندگی ایسے گزاریں (قسط 25)-مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

مجلس نشیں اورصحبت نشیں کون ہو؟

سیدنا ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا:

«إِنَّمَا مَثَلُ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَجَلِيسِ السُّوءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمًّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً.»(صحيح بخارى، كتاب البيوع، باب في العطار وبيع المسك:2101-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب استحباب مجالسة الصالحين، ومجانبة قرناء السوء: 2628)

’’نیک ہم نشین کی مثال اوربرے ہم نشین کی مثال کستوری اٹھانے والے اوربھٹی دھونکنے والے کے مِثل ہے۔ سوجوکستوری اٹھانے والاہے وہ یا تو تجھے دے دے گا، یا تُو اس سے اس سے خرید لے گا اور یا تُو اس سے اچھی خوشبوہی پالے گا اورجوبھٹی دھونکنے والاہے وہ یاتوتیرے کپڑے جلادے گا، یاپھرتُواس سے بدبُوہی پائے گا۔‘‘

اسی طرح اچھے شخص کی صحبت سے اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہی حاصل ہوگا، یاتووہ خودکوئی فائدے کی بات بتادے گا، اگروہ خودنہیں بتاتاتوتم اس سے پوچھ سکتے ہو، اوراگریہ دونوں ہی نہ ہوں توکم ازکم اس کی صحبت کے اثرسے ہی تم اچھی عادات وخصائل اپنالوگے، اوراس کے برعکس بُراصحبت نشین ہے، وہ جب بھی کوئی بات بتائے گاتوبے فائدہ اورنقصان کی بات ہی بتائے گا اور اگر وہ کچھ نہ بھی بتائے تواس سے کسی طوربھی چنداں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس کی صحبت کے اثرسے تم بھی بری عادات وخصائل کے حامل ہوجاؤگے۔

سيدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب من يؤمر أن يجالس: 4833-سنن ترمذى، أبواب الزهد، باب منه: 2378-مسند أحمد:2/334-سلسلة الأحاديث الصحيحة: 927)

’’آدمی اپنے دوست کے دِین پرہی ہوتاہے، سوتم میں سے (ہر)شخص کویہ دیکھناچاہیے کہ وہ کسے دوست بناتاہے۔‘‘

آدمی کے دوستوں کودیکھ کرہی اس کااندازہ ہو جاتاہے کہ یہ کیسے کرداروسیرت کاحامل ہے، کیونکہ انسان اپنے دوستوں کے دِین یعنی طوروطرزاورانہی کے طریق ونہج پر ہوتا ہے، اس لیے کسی کو اپنانا دوست بنانے سے پہلے اس کے جمیع اموروخصائل کوبہ خوبی ملاحظہ کرناچاہیے تاکہ اُس کے درست نہ ہونے پراِس کاشماربھی اسی کے ساتھ نہ کیاجانے لگے۔

سیدنا ابوسعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب من يؤمر أن يجالس: 4832-سنن ترمذى، أبواب الزهد، باب ما جاء في صحبة المؤمن: 2395-صحيح الجامع للألبانى:7341)

’’تُو صرف مومن شخص کو ہی اپنا ساتھی بنا اور تیرا کھانا صرف متّقی شخص ہی کھائے۔‘‘

سیدہ عائشہ رسول اللہﷺسے روایت کرتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ»

(صحيح بخارى، كتاب أحاديث الأنبياء، باب الأرواح جنود مجندة:3336-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب الأرواح جنود مجندة: 2638)

’’رُوحوں کے لشکرکے لشکرالگ الگ ہیں، سوجو(عالمِ ارواح میں) ایک دوسرے سے متعارف تھیں (دنیا میں آ کر) ان میں محبت ہوگئی، اور جو وہاں ایک دوسرے سے ناواقف تھیں، ان(کادنیا)میں بھی اختلاف ہی رہا۔‘‘

یہ محبت اوراختلاف روحانی مناسبت سے ہے، اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ جب عالمِ ارواح میں رُوحوں کے لشکر کے لشکر موجودتھے تو جو رُوحیں دنیا میں آنے سے پہلے وہاں ایک دوسرے سے متعارف ہو گئیں تھیں، دنیامیں آکران کی باہم محبت ہوگئی، لیکن جن کاوہاں آپس میں مزاج نہ مل سکاوہ دنیامیں آ کربھی ایک دوسرے کے مخالف ہی رہِیں۔ مثال کے طور پر نیک شخص کامزاج نیک سے ہی ملتاہے اور اسی کو اپناصحبت نشیں اورمجلس نشیں بنائے گا، اسی طرح بُرے شخص کی عادات بُرے سے ہی میل کھاتی ہیں اور وہ اسی سے ہی میل جول رکھے گا، اور ان دونوں طرح کے یعنی نیک اوربُرے لوگوں کا آپس میں چنداں مزاج نہیں ملتا اور نہ ہی ان کی عادات وخصائل میں کچھ مماثلت ہے، اس لیے یہ عالمِ ارواح میں بھی ایک دوسرے سے مانوس نہ ہو سکیں اور دنیا میں آکربھی ان کاآپس میں اختلاف ہی رہا۔

گمراہی کے خدشے کی صورت میں گوشہ نشینی

سیدنا ابوسعیدخدری سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟» قَالُوا: اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَنْ جَاهَدَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، قَالَ: «ثُمَّ مَنْ؟» قَالُوا: اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «ثُمَّ مُؤْمِنٌ يَعْتَزِلُ فِي شِعْبٍ يَتَّقِي رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الجهادوالسير، باب أفضل الناس مؤمن مجاهد بنفسه وماله في سبيل الله: 2786-صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب فضل الجهاد والرباط: 1888)

’’لوگوں میں سے زیادہ فضیلت کاحامل کون شخص ہے؟ صحابہ نے عرض کیا:اللہ اوراس کے رسول ہی بہترجانتے ہیں۔ آپﷺنے تین مرتبہ بارباریہی فرمایاتوصحابہ نے کہا:جوراہِ خدامیں اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر کون؟ صحابہ عرض گزار ہوئے کہ اللہ اوراس کے رسول ہی بہترجانتے ہیں۔ آپﷺنے فرمایا: جوکسی گھاٹی میں علیحدگی اختیارکرلے، اپنے رب سے ڈرتاہواورلوگوں کواپنی برائی (سے بچانے کے لیے)چھوڑدے۔‘‘

رہبانیت اورگوشہ نشینی ویسے تواسلام کی نظرمیں ناجائزہے لیکن اگرلوگوں کے ساتھ رہنے سے دِین کو نقصان پہنچتاہواوروہ تعبدی امورکوبجانہ لا سکتا ہو یا پھر اس کی وجہ سے لوگوں کوضررپہنچتاہوتوپھرگوشہ نشینی اختیار کرناافضل ہے، لیکن اگراس کالوگوں کے ساتھ مل جل کررہنالوگوں کے حق میں مفیدہو، ان کی اصلاح وتربیت کاباعث ہو اور وہ لوگوں کے مصائب پرصبربھی کر سکتا ہو تو ایسی صورت میں لوگوں کے ساتھ مل جل کررہناہی افضل ہے اس صورت میں گوشہ نشینی اختیارکرناجائزنہیں ہے۔

سیدنا ابنِ عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً»(صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب قوله ﷺ:«الناس كإبل مائة لا تجد فيها راحلة»:2547-مسند أحمد:2/109)

’’لوگ ایسے ہوجائیں گے جیسے سواونٹوں میں سواری کے قابل ایک اونٹ بھی نہیں ہوتا۔‘‘

امام بیہقی﷫ فرماتے ہیں کہ اس کامعنیٰ یوں کیا گیا ہے کہ لوگ احکامِ دین میں برابرہوجائیں گے، کسی صاحبِ حیثیت کوعام شخص پرچنداں فضیلت نہیں ہو گی۔ ’’سواونٹوں کی طرح ہوجائیں گے جن میں کوئی سواری کااونٹ نہیں ہوگا‘‘ اس میں مذکورلفظ رَاحِلَةٌ اس چیزپردلالت کرتاہے جوکُوچ کرجاتی ہے، اوراس کا مطلب یہ ہواکہ اکثرلوگ ردّی ہوں گے، لہذاتُوان کی صحبت میں زیادہ مت رہ، اورلوگوں میں سے اہلِ فضل(نیکوکارلوگ)ہی انجام کاقصدکریں گے لیکن ان کی تعدادبہت تھوڑی ہوگی (ایسے ہی )جیسے بوجھ اٹھانے والے اونٹوں میں (تھوڑے سے)سواری کے قابل اونٹ ہوتے تھے۔

سیدنا مرداس اسلمی نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، وَيَبْقَى حُفَالَةٌ مِثْلُ حُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ لَا يُبَالِهِمُ اللّٰهُ بَالًا»

(صحيح بخارى، كتاب الرقاق، باب ذهاب الصالحين: 6434-مسند أحمد:4/193)

’’نیک لوگ ایک ایک کرکے (دنیاسے)چلے جائیں گے اور ان کے بعد جَو یا کھجور کے بھوسے کے مثل لوگ باقی رہ جائیں گے، اللہ تعالیٰ کوان کی چنداں پرواہ نہیں ہوگی۔‘‘

حُفَالَةٌ کامطلب ہے کسی بھی چیزکاباقی بچ جانے والا ناکارہ اور خراب حصہ، جسے ہم بھوسہ یاتلچھٹ کہتے ہیں۔ تو گویا دنیا کے بہترین لوگ اللہ تعالیٰ کے نیکوکار بندے ہیں اوران کے دنیاسے گزرجانے کے بعد باقی سب ناکارہ لوگ ہی رہ جائیں گے، جن کا ہونا یا نہ ہونااللہ تعالیٰ کی نظرمیں برابرہے۔

سرگوشی کی ممانعت

سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ.» وَرَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنْ شَقِيقٍ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ: «حَتَّى يَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب إذا كانوا أكثر من ثلاثة فلا بأس بالمسارة والمناجاة: 6290-صحيح مسلم، كتاب السلام، باب تحريم مناجاة الاثنين دون الثالث بغير رضاه:2184)

’’جب تم تین لوگ ہو تو دو آدمی اپنے (تیسرے) ساتھی کوچھوڑکرآپس میں سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ بات اس (تیسرے)شخص کوپریشان کرے گی۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ(وہ دونوں تب تک سرگوشی نہ کریں)جب تک کہ وہ لوگوں میں گھُل مِل نہیں جاتے۔‘‘

اس حدیثِ مبارکہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ اگر ایک جگہ پر تین لوگ موجود ہوں تو ان میں سے دو لوگوں کو آپس میں سرگوشی نہیں کرنی چاہیے۔ اس ممانعت کی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اس تیسرے شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید انہوں نے میرے بارے میں کوئی بات کی ہو جو مجھ سے چھپائی ہے۔ یہ خیال اسے پریشان کر سکتا ہے اور کسی مسلمان کو پریشان کرنا بہ جائے خود ایک گناہ ہے۔

بہ وجۂ تکریم کھڑے ہونے کاجواز

سیدنا کعب بن مالک کی توبہ والی حدیث میں ہے کہ وہ رسول اللہﷺکے پاس آئے توکہا:

فَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونِي بِالتَّوْبَةِ، حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللّٰهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي، فَمَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ، وَلَا أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ .

(صحيح بخارى، كتاب المغازى، باب حديث كعب بن مالك، وقول الله عزوجل: ﴿وعلى الثلاثة الذين خلفوا﴾: 4418-صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب حديث توبة كعب بن مالك وصاحبيه: 2769)

’’لوگ مجھے فوج درفوج ملے اور وہ معافی کی مبارکباد دے رہے تھے، جب میں مسجدمیں داخل ہوا تو طلحہ بن عبیداللہ لپک کر آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی، مہاجرین میں سے ان کے علاوہ کوئی شخص اُٹھ کر میری طرف نہیں آیا، اورمیں سیدنا طلحہ کی اس بات کوکبھی نہیں بھول سکوں گا۔‘‘

سیدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ

لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَكَانَ قَرِيبًا، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «قُومُوا إِلٰى سَيِّدِكُمْ.»(صحيح بخارى، كتاب مناقب الأنصار، باب مناقب سعد بن معاذ رضي الله عنه: 3804-صحيح مسلم، كتاب الجهاد، باب جواز قتال من نقض العهد، وجواز إنزال أهل الحصن على حكم حاكم عدل أهل للحكم: 1768)

’’جب(یہودیوں کے قبیلہ)بنوقریظہ نے سعد کے حکم پرہتھیارڈال دیے تورسول اللہﷺنے ان کی طرف(آدمی)بھیجا، وہ گدھے پرسوارہوکرآئے، جب پاس آگئے تونبیﷺنے فرمایا:اپنے سردارکے استقبال کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔‘‘

شعبہ بیان کرتے ہیں کہ

فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ لِلْأَنْصَارِ: «قُومُوا إِلٰى سَيِّدِكُمْ، أَوْ خَيْرِكُمْ»

’’جب وہ مسجد کے قریب آ گئے تو رسول اللہﷺ نے انصار سے فرمایا: اپنے سردار، یا (فرمایا:) اپنے بہترین شخص کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔‘‘

سیدہ فاطمہ بیان کرتی ہیں کہ

أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ قَامَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا. (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في القيام: 5217)

’’جب وہ نبیﷺکے پاس آتیں توآپﷺ ان کے استقبال میں کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے چومتے اور انہیں اپنی نشست پربٹھاتے اورجب آپﷺ ان کے پاس تشریف لاتے تووہ آپﷺ کے استقبال میں کھڑی ہو جاتیں، آپﷺ کا ہاتھ پکڑ کر چومتیں اور آپﷺ کو اپنی نشست پر بٹھاتیں۔‘‘

طارق بن عبدالرحمان احمسی بیان کرتے ہیں کہ

كُنَّا جُلُوسًا عَلَى بَابِ الشَّعْبِيِّ إِذْ جَاءَ جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ الْبَجَلِيُّ قَالَ: فَدَعَا الشَّعْبِيُّ لَهُ بِوِسَادَةٍ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا عَمْرٍو حَوْلَكَ أَشْيَاخٌ وَقَدْ جَاءَ هٰذَا الْغُلَامُ فَدَعَوْتَ لَهُ بِوِسَادَةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ أَلْقَى لِجَدِّهِ وِسَادَةً، وَقَالَ: «إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ.»

(سلسلة الأحاديث الصحيحة:1205)

’’ہم شعبی﷫ کے دروازے پربیٹھے ہوئے تھے کہ جریربن یزیدبن جریربن عبداللہ تشریف لائے، امام شعبی﷫ نے ان کے لیے تکیہ منگوایا، ہم نے ان سے عرض کیا:اے ابوعمرو!آپ کے اردگردبزرگ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں مگرجونہی یہ لڑکاآیاہے آپ نے اس کے لیے تکیہ منگوالیا؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، یقیناًرسول اللہﷺنے اپنے جدِّامجدکے لیے تکیہ رکھا تھا اور فرمایا کہ جب تمہارے پاس قوم کا معزّز شخص آئے تو اس کی عزت کیاکرو۔‘‘

کسی معزز شخص کے استقبال میں کھڑے ہونے کی مذکورہ تمام احادیث ایسی صورت کے بارے میں ہیں کہ وہ شخص خود یہ پسند نہ کرتا ہو کہ جب وہ آئے تو لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، اور اگر کوئی شخص اپنے لیے ایسا اکرام خود پسند کرتا ہو، جیسا کہ ہمارے حکام یا انکساری سے عاری امراء طبقہ، تو ایسے شخص کے بارے میں شدید وعید وارد ہوئی ہے جو آئندہ حدیث میں مذکور ہے۔

سیدنا معاویہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في قيام الرجل للرجل: 5229-سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء في كراهية قيام الرجل للرجل: 2755-مسند أحمد:4/91-سلسلة الأحاديث الصحيحة:357)

’’جوشخص یہ پسندکرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے رہیں تو اسے اپنا ٹھکانہ (جہنم کی) آگ میں بنا لینا چاہیے۔‘‘

امام بیہقی﷫ فرماتے ہیں کہ یہ وعید اس صورت میں ہے کہ جس کے لیے کھڑا ہوا جائے وہ خود اس بات کا حکم دے کہ لوگ اس کی آمد پر اس کے استقبال میں کھڑے ہوں اور تکبر وبڑائی کی بناء پران پر اس بات کولازمی کردے اورپھرجب وہ بیٹھ جائے تو لوگ اس کے سامنے سیدھے کھڑے رہیں، یعنی وہ انہیں بیٹھنے کونہ کہے بلکہ ان کاکھڑے رہنا اسے اچھا لگتا ہو۔

٭٭٭

تبصرہ کریں