زکوٰۃکے احکام ومسائل-حافظ زبیر خالد مرجالوی

إِنَّ الْـحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَّهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،أَمَّا بَعدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾(سورۃ البقرة : 277)

ارکان اسلام میں نماز کے بعد دوسرا اہم ترین رکن زکوٰة ہے۔ قرآن حکیم میں 82 مقامات وہ ہیں جہاں نماز اور زکوۃ کی فرضیت کا حکم یکجا وارد ہوا ہے۔ شریعت مطہرہ میں زکوۃ کی اہمیت کا اندازہ تنہا اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب نبی کریمﷺاس دنیا سے رخصت ہوئے تو سرزمین عرب میں ہر طرف فتنے سر اٹھانے لگے جن سے اسلامی ریاست کو نازک ترین صورت حال اور بحران کا سامنا کرنا پڑا تو اپنی سنگینی کے اعتبار سے سب سے بڑا چیلنج منکرین زکوٰۃ کا تھا۔ اسلامی تاریخ کے اس انتہائی نازک لمحے میں سیدنا ابوبکر صدیق نے کمال جرأت ایمانی سے اکثر صحابہ کے مشوروں کے علی الرغم اس بات کا ببانگ دہل اعلان کیا کہ جو کوئی نماز اور زکوۃ میں کسی قسم کی تفریق اور امتیاز روار کھے گا میں اس کے خلاف جہاد کروں گا۔ چنانچہ امیر المؤمنین ابو بکر صدیق نے باغیوں کے خلاف کھلم کھلا جہاد کیا اور ان کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہ آئی جب تک منکرین زکوٰۃ کی برپا کی ہوئی شورش پوری طرح فرونہ ہوگئی۔

زکوۃ کا بنیادی مقصد اپنے نفس کو ان آلائشوں سے پاک کرنا ہے جو مال کی محبت ،بخل اوردولت مندی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور ساتھ میں اپنے معاشرے کے ان لوگوں کو مضبوط کرنا جو مالی طور پر مستحکم نہ ہوں ۔

چونکہ زکوۃ کا ماہ رمضان کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے ، لوگ اس ماہ مبارک میں اپنے مال سے زکوۃ ادا کرتے ہیں تو اس مناسبت سے ہم زکوۃ ادا کرنے کا حکم، نہ دینے والوں کا بھیانک انجام ، زکوۃ کے احکام و مسائل اور مصارف زکوۃ کے بارے میں تفصیل بیان کریں گے۔

زکوٰۃ کے فوائد و ثمرات

1۔زکوۃ اسلام کا رکن ہے:

دین کے جن پانچ کاموں کو اسلام کے رُکن کی حیثیت حاصل ہے ان میں زکوۃ بھی ایک اہم رکن ہے جس کی ادائیگی کے بغیر اسلام مکمل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نےفرمایا:

«بُنِيَ الْإِسْلامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ» (صحیح بخاری:9؛صحیح مسلم: 111)

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہیں : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ)اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘

2۔زکوۃ کی ادائیگی ایمان کی دلیل :

دین اسلام میں زکوۃ کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اس کی ادائیگی کے بغیر انسان کا نہ ایمان مکمل ہوتا ہے اور نہ دینی اخوت قائم ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمان ربانی ہے:﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ ﴾(سورۃ التوبہ: 11)

’’سوا گر وہ تو بہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔‘‘

3۔ایمانی لذت کا باعث

اگر آپ ایمان کی لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہمیں سکون اور راحت پہنچائے تو اپنے مال سے زکوۃ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ چنانچہ سید نا عبداللہ بن معاویہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان: من عبد الله وحده وأنه لا إله إلا الله وأعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه»

’’تین کام ایسے ہیں جس نے وہ کر لیے اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا : جس نے اکیلے اللہ کی عبادت کی اور وہ (یہ عقیدہ رکھا کہ ) یقیناً اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور دلی خوشی سے اپنے مال کی زکوۃ دی۔‘‘ (صحيح الجامع: 3041 سلسلۃ الاحاديث الصيحہ: 1046)

4۔خوف وغم سے حفاظت کا سبب:

دنیا میں امن و سکون سے زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اپنے مال سے زکوۃ کی ادائیگی کرنا بھی ہے اور یہ سکون صرف دنیا تک ہی محدود نہیں ہوگا، بلکہ آخرت میں بھی انسان کو سکون نصیب ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ‎﴾ (سورۃ البقرة: 277)

’’یقینا جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی ، ان کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر ہے، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے۔‘‘

5۔کامیابی کی ضمانت:

زکوۃ کی ادائیگی حقیقی کامیابی کی ضمانت ہے۔ جیسا کہ ارشا در بانی ہے:

﴿الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ‎0 أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ ’’جولوگ نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘(سورۃ لقمان:۔54)

6۔حصول جنت کا موجب:

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ جسے کرنے سے مجھے جنت میں داخلہ میں جائے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

«تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ المَكْتُوبَةَ، وَتُؤْدِّي الزَّكَاةَ المَفْرُوضَةَ،وَتَصُومُ رَمَضَانَ»

’’تو اللہ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہرا، فرض نماز قائم کر ، فرض زکوۃ کی ادائیگی کر اور ماہ رمضان کے روزے رکھ۔‘‘

اس دیہاتی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان اعمال سے زیادہ نہیں کروں گا۔ جب وہ واپس مڑا تو نبی کریم ﷺنے فرمایا:

«مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا»

’’جس کو خواہش ہو کہ وہ جنتی آدمی کو دیکھے، اسے چاہیے کہ وہ اس کو دیکھ لے۔‘‘ (صحيح بخاری: 1397)

7۔صدقہ وزکوٰۃ سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی :

پورے دنیا کا سروے کر لیا جائے اور ساری دنیا کے مال لوگوں کی زندگی کو دیکھ لیا جائے اللہ نے صرف اس شخص کو زیادہ مال سے نوازا ہے جو لوگوں میں خرچ کرتا ہے۔ خرچ کرنے سے مال بڑھتا ہے، مال میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ جیسا کہ

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْو، إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ الله»

’’صدقہ کسی مال کو کم نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے کی وجہ سے بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے لیے جھکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے بلند کر دیتے ہیں۔‘‘(صحیح مسلم: 2588)

8۔زکوۃ مال کا شر ختم کرتی ہے:

مال بسا اوقات انسان کے لیے شر لاتا ہے۔ مال کی وجہ سے انسان کے لیے بسا اوقات پریشانیاں اور مصیبتیں آتی ہیں ۔ مگر اللہ کے راہ میں مال خرچ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس شر کو ختم کر کے مال میں خیر و برکت نازل فرما دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا جابر فرماتے ہیں:

«قال رجل يا رسول الله أرأيت إن أدى الرجل زكاة ماله فقال رسول الله ﷺ: «من أدى زكاة ماله فقد ذهب عنه شره »

’’ایک آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے ، اگر آدمی اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے؟

تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی تو یقیناً اس سے اس (مال) کا شرچلا گیا۔‘‘ (صحيح الترغيب : 743)

9۔صدقہ و خیرات سے اللہ کا غضب ختم ہو جاتا ہے:

انسان ہونے کے ناطے انسان سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور ان غلطیوں کی سزا بسا اوقات اللہ انسان کو دنیا میں بھی دے دیتا ہے۔ اللہ کو راضی کرنے کے جو اسباب ہیں ان میں سے ایک سبب مال سے زکوۃ ادا کرنا بھی ہے۔ چنانچہ سیدنا انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا:

صدقة السر تطفئ غضب الرب

’’بلاشبہ صدقہ پروردگار کا غضب ختم کر دیتا ہے۔‘‘ (سلسلہ احاديث صحيحہ: 1908)

10۔صدقہ روز قیامت مومن پر سائبان ہوگا:

روز قیامت جب سورج انسان کے بہت قریب آجائے گا۔ گرمی انسان کو ستارہی ہوگی ، گرمی کے باعث لوگ اپنے گناہوں کے سبب پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ ایسی صورت میں صدقہ انسان کے اوپر سائبان کا کام کرے گا اور انسا کو دھوپ سے بچا کر سایہ مہیا کرے گا۔

چنانچہ سید نا مرثد بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا، آپﷺ نے فرمایا:

إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ

’’بلا شبہ روز قیامت مومن پر اس کا صدقہ سایہ کرے گا۔‘‘ (مسند احمد: 579.29(18043)

زکوۃ نہ دینے والوں کا انجام

چونکہ زکوۃ ادا کرنا دین اسلام کے بنیادی اراکین میں شامل ہے اور وہ لوگ جو ز کوۃ ادا نہیں وہ مسلمانوں کی دینی بھائی نہیں ہو سکتے ، جیسا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ (سورة التوبہ: 11)

’’سو اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوۃ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔‘‘

اسی طرح مانعین زکوۃ کو رسول اللہ ﷺنے جہنم کی وعید سنائی ہے، جیسا کہ سیدنا انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مانع الزكاة يوم القيامة في النار

’’زکوۃ ادا نہ کرنے والا روز قیامت آگ میں ہوگا۔‘‘

(صحيح الترغيب : 762)

اس اخروی عقوبت کے علاوہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ایسے لوگوں کو سزا دیتا ہے جو اللہ کے دیے ہوئے مال سے زکوۃ ادا نہیں کرتے ۔ جیسا کہ فرمان نبوی ہے:

مَا مَنَعَ قَوْمِ الزَّكَوةَ إِلَّا ابْتَلَاهُمُ اللهُ بِالسِّنِينَ

”جو قوم بھی زکوۃ سے انکار کرتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے بھوک اور قحط سالی میں مبتلا کر دیتا ہے۔‘‘ (صحيح الترغيب للألباني: 1؍467)

ایک دوسری حدیث میں ہے:

«وَلَمْ يَمنعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِيم الَّا مَنَعُوا القَطرَ مِنَ السَّمَا وَلَو لَا البَهَائِمَ لَم يمطروا﴾

’’جولوگ اپنے مالوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتے وہ باران رحمت سے محروم کر دیے جاتے ہیں ۔ اگرچوپائے نہ ہوں تو ان پر بھی بھی بارش کا نزول نہ ہو۔‘‘ ( سنن ابن ماجہ: 4019)

روپے پیسے کی زکوۃ نہ دینے والا :

جولوگ دنیا میں رہتے ہوئے اپنا بینک بیلنس بڑھاتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد ہی مال کو جمع کرنا ہے، مگر مال جمع کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی راہ میں اپنے مال سے زکوۃ ادا نہیں کرتے ، ان کے بارے میں رب تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاتُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (سورۃ آل عمران: 180 )

’’جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ عطا کیا ہے اس میں وہ اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے بدترین ہے۔ عنقریب روز قیامت یہ اپنی کنجوسی کی وجہ سے کے طوق ڈالے جائیں گے۔ آسمانوں اور زمین کی وراثت اللہ ہی کے لیے ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ ‘‘

رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

«مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَلَمْ يُوَّدٌ زَكَاتَهُ مُثْلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ – يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ – ثُمَّ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنُرُكَ»(صحیح بخاری: 1403)

’’قیامت کے روز زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کا مال و دولت گنجا سانپ ( یعنی انتہائی زہریلا ) بن جائے گا اس کی آنکھوں کے پاس دوسیاہ نقطے ہوں گے پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑے گا اور کہے گا : میں تیرا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘

سوناو چاندی کی زکوۃ نہ دینے والا :

سونا اور چاندی کی زکوۃ نہ ادا کرنے والوں کے بارے میں رب تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ 0‏ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ﴾(سورۃ التوبہ:36۔37)

’’اور جولوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے ، جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئےخزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ، لَا يُؤدِّي مِنْهَا حَقهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، صُفْحَتْ لَهُ صَفَاحُ مِنْ نَارٍ، فَأَحْيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ (صحیح مسلم: 987، سنن ابی داؤد: 1158)

’’جس شخص کے پاس بھی سونا چاندی ہے اور وہ زکوۃ ادا نہیں کرتا تو روز قیامت اس کے لیے سونے چاندی کے پترے آگ سے بنائے جائیں گے ، دوزخ کی آگ میں انہیں تپایا جائے گا پھر ان پتروں سے اس کے پہلوؤں، اس کی پیشانی اور اس کی کمر کو داغا جائے گا۔ پچاس ہزار سال کے دن میں بندوں میں فیصلے ہونے تک جب بھی ان پتروں کو (اس کے بدن سے ) دوزخ کی جانب پھیرا جائے گا، ان کو اس (کے جسم ) کی طرف ( تسلسل کے ساتھ ) لوٹا یا جائے گا۔‘‘

اونٹوں کی زکوۃ نہ دینے والا :

آپ ﷺ سے سوال کیا گیا اے اللہ کے رسول ! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

”جو اونٹوں والا اونٹوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، جب کہ اونٹوں کے بارے میں یہ حق بھی (مستحب) ہے کہ جس دن ان کو پانی پلانے کے لیے لے جایا جائے ان کا دودھ دھو کر (فقر او مساکین میں ) تقسیم کیا جائے تو جب قیامت کا دن ہو گا تو ز کوۃ نہ دینے والے اونٹوں کے مالک کو ( چہرے کے بل ) اونٹوں کے ( پامال کرنے کے لیے چٹیل میدان میں گرا دیا جائے گا ، اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور کثیر تعداد میں ہوں گے ان میں سے کوئی بچہ بھی غائب نہیں ہو گا۔ چنانچہ اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے اور اپنے دانتوں کے ساتھ کاٹیں گے جب اس پر سے پہلا دستہ گزرے گا، پھر اس پر سے دوسرا دستہ گزرے گا (یعنی یہ عمل تسلسل سے اس روز تک قائم رہے گا ) جس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا اور یہ ہر شخص اپنے مقام کا ملاحظہ کر لے گا کہ وہ جنت میں ہے یا جہنم میں۔‘‘ (صحیح مسلم: 987، سنن ابی داؤد: 1658)

گائے کی زکوۃ نہ دینے والا :

پھر سوال کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’گائے بکریوں کا جو مالک بھی ان کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کو ان کے لیے چٹیل میدان میں (منہ کے بل ) گرایا جائے گا، جانوروں میں سے کوئی غائب نہیں ہوگا ان میں زخم دار سینگوں والا اور ٹوٹے ہوئے سینگوں والا کوئی جانور نہ ہوگا۔ جانور اس کو سینگ ماریں گے اور کھروں کے ساتھ اسے پامال کریں گے جب اس پر پہلا دستہ گزرے گا تو اس پر آخری دستہ (اس روز تک تسلسل کے ساتھ گزرتا رہے گا جس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہے یہاں تک کہ انسانوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا تو ہر شخص اپنا ٹھکانادیکھ لے گا کہ جنت میں ہےیا دوزخ میں۔‘‘(صحیح مسلم: 987، سنن أبی داؤد : 1658 )

وہ اشیاء جن پر زکوٰۃ واجب ہے

سب سے پہلے تو یہ جانا ضروری ہے کہ زکوۃ دینے کی شروط کونسی ہیں، تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے۔ اس کی دو شرطیں ہیں:

1۔وہ مال نصاب کو پہنچ جائے۔

2۔اس پر سال گزر جائے۔

جس مال میں یہ شروط پائی گئیں، اس کی زکوۃ دینا فرض ہو جائے گا۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ کس کس چیزپر زکوۃ دینا فرض ہے:

1۔سونا ( جس کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہو ):

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، وَحَالَ عَلَيْهَا الْخَوْلُ، فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ

’’سو جب تیرے پاس 20 دینار ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں نصف دینار زکوۃدینا فرض ہے۔‘‘(سنن ابی داؤد: 1573)

موجودہ دور کے حساب سے ساڑھے سات تولے سونا بنتا ہے، اور اگر اسے گراموں میں دیکھا جائے تو قریبا 85 گرام بنتا ہے۔ زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ جب سونا ساڑھے سات تولے یا اس سے زیادہ ہو جائے گا تو زکوۃ دیتے وقت فی تولہ سونے کی قیمت معلوم کر لی جائے اور جتنی رقم بنے اس میں اڑھائی فیصد (فی ہزار، 25 روپے ) کے حساب سے زکوۃ ادا کر دے۔

2۔چاندی ( جس کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہو ):

سید نا علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهُم، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ»

’’جب تیرے پاس دو سو درہم ہو جائیں اور ان پر سال بھی گزر جائے تو ان میں پانچ درھم ( زکوۃ)دینا ہے۔‘‘(صحیح سنن ابی داؤد: 1573)

200 دینار میں سے پانچ درہم زکوۃ دینا فرض ہے اور یہ تقریبا 52 تولے چاندی بنتی ہے۔ جب آدمی کے پاس 52 تولے چاندی ہو تو اس کا چالیسواں حصہ زکوۃ دینا فرض ہے۔ روپے پیسے اور ریال ڈالر وغیرہ کی زکوۃ بھی چاندی کے حساب سے ہی ادا کی جائے گی۔ موجودہ دور کے حساب سے اگر چاندی کی زکوۃ نقدی میں دینی ہو، تو ساڑھے 52 تولے چاندی کی جنتی رقم بنتی ہو ( مثلا اتنی چاندی 6 ہزار میں آتی ہو تو اڑھائی فیصد کے حساب سے 6 ہزار میں ڈیڑھ سوروپے زکوۃ بنے گی۔

3۔مال تجارت ( جس کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو )

ایک حدیث پیش کی جاتی ہے:

فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ يَأْمُرُنَا أَن تَخَرُجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِينَ عُد للبيعِ»

’’رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم ہر اس سامان میں سے زکوۃ نکالیں ، جو تجارت کے لیے تیار کریں۔‘‘ (ضعیف سنن أبی داؤد : 1562)

یہ روایت سند کے اعتبار سے اگر چہ ضعیف ہے مگر جمہور علما سامان تجارت کو اموال ہی میں شمار کر کے تجارتی سامان میں بھی زکوۃ کا اثبات کرتے ہیں۔ سامان تجارت کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ سال بسال جتنا تجارتی مال دکان، مکان، یا گودام وغیرہ میں ہو، اس کو بھی شمار کر لیا جائے۔ نقد رقم کا روبار میں لگا ( یعنی زیر گردش ) اور سامان تجارت کی تخمینی قیمت ، سب ملا کر جتنی رقم ہو اس پر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ ادا کر دی جائے۔

تا ہم کوئی مال تجارت اسی طرح کا ہو کہ وہ اکٹھا خریدا، پھر وہ سال یا دو سال فروخت نہیں ہوا ، تو اس مال کی زکوۃ اس کے فروخت ہونے پر صرف ایک سال کی ادا کی جائے گی ، وگر نہ عام مال جو دکان میں فروخت ہوتارہتا ہے اور نیا اسٹاک آتا رہتا ہے، وہاں چونکہ فردا فردا ایک ایک چیز کا حساب مشکل ہو جاتا ہے،اس لیے سال بعد سارے مال کی بہ حیثیت مجموعی قیمت کا اندازہ کر کے زکوۃ دے دی جائے ۔ (واللہ اعلم )

اگر کوئی رقم کسی کاروبار میں منجمد ہوگئی ہو، جیسا کہ بسا اوقات ایسا ہو جاتا ہے اور وہ رقم دو تین سال یا اس سے بھی زیادہ دیر تک پھنسی رہتی ہے، یا کسی ایسی پارٹی کے ساتھ آپ کو معاملہ پیش آجاتا ہے کہ کئی سال آپ کو رقم وصول نہیں ہوتی تو ایسی ڈوبی ہوئی رقم کی زکوۃ سال بہ سال دینی ضروری نہیں۔ جب رقم وصول ہو جائے ، اس وقت ایک سال کی زکوۃ ادا کر دی جائے ، وہ جب بھی وصول ہو ۔ (واللہ اعلم)

یادر کھیے! ایسا گھر یلو سامان جو زائد از ضرورت ہو، اس پر بھی زکوۃ دینا پڑے گی کیونکہ یہ بھی ایک قسم کاپڑا ہوا مال ہے۔

4۔گائے ،اونٹ بھینس اور بکریاں وغیرہ:

مویشیوں کی زکوۃ کی تفصیل پیش خدمت ہے:

1۔اونٹوں کی زکوۃ:

سید نا ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ مِنَ الْإِبِلِ»(صحيح بخاری : 1447)

’’پانچ اونوں سے کم میں زکو ٰۃ نہیں۔‘‘

اونٹ کی تفصیلی زکوۃ کے حوالہ سے سیدنا انس کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ 5اونٹ سے لے کر24 اونٹوں تک ہر پانچ کے بعد ایک بکری

25 سے لے کر 35 اونٹوں تک ایک سال کی اونٹنی

36 سے لے کر 45انٹوں تک دو برس کی اوٹنی

46 سے لے کر 60 اونٹوں تک تین برس کی اونٹنی جو جفتی کے قابل ہو۔

61 سے لے 75 اونٹوں تک چار برس کی اونٹنی

76 سے لے کر 90 اونٹوں تک دو برس کی دو اونٹنیاں

91 سے لے کر 120اونٹوں تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں

120 سے زائد ہوتو ہر چالیس پر دو برس کی اور ہر پچاس پر تین برس کی اوٹنی ۔ (صحیح البخاری: 1354)

2۔گائے کی زکوٰۃ :

سیدنا ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فِي ثَلَاثِينَ مِنَ البَقَرِ تَبِيعُ أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ»

’’ہر تیس گایوں میں ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی (زکوۃ) ہے اور چالیس گایوں میں دودانت کا ( دوسالہ )جانور ہے۔‘‘(جامع ترمذی: 622؛ سنن ابن ماجہ: 1804)

بعض علمانے گائے پر قیاس کرتے ہوئے بھینس اور بھینسے کی زکوٰۃ بھی بیل اور گائے کی طرح بیان کی ہے۔

4۔بکریوں کی زکوۃ:

سیدنا انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’بکریوں کی زکوۃ کے متعلق حکم یہ ہے کہ جنگل میں چرنے والی بکریاں جب چالیس ہو جائیں تو ایک 120 تک ایک بکری دینا ہوگی۔ 121 سے 200 تک دو بکریاں اور 201 سے تین بکریاں ضروری ہیں اور اگر بکریاں 300 سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری دینا ہوگی۔‘‘ (صحیح بخاری: 1454)

یا درکھیے! چھترا اور چھتری، مینڈھا اور مینڈھی کی زکوۃ وہی ہے جو بکرا اور بکری کی ہے۔

4۔خزینہ یا دفینہ کی زکوٰة:

سید نا ابو ہریرہ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

«وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُس»

’’اور زمین میں مدفون خزانے میں پانچواں حصہ (زکوۃ) ہے۔‘‘ (صحيح بخاری: 1499)

5۔شہد کی زکوٰۃ:

سیدنا ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَزُقٌ رَقُ»

’’اور شہد کے ہر دس مشکیزوں میں ایک مشکیزہ زکوۃ ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 629، صحيح الجامع: 4252)

جن سے زکوۃ ساقط ہے:

چند چیزوں سے شریعت اسلامیہ نے زکوۃ ساقط کر دی ہیں، وہ پیش خدمت ہیں:

1۔گھوڑ اور غلام ۔ (صحیح بخاری: 1464)

2۔کھیتی باڑی کرنے والے جانور۔(صحیح ابن خزیمہ: 292)

3۔سبزیاں۔ (صحيح الجامع: 5511)

5۔زمین کی پیداوار، غلہ، اناج ، پھل اور سبزیاں وغیرہ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾(سورة الانعام : 141)

’’اور کھیتی کاٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو۔‘‘

مصارف زکوٰة

ارشادربانی ہے:

﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾

سورۃ التوبہ کی اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے آٹھ قسم کے لوگوں کو زکوۃ کا مستحق قرار دیا ہے، جس کی تفصیل مختصرا یہ ہے:

1۔فقیر: فقیر وہ ہے جومحتاج اور ضرورت مند ہو، جس کے پاس درہم ودینار، رو پیرو پیسہ، گھر بار، مال وزر نہ ہو اور نہ اس کا کوئی کاروبار ہو ، قلاش اور خستہ حال ہو۔

2۔مسکین: مسکین وہ ہے جس کے پاس ضروریات زندگی کے لئے ناکافی مال ہواور بیشک ایسے شخص کا گھر بار اور کاروبار بھی ہو مگر پھر بھی وہ باوقار زندگی کے لئے ناکافی ہو۔

3۔عاملين زكوة: زکوۃ کا تیسرا مصرف ”عاملین زکوۃ ہیں جو زکوۃ کی وصولی اور اس کے حساب کتاب کے ذمہ دار ہیں۔

4۔تالیف قلب: ایسے کا فر کوزکوۃ میں سے مال دیا جا سکتا ہے جس سے یہ توقع ہو کہ وہ مال لے کر مسلمان ہو جائے گا اور اہل ایمان کے دفاع میں تعاون کرے گا اس کے علاوہ نو مسلم کو بھی اسلام پر پختہ کرنے کے لیے زکوۃ میں سے مال دیا جا سکتا ہے۔

5۔گردنیں آزاد کرانا: یہ ان لوگوں کی آزادی کے لئے ہے جو غلام ہیں۔ ( آج کل غلاموں کا سلسلہ نہیں ہے ) یا دشمن کی قید میں ہیں۔

6۔ادائے قرض: مقروض لوگوں کو قرض کے بوجھ سے نجات دلانا، مقروض غریب ہوں، فقیر ہو یا بے روزگار، زکوۃ کی اس مد میں سے اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے۔

7۔فی سبیل اللہ: اس سے جہاد کی جملہ ضرورتوں کو پورا کیا جاسکتا ہے، اسلحہ خریدا جاسکتا ہے، زیر تربیت عسکری مجاہدین کی خوراک لباس، علاج معالجہ وغیرہ پر زکوۃ کو خرچ کیا جا سکتا ہے۔

8۔مسافر : زکوۃ کی رقم کا حقدار صرف غریب مسافر ہی نہیں بلکہ غنی اور دولت مند شخص بھی اگر دوران سفر زاد راہ اور دیگر سفری ضروریات کا محتاج ہو جائے تو اس پر بھی زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے تا کہ وہ باوقار طور پر منزل تک پہنچ سکے۔

تبصرہ کریں