زندگی ایسے گزاریں (قسط 20)۔ مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

مسلمان بھائی سے ملاقات کی فضیلت

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرٰى فَأَرْصَدَ اللّٰهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ، فَقَالَ: هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُدُّهَا؟ قَالَ: لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللّٰهِ قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللّٰهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ لَهُ» (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب في فضل الحب في الله: 2567 -مسند أحمد: 2/292)

’’ایک آدمی کسی دوسری بستی میں اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملنے جا رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ بٹھا دیا، جب وہ اس فرشتے کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا:کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ اس آدمی نے جواب دیا:میں اس بستی میں اپنے ایک بھائی کو ملنے کے ارادے سے جا رہا ہوں، فرشتے نے کہا: کیا تیرے ذمے اس کی کوئی چیز ہے جسے تُو لوٹانے جا رہا ہے؟اس نے جواب دیا:نہیں، میں توصرف اس سے اللہ کی رضاکی خاطرمحبت کرتاہوں(اوراسی وجہ سے ملنے جا رہا ہوں)، تو اس فرشتے نے کہا:میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں (تاکہ تجھے بتلاؤں)کہ اللہ عزوجل بھی تجھ سے اسی طرح محبت رکھتاہے جیسے تُو اس کی رضاکی خاطر اپنے مسلمان بھائی سے محبت رکھتاہے۔‘‘

سيدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهُ فِي اللّٰهِ، قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَبُوِّئْتَ مَنْزِلًا فِي الْجَنَّةِ» (سنن ترمذى، أبواب البروالصلة، باب ما جاء في زيارة الإخوان: 2008 -سنن ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ما جاء في ثواب من عاد مريضاً: 1443)

’’جب کوئی آدمی فقط رضائے الٰہی کی خاطر اپنے (مسلمان) بھائی کی عیادت یا اس کی زیارت کرتاہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے:تُوبہت اچھاہے، (اس نیک کام کےلیے)تیرا چلنا بھی اچھا ہے اور تُو نے جنّت میں اپنا گھر تیار کر لیا ہے۔‘‘

مسلمان کے مسلمان پرحقوق

سيدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ»، قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتْبَعْهُ.»

(صحيح بخارى، كتاب الجنائز، باب الأمر باتباع الجنائز: 1240- صحيح مسلم، كتاب السلام، باب من حق المسلم للمسلم رد السلام: 2162)

’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں: پوچھاگیا:اے اللہ کے رسول!وہ کونسے حقوق ہیں؟ آپﷺنے فرمایا:جب تُو اسے مِلے تو اسے سلام کہہ، جب وہ تیری دعوت کرے تو قبول کر، جب وہ تجھ سے خیر خواہی کا طلب گار ہو تو اس سے خیرخواہی کر، جب وہ چھینک مارے) اور الحمدلله کہے) تو) يرحمك الله کہہ کر(اس کا جواب دے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کر اورجب وہ فوت ہو جائے تواس کے جنازے میں شریک ہو۔‘‘

خیر خواہی کے طلب گار سے خیر خواہی کرنے کا مطلب ہے کہ جب اسے کسی معاملے میں مشورہ درکار ہو تو اسے اچھا اور مفید مشورہ دینا، یا اسے کسی مشکل وقت میں اس کی ضرورت ہو تو اس کے کام آنا، یا اس میں کوئی تعبدی امور کی کوتاہی یا اخلاقی برائی پائی جاتی ہو تو اس کی اصلاح کے لیے اسے سمجھانا اور نصیحت کرنا، غرضیکہ وہ تمام امور خیر خواہی میں شامل ہیں جن سے دوسرے مسلمان کا بھلا ہوتا ہے۔

سیدنا براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ

أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ بِسَبْعٍ: أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ، وَالْقَسِّيِّ، وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ.

(صحيح بخارى، كتاب الجنائز، باب الأمر باتباع الجنائز: 1239- صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة على الرجال والنساء:2066)

’’رسول اللہﷺنے ہمیں سات کام کرنے کا حکم فرمایا: مریض کی عیادت، جنازے میں شرکت، چھینک کا جواب، سلام کا جواب، دعوت قبول کرنے، قسم پوری کرنے اورمظلوم کی مددکرنے کا اورسات کاموں سے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی، ریشم، استبرق، دیباج، سُرخ چوغہ اورقسی پہننے اورچاندی کے برتن استعمال کرنے سے۔‘‘

’حریر‘ عام ریشم کوکہتے ہیں اوریہ کُلی طورپرہرریشمی کپڑے پربھی بولاجاتاہے، باقی سب بھی ریشم کی ہی قسمیں ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ’استبرق‘ بہت نفیس اورموٹاریشم ہوتاہے اور’دیباج‘ خالص ریشمی کپڑے کوکہتے ہیں یعنی جس کاتاناباناہی ریشم کاہوتاہے اور ’قسی‘ شام ومصرمیں تیارہوکرآنے والے ریشمی ملبوسات پربولاجاتاتھا۔

سيدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ»

(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون، وأن محبة المؤمنين من الإيمان: 54- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في إفشاء السلام: 5193- سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب منه: 5193- سنن ابن ماجه، المقدمة: 68)

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنّت میں تب تک نہیں جاسکتے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ اورتب تک تم ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایساعمل نہ بتلاؤں کہ جسے کرنے سے تم باہم محبت کرنے لگوگے؟ آپس میں سلام کوپھیلاؤ۔‘‘

گویا سلام کوعام کرنادخولِ جنّت کاباعث ہے۔

سیدنا ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ»

(صحيح بخارى، كتاب الجهادوالسير، باب فكاك الأسير: 3046-سنن أبوداؤد، كتاب الجنائز، باب الدعاء للمريض بالشفاء عند العيادة: 3105)

’’بھُوکے کوکھاناکھلاؤ، بیمارکی تیمارداری کرواورقیدی کو آزاد کراؤ۔‘‘

سیدنا ابوسعیدخدری سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ»، قَالُوا: يَارَسُولَ اللّٰهِ! مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ.» قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟ قَالَ: «غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ»

(صحيح بخارى، كتاب الإستئذان، باب بدء السلام: 6229- صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة، باب النهي عن الجلوس في الطرقات وإعطاء الطريق حقه:2121)

’’راستوں پربیٹھنے سے اجتناب کرو۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!بعض مجلسیں )راستے میں (لگاناہمارے لیے ضروری ہوجاتاہے جن میں (آپس میں) باتیں کرتے ہیں۔ تورسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم مجلس لگانے پہ مُصِرہی ہوتوپھرراستے کواس کا حق دیاکرو۔ لوگوں نے پوچھا:راستے کاکیاحق ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:نظریں جھُکائے رکھنا، تکلیف دہ چیز ہٹانا، سلام کاجواب دینا، نیکی کاحکم دینااوربرائی سے منع کرنا۔‘‘

سیدنا تمیم داری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

«إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ»، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَرَسُولِهِ، وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ». أَوْ قَالَ«وَأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ.»

(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان أن الدين النصيحة: 55- سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في النصيحة: 4944)

’’یقیناًدِین خیرخواہی کانام ہے، بلاشبہ دِین خیرخواہی ہے، بے شک دِین سراسرخیرخواہی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!کس کے لیے؟ آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور اس مسلمانوں کے ائمہ کے لیے۔ یافرمایا:مسلمانوں کے ائمہ اوران کے عام لوگوں کے لیے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ بندہ اس کی وحدانیت کااقرار کرتے ہوئے اس کی بندگی کو بجا لائے، رسول اللہﷺ کے لیے خیرخواہی کامطلب یہ ہے کہ آپﷺ کی نبوت پر کامل ایمان و یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ آپﷺ کے احکام و فرامین کو بلا تاویل و توجیہہ کے قبول کیا جائے، کتاب اللہ کے لیے خیر خواہی سے مراد اس کی تلاوت اور اس میں مذکور احکاماتِ الٰہیہ کو پہلے اپنی نجی زندگی اور پھر پورے معاشرے پر نافذ کرنا، مسلمانوں کے ائمہ یعنی امراء و سلاطین کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ بھلائی اور اچھائی کے کاموں میں ان کی معاونت کرے اور برائی کے کاموں میں ان کی اصلاح کرے اور عام لوگوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، ہر مسلمان کے حقوق کی ادائیگی کرے، کسی کی عزت کو داغدار نہ کرے، ہر شخص کو اس کے مقام و مرتبہ کے مطابق اسی قدر زیادہ عزت د ے، حسبِ استطاعت اپنے ضرورت مند بھائی کی مدد کرے، جتنا ہو سکے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے، غرضیکہ اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے بارے میں اخلاقیات کے تمام تر اوصافِ حمیدہ کو ملحوظ رکھے۔

زیادبن علاقہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے جریر بن عبداللہ کوفرماتے سناکہ

بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.

(صحيح بخارى، كتاب الإيمان، باب قول النبي ﷺ: «الدين النصيحة: لله ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم»: 57- صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان أن الدين النصيحة: 56)

’’میں نے نبیﷺسے ہرمسلمان کی خیرخواہی پربیعت کی۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ»(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في المشورة: 5128- سنن ترمذى، أبواب الأدب، باب أن المستشار مؤتمن: 2822-سنن ابن ماجه، كتاب الأدب: 3745- سلسلة الأحاديث الصحيحة:1641)

’’جس سے مشورہ مانگاجائے وہ امانت دارہوتاہے۔‘‘

جس طرح ایک امین شخص لوگوں کی امانتوں کی حفاظت کرتاہے اسی طرح وہ شخص کہ جس سے مشورہ لیاجائے امین کے حکم میں ہوتاہے یعنی مشورہ لینے والے کی بات اس کے پاس امانت ہوتی ہے اوراس پراس امانت کی حفاظت واجب ہے، مشورے کی حفاظت سے مرادکسی اورکواس بات کی خبرنہ ہونے دیناہے۔

سیدنا ابوبرزہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ! عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ: «اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ»

(صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب النهي عن الإشارة بالسلاح إلى مسلم: 2618- سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب إماطة الأذى عن الطريق:3681)

’’اے اللہ کے رسول!مجھے ایسی بات سکھلادیجیے جس سے میں فائدہ اُٹھاؤں؟ آپﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے (گزرنے کے)راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹادیاکر۔‘‘

فائدہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کی محبت کے حصول کی صورت میں فائدہ مل سکے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کی صورت میں۔

سیدنا ابوہریرہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ تُؤْذِي النَّاسَ.» وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ فَقَالَ: «وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَذَهُ فَشَكَرَ اللّٰهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ» (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب بيان الشهداء:1914)

’’میں نے جنّت میں ایک آدمی کوٹہلتے گھُومتے دیکھا (جس نے عمل یہ کیاتھاکہ)سرِراہ لگے ہوئے ایک ایسے درخت کوکاٹاتھاجولوگوں کوتکلیف دیتاتھا۔ اور ابوصالح کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس نے راست میں ایک کانٹے دارٹہنی پڑی دیکھی تواسے اُٹھا دیا، اللہ تعالیٰ نے اس (کے اس عمل)کی قدرکی اور اسے معاف فرمادیا۔‘‘

یعنی راستے میں ایک ایسا درخت لگا ہوا تھا(اور ایک روایت کے مطابق کانٹے دار ٹہنی پڑی ہوئی تھی) جس سے گزرنے والے تنگ ہوتے تھے، اس شخص نے وہ درخت اکھاڑ پھینکا (یا وہ ٹہنی اٹھا کر راستے سے ہٹا دی) تا کہ لوگوں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کے بدلے میں اسے جنت عطا فرما دی۔

٭٭٭

حاسد شخص

شیخ محمد امان الجامی ﷫ فرماتے ہیں:

”حاسد شخص گھٹن کا شکار رہتا ہے۔ اس کی لڑائی بندوں سے پہلے اللہ سے ہوتی ہے، کیونکہ وہ لسانِ حال سے اللہ پر معترض ہوتا ہے کہ اس نے فلاں کو مال، جاہ، علم یا منصب کیوں دے دیا۔ تو ایسے شخص کا سینہ کیسے کشادہ ہو جو رب پر معترض اور اس کی تقسیم سے ناخوش ہے ؟!“

٭٭٭

ہر حال میں صبر و رضا کا دامن تھامے رکھو

بعض سلف نے کہا: اللہ تعالیٰ جو بھی معاملہ آپ سے فرما رہا ہے اس پہ ہر پل راضی رہیں؛ کیونکہ اگر اس نے تمہیں کسی چیز سے روکا ہے تو کچھ دینے کے لئے، اور اگر بیمار کیا ہے تو شفایاب کرنے کے لئے، مبتلا کیا ہے تو عافیت دینے کے لئے، اگر فوت کریگا تو (ایک نئی) زندگی دینے کے لئے_

خبردار! ایک لمحے کے لئے بھی صبر و رضا کا دامن چھوڑا تو، ورنہ اپنے خالق کی نظر سے گر جاؤ گے۔

(مدارج السالكين : 2؍216)

تبصرہ کریں