زندگی ایسے گزاریں (قسط 22)۔مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

تین باراجازت طلبى

سیدنا ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ

كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَأَتَى أَبُو مُوسٰى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا حَتَّى وَقَفَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللّٰهَ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ يَقُولُ:«الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ؟» قَالَ أُبَيٌّ: وَمَاذَا بِكَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ:قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغُلٍ، فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ:فَوَاللّٰهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ، أَوْ لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هٰذَا. قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: فَوَاللّٰهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا، قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَقُمْتُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهﷺ يَقُولُ هٰذَا

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب التسليم والاستئذان ثلاثاً: 6245-صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب الاستئذان: 2153)

’’ہم سیدنا اُبَی بن کعب کی مجلس میں شریک تھے کہ سیدنا ابوموسٰی اشعری غصے کی حالت میں آئے اور (ہمارے پاس آ کر )کھڑے ہوگئے اور بولے: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا ہے کہ تین مرتبہ اجازت لی جائے اور اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ہے وگرنہ واپس چلاجائے؟ سیدنا اُبَی نے پوچھا: ہوا کیاہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے کل سیدنا عمر بن خطاب سے(ان کے پاس حاضرہونے کی) تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی، سو میں واپس چلا آیا۔ پھرآج میں ان کے پاس گیا اور انہیں بتلایا کہ میں کل بھی آیا تھا اور تین مرتبہ سلام کہا (یعنی اندر آنے کی اجازت مانگی، لیکن اجازت نہیں ملی)تومیں واپس چلا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تمہارا سلام سنا تو تھا لیکن ہم اس وقت کسی کام میں مشغول تھے، تو تم تب تک اجازت کیوں نہ مانگتے رہے جب تک کہ تمہیں اجازت دے نہ دی جاتی؟ میں نے کہا: میں نے تو اسی طریقے کے مطابق اجازت مانگی تھی جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا۔ انہوں نے کہا: قسم بخدا!یا تو تُو اپنی اس بات پرکوئی گواہ لے کرآ، یا پھر میں تیری پُشت اور پیٹ کو ضرور تکلیف سے دوچار کروں گا (یعنی تمہیں سزا دوں گا)، سیدنا اُبَی بن کعب نے (یہ سُن کر)فرمایا:

اللہ کی قسم!تیرے ساتھ (گواہی کے لیے) ہم میں سب سے کم عمر کھڑا ہو گا، اے ابوسعید!اُٹھو۔ چنانچہ میں اُٹھا اور سیدنا عمر کے پاس جا کر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے سناہے۔‘‘

بہ وقتِ اجازت ’میں‘ کہنے کی کراہیت

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ

أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ فِي دَيْنٍ عَلَى أَبِي، فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ:

«مَنْ ذَا؟.» فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: «أَنَا أَنَا.» مَرَّتَيْنِ، كَأَنَّهُ كَرِهَهُ

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب إذا قال: من ذا؟ فقال: أنا: 6250- صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب كراهة قول المستأذن أنا، إذا قيل من هذا:2155)

’’میں اپنے باپ پرقرض کے مسئلے میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپﷺنے فرمایا: کون ہے؟ تومیں نے کہا:میں، آپﷺنے فرمایا:میں، میں۔ گویاکہ آپﷺ نے اس انداز کو ناپسند فرمایا۔‘‘

یعنی اگرصاحبِ خانہ آنے والے سے اس کانام پوچھے تو اسے اپنا نام ہی بتانا چاہیے نہ کہ یوں کہنا چاہیے کہ ’’میں ہوں‘‘ نبیﷺ نے ایسا کہنے کو ناپسند فرمایا ہے۔

مجلس میں شرکت وبرخاستگی کے وقت سلام

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَجْلِسَ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنْ قَامَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِنَّ الْأُولَى لَيْسَتْ بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب: 5208-سنن ترمذى: 2706)

’’جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تواسے سلام کہناچاہیے، سواگروہ کھڑاہواورلوگ بیٹھے ہوں تواسے ہی سلام کہناچاہیے، کیونکہ پہلادوسرے کی نسبت زیادہ حق نہیں رکھتا۔‘‘

لمحہ بھرکی مفارقت کے بعدبھی سلام

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپﷺکوفرماتے سنا:

«مَنْ لَقِيَ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ حَائِطٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في الرجل يفارق الرجل…:5200)

’’جو اپنے (مسلمان) بھائی کو ملے تو اسے سلام کہنا چاہیے، اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور جب وہ اس سے ملے تو اسے پھر سلام کہنا چاہیے۔‘‘

سلام کیسے کہناچاہیے؟

سیدنا عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ

كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ وَقَالَ: «عَشَرَةٌ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ، فَرَدَّ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ:

«عِشْرُونَ». ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ: «ثَلَاثُونَ»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب: 5195- سنن ترمذى، أبواب الإستئذان، باب ما ذكر في فضل السلام: 2689 -عمل اليوم واليلة للنسائى:118)

’’ہم نبیﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا، تورسول اللہﷺ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا: ’’اس نے (10 نیکیاں) حاصل کیں۔‘‘ پھر دوسرا آیا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ کہا تو نبیﷺ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا: ’’ اس نے (20نیکیاں)حاصل کیں۔‘‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ کہا، تو آپﷺنے اس کا بھی جواب دیا اور فرمایا: ’’اس نے( 30 نیکیاں)حاصل کیں۔‘‘

سلام میں ایک کاعمل پوری جماعت سے کفایت

سیدناعلی بن ابی طالب مرفوعاًروایت کرتے ہیں:

«يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ، إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ، وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في رد الواحد عن الجماعة: 5210-سلسلة الأحاديث الصحيحة:1148)

’’جب کوئی جماعت گزرے اوران میں سے ایک بندہ بھی سلام کردے تواس جماعت کو کفایت کرجائے گا، اور(اسی طرح)مجلس میں سے ایک بھی شخص سلام کا جواب دے دے توان سب کوکفایت کرجائے گا۔‘‘

یعنی اگرزیادہ لوگ ہوں اورانہوں نے کسی کوسلام کہنا ہو یا پھر انہیں کوئی شخص سلام کہہ دے تو پوری جماعت کاسلام کہنا یا سب کا جواب دینا ضروری نہیں ہے بلکہ ان میں سے ایک شخص بھی سلام کہہ دے یا سلام کرنے والے کا جواب دے دے تو تمام کی طرف سے کفایت کرجاتاہے۔

بچوں کوسلام

سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ (صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب التسليم على الصبيان: 6247 -صحيح مسلم، كتاب السلام: 2168)

’’رسول اللہﷺ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کہا۔‘‘

عورتوں کوسلام

سیدہ اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں کہ

مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ ﷺ وَنَحْنُ نِسْوَةٌ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في السلام على النساء: 5204- سنن ترمذى، أبواب الإستئذان، باب ما جاء في التسليم على النساء:2697)

’’نبیﷺہم عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپﷺ نے ہمیں سلام کہا۔‘‘

امام بیہقی﷫ فرماتے ہیں کہ اس پر وہی شخص عمل کر سکتا ہے جسے عورتوں کے فتنے سے محفوظ رہنے میں اپنے آپ پر اعتماد ہو، یا پھر ان عورتوں کو سلام کہا جا سکتا ہے جن کی شادی کی عمر گزر چکی ہو، لیکن اگرکسی کو عورتوں کے فتنے سے محفوظ رہنا ممکن نظرنہ آتا ہو یا جسے وہ سلام کرناچاہے وہ نوجوان عورت ہوتوایسی صورت میں سلام نہیں کرناچاہیے۔

ذِمی لوگوں کوسلام اوران کے سلام کاجواب

سیدنا سہیل بن ابی صالح بیان کرتے ہیں کہ

خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى، فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ أَبِي: لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا، عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ قَالَ:

«لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلٰى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ.»

(صحيح مسلم، كتاب السلام، باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب بالسلام وكيف يرد عليهم: 2167- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب: 5205- سنن ترمذى، أبواب الإستئذان: 2700)

’’میں اپنے باپ کے ساتھ شام کی طرف گیا تو لوگ عیسائیوں کی عبادت گاہوں کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں سلام کہتے تھے، تو میرے والدنے کہا:تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو، کیونکہ ہمیں سیدنا ابوہریرہ نے رسول اللہﷺسے یہ حدیث روایت کرتے ہوئے بیان کی ہے کہ آپﷺنے فرمایا:تم انہیں سلام میں پہل مت کرو اور جب راستے میں تمہارا ان سے سامناہوجائے تو انہیں تنگ ترین راستے کی طرف مجبورکردو۔‘‘

اس روایت میں دو چیزیں بیان ہوئی ہیں: ایک یہ کہ غیر مسلم لوگوں کو سلام کرنے میں پہل نہیں کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اگر راستے میں کہیں ان کا سامنا ہو جائے تو ان کے گزرنے کے لیے راستہ تنگ کر دیا جائے۔ یہ حکم اس لیے ہے تا کہ انہیں اپنی کمتری اور مسلمانوں کے غلبے کا احساس ہو سکے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ» (صحيح بخارى: 6257-صحيح مسلم: 2164)

’’یقیناًجب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تووہ اَلسَّامُ عَلَيْكُمْ (یعنی تم پرموت آئے)کہتے ہیں، سوتم انہیں وَعَلَيْكُمْ (اورتم پربھی)کہہ کرجواب دے دیاکرو۔‘‘

وَعَلَيْکُمْ کہنے میں حکمت یہ ہے کہ جیسا اس نے کہا ہو گا ویسا ہی اسے جواب مل جائے گا۔ یعنی اگر تو اس نے واقعی سلامتی کی دعا دی ہو گی تو جواباً اسے بھی سلامتی کی دعا مل جائے گی اور اگر اس نے سلام کے دھوکے میں سام یعنی موت کی بدعا دی ہو گی تو جواباً اسے بھی ویسے ہی بددعا مل جائے گی۔

ام المومنین سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ

دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ فَقَالُوا:

السَّامُ عَلَيْكَ قَالَتْ: فَفَهِمْتُهَا، قُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ:

«مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، فَإِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ». فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَوَ لَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَتْ:

فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ.»

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب كيف يرد على أهل الذمة السلام: 6256-صحيح مسلم، كتاب السلام:2165)

’’چند یہودی رسول اللہﷺکے پاس آئے اور انہوں نے اَلسَّامُ عَلَيْكَ (یعنی تم پرموت آئے) کہا، توہم سمجھ گئے۔ چنانچہ میں نے جواباً عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ (یعنی تم پرموت آئے اورلعنت ہو) کہہ دیا۔ تورسول اللہﷺنے فرمایا: عائشہ! چھوڑو (ایسے نہ کہو)، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرمعاملے میں نرمی کوپسندفرماتاہے۔ میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!کیاآپﷺ نے نہیں سناجوانہوں نے کہا ہے؟ تو رسول اللہﷺنے فرمایا:میں نے وَعَلَيْكُمْ کہہ کرجواب دے دیاہے۔‘‘

غیرمسلموں کے سلام کے جواب میں وَعَلَيكُم کہنے کی حکمت یہ ہے کہ اگرتوانہوں نے سلام ہی کہا ہو گا تو انہیں ان کے سلام کاجواب مل جائے گالیکن اگر انہوں نے سلامتی کی دعا کے بجائے موت کی بد دعا دی ہوتوانہیں بھی وہی جواب مل جائے گا۔

سیدنا عبد اللہ ابن عباس روایت کرتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ كَتَبَ إِلٰى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ «سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى»(صحيح بخارى، كتاب بدء الوحي، باب بدء الوحي: 7)

’’رسول اللہﷺنے شاہِ رُوم ہرقل کے نام یہ پیغام لکھا کہ ہر اس شخص پرسلامتی ہو جو بھی ہدایت کی پیروی کرے۔‘‘

شاہِ رُوم جوکہ نصرانی تھا، نبیﷺنے اسے بھی سلام نہیں لکھابلکہ سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى لکھا، مرادیہ تھاکہ اگرتم ہدایت کی پروی کروگے توتم پرسلامتی ہوگی۔

٭٭٭

حقیقتِ توحید

امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں :

إنَّ حَقِيقَةَ التَّوْحِيدِ أَنْ نَعْبُدَ اللّٰـهَ وَحْدَهُ، فَلاَ يُدْعَى إلاَّ هُوَ، وَلاَ يُخْشَى إِلاَّ هُوَ، وَلاَ يُتَّقَى إِلاَّ هُوَ، وَلاَ يُتَوَكَّل إِلاَّ عَلَيْهِ، وَلاَ يَكُونُ الدِّينُ إِلاَّ لَهُ، لاَ لأحَدٍ مِنَ الخَلْقِ، ‏وَأَلاَّ نتَّخِذَ المَلاَئِكَةَ وَالنَبيِّين أَرْبَابًا، فَكَيْفَ باِلأئمَّةِ، وَالشُّيُوخِ، والعُلَمَاءِ، وَالمُلُوكِ، وَغَيْرِهِم

’’توحید کی حقیقت یہ ہے کہ

ہم صرف اکیلے االلّٰہ ہی کی عبادت کریں۔محض اسی کو پکارا جائے، اسی سے ڈرا جائے، اسی کا خوف رکھا جائے، صرف اسی پر توکل کیا جائے، اطاعت ہو تو صرف اسی کی، نہ کہ مخلوق میں سے کسی کی۔ توحید کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہم فرشتوں اور نبیوں کو رب نہ بنائیں، ائمہ، مشایخ، علما اور بادشاہوں کا تو ذکر ہی کیا!۔‘‘

( منہاج السنۃ النبویۃ: 3؍490)

٭٭٭

تبصرہ کریں