زندگی ایسے گزاریں (قسط 8)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

کھاناکھلانے اورپانی پِلانے کى فضيلت

اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾ (سورۃ الدهر: 8)

’’اور(نیک لوگ)اللہ تعالیٰ کی محبت میں مسکین، یتیم اورقیدی لوگوں کوکھاناکھلاتے ہیں۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن سلام کرتے ہیں کہ

لَمَّا وَرَدَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَتَكَلَّمُ أَنْ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ.»(سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2485)

’’رسول اللہﷺجس وقت(مدینہ)تشریف لائے تو لوگ جوق درجوق آپﷺ کے پاس حاضرہونے لگے، اور (سب کو) بتایا جانے لگا کہ رسول اللہﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ ‘‘

راوی کہتے ہیں کہ ’’میں بھی لوگوں کے ساتھ ہو لیا تاکہ میں بھی آپﷺ کو دیکھ کرآؤں، جب میں نے خوب اچھی طرح سے آپﷺکے چہرۂ اقدس کا دیدار کیا تو میں ایک ہی بات سمجھاکہ آپﷺ کا چہرہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ سب سے پہلی بات جو آپﷺ کو فرماتے ہوئے میں نے سُنی (وہ یہ تھی:)اے لوگو!سلام کوپھیلاؤ، (ضرورت مندوں کو)کھاناکھلاؤ، رشتے داری کوملاؤ، رات کونمازپڑھوجب لوگ سورہے ہوں، (ان تمام اعمال کے صلے میں)تم جنّت میں سلامتی سے داخل ہوجاؤگے۔‘‘

سیدنا ابوموسیٰ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ.» (صحيح بخارى: 3046)

’’بھُوکے کوکھلاؤ، مریض کی عیادت کرواورقیدی کوآزادکراؤ۔‘‘

سیدنا براء بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی رسول اللہﷺکے پاس آیااوراس نے کہا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ! عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ، لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ.» قَالَ: أَوَ لَيْسَتْ وَاحِدًا؟ قَالَ: «لَا، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَنْفَرِدَ بِعِتْقِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَأَلْقِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ.» (مسند أحمد: 4/299- السنن الكبرى للبيهقى: 10/273)

’’اے اللہ کے رسول!مجھے کوئی ایساعمل بتائیں جو مجھے جنّت میں لے جائے، تو آپﷺ نے فرمایا: اگر تُو خطبے کو مختصر کرے گا تو مانگنے سے بچ سکتاہے، رُوح کو آزاد کر اور گردن کوبھی آزادی دلا۔ اس نے کہا:یہ دونوں(یعنی رُوح اورگردن کو آزاد کرنا)ایک ہی نہیں ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:

’’نہیں، رُوح کو آزاد کرنا یہ ہے کہ تُواکیلاہی کسی کوآزادکرائے اورگردن کو آزاد کرانے کامطلب یہ ہے کہ تُواس کی قیمت(کی ادائیگی)میں تعاون کرے، زیادہ دودھ دینے والی بکری کا عطیہ کر، ظالم رشتے دارسے ملتا جلتا رہ، لیکن اگر تُو اس کی طاقت نہیں رکھتا تو بھُوکے کو کھانا کھلا اور پیاسے کوپانی پلا، نیکی کرنے کاکہہ اوربرائی سے روک، اور اگر اس کی بھی تجھ میں طاقت نہیں ہے تو اپنی زبان سے سوائے اچھی بات کے اورکچھ مت بول۔‘‘

سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم بیان کرتے ہیں کہ

سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ تَرِدُ حَيًّا خَالِيًا قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرِ فِيمَا أَسْقَيْتُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ.» (سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب فضل صدقة الماء: 3686- سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2152)

’’میں نے رسول اللہﷺسے گمشدہ اونٹ کے بابت پوچھاکہ اگروہ میرے حوض پرآجائے جومیں نے اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے بنایا ہے، تو کیا اسے پانی پلانے پر مجھے ثواب ملے گا؟ تورسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ہاں!حرارت والی ہرذی رُوح چیز(کی خدمت کرنے)میں ثواب ملتاہے۔‘‘

سيدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ! وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ:«فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ.» (صحيح بخارى: 2363)

’’اے اللہ کے رسول!کیاہمیں جانوروں(کوکھلانے پلانے) میں بھی اجر ملتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہر تازہ جِگر(جان کی خدمت)میں اجرملتاہے۔‘‘

مذکورہ بالاتمام احادیث کھاناکھلانے اورپانی پلانے کے حکم اور اس کے اجر وثواب سے متعلق ہیں، یہ حکم صرف محتاج ومسکین کو کھانا کھلانے کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ان کے علاوہ ديگرلوگوں کی بھی دعوت وغیرہ کرنے سے یہی اجروثواب ملتاہے، بشرطیکہ نیّت فقط رضائے الہٰی کاحصول ہو۔ نیز اس میں تمام جاندار شامل ہیں خواہ وہ انسان ہوں یا حیوان، ہرایک سے نیکی کایہ معاملہ کرناباعثِ خیرہے۔

تحائف كاتبادلہ

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلٰى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ.» (صحيح بخارى، كتاب الهدية، باب القليل من الهبة: 2568)

’’اگر مجھے بازو(کاگوشت)تحفے میں دیاجائے تو بھی میں قبول کر لوں گا اور اگرمجھے پائے(کے گوشت)کی دعوت دی جائے تومیں اسے بھی قبول کرلوں گا۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَا بِفِرْسِنِ شَاةٍ.» (صحيح بخارى، كتاب الهبة، باب الهبة وفضلها والتحريض عليها:2566 -صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب الحث على الصدقة، ولو بالقليل ولا تمتنع من القليل لاحتقاره: 1030)

’’اے مسلمان عورتو! کوئی بھی عورت اپنی ہمسائی (کو تحفہ دینے)کے لیے(کسی بھی چیز کو) ہرگز حقیر نہ سمجھے، اگرچہ وہ بکری کاکھُرہی ہو۔‘‘

سيدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«تَهَادُوا تَحَابُّوا.» (السنن الكبرى للبيهقى: 6/169- الأدب المفرد للبخارى: 594- إرواء الغليل للألبانى:1601)

’’آپس میں تحائف دِیا لیِا کرو، اس سے باہم محبت بڑھتی ہے۔‘‘

باہم تحائف کے تبادلے سے محبت بڑھتی ہے، تحفے میں گراں قیمت چیز دینا ہرگز ضروری نہیں ہے اور بے جاتکلفات واسراف سے تو الله ورسولﷺ نے ويسے ہی منع فرمایاہے، اس لیے ان کواپنے آپ پر لازم کر کے اس عظیم نیکی سے محروم نہیں ہوناچاہیے بلکہ آپﷺ کے فرمان کے مطابق اگر بکری کا ایک کھُربھی بہ طورِتحفہ دینا کمتر نہیں ہے تو پھر چھوٹى سے چھوٹى كسى بھى چيز كو تحفے ميں كرنے ميں عار نہیں سمجھنى چاہیے۔

مال ضائع کرنے کی ممانعت

سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:

النَّفَقَةُ فِي غَيْرِ حَقٍّ هُوَ التَّبْذِيرُ.

(السنن الكبرى للبيهقى: 6/63)

’’جہاں خرچ کرنے کی ضرورت نہ ہو، وہاں خرچ کرنا فضول خرچی ہے۔‘‘

ورّاد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے سیدنامعاویہ کو لکھا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا:

«إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا: عُقُوقَ الْوَالِدَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَلَا وَهَاتِ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَإِلْحَافِ السُّؤَالِ.»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر: 5975-صحيح مسلم، كتاب الحدود، باب النهي عن كثرة المسائل من غير حاجة، والنهي عن منع وهات: 1715)

’’یقیناًاللہ تعالیٰ نے تین کاموں کوحرام کیاہے:ماؤں کی نافرمانی، لڑکیوں کوزندہ درگور کرنا اور ناحق مطالبہ کرنا اور تین کاموں سے منع فرمایاہے:قِیل وقال، مال ضائع کرنے اورلِپٹ کرمانگنے سے۔‘‘

مال ضائع کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسراف وتبذیر سے کام نہ لیاجائے، اسراف سے مرادیہ ہے کہ کسی کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے اور تبذیر اسے کہتے ہیں کہ ایسے کام میں خرچ کیاجائے جہاں خرچ کرنے کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو۔

٭٭٭

سیدنا عمر کی بچے سے دعا کی درخواست

سیدنا عمر نے مدینہ کی ایک گلی میں ایک بچے کو چلتے دیکھا۔ سیدنا عمر نے نیچے جھک کر بچے سے کہا:

’’بیٹے! اللہ سے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔‘‘

صحابہ کرام نے پوچھا:

امیر المؤمنین! آپ ایک بچے سے دعا کرنے کو کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ خود عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں!؟

سیدنا عمر نے جواب دیا:

’’میں اس لیے اس سے دعا کی درخواست کر رہا ہوں کیونکہ یہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا اور ابھی اس کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘

(دلیل السائلین از اسماعیل ابی داؤد: ص 257)

٭٭٭٭

تبصرہ کریں