زندگی ایسے گزاریں (قسط 11)- مترجم: حافظ فیض اللہ ناصر

لوگوں کی باہم صلح کرانے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ﴾(سورۃ النساء: 114)

’’ان کی اکثرخفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیرنہیں ہوتی، ہاں!بھلائی اس کے مشورے میں ہے جوخیرات کی، یانیک کام کی، یالوگوں میں صلح کرانے کی بات کرے۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ﴾(سورۃ الحجرات: 10)

’’یقیناًتمام اہلِ ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، سوتم(ناراضگی کی صورت میں)اپنے بھائیوں میں صلح کرادیاکرو۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ نبی کریمﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ: مَا يَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ وَيَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ.» (صحيح بخارى، كتاب الجهادوالسير، باب من أخذ بالركاب ونحوه: 2989-صحيح مسلم:1009)

’’ہراس دِن میں کہ جس میں سورج طلوع ہوتا ہے (یعنی روزانہ)انسان کے ہرجوڑپرصدقہ لازم ہے، پھر اگر وہ دولوگوں کے درمیان انصاف کر دے تو یہ بھی صدقہ ہے، کسی کی سواری کے معاملے میں مدد کر دے، وہ اس طرح کہ اسے اس پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اٹھا کر اس پہ رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے، ہر وہ قدم جو نماز کے لیے اٹھتاہے صدقہ ہے اور راستے سے جو وہ تکلیف دہ چیزہٹادیتاہے تویہ بھی صدقہ ہے۔‘‘

اس حدیث میں بھی صدقے کی مختلف صورتیں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک صورت دولوگوں کے درمیان انصاف کرناہے، یہاں انصاف سے مرادیہ ہے کہ اگردومسلمان بھائی آپس میں ناراض اورقطع تعلق ہوں دونوں کے پاس الگ الگ جا کر دوسرے کی تعریف کی جائے اور اس کے محاسن بیان کیے جائیں اور اس کے متعلق اس دوسرے بھائی کی محبت اور چاہت بیان کی جائے، تاکہ اس کا دِل نرم پڑ جائے اور وہ صلح کے لیے تیار ہو جائے۔ انصاف کرے، یعنی اچھائیاں ہی بیان کرے، ایسانہ ہوکہ دوسرے کی کوئی ایسی برائی ذکر کر دے جس سے ان کی رنجش ختم ہونے کی بجائے اور بھی بڑھ جائے۔

علاوہ ازیں انصاف یہاں اپنے حقیقی معنی میں بھی مراد لیا جا سکتا ہے کہ اگردومسلمان بھائیوں کاکسی معاملے میں تنازعہ ہو گیاہے توان دونوں میں انصاف کرتے ہوئے جس کی زیادتی ہو اسے سمجھانا بجھانا چاہیے اور صاحبِ حق کو اس کاحق دِلاکران دونوں میں صلح کرادینی چاہیے۔ اس کے علاوہ اس روایت میں صدقے کی اوربھی صورتیں بیان كى گئی ہیں، گویا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کی ہی تشریح ہے جس میں نبی مکرمﷺکایہ ارشادِگرامی مذکورہے کہ ہرنيك کام صدقہ ہے۔

سيدنا ابوالدرداء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ؟.» قَالُوا: بَلٰى، قَالَ: «صَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، فَإِنَّ فَسَادَ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في إصلاح ذات البين: 4919-سنن ترمذى، أبواب صفة القيامة، باب منه: 2509-مسند أحمد:6/444)

’’کیامیں تمہیں نماز، روزے اورصدقے سے بھی افضل درجے کاعمل نہ بتلاؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتلائیے)، تو آپﷺ نے فرمایا: آپس میں صلح صفائی رکھنا(ان تمام سے افضل ہے۔) کیونکہ آپس کی بدسلوکی تو دِین کو مُونڈ کر رکھ دینے والی بات ہے۔‘‘

یعنی بدسلوکی دِین کانام ونشان ہی ختم کردیتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے باعث انسان بہت سی دیگر اخلاقی گراوٹوں کا شکار ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر جب وہ اپنے مسلمان بھائی سے صلح رکھنے کی بجائے اس سے بدسلوکی رکھے گاتواس سے بول چال بھی ختم کر دے گا، اس کے متعلق دِل میں حسد، بغض، کینہ اور نفرت پیداکرلے گا، اس کے بارے میں اتہام والزام کامرتکب ہوگا، اس کی غیبت اورچُغلی کرنے لگے گا، غرض یہ کہ ہر وہ کام کرنے پراُترآئے گاجس سے دوسرے مسلمان بھائی کی تذلیل ہو سکے۔ تو گویا بدسلوکی بہت سی برائیوں کاباعث بنتى ہے اسی لیے اسے دِین کو مُونڈ کر رکھ دینے والا بُرا عمل قرار دیا گیا ہے۔

سیدہ اُمِ کلثوم بنت عقبہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے سنا:

«لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ خَيْرًا، أَوْ نَمَا خَيْرًا.»

(صحيح بخارى، كتاب الصلح، باب ليس الكاذب الذي يصلح بين الناس: 2692- صحيح مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم الكذب وبيان ما يباح منه: 2605)

’’وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں صلح کرائے (اور اس غرض سے)وہ اچھی بات کہہ بھی دیتاہے اور کوئی اچھی بات چھپابھی لیتاہے۔‘‘

سيدہ اُمِ کلثوم بنت عقبہ بیان کرتی ہیں کہ

مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ، كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا أُعِدُّهُ كَاذِبًا الرَّجُلَ يَصْلُحُ بَيْنَ النَّاسِ يَقُولُ الْقَوْلَ لَا يُرِيدُ بِهِ إِلَّا الْإِصْلَاحَ، وَالرَّجُلَ يَقُولُ الْقَوْلَ فِي الْحَرْبِ، وَالرَّجُلَ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ، وَالْمَرْأَةَ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا.»

(سنن أبوداؤد، كتاب الأدب، باب في إصلاح ذات البين :4921)

’’میں نے رسول اللہﷺکوتین خلافِ حقیقت باتوں کے سواکسی بات کوبیان کرنے میں رُخصت دیتے نہیں سنا، آپﷺفرمایاکرتے تھے کہ میں اس شخص کو جھوٹا شمار نہیں کرتا جو لوگوں کے مابین صلح کرواتاہے اوروہ کوئی(جھُوٹی)بات کہہ دیتاہے جس سے اس کا ارادہ فقط اصلاح كا ہوتاہے، اور (دوسرا) وہ آدمی جودورانِ جنگ کوئی (جھوٹی)بات کہتاہے اور (تیسرا) وہ شخص جو اپنی بیوی سے کوئی (خلافِ حقیقت) بات بیان کرے اور بیوی اپنے خاوند سے ایسی کوئی بات بیان کرے۔‘‘

اس حدیث میں تین امورمیں جھوٹ بولنے کی رخصت دی گئی ہے بلکہ نبیﷺ کے فرمان کے مطابق درحقیقت یہ جھوٹ نہیں ہیں:

1۔وہ شخص جو 2 ناراض مسلمان بھائیوں میں صلح کراتا ہے اور ان کی ناراضگی دُورکرنے کے لیے ایک کے پاس دوسرے بھائی کے اس بارے ميں اچھے خیالات اور تعریفی کلمات اپنی طرف سے ہی بنا کر بیان کر دیتا ہے كہ وہ تو تمہیں بہت اچھا سمجھتا ہے، تمہاری بہت تعریف کرتاہے، تمہارے بارے ميں اس كے خيالات لڑائى كے باوجودبھى بہت اچھے ہیں، اس نے تمہاری یہ تعریف کی، وہ تعریف کی، وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ وہ اپنے بارے میں دوسرے بھائی کے اچھے تأثرات دیکھ کراپنی ناراضگی ختم کردے۔

2۔ دورانِ جنگ دشمن کوشکست دینے کے لیے کوئی جھوٹی بات کہہ کریاغلط افواہ اُڑا کراسے دھوکہ دینا۔

3۔ خاوند اور بیوی ایک دوسرے کوخوش کرنے کے لیے اگرکچھ خلافِ حقیقت بات کہہ دیں تو وہ بھی جھوٹ میں شمارنہیں ہوگا۔

٭٭٭

علامہ شيخ ابن عثيمين ﷫ نے فرمایا :

جب کوئی آدمی استغفار کرتا ہے تو دراصل وہ دو چیزیں مانگ رہا ہوتا ہے :

‏1۔برائیوں پر پردہ پوشی

2۔اور درگزر تاکہ وہ گناہوں پر سزا نہ دے.

(الفتاوى : 16؍87)

٭٭٭

امام حسن بصری ﷫ ایک رات دعا کر رہے تھے :

جس نے مجھ پر ظلم کیا اسے تو معاف فرما۔

یہ دعا انہوں نے بہت کثرت سے کی یہاں تک ان کے پڑوسی کو اگلے دن کہنا پڑا :

اے امام! کل رات آپ نے ظلم کرنے والے کے لئے اتنی دعا کی کہ مجھے خواہش ہوئی کہ کاش میں نے کبھی آپ پر ظلم کیا ہوتا۔

آخر اس کی کیا وجہ ہے؟امام نے فرمایا :

میں نے اللہ کا فرمان پڑھا :

﴿ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُ‌هُ عَلَى اللَّـهِ﴾

’’جو معاف کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

(شرح البخاری لابن بطال :6؍575)

٭٭٭

شيخ الاسلام علامہ ابن تيميہ ﷫ کہتے ہیں :

’’برائی کا بدلنے لینے والے تین قسم کے لوگ ہیں :

1۔ظالم :

جو اپنے حق سے زیادہ لیتا ہے۔

2۔منصف :

جو اپنے حق کے برابر لیتا ہے۔

3۔محسن :

جو برائی معاف کرکے اپنے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے۔

(جامع المسائل :1؍169)

٭٭٭

تبصرہ کریں