زندگی ایسے گزاریں (قسط 26)۔مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

مجلس سے کسی کواٹھاکرخودبیٹھنے کی ممانعت

سیدنا ابنِ عمر بیان کرتے ہیں کہ

نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَقْعُدُ فِيهِ آخَرُ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب ﴿إذا قيل لكم تفسحوا في المجلس، فافسحوا يفسح الله لكم وإذا قيل انشزوا فانشزوا﴾: 6270-صحيح مسلم، كتاب السلام، باب تحريم إقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إليه:2177)

’’رسول اللہﷺنے اس بات سے منع فرمایاہے کہ کسی آدمی کواس کی جگہ سے اُٹھاکرکوئی دوسراشخص اس کی جگہ پربیٹھ جائے، لیکن تم کشادہ اوروسیع ہوجایاکرو۔‘‘

کیونکہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھا ہے وہی اس جگہ پر بیٹھنے کا حقدار ہے، بعد میں آنے والے کا اسے اٹھا کر خود وہاں بیٹھ جانا اس شخص کی حق تلفی ہے، اس لیے اس سے منع فرمایا گیا۔ البتہ اس کا حل بتلا دیا گیا کہ بہ جائے کسی کو اٹھانے کے مجلس کشادہ کر لی جائے اور تھوڑا کھلے کھلے ہو لیا جائے تا کہ نیا آنے والا بھی باآسانی بیٹھ سکے۔

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسٍ كَانَ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ»

(صحيح مسلم، كتاب السلام، باب إذا قام من مجلسه، ثم عاد فهو أحق به: 2179-سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب من قام عن مجلس فرجع فهو أحق به:3717)

’’جب تم میں سے کوئی اپنی جگہ سے جہاں وہ بیٹھا ہو اُٹھ کرجائے، پھروہ واپس آئے تواپنی اس جگہ پربیٹھنے کا وہی زیادہ حق رکھتاہے۔‘‘

یعنی اگر کوئی شخص کسی ضرورت کے باعث مجلس سے اٹھ کر جاتا ہے تو کسی اور کو اس کی جگہ پر نہیں بیٹھ جانا چاہیے، بلکہ اس کی جگہ خالی ہی رکھی جائے یا اگر کوئی بیٹھ بھی جائے تو اس کی واپسی پر اس کی جگہ چھوڑ دی جائے تا کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھ سکے لیکن اگر اس کے واپس نہ آنے کا یقین ہو تو پھر اس کی جگہ پر بیٹھا جا سکتا ہے۔

دوآدمیوں کے درمیان بیٹھنے کی ممانعت

سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ کے حوالے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ

نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير إذنهما: 4844-سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب ما جاء في كراهية الجلوس بين الرجلين بغير إذنهما: 2752)

’’رسول اللہﷺنے اس بات سے منع فرمایاہے کہ کوئی شخص دوآدمیوں کے درمیان بیٹھے، ہاں اگران کی اجازت ہوتوپھرکوئی حرج نہیں ہے۔‘‘

منتہائے مجلس پربیٹھنا

سیدنا جابر فرماتے ہیں کہ

كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ جَلَسْنَا حَيْثُ نَنْتَهِي.(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في التحلق: 4825-سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب منه: 2725)

’’جب ہم رسول اللہﷺکے پاس حاضرہوتے تھے توجہاں ہم آخرمیں ہوتے وہیں بیٹھ جاتے۔‘‘

یعنی آخر میں آ کر آگے بیٹھنے کے لیے لوگوں کے کندھے پھلانگ پھلانگ کر آگے جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ مجلس کے آخر میں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جانا چاہیے تا کہ لوگوں کو بھی تکلیف نہ ہو اور آدابِ مجلس بھی پامال نہ ہوں۔

وسیع وکشادہ مجلس

سیدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في سعة المجلس: 4820- مسند أحمد:3/69-سلسلة الأحاديث الصحيحة:832)

’’بہترین مجلس وہ ہے جوبہت کشادہ اورکھلی ہو۔‘‘

کیونکہ اگر جگہ کی تنگی ہو تو سبھی لوگ تنگ ہوتے رہتے ہیں اور ہر نئے شخص کی آمد پر ساری مجلس کو اِدھر اُدھر ہونا پڑتا ہے، اس لیے پہلے ہی کسی وسیع و کشادہ جگہ کا انتخاب کیا جائے تا کہ بعد میں کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو اور مقصودِ مجلس تمام تر توجہ و انہماک سے حاصل کیا جائے۔

بلاتکلف مجلس میں جگہ پانا

سیدنا ابوواقدلیثی روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَذَهَبَ وَاحِدٌ. قَالَ: فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ قَالَ:

«أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ؟ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللّٰهِ فَأَوَاهُ اللّٰهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللّٰهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللّٰهُ عَنْهُ.»

(صحيح بخارى، كتاب العلم، باب من قعد حيث ينتهي به المجلس، ومن رأى فرجة في الحلقة فجلس فيها:66-صحيح مسلم، كتاب السلام، باب من أتى مجلسا فوجد فرجة فجلس فيها وإلا وراءهم: 2176)

’’رسول اللہﷺمسجدمیں تشریف فرماتھے اور لوگ آپﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمی آئے، دو تو رسول اللہﷺکے پاس آگئے اور ایک چلاگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ

وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس کھڑے ہوگئے، ان میں سے ایک نے تومجلس میں کچھ گنجائش دیکھی تووہ وہاں بیٹھ گیا، اور دوسراان کے پیچھے بیٹھ گیا، جبکہ تیسراواپس چلا گیا۔ جب رسول اللہﷺ فارغ ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا:

’’کیامیں تمہیں تین لوگوں کی بات نہ بتلاؤں؟ ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی طرف جگہ چاہی تواللہ نے اسے جگہ دے دی، دوسرے نے شرم محسوس کی تواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے شرم محسوس کی اور تیسرے نے منہ پھیرلیاتواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے شرم محسوس کی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بیٹھنے کے لیے جگہ نہ دی اور منہ پھیر لینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیسرے شخص کو رسول اللہﷺ کی مجلس میں بیٹھنے کی توفیق ہی نہ دی۔

حلقے بناکربیٹھنے کی کراہیت

سیدنا جابربن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ

دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ وَنَحْنُ حِلَقٌ مُتَفَرِّقُونَ، فَقَالَ:

«مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ.» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ: كَأَنَّهُ يُحِبُّ الْجَمَاعَةَ.

(صحيح مسلم، كتاب الصلاة، باب الأمر بالسكون في الصلاة، والنهي عن الإشارة باليد: 430-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في التحلق: 4823)

’’ہم الگ الگ حلقے لگائے بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہﷺہمارے پاس تشریف لائے توآپﷺ نے فرمایا:میں کیادیکھ رہاہوں کہ تم فرقوں میں بٹے بیٹھے ہو۔ محمدبن فضیل کہتے ہیں کہ

آپﷺنے ایسے فرمایاکہ جیسے آپﷺ جماعت )یعنی ایک جگہ مل کر بیٹھنے(کوپسندفرماتے ہیں۔‘‘

لیکن اگرکسی فائدے اورمقصدکے باعث حلقوں میں بیٹھناناگزیرہوتواس صورت میں ایساکرناجائزہوگا۔

بیٹھنے کی کیفیت

سیدنا جابربن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسْنَاءَ.

(صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب فضل الجلوس في مصلاه بعد الصبح، وفضل المساجد: 670-سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرجل يجلس متربعاً: 4850-سنن ترمذى، أبواب الصلاة، باب ذكر ما يستحب من الجلوس في المسجد بعد صلاة الصبح حتى تطلع الشمس:585)

’’نبیﷺجب فجرکی نمازپڑھ لیتے تھے توسورج خوب طلوع ہوجانے تک اپنی جگہ پرہی چار زانو ہو کر بیٹھے رہاکرتے تھے۔‘‘

سیدنا ابنِ عمر بیان کرتے ہیں کہ

رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ مُحْتَبِيًا بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا.

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب الاحتباء باليد، وهو القرفصاء:6272)

’’میں نے رسول اللہﷺکوکعبے کے صحن میں دونوں رانیں پیٹ سے لگائے، دونوں ہاتھوں سے پنڈلی پکڑے سُرین پربیٹھے دیکھا۔‘‘

سیدہ قیلہ بنت مخرمہ روایت کرتی ہیں کہ

أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ ارْعَوَيْتُ مِنَ الْفَرَقِ.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في جلوس الرجل:4847)

’’انہوں نے رسول اللہﷺکودیکھاکہ آپﷺ دونوں رانوں کو پیٹ سے ملا کر اور دونوں ہاتھوں سے پنڈلیوں پرحلقہ بناکرسرین کے بَل بیٹھے ہوئے تھے، جب میں نے آپﷺکوبیٹھنے کی خشوع والی اس حالت میں دیکھاتومیں خوف کے مارے لرزگئی۔‘‘

یعنی جب انہوں نے دیکھا کہ دو عالم کے تاجدار اور تمام انبیاء کے سردار ہوتے ہوئے بھی اتنی عاجزی اور خشوع کے ساتھ بیٹھے ہیں تو فرماتی ہیں کہ میںاس قدر ورطۂ حیرت میں ڈوب گئی اور آپﷺ کے اس انداز میں بھی ایسی جلالت اور ہیبت نظر آئی کہ میں خوف کے مارے لرز اٹھی۔

بیٹھنے کی ناپسندیدہ کیفیت

سیدنا شریدبن سوید بیان کرتے ہیں کہ

مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا، وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي، فَقَالَ: «أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ؟»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الجلسة المكروهة: 4848)

’’نبیﷺ(میرے پاس سے)گزرے اورمیں اپنے بائیں ہاتھ کواپنی پُشت کے پیچھے کرکے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑاوراس کے نچلے حصے پرٹیک لگا کر بیٹھاہواتھا، توآپﷺنے فرمایا:’’کیاتم ان لوگوں کی طرح بیٹھے ہوئے ہوجن پرغضب کیاگیاہے؟‘‘ہمارے معاشرے میں لوگ اس انداز میں عموماًبیٹھتے ہیں، یعنی ہاتھ کوکمرکے پیچھے زمین پررکھ کراس پہ ٹیک لگاکربیٹھنا، جبکہ مذکورہ حدیث میں اس انداز کو غضبِ الٰہی کانشانہ بننے والے لوگوں کا انداز کہا گیا ہے، لہٰذااس سے احترازکرناچاہیے۔

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ فَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الجلوس بين الظل والشمس:4821-سلسلة الأحاديث الصحيحة: 737)

’’جب تم میں سے کوئی شخص سائے میں بیٹھاہو، پھر اس سے سایہ ہٹ جائے اوروہ کچھ حصہ دھوپ میں ہو جائے اورکچھ سائے میں تواسے(وہاں سے) کھڑے ہوجاناچاہیے۔‘‘

ابوحازم روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّهُ جَاءَ وَالنَّبِيُّ ﷺ يَخْطُبُ فَقَامَ فِي الشَّمْسِ فَأَمَرَ بِهِ فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الجلوس بين الظل والشمس:4822)

’’وہ (مسجدمیں آئے)آئے اورنبیﷺخطبہ ارشاد فرما رہے تھے تووہ دھوپ میں کھڑے ہوگئے، تو آپﷺ نے انہیں حکم فرمایا تو وہ سائے میں آ گئے۔‘‘

آدھادھوپ میں اورآدھا سائے میں بیٹھنایاکھڑے ہوناطبی طورپرانسانی صحت کے لیے ضرررساں ہے، اسی لیے اس سے منع فرمایاگیا۔

ذکرِالٰہی سے خالی مجلس کاگناہ

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللّٰهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ، وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب: 4855- سلسلة الصحيحة:77)

’’جوبھی لوگ کسی ایسی مجلس سے اُٹھتے ہیں جس میں وہ اللہ کاذکرنہ کرتے ہوں تووہ کسی مردارگدھے پرسے اُٹھنے کے مثل ہیں، اوروہ مجلس (روزِقیامت)ان کے لیے حسرت بن جائے گی۔‘‘

یعنی روزِقیامت وہ مجلس ان کے لیے اس طرح وبال بن جائے گی کہ وہ یہ حسرت اورتمناکریں گے کہ کاش ہم نے اس مجلس میں اللہ کاذکرکیاہوتا۔

کفارۂ مجلس کی دعا

سیدنا ابوبرزہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ فَأَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَالَ:«سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ».

قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّكَ تَقُولُ كَلَامًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا خَلَا، قَالَ: «هٰذَا كَفَّارَةُ مَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ.»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في كفارة المجلس:4859)

’’رسول اللہﷺجب کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے اور پھر اُٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے:

«سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»

’’اے اللہ!تواپنی تعریف کے ساتھ بہت پاک ہے، میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ تیرے سواکوئی معبود نہیں ہے، میں تیری بخشش کاطلبگارہوں اور تیری طرف رجوع کرتاہوں۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!آپﷺ یہ جو کلمات کہتے ہیں انہیں آپﷺ تنہائی میں نہیں پڑھتے (اس کی کیا وجہ ہے؟ (تو آپﷺ نے فرمایا:

’’یہ(دعا) مجلس میں ہونے والی باتوں کاکفارہ ہے۔‘‘

یعنی مجلس میں بیٹھنے کے دوران سبقتِ لسانی سے جو باتیں ہو جاتی ہیں مجلس ختم کرنے کے بعدیہ دعاپڑھنے سے ان خطاؤں کاکفارہ اداہوجاتاہے۔

فطرانہ کس کو دیا جائے؟

فرَض رسولُ الله ﷺ زكاةَ الفِطرِ؛ طُهرةً للصَّائِمِ مِنَ اللَّغوِ والرَّفَثِ، وطُعمةً للمَساكينِ. (سنن ابوداؤد:1609؛ صحيح الجامع:3570)

’’اللہ کے رسول ﷺ نے زكاة الفطر کو مشروع قرار دیا ہے، تاکہ روزہ دار کی کمی کوتاہی کا ازالہ ہوجائے، اور مساکین کے لیے کھانے پینے کا بندوبست ہو جائے۔‘‘

اس حدیث میں صراحت کے ساتھ فطرانہ کا مصرف بھی بیان کردیا گیا ہے، اور وہ ہیں فقراء و مساکین، لہٰذا صدقۃ الفطر انہیں ہی دینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مصارفِ زکاۃ میں اسے استعمال کرنا جائز نہیں۔

لہٰذا بہتر یہ ہے کہ فطرانہ براہ راست مساکین کو دیا جائے، لیکن اگر اس سلسلے میں مشکل ہو، تو پھر جو ادارے اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں، ان کے توسط سے بھی صدقۃ الفطر ادا کیا جاسکتا ہے۔

٭٭٭

الحاد کو صرف انکار خدا تک محدود رکھنا بھی لا علمی کی نشانی اور اس کا ناقص تصور ہے۔

مبادی اسلام اور ضروریات دین میں سے کسی شے کا انکار یا اس میں تشکیک بھی الحاد ہی ہے۔

اور ایسے مفکرین جن کی کتب اور لٹریچر میں انکار حدیث، توہین صحابہ، صفات باری تعالی میں تحریف اور نصوص شریعت کی خود ساختہ تعبیر وتشریح پائی جاتی ہو۔

ان کے لٹریچر بالخصوص فہم قرآن کے لیے ان کی تفسیر کا ڈھنڈورا پیٹنا اور عوام کو پڑھنے کی ترغیب دینا انہیں الحادی جراثیم سے آلودہ کرنے کی مذموم کوشش اور ان کے عقیدہ وعمل کو خطرے سے دوچار کرنے کی دعوت ہے۔

تبصرہ کریں