زندگی ایسے گزاریں (قسط 19)-مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

حُسنِ معاشرت

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ

كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّيْءُ لَمْ يَقُلْ: مَا بَالُ فُلَانٍ يَقُولُ، وَلَكِنْ يَقُولُ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا.» (سنن أبوداؤد، كتاب الأدب: 4788)

’’نبی کریمﷺ کو جب کسی آدمی کے بارے میں کسی بات کا پتہ چلتا تو آپﷺ (اس کا نام لے کر)نہیں کہتے تھے کہ فلاں شخص کو کیا ہو گیا ہے؟ بلکہ آپﷺ یوں فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس طرح اس طرح کہتے پھرتے ہیں۔‘‘

چونکہ تمام لوگوں کے بیچ اگر کسی کو مخاطب کر کے یا اس کا نام لے کر اس کی غلطی کی نشاندہی کی جائے تو اس سے اس شخص کی بے عزتی ہوتی ہے اور تمام لوگوں کی نظروں کا نشانہ بننے کی وجہ سے اسے نہایت شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے، اس لیے آپﷺ کسی کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ عمومی انداز میں سب کو مخا طب کر کے فرما دیا کرتے تھے کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسے ایسے کہتے یا کرتے ہیں؟ اس عمدہ انداز سے وہ شخص جس کی اصلاح مقصود ہوتی تھی، از خود سمجھ جاتا تھا کہ یہ میرے بارے میں کہا جا رہا ہے، یوں اس کی عزت پر بھی حرف نہیں آتا تھااور اس کی اصلاح بھی ہو جاتی تھی۔

سیدہ عائشہ ہی بیان کرتی ہیں کہ

أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ»، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! قُلْتَ: «بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ.» فَلَمَّا دَخَلَ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ؟ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَ

نْ وَدَعَهُ أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ»

(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب ما يجوز من …: 6054 -صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب مداراة من يتقى فحشه: 2591)

’’ایک آدمی نے نبیﷺ سے (اندر آنے کی)اجازت مانگی تو آپﷺ نے فرمایا:

’’اسے اجازت دے دو (یہ اپنے) خاندان کا بہت برا آدمی ہے۔ جب وہ اندر آیا تو آپﷺ نے اس سے نرم لہجے میں بات چیت کی، پھر جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے کہا:اے اللہ کے رسول!آپﷺ نے تو اسے خاندان کا بُرا آدمی کہا تھا، پھر جب وہ اندر آیا تو آپﷺ نے بہت نرم لہجے میں اس سے بات چیت کی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! بلاشائبہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام ومرتبے کے لحاظ سے تمام لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہو گا جس کی بدزبانی کی وجہ سے لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہو۔‘‘

یعنی آپﷺ نے اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اس کو اندر آنے سے منع نہیں کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ ایسا شخص بدترین ہوتا ہے کہ جس کی بدزبانی سے ڈرتے ہوئے لوگ اسے چھوڑ دیں۔

سیدنا ابنِ عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُعَاشِرُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَفْضَلُ مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُعَاشِرُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ»(سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة: 2507 -سنن ابن ماجه، كتاب الفتن، باب الصبر على البلاء: 4032)

’’وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ رہ کر زندگی گزارتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے، یہ اس مؤمن سے افضل ہے جو نہ تو لوگوں کے ساتھ رہ کر زندگی گزارتا ہے اورنہ ہی ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔‘‘

رضائے الٰہی کی خاطرباہم محبت

سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ». فَذَكَرَهُمْ وَذَكَرَ مِنْهُمْ: «رَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰهِ، اجْتَمَعَا عَلَى ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا.»

(صحيح بخارى، كتاب الأذان، باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة وفضل المساجد: 660 -صحيح مسلم، كتاب الزكاة: 1031)

’’سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دِن اپنے سائے میں جگہ دے گا کہ جس دِن اس کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ ہی نہیں ہو گا۔ پھر آپﷺ نے ان سات لوگوں کا ذکر کیا اور ان میں ان دو آدمیوں کا بھی ذکر کیا جو فقط اللہ تعالیٰ کی خاطرایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، اسی بنیاد پر اکٹھے اور جدا ہوتے ہیں۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي»(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب في فضل الحب في الله: 2566)

’’یقیناً اللہ تعالیٰ روزِ قیامت فرمائے گا: میرے جلال وعظمت کی خاطر باہم محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج کہ جس دِن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے، میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دیتا ہوں۔‘‘

سیدنا ابو ادریس علوی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبادہ بن صامت کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:«لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللهُ تَعَالٰی: حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَصَافِينَ فِيَّ» (مسند أحمد: 5/229 – مستدرك حاكم: 4/170)

’’میں آج تمہیں صرف وہی بات سناؤں گا جو میں نے محمدﷺ کی زبان سے سنی ہے: (وہ یہ ہے کہ)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری خاطر باہم محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو چکی ہے، میری وجہ سے ایک دوسرے سے جُڑنے والوں کے لیے میری محبت مستحکم ہو گئی ہے اور میری رضا کے لیے آپس میں خاص تعلق رکھنے والوں کے لیے میری محبت مضبوط ہو چکی ہے۔‘‘

سیدنا انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا تَحَابَّ اثْنَانِ فِي اللّٰهِ إِلَّا كَانَ أَفْضَلُهُمَا أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ»

(مستدرك حاكم: 4/170 -صحيح ابن حبان: 2509-سلسلة الأحاديث الصحيحة:540)

’’جو بھی دوشخص آپس میں رضائے الٰہی کی خاطرمحبت رکھتے ہیں، ان میں سے افضل وہ ہے جو اپنے ساتھی سے اس کی نسبت زیادہ محبت کرتاہے۔‘‘

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَحَتَّى يَكُونَ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللّٰهُ مِنْهُ، وَحَتَّى يَكُونَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا» (صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب الحب في الله: 6041- صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان خصال …: 43)

’’تم میں سے کوئی بھی شخص تب تک ایمان کی مٹھاس نہیں پا سکتا جب تک کہ وہ(ان امور کو نہ اپنالے کہ) وہ جس آدمی سے محبت کرتا ہو اس سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت رکھے اور اسے (کفراورجہنّم)سے بچا لینے کے بعد اسے کافر ہو جانا اسی طرح ناپسند ہو جس طرح کہ اسے آگ میں ڈال دیا جانا ناپسند ہو اور اسے اللہ ورسول کے ساتھ ان کے علاوہ تمام لوگوں اور تمام چیزوں سے بڑھ کرمحبت ہو۔‘‘

سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«يَا عَبْدَ اللّٰهِ! أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «الْوِلَايَةُ فِي اللّٰهِ، الْحُبُّ فِي اللّٰهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ»

(السنن الكبرى للبيهقى: 10/223-المعجم الكبير للطبرانى: 10/212)

’’اے عبداللہ! اسلام کا کونسا کڑا زیادہ مضبوط ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی، اللہ کی خاطر محبّت اور اسی کی خاطر بُغض رکھنا۔‘‘

سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کہا:

إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فِي اللّٰهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «أَفَأَخْبَرْتَهُ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «فَأَخْبِرْه.» قَالَ: فَلَقِيَهُ بَعْدُ، فَقَالَ: وَاللّٰهِ إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللّٰهِ قَالَ: فَأَحَبَّكَ الَّذِي لَهُ أَحْبَبْتَنِي.

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب إخبار الرجل الرجل بمحبته إياه: 5125)

’’میں فلاں شخص سے فقط رضائے الٰہی کی خاطرمحبت رکھتا ہوں۔ تو نبیﷺ نے فرمایا: کیاتم نے اسے بتلایا ہے؟ اس نے کہا:نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اسے بتاؤ (کہ تم اس سے محبت کرتے ہو)۔ راوی کہتے ہیں کہ بعدمیں وہ آدمی اس سے ملا اور اسے کہاکہ اللہ کی قسم!میں تم سے اللہ تعالیٰ کی خاطرمحبت کرتا ہوں۔ تو اس نے جواب میں کہا:تجھ سے وہ محبت کرے جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔‘‘

چنانچہ آدمی کو جس سے اللہ کی رضا کی خاطر محبت ہو اسے بتلا دینا چاہیے تا کہ اس نیکی میں وہ بھی شریک ہو جائے۔ دوسرا یہ کہ جسے بتلایا جائے اسے جواباً دعا دینی چاہیے اور محبت کا جواب محبت سے دینا چاہیے۔

سیدنا ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللّٰهِ! الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»(صحيح بخارى، كتاب الأدب، باب علامة حب الله: 6170 -صحيح مسلم، كتاب البر والصلة: 2640)

’’اے اللہ کے رسول!ایک آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے مل نہیں سکا؟ ت ورسول اللہﷺ نے فرمایا:آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتاہے۔‘‘

لہٰذا اس معاملے میں انسان کواحتیاط کرنی چاہیے کہ وہ کس سے محبت رکھتاہے؟ کیونکہ ایسا نہ ہو کہ اس کی محبت کسی ایسے شخص سے ہو جو فاسق وفاجر اور اللہ کا پیارا نہ ہو تو وہ روزِ قیامت اسی کے ساتھ ہو، بلکہ اس چیز کا اہتمام کرنا چاہیے کہ اس کی محبوب شخصیت اللہ تعالیٰ کی محبوب شخصیت ہی ہو یعنی نیکو کار اور برگزیدہ لوگوں سے وہ محبت رکھے تاکہ کل قیامت کے دِن ان کے ساتھ ہی جنت کاداخلہ پا سکے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں