زوجین کے لیے چند نصیحتیں۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بعیجان

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے نکاح کو حلال اور زنا کو حرام کیا ہے۔

﴿خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا﴾ (سورۃ الفرقان: 54)

’’وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے۔‘‘

اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ ﷺ کو ہدایت اور دین کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ اسے سارے ادیان پر غالب کر دے، چاہے یہ مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے بھلے اہل بیت پر، نیک صحابہ کرام پر، آپ ﷺ کی ہدایات پر چلنے والوں اور تا قیامت تک آپ ﷺ کی سنت پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ محمد بن عبد اللہ ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ ہر ایجاد کردہ عبادت بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لیجاتی ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو۔ جن چیزوں سے اس نے منع کیا یا خوب ڈانٹا ہے ان سے بچ جاؤ۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ (سورۃ آل عمران: 102)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام اور نکاح کو جائز کیا ہے۔ اسے انسانی نسل کے بقا کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (سورۃ النساء: 1)

’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دئیے۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے نکاح کو مضبوط معاہدہ قرار دیا ہے۔ اس لیے اس پر بہت سے حقوق، واجبات اور احکام مترتب کیے ہیں، جنہیں اس نے واضح آیات میں نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلق کی بنیاد مودت ورحم دلی پر رکھی ہے، جن کے ذریعے انسان کے اندر محبت اور الفت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ (سورۃ الروم: 21)

’’اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو۔‘‘

اس نے اچھی صحبت اختیار کرنے اور دوسروں کا بھلا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (سورۃ النساء: 19)

’’ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ﴾ (سورۃ الطلاق: 2)

’’یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک ر کھو، یا بھلے طریقے پر اُن سے جدا ہو جاؤ۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حقوق اور واجبات میں انصاف سے کام لیا ہے۔ فرمایا:

﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (سورۃ البقرہ: 228)

’’عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں۔‘‘

مگر نگرانی اور ولایت مرد کے ہاتھ میں رکھی۔ فرمایا:

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ (سورۃ النساء: 34)

’’مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ظلم، اذیت، زیادتی، حد سے گزرنے اور نا انصافی سے منع کیا ہے۔ فرمایا:

﴿وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ﴾

’’محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا، وہ در حقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 231)

اسی طرح فرمایا:

﴿أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ﴾ (سورۃ الطلاق: 6)

’’اُن کو اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خلقًا رضي منها آخَر» (صحیح مسلم)

’’کوئی مومن کسی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، کیونکہ اگر اسے اس کی کوئی بات بری لگی ہے تو دوسری باتیں اچھی بھی تو لگتی ہیں۔‘‘

اے مسلمانو! شادی کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہے، اس کی بنیاد پر بہت سے حقوق وفرائض متعین ہوتے ہیں۔ اس کے ذریعے شرمگاہوں کی حفاظت ہوتی ہے اور نسل انسانی کی بقا بھی اسی میں ہے۔ اسی سے سعادت بھی ملتی ہے اور سکون بھی میسر آتا ہے۔ نکاح کے مضبوط معاہدے کو طے کیا جاتا ہے تو ولی، حق مہر اور گواہی کے ارکان بھی پورے کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾

’’اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔‘‘(سورۃ النساء: 21)

اللہ تعالیٰ نے طلاق کو جائز تو کیا ہے، مگر بنیادی طور پر یہ منع ہی ہے۔ صرف ضرورت کے وقت اور مشکل سے بچانے کے لیے اسے جائز کیا گیا ہے۔ اسلام نے علیحدگی اختیار کرنے سے پہلے گھرانوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تلقین فرمائی ہے۔ اس رشتے کے استمرار کے لیے وعظ ونصیحت، جسمانی دوری اور ادب سکھانے کی اجازت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا﴾ (سورۃ النساء: 34)

’’جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر تم وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے۔‘‘

طلاق سے پہلے صلح کی کوشش کی بھی ترغیب دلائی ہے۔ فرمایا:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ (سورۃ النساء: 35)

’’اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ (سورۃ النساء: 128)

’’جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطر ہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی آپس میں صلح کر لیں صلح بہر حال بہتر ہے۔‘‘

یعنی: صلح اختلاف، سختی، حقوق کی عدم ادائیگی اور طلاق سے بہتر ہے۔

﴿وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ (سورۃ النساء: 129)

’’اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

لیکن جب دلوں میں نفرت آ جائے اور ان کا پھر سے ملنا ممکن نہ رہے، امید ختم ہو جائے اور اصلاح سے مایوسی ہو جائے تو

﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾

’’یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 229)

طلاق آخری حل ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال ہے۔ اس لیے شریعت نے لوٹنے، رجوع کرنے کی ترغیب دلائی اور حق طلاق کو مرد کے ہاتھ میں رکھا۔ اسے دو مرتبہ رجوع کرنے کا حق دیا۔

﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (سورۃ الطلاق: 229)

’’طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے۔‘‘

مطلقہ عورت اپنے شوہر کے گھر تین ماہواریوں تک عدت میں رہتی ہے۔

﴿لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾ (سورۃ الطلاق: 1)

’’شاید اس کے بعد اللہ کوئی صورت پیدا کر دے۔‘‘

عین ممکن ہے کہ وہ پلٹ آئیں اور صلح کر لیں۔

﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ (سورۃ البقرہ: 228)

’’اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے۔‘‘

اللہ کے بندو! طلاق کے معاملے میں جلد بازی کرنے سے خاندانی دوریوں اور لڑائیوں کی مصیبت شروع ہوتی ہے، یہ دلی نفرت کی بنیاد ہے، اس سے محبوب رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس کا حقیقی شکار معصوم بچے ہوتے ہیں۔

طلاق صحبت کو بگاڑنے والی چیز ہے، پیاروں کو جدا کرنے والی ہے، گھرانوں کو توڑنے والی ہے۔ یہ خاندانوں کو چیر کے رکھ دیتی ہے۔ طلاق تربیت اولاد میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کی خرابی اور حقوق کے ضیاع کا سبب ہے۔ تو اے والدین کرام! اللہ سے ڈرو۔ سیدنا جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ ‌إِبْلِيسَ ‌يَضَعُ ‌عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ: وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ – أَوْ قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ – وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ أَنْتَ» (صحیح مسلم)

’’ابلیس اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے، پھر اپنے دستوں کو بھیجتا ہے، اس کے یہاں سب سے زیادہ قریبی مقام والا وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ کوئی آ کر کہتا ہے: میں نے ایسا اور ایسا کیا۔ مگر شیطان کہتا ہے: تو نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ بیان کرتے ہیں: لیکن ایک شیطان آ کر کہتا ہے: میں نے اسے تب تک نہیں چھوڑا جب تک اسے اس کی بیوی سے الگ نہیں کر دیا۔ بیان کرتے ہیں: شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے، یا فرمایا: اسے بوسہ دیتا ہے، کہتا ہے: ہاں! تو نے بہت بڑا کام کیا ہے۔‘‘

تو اے مسلمانو! عورتوں کے ساتھ نرمی کرو۔ عورت کمزور ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ان کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

«استوصوا بالنساء خيرًا»

’’میں آپ کو عورتوں کے متعلق نصیحت کرتا ہوں۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

«لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خُلقًا رضي منها آخَر» (صحیح مسلم)

’’کوئی مومن کسی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، کیونکہ اگر اسے اس کی کوئی بات بری لگی ہے تو دوسری باتیں اچھی بھی تو لگتی ہیں۔‘‘

میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے!

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ (سورۃ النساء: 19)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہو ں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

حمد وثنا اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا، پھر اسی نفس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں پیدا کیں، اس نے جو بنایا، خوب بنایا، جو احکام نازل کیے، شاندار بنائے۔ ہر نفس کو راستہ دکھایا۔ ہم اللہ کی ایسی تعریف کرتے ہیں جس کی کوئی انتہا نہ ہو، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں، جو اس نے مہربانی کرتے ہوئے ہمیں عطا فرمائی ہیں۔

اللہ کے بندو! نکاح حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ عفت، پاک دامنی کا سب سے بڑا داعی اور گناہوں اور خطاؤں سے بچنے کا بہترین راستہ ہے۔ تو اپنے نطفوں کے لیے بہترین ساتھی کا انتخاب کرو اور دین دار شریک حیات کو پا لو۔ ان خوبصورت عورتوں سے بچو جن کی تربیت اچھی نہ ہو۔ کیونکہ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہی ہیں، اور پاک باز عورتیں پاک باز مردوں کے لیے ہی ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«تُنْكَحُ ‌الْمَرْأَةُ ‌لِأَرْبَعٍ: لِدِينِهَا، وَجَمَالِهَا، وَمَالِهَا، وَحَسَبِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ» (صحیح مسلم)

’’عورتوں کے ساتھ چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے: ان کے دین کی بنیاد پر، ان کی خوبصورتی کی بنیاد پر، ان کے مال کی بنیاد پر، اور ان کے حسب ونسب کی بنیاد پر۔ تو تیرا بھلا ہو، دین دار کو پا لو۔‘‘

اے لوگو! طلاق نجات کا راستہ بھی ہے، بالخصوص جب اتفاق باقی نہ رہے، طبیعتیں مختلف ہوں اور ہمیشہ لڑائی جھگڑا جاری رہنے لگے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ﴾

’’لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہو جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا۔‘‘ (سورۃ النساء: 130)

تو اللہ سے ڈرو، طلاق کو کدورتیں پالنے، تعلق توڑنے اور رابطے ختم کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ﴾ (سورۃ البقرہ: 237)

’’آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں کا محسنوں پر یہ حق مقرر کیا ہے کہ انہیں معروف طریقے کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔

اے مردوں کی جماعت! اے ذمہ داران! تم سب ذمہ دار ہو اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ سنو! عورتیں تمہارے پاس امانتیں ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول نے ان کے بارے میں وصیت کی ہے۔ ان کی عزت، با عزت لوگ ہی کرتے ہیں۔ ان کی بے عزتی گھٹیا لوگ ہی کرتے ہیں۔ سیدنا مقداد بن معدی کرب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر فرمایا:

«إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى- ‌يُوصِيكُمْ ‌بِالنِّسَاءِ ‌خَيْرًا، إِنَّ اللَّهَ ‌يُوصِيكُمْ ‌بِالنِّسَاءِ ‌خَيْرًا، إِنَّ اللَّهَ ‌يُوصِيكُمْ ‌بِالنِّسَاءِ ‌خَيْرًا، إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَبَنَاتِكُمْ، وَأَخَوَاتِكُمْ، وَعَمَّاتِكُمْ، وَخَالَاتِكُمْ»

’’اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو عورتوں کے بارے میں حسن سلوک کی نصیحت کرتا ہے۔ اللہ آپ کو عورتوں کے بارے میں خیر خواہی کی نصیحت کرتا ہے۔ اللہ آپ کو عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی نصیحت کرتا ہے۔ اللہ آپ کو ماؤں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے۔ تمہاری بیٹیوں کے بارے میں، تمہاری بہنوں کے بارے میں، تمہاری پھوپھو کے بارے میں اور تمہاری خالاؤں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے۔‘‘ (طبرانی)

سیدنا سلیمان بن عمرو بن احوص بیان کرتے ہیں:

’’مجھے میرے والد نے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ تب آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، لوگوں کو یاد دہانی کرائی، انہیں وعظ ونصیحت کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

«اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ، لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، إِنَّ لَكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ، فَلَا يُوَطِّئْنَّ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ»

’’میں آپ کو عورتوں کے متعلق حسن سلوک کی نصیحت کرتا ہوں، وہ تمہارے ما تحت ہیں۔ ان پر زیادتی کا تم کوئی حق نہیں رکھتے، الا یہ کہ ان سے کوئی واضح گناہ سر زد ہو جائے۔ اگر ایسا ہو، تو بستروں میں ان سے دوری اختیار کر لو، اور انہیں ہلکی پھلکی سزا دو، اگر وہ آپ کی بات مان لیں، تو پھر ان پر زیادتی نہ کرو۔ عورتوں پر تمہارا حق ہے، اور تم پر ان کا حق ہے۔ عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ تمہارے بستروں پر ایسے شخص کو نہ بٹھائیں جو آپ کو نا پسند ہو، تمہارے گھروں میں ایسے لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ دیں جو آپ کو اچھے نہ لگتے ہوں۔ ان کا حق یہ ہے کہ تم کھانے اور لباس کے معاملے میں ان پر احسان کرو۔‘‘ (جامع ترمذی)

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنِّي ‌أُحَرِّجُ ‌عَلَيْكُمْ ‌حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ» (مستدرک حاکم)

’’میں دو ضعیف لوگوں کا حق ضائع کرنے سے تمہیں خبردار کرتا ہوں، ایک یتیم اور دوسری عورت۔‘‘

اے مسلمان بہنو! بے قراری، ضد ، شوہروں کے ساتھ بد تمیزی، گھروں کے راز فاش کرنا اور ذمہ داریاں ادا نہ کرنا، سوشل میڈیا پر نظر آنے والی حقیر چیزوں کا اثر قبول کرنے سے گھر خراب ہوتے ہیں، گھرانے ٹوٹتے ہیں، اور آپ کی زندگی پر ان چیزوں کے منفی اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ تو اپنے گھروں اور شوہروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔

سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا ‌صَلَّتِ ‌الْمَرْأَةُ ‌خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ» (مسند احمد)

اگر عورت اپنی پانچ نمازیں پڑھ لے، اپنے مہینے کے روزے رکھ لے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کر لے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے ، تو اسے کہا جاتا ہے: جس دروازے سے چاہو، جنت میں داخل ہو جاؤ۔‘‘

تو اے لوگو! زوجین کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانا، الفت کو ختم کرنے کی کوشش کرنا، ان کے درمیان فتنہ پیدا کرنا، ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کے خلاف کرنا، جدائی اور طلاق کا سبب بننا ایسا نا جائز کام ہے، جسے کرنے والے کو اس کے برے اثرات دیکھنا ہی پڑتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ مِنَّا ‌مَنْ ‌خَبَّبَ ‌امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا»

’’جو کسی عورت کواس کے شوہر کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم)

اے مسلمان عورت! اللہ سے ڈرو، شادی ایک مضبوط بندھن ہے، کسی معقول وجہ کے بغیر طلاق نہ مانگو۔ سیدنا ثوبان سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَيُّمَا امْرَأَةٍ ‌سَأَلَتْ ‌زَوْجَهَا ‌الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ مَا بَأْسٍ، لَمْ تُرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ” (مسند احمد)

جس عورت نے اپنے شوہر سے کسی معقول وجہ کے بغیر طلاق کا مطالبہ کیا، تو اسے جنت کی خوشبو تک نہیں آئے گی۔‘‘

بعدازاں! اللہ کے بندو! صبر عظیم ترین فضیلت ہے، تقرب کا بہترین ذریعہ ہے، جلیل القدر نیکی ہے۔ تو صبر کرو، برائی کرنے والے کو معاف کرو، ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرتے رہو۔ صبر، آسانی کی کنجی ہے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ درجات بلند کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾ (سورۃ البقرہ: 155)

’’صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دو۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (سورۃ الزمر: 10)

’’صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔‘‘

تو اے لوگو! صبر سے کام لو۔ صبر سے کام لو۔

﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ (سورۃ آل عمران: 133۔134)

’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ۔ جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘

اے اللہ! ہمیں صبر کا راستہ دکھا۔ ہمیں معافی، در گزر اور غصے پر قابو پانے کی توفیق عطا فرما۔ اپنی رحمت سے! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اے اللہ! ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنا اور ہمارے دلوں میں اسے مزین فرما۔ کفر، گناہ اور نافرمانی کو ہمارے دلوں میں ناپسند فرما۔ ہمیں کامیاب فرما!

اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدمی نصیب فرما! اے اللہ! اے دلوں کا حال بدلنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین کی طرف لے آ!

﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ (سورۃ آل عمران: 8)

’’پروردگار! جب تو ہمیں سیدھے رستہ پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے۔‘‘

اللہ آپ پر رحم فرمائے! درود وسلام بھیجو اس ہستی پر کہ جن پر درود وسلام بھیجنے کا حکم تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 56)

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح برکتیں نازل فرما، محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ تو بڑا قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں