زیارت بیت المقدس اور سفر فلسطین (24)۔حافظ عبدالاعلیٰ درانی، بریڈ فورڈ

اسرائیلی فورسز کا ایک اور حربہ

گزشتہ جمعہ کومسجد اقصی میں جو فائرنگ ہوئی تھی۔ اسے بہانہ بناکر اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصی جانے والے سب راستے بند کررکھے تھے ، اور اس کی آڑ میں وہ مسجد اقصیٰ کے تمام دروازوں پر ڈی ٹیکٹر نصب کررہے تھے جس کی خبر باشندگان شہر القدس کو ہوگئی تو وہ سڑکوں پر نکل آئے ، اسرائیلی فورسز نے حسب فطرت پرتشدد کارروائیاں کیں لیکن احتجاج بہر صورت جاری رہا بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہورہاتھا۔ بیت المقدس کی طرف جانے والے سارے راستے مظلوم مسلمانوں کے احتجاج سے گونج رہے تھے۔ خاص طور پر اسلام کی بیٹیاں نعرے لگا رہی تھیں۔ لن تھزم امۃ قائدھا محمد(ﷺ) اس امت کو ہرگز شکست نہیںدی جاسکتی جس کے قائد محمد مصطفی ہوں۔ یہ نعرہ سن کرجذبات میں خواہ مخواہ تلاطم آجاتاہے۔ یروشلم کی ساری گلیاں اس قسم کے نعروں سے گونج رہی ہیں۔ آخرکار قابضین کو بہت جلد یہ اقدام واپس لینا پڑا ۔اور بڑی ہزیمت اٹھانا پڑی ۔ شہر اقلدس کی گلیاں مسلمان نوجوانوں کے جذبات سے پھر گونج اٹھیں جب اسرائیلی فورسز نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ڈی ٹیکٹر دروازے ٹرالیوں پر لادے واپس لیجا رہی تھیں ۔

مسجداقصیٰ پر الوداعی نظر

آج اس تاریخی سفر سے واپسی ہے ۔ ہمارا احساس یہ ہے کہ اس سفر کو زیادہ سے زیادہ بامقصد نہیں بنایا جاسکا۔ بہت سی تاریخی جگہیں بھی نہ دیکھی جاسکیں۔جس کا افسوس رہا۔ پونے دس بجے ڈرائیورالحسینی آگیا۔ اور ہم جو پہلے ہی تیار بیٹھے تھے ، گاڑی میں سوار ہوگئے۔ یروشلم کی اونچی نیچی پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے مسجد اقصی کا سنہرا گنبد یا شہر القدس کا کوئی دروازہ نظر آجاتا تو دل میں درد کی لہر سی اٹھتی کہ اے اللہ اس سرزمین انبیاء کو سلامتی نصیب فرما۔ جس قوم نے یہاں اندھیرمچا رکھا ہے اسے اسلام کی دولت نصیب فرما دے۔ مسجد اقصی کو ہمارے بڑوں نے بنایا اور ان یہودیوں نے یہاں آگ لگا رکھی ہے۔ ان خیالات کے پیچ و تاب سے ہم گزرتے جارہے تھے اوربڑی بڑی شاہراہوں کو عبور کرتے ہوئے تل ابیب کے قریب اچانک ایک تاریخی جگہ (جو ابھی بنی نہیں لیکن بننے والی ہے ، یعنی) ’’باب لدّ‘‘ پر پہنچ گئے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت عیسی علیہ السلام دجال کوقتل کریں گے۔ یہ جگہ چونکہ نبی آخرالزمان کی احادیث میں بتائی ہے اور یہودیوں کوحضور اقدسﷺ کی پیشگوئیوں کی صداقت کا پورا یقین ہے۔

نظم کائنات بامر ربانی رواں دواں ہے

ایمان باللہ کی اہمیت اس حقیقت سے بھی عیاں ہے کہ یہ کائنات کوئی الل ٹپ چیز نہیں ہے، بلکہ دست قدرت ہر جگہ اور ہر لمحہ کارفرما ہے۔ انسانی محسوسات اور مشاہدات تو اس کے علم و قدرت کے سامنے کوئی حیثیت و اہمیت نہیں رکھتے۔ قرآن پر ایمان رکھنے والے کے لیے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے ۔ ایک چیونٹی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کو پہچان لیا تھا وہ آپ کے نام سے بھی واقف تھی ۔اس نے اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے جو بیان کیا وہ بھی قرآن مجید میں موجود ہے۔ چیونٹی کے علاوہ ھد ھد کی تقریر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ پھر اسی واقعہ میں ایک مرد صالح کاپل بھر میں یمن سے ملکہ بلقیس کاتخت یروشلم لے آنا بھی قرآن کریم کی اسی سورہ {النمل}سے ثابت ہے۔ سورہ الکہف میں حضرت خضر علیہ السلام کے ایک کشتی کو عیب دار کرنے ، ایک بچے کو قتل کردینے اور ایک گرتی دیوار کو نیا بنادینے کا ذکر بھی ہے جس کا سبب انہوں نے خود ہی بتایاکہ یہ کام میں نے بامر الہی کیے ہیںاپنی مرضی سے نہیں۔ کشتی کو عیب دار اس لیے کیا گیا کہ وہ بحق سرکار ضبط ہونے سے بچ جائے کیونکہ پرلی طرف کا بادشاہ بے عیب کشتیوں کو ضبط کرلیتاتھا۔ قتل ہونے والا بچہ اگر زندہ رہتا توماں باپ کو کفر میں لیجاتا اوراس دیوار کے نیچے یتیم بچوں کا مال تھا اور ان کا مرحوم باپ بہت صالح تھا۔ اس لیے اللہ عزوجل کا فیصلہ تھا کہ اس کو محفوظ کردیاجائے۔

صحیح احادیث کے مطابق جو انسان علم دین حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلتاہے سمندروں کی مچھلیاں ، اور زمین پر بسنے والی جاندار مخلوق اس کے لیے دعائیں کرتی ہیں وغیرہ غرضیکہ کائنات کی سبھی مخلوقات اپنے خالق کی تابعداری میں ہر آن ڈیوٹی دے رہی ہیں۔

الم ترا ان اللہ یسجد لہ من فی السموات ومن فی الارض (سورۃ الحج) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کائنات کی مخلوقات حجر وشجر ، شمس وقمراللہ کے حضور سر جھکائے ہوئے اسی کی تسبیح میں مشغول ہے۔

{الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموات ومن فی الارض} ( سورہ نور)نبی اقدسﷺ نے مستقبل کے بارے بہت کچھ بیان فرمایا وہ سب اللہ کے حکم اور علم سے ہے۔ کوئی ایک ارشاد بھی جھٹلایا نہیں جاسکا اور نہ جھٹلایا جاسکے گا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا’’ ایک وقت آئے گا جب دنیا کی ہر چیز یہود کے خلاف ہوجائے گی اور کسی یہودی کو کہیں پناہ نہیں مل سکے گی ماسوا ایک ’’غرقد‘‘ نامی درخت کے کہ صرف وہی درخت یہودیوں کی حمایت کرے گا ہمدردی جتائے گا اور انہیں چھپائے گا۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے ۔حدیث نمبر(2838 )

غرقد یہودیوں کا خیرخواہ درخت

’’غرقد‘‘ ایک کانٹے دار جنگلی خود رو جھاڑی ہے۔ اس کی اونچائی چار سے چھ فٹ تک ہوتی ہے۔ اسے عربی میں عسویج۔ انگریزی میںBosthronاور یونانی میںLyciumکہا جاتا ہے۔ اس کی ستر کے قریب اقسام ہیں۔ ان میں سے Lyciumنامی قسم متحدہ عرب امارات میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ عہد نبوی میں یہی قسم مدینہ اور اطراف مدینہ میں بکثرت موجودتھی جسے رسول اللہ ﷺ نے اکھڑوا دیا تھا۔ سعودی حکومت اب بھی اس کا پتہ چلنے پر فوراً ختم کروادیتی ہے۔ مدینہ منورہ کے قبرستان ’’جنت البقیع ‘‘کا اصل نام’’ بقیع الغرقد‘‘ اسی لیے تھا کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے غرقد کی جھاڑیوں سے بھرا ہوا جنگل تھا۔

قوم یہود عذاب الہی سے ڈرنے کی بجائے اسے پانے کے لیے ہمیشہ مستعد رہی ہے۔ اسی غلیظ سوچ کا نتیجہ ہے کہ وہ نبی آخر الزمانﷺ کے ارشاد کے پیش نظر اس درخت کی کاشت میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ میں دیتے ہیں۔ پچھلے چالیس سالوں میں ایک اندازے کے مطابق (سال2010تک) 30کروڑ درخت لگاچکے ہیں۔ اسرائیل میں چلنے والی ٹرینوں کے اطراف تقریبا30سے40کلو میٹر تک لائن پٹڑی کے دائیں بائیں صرف غرقد ہی لگے ہوئے ہیں۔ ’’جافا‘‘جہاں دجال نے حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونا ہے وہ ابھی سے ’’ غرقد‘‘ کا جنگل لگنے لگا ہے۔ اس درخت کی تصاویر والی شرٹیں بڑے پیمانے پر تیار کی جارہی ہیں اور نوجوان اندھا دھند انہیں خرید کر پہنتے ہیں۔ اور یہ صرف چالیس سال سے نہیں بلکہ سو سال سے مہم جاری ہے۔ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ غرقد درخت مسلمان ممالک جن میں انڈونیشیا ملائشیا، پاکستان اور افغانستان میں بھی کاروباری نقطہ نظر سے کاشت کیا جاتاہے۔ ہندوستان میں یہودیوں کی آلہ کار متعصب تنظیم آر ایس ایس بجرنگ دل صرف مہارا شٹر میں5کروڑ درخت لگانے کا ہدف پورا کر چکی ہے۔ جبکہ راجستھان میں بھی اسی مقدار میں درخت لگائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’جیوش نیشنل فنڈ ‘‘نامی تنظیم نے ایک کتابچہ بھی طبع کرواکے بڑے پیمانے پر تقسیم کررہی ہے، جس میں یہودیوں سے کہا گیا ہے کہ ’’ جب تم گھرلوٹو تو غرقدکا درخت لگاکر لوٹو‘‘ اور۔ Save the Ghaqad Treeکا نعرہ بھی انہوں نے عام کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ یاد رہے کہ اس تنظیم کے 31فیصد شئیراسرائیل کی ملکیت ہیں۔

ہم جب ’’یافا‘‘ پہنچے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے قتل کی جگہ کو دیکھا۔ اللہ سے من جمیع السیئات سے پناہ مانگی ۔اس کے بعد پروگرام تھا کہ مسجد خضردیکھنی ہے لیکن ڈرائیور ہاتھ دکھا گیا۔ لندن سے بعد میں آنے والے دوستوں کے لیے پروگرام تھاکہ راستے میں آنے والی زیارتیں بھی کروائی جائیں گی۔ ان کی فلائیٹ ہم سے تین گھنٹے بعد کی تھی لیکن واپسی کے لیے الجھن تھی کہ شایدکوئی سواری نہ مل سکے ، یا چیک پوسٹ پر تنگ کیا جائے ، یوں فلائیٹ رہ نہ جائے۔ اس لیے فیصلہ ہوا کہ باقی وقت ائیرپورٹ پر ہی گزارا جائے۔ ایک بجے سے شام چاربجے تک ہم وہیں بیٹھے رہے یہیں ہم نے ظہر وعصر کی نماز باجماعت ادا کی۔ چاربجے ہم لائن میں کھڑے ہوگئے۔ ایک سیکیورٹی والی عورت آئی اور ہمارے گروپ کو الگ کرکے سب سے آگے کھڑا کردیا ہم نے اپنادستی سامان بھی جمع کرادیا۔ یہ وہ واحد اچھا سلوک تھا جو ایک یہودی سیکیورٹی افیسرعورت نے ہمارے ساتھ کیا۔ ورنہ ان کے رویے میں کہیں نرمی دیکھنے کو نہیںملی۔ ہم نے باقی سامان تو جمع کرادیا، ہاتھ میں صرف کھانے پینے والی اشیاء والا بیگ رکھا تھا۔ ہمارا ساراسامان توبڑی آسانی سے جمع ہوگیالیکن ڈاکٹر یاسین صاحب اور ان کی اہلیہ کے ساتھ وہی معاملہ ہوا جو آتی دفعہ ان کے ساتھ ہوا تھا اور اس کا بڑا سبب ان کا حجاب تھا اس وجہ سے انہیں کلیئرنہیں کیاگیا۔ بلکہ فلائیٹ سے ایک گھنٹہ پہلے انہیں جانے کا حکم ملا۔ ان کادستی سامان سارے کاساراقبضے میں لے لیا گیا۔ آفتاب صاحب اورمیں ڈاکٹر صاحب کے انتظار میں کافی دیر کھڑے رہے۔ اور جہازمیں سوار ہونے کے لیے ہمیںb2 ٹرمینل پر پہنچے تووہاں یہودیوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر خیال ہوا کہ ان کی وڈیو بنالی جائے ۔ ایک یہودی نوجوان مجھ سے پوچھنے لگاکس ملک سے ہیں آپ؟ میں نے بتایا کہ پاکستان سے۔کہنے لگا عمران خان کوآپ جانتے ہیں ، کہابالمشافہ تو دو دفعہ ملاقات ہوئی ہے اور وہ ہمارا قومی ہیرو بھی ہے ،اس کے علاوہ ، وسیم خاں، ثاقب، محمد یوسف ، وقار وغیرہ کافی کرکٹروں کے نام اس نے بغیر ہکلائے لیے۔ بولا پاکستان کی کرکٹ ٹیم بہت ٹیلنٹڈ ہے اور عمران تو بہت اچھا کھلاڑی ہے۔ اس کی سابقہ بیوی کا تذکرہ بھی ہوا۔ میں نے اسے بتایا کہ عمران خان کی شادی کے بعد پہلا عمرہ1995میں عمران اور اس کی پوری فیملی کو میں نے کروایا تھا اور جدے سے لاہور کا سفربھی ہم نے اکٹھے کیا تھا۔ تو اس یہودی نوجوان نے بڑی عقیدت دکھائی۔ اورمیرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے بتایا میں بھی کھلاڑی ہوں اور مجھے پاکستانی ٹیم اورخاص طور پر عمران سے بہت محبت ہے۔ میں نے کہااس کے اقتدار میں آنے کے چانسز ہیں یا نہیں؟ میں نہیں جانتا( یہ جولائی2017کی بات ہے ) لیکن یہ جانتا ہوں کہ وہ ایک ایماندار ، سادہ مزاج انسان ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ جیت جائے وہ بڑا خوش ہوا۔ ابھی وہ مجھ سے بہت کچھ پوچھنا چاہتاتھا۔ اس نے لاہور کا نام بھی بڑا صاف لیا۔ اس کے ائیرپورٹ کا تذکرہ بھی کیا وہاں کی تاریخی حیثیت سے وہ کافی واقف تھا۔ مجھے خوشی ہوئی اپنے لاہور کی تعریف سن کر، اپنے ملک کی تعریف سن کر، اپنے ملک کے کھلاڑیوں کی تعریف سن کر۔ میرادل چاہا میں بھی اس کو کچھ بتاؤں ۔ لیکن وہ تو ایک منٹ بھی مجھے بات نہیں کرنے دے رہاتھا۔ مجھ سے فون نمبر مانگا میں نے بول دیا ۔لیکن اس نے مجھے کبھی فون نہیں کیا۔ اتنے میں جہاز کی روانگی کا ٹائم ہوگیا اور بورڈنگ شروع ہوگئی ۔وہ اپنی فیملی سمیت ہمارے ساتھ ہی جہاز پر چڑھ آیا۔ میرابڑاجی چاہا کہ وہ میرے ساتھ بیٹھے اور میں اسے فلسطین پر اس کی قوم جو ظلم کررہی ہے اس کی توجہ دلاؤں لیکن اس کا موقع ہی نہ ملا۔ پوری یہودی فیملیاں قطار اندر قطار بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے وہاں سے ہٹنا ہی مناسب سمجھا اور اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔ ساڑھے تین بجے جہاز نے اڑان بھری اور میں نے دعائے سفر پڑھی۔ تو ایک خاتون نے اس کا مطلب پوچھا میں نے بتایا۔ جس پر وہ بڑا خوش ہوا۔ بولا واقعی مسلمان اپنے رب کو ہر موقع پر یاد رکھتے ہیں۔ مانک ائیرلائن برٹش فلائیٹ ہے۔ راستے میں کئی لوگوں سے بات چیت ہوتی رہی ، جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ بات چیت کرتے رہنا چاہیے اس سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔ بلکہ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو یہودی ہونے کے باوجود اہل فلسطین کے بارے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ یہودی سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں برے لوگ ہیں تو اچھے بھی ہیں۔ ولادت مسیح سے پونے دو سو سال قبل بھی ان میں ایک اصلاحی اسلامی اوراخلاقی تحریک اٹھی تھی جس کا نام ’’ مکابی تحریک‘‘ تھا یہ انیٹوکس چہارم( 175ق۔ م)کا دورتھا۔ اس مکابی تحریک کے باعث رحمت الٰہیہ نے ان کی ایک بار پھر یاوری کی اورپچاس سال کے اندر اندر حالات نے پلٹا کھایا اوربابل کی سلطنت کو زوال ہوا۔ قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا۔

{لَیْسُوْا سَوَآء مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّة قَآئِمَة یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ الَّیْلِ وَ ہُم یسجدون۔ْ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ اُولٰٓئِکَ مِن الصلحین}

کہ سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کی اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔ اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتاہے (آل عمران آیات113، 114) یہ بھی ذہن میں رہے کہ کہ’’ یروشلم ‘‘کا ایک مطلب ہے ’’سرزمین اسلام ‘‘یاد رہے کہ اسرائیلی کرنسی کا نام شیکل اسی مکابی تحریک کی کرنسی کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔اور شاید یہ دور یہود کے اسلامی دور کا آخری دور تھا وہ اس وقت مسلمان ہی کہلاتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنا نام یہود رکھ لیااور سازش ،شرارت اور خباثت میں نمایاں مقام حاصل کرلیا حتی کہ آخری نبی کی نبوت کو دن دیہاڑے ماننے سے انکار کردیا اس وقت سے لے کر آج تک انہی شارتوں کی وجہ سے ملعون و مطعون اور مقہور و مغضوب چلی آرہی ہے ۔آج پوری دنیا کی معیشت و معاشرت پنجہ یہود میں ہے اور عیسائی ان کے پشت پناہ ۔ ان حالات میں دنیا کو کسی ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ان تینوں کے درمیان توازن پیدا کرکے امن کی راہ ہموار کرے۔ عیسائیوں کو بتائے کہ تمہارے خیرخواہ اور بہت زیادہ قریب مسلمان ہیں اورتمہارا اصلی نام بھی مسلمان ہی ہے یہی حضرت عیسی علیہ السلام کا دین تھا اور مسلمان ہی ہیں، جو حضرت مسیح اور ان کی والدہ کا احترام کرتے ہیں ، ان کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی مسلم ہی تھے عیسائی نہیں تھے اور ان کے حواری بھی مسلمان ہی تھے عیسائی نہیں تھے۔جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے نہ عیسائی اور نہ ہی اہل مکہ کی طرح مشرک ۔بلکہ مسلمان تھے{ما کان ابراہیم یہودیا و لا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین} یہ تاریخی حقیقت عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو بتانے اورسمجھانے کی ضرورت ہے ،اس طرح دوریاں اور تلخیاں کافی حدتک کم ہوسکتی ہیں ورنہ دنیا میں امن و امان ہمیشہ مسئلہ بنا رہے گا۔ بہرحال اسی قسم کی باتیں سوچتے ہوئے چار سے زیادہ گھنٹے گزر گئے اورہمارا طیارہ مانچسٹر بخیریت اتر گیا الحمد للہ۔ اور ہم سفر فلسطین اور زیارت بیت المقدس کی سعادت سے اپنی روح کو معطر لے کر’’ آئبون تائبون لربنا حامدون ‘‘پڑھتے ہوئے اپنے گھرمیں داخل ہوگئے۔ وللہ الحمد والمنة۔

یہ جوپر شکستہ ہے فاختہ یہ جو زخم زخم گلاب ہے

یہ ہے داستان میرے عہد کی جہاں ظلمتوں کا نصاب ہے

تبصرہ کریں