ضعیف اور موضوع روایات اور امت پر ان کے برے اثرات۔ سعید الرحمٰن بن نور العین سنابلی

دین اسلام مذہب الٰہی ہے۔ اس کی بنیادیں دو اصول پر قائم ہیں۔ ایک قرآن کریم اور دوسرا سنت نبویہ۔ سنت نبویہ بھی اسی طرح سے قابل حجت ہے، جس طرح سے قرآن کریم حجت ہے، لیکن ہر زمانے میں یہ دونوں چیزیں دشمنان اسلام کی ہرزه سرائیوں اور دشنام طرازیوں کے نشانے پر رہی ہیں۔ خاص طور پرسنت کے ساتھ روز بروز فتنے وجود پذیر ہوئے۔ کبھی اس سنت کو نا قابل قبول قرار دیا گیا، کبھی اس سنت میں ایسی چیزوں کوسنت کا نام دے کر داخل کرنے کی کوشش کی گئی، جو سنت کا حصہ نہیں ہیں ۔ چنانچہ مختلف ادوار میں حدیثوں کو غیرمعتبر قرار دینے کی دشمنان اسلام کی کوششیں جاری رہیں، جس کی وجہ سے ان حدیثوں میں ایسی رطب ویا بس بھی داخل ہو گئیں جو دشمنان اسلام کی پروردہ تھیں ۔ستم یہ ہے کہ اسلامی ماحول اور معاشرے میں لوگوں نے اس سازش کو نہ سمجھا۔ عام وخاص نے حدیثوں کے مابین امتیاز کرنا ترک کردیا ، جس کی وجہ سے امت کئی طرح کی برائیوں اور پریشانیوں کا شکار ہوگئی۔ زیرِ نظر مضمون میں انہی مفاسد اور مضرات پر مختصراً روشنی ڈالی گئی ہے۔

موضوع حديث

موضوع اس روایت کو کہتے ہیں جسے گھڑ کر رسول اکرمﷺ کی طرف منسوب کردی گئی ہو۔ اس حدیث کی روایت کسی بھی انسان کے لئے جائز نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی محض اس لئے روایت کررہا ہو کہ امت کے افراد اس کو پہچان جائیں اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہوجائیں۔ اسی طرح سے ضعیف حدیث پرعمل نہیں کیا جائے گا ،نہ تو عقائد میں اور نہ ہی احکام میں۔ اس تعلق سے علمائے امت کا اتفاق ہے۔

جہاں تک فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب میں ضعیف حدیث کی حجیت کا مسئلہ ہے تو یہ مختلف فیہ ہے۔ ویسے اس تعلق سے راجح بات یہی ہے کہ ایسی حدیثوں پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ بعض علمائے کرام کہتے ہیں کہ فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے باب میں ضعیف حدیث مندرجہ ذیل شروط کی بنیاد پر قابل عمل ہوسکتی ہے :

(1)اس حدیث میں پایا جانے والاضعف شدید اور سخت نہ ہو۔

(2) وہ حدیث کی معمول بہ(جس پرعمل ہو) حدیث کے تحت آتی ہو۔

(3)اس پرعمل کرتے وقت انسان اس کے ثابت ہونے کا اعتقاد نہ رکھتا ہو بلکہ وہ صرف اور صرف احتیاط کی بنیاد پر عمل کر رہا ہو۔

(4) انسان اسے بصیغۂ تمریض (مجہول) روایت کرے۔ جسے روی (روایت کی گئی ہے)نقل ( نقل کی گئی ہے) اور قیل ( کہی گئی ہے) وغیرہ

اس تعلق سے بات یہی ہے کہ مطلقاً ضعیف حدیث پرعمل کرنا جائز ہے۔ یہی یحییٰ بن معین ، ابو بکر بن عربی ،امام بخاری ، امام مسلم ، ابن حزم اور امام البانی﷭ وغیرہ کا مذہب ہے۔(تفصیل کے لئے ملاحظ ہو: تحقيق القول بالعمل بالحديث الضعيف للدكتور عبدالكريم بن عبدالرحمن العثيم)

موضوع حدیث کی پہچان

موضوع حدیث کو درج ذیل وجوہات کی بناء پر جانا جاتا ہے:

(1) واضع (گھڑنے والا) از خود اعتراف کرلے، جیسے میسرة بن عبدربہ۔ اس نے کہا تھا کہ میں لوگوں میں دین کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لئے حدیثوں کوگھڑا کرتا ہوں۔

(2)رکاکتِ الفاظ، معنی کی خرابی، واضح تصنع یاکتاب وسنت اور عقل سلیم کے صریح مخالف ہونے کی وجہ سے بھی پائی جاتی ہے۔ وغیرہ

حدیث گھڑنے کے اسباب

(1) لوگوں کے دین کو بگاڑنے کے لئے دشمنان اسلام سے اسی چور دروازے کا سہارا لیا ہے۔ جیسے کریم بن ابو عوجاء، جب اس کے سر کو قلم کیے جانے کا فیصلہ صادر کیا گیا تو اس موقعے پر اس نے کہا: تمہارے دین میں، میں نے 4 ہزار ایسی حدیثیں گھڑی ہیں، جن میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا ہے۔

حماد بن زید نے کہا ہے کہ زنادقہ (بددینوں) نے دین اسلام کے بارے میں 14 ہزار جھوٹی حدیثیں گھڑی ہیں۔

(2) باطل افکار و خیالات کے حاملین، جن کے پاس اپنے موقف کے اثبات کے لئے کتاب وسنت کی کوئی دلیل نہیں ہوا کرتی تھی تو وہ لوگ اپنے موقف کے موافق جھوٹی حدیثیں گھڑ کر اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کردیا کرتے تھے اور ان جھوٹی حدیثوں سے اپنا الو سیدھا کیا کرتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن زید مقری بیان کرتے ہیں کہ ایک بدعتی تائب ہوا اور جب وہ راہِ ر است کا پابند ہوگیا تو اعلانیہ طور پر کہنے لگا کہ اس حدیث کو جس آدمی سے اخذ کرتے ہو، اس کی حالت کو دیکھ لیا کرو۔ کیونکہ ہم اپنی رائے کو ثابت کرنے کے لئے حدیثیں گھڑا کر تے تھے۔

مامون بن احمد ہروی سے کہا گیا: کیا آپ امام شافعی اور خراسان میں ان کے پیروکاروں کی حالت کو نہیں دیکھتے ؟ اس نے کہا: ہم سے احمد بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن معدان نے اور انہوں نے سیدنا انس بن مالک سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ میری امت میں ایک شخص ہوگا، جس کا نام محمد بن ادریس ہوگا، وہ میری امت کے لئے ابلیس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوگا اور میری امت میں ایک انسان ایسا بھی ہوگا، جس کا نام ابوحنیفہ ہوگا، وہ میری امت کے لئے چراغ کے مثل ہوگا۔ (لسان المیزان: 5؍7)

اسی طرح سے محمد بن عکاشہ کرمانی نے کیا۔ اس شخص کو بتایا گیا کہ کچھ لوگ رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہیں؟ تو اس نے کہا: ہم سے واضح بن مسیب نے ، ان سے ۔۔۔ بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بیان کیا گیا۔۔۔ جو کوئی رکوع میں اپنے ہاتھوں کو اٹھائے گا، اس کی نماز نہیں ہوگی۔

واضح بات ہے کہ یہ امر سنت کے خلاف ہے کیونکہ متواتر حدیثوں سے ثابت ہے کہ رکوع کے وقت رفع الیدین سنت ہے۔

(3) قصہ گو حضرات اپنے قصے اور کہانیوں میں مال اور روزی روٹی کمانے کی غرض سے حدیثوں کو گھڑا کرتے تھے۔

امام ابن حبان ﷫ بیان کرتے ہیں کہ گردہ مسجد میں گئے۔ نماز کے بعدایک جوان کھڑا ہوا اور کہا: ہم سے ابوخلیفہ نے، ان سے ابوالولیدنے، وہ شعبہ سے، وہ قتادہ سے اور وہ انس بن مالک سے بیان کرتے ہیں ۔۔۔ اس کے بعد اس شخص نے ایک حدیث بیان کی۔ امام ابن حبان ﷫کہتے ہیں کہ جب وہ شخص اپنے وعظ سے فارغ ہوا تو میں نے اس سے پوچھا: ابوحنیفہ کو تو نے دیکھا ہے کیا؟ اس نے کہا نہیں۔ میں نے پوچھا: پھر ان کے حوالے سے حدیث کیسے بیان کر رہا ہے؟ اس نے کہا: ہم سے بحث کرنا بھی قلتِ مروت کا شاخسانہ ہے۔ مجھے سند یاد ہے۔ میں جب بھی کوئی حدیث سنتا ہوں، اس کی سند ملا لیتا ہوں۔ اس واقعے کو احمد شاکر نے ’البعث الحثیث‘ النوع (21) میں ذکر کیاہے۔

4۔ بعض علمائےسوء نے بھی اپنے مفاد کی حصولیابی، بادشاہوں کی قربت کے حصول اور سیاسی مقاصد کی بازیابی کے لئے اسی طریقے کو اختیار کیا کہ انہوں نے جھوٹی حدیثوں کو گھڑا اور غلط فتوؤں کا سہارالیا۔ جیسا کہ ایک بار غیاث بن ابراہیم کوفی عباسی خلیفہ مہدی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت خلیفہ جو کبوتروں کا حد درجہ شوقین تھا، ایک کبوتر سے کھیل رہا تھا۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر غیاث نے کہا:ہم سے فلاں نے اور اس نے فلاں سے روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

« لَا سَبَقَ إِلَّا فِيْ نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ أَوْ جُنَاحٍ»

’’اس نے خلیفہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حدیث میں کلمۂ ’جناح‘ کااضافہ کرديا۔ ‘‘

(5)بعض صوفی اور زاہدوں نے بھی لوگوں کے اندر بدعملی دیکھ کر حدیثوں کو گھڑنے کی رسم بد ایجاد کی ۔ چنانچہ انہوں نے نیک جذبے سے سرشار ہو کر اس غلط کام کی انجام دہی کی، جس کی وجہ سے تاریخ نے اپنے دامن میں انہیں جھوٹوں اور حدیث گھڑنے والوں کے زمروں میں شمار کیا ہے۔ دراصل یہ اس جماعت کی فکری کج روی تھی ورنہ شریعت اسلامیہ رسول گرامیﷺ پر مکمل ہوگئی تھی اور اس میں بدعملوں کو عامل بالدین بنانے، گنہگاروں میں احساس ندامت پیدا کرنے اور بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ راست پر لانے کے سلسلے میں بھر پور ہدایات موجود ہیں۔ لہذا اس دین میں اس طرح کی حماقتوں کو انجام دے کر لوگوں کے دلوں میں دین کی بیداری پیدا کرنا، گویا اس بات کا پتہ دینا ہے ، کہ نعوذ باللہ دین الٰہی ناقص ہے اور اس کا کوئی خاص گوشہ تشنہ ہے۔ ایسے لوگوں کی فہرست میں ’’نوح الجامع“ کا نام سرفہرست ہے۔ جس نے قرآن کی ہر ہر سورت کی فضیلت میں حدیثیں گھڑیں۔

(6) ایسا بھی ہوا کہ کوئی شخص کسی خاص پیشے والوں سے کسی وجہ سے نفرت اور بغض رکھا کرتا۔ چنانچہ وہ اسی نفرت اوربغض سے سرشار ہو کر اس خاص پیشے والوں کی مذمت اور اس پیشے کی قباحت میں حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ امام حاکم﷫ نے روایت کیا ہے کہ سیف بن عمر تمیمی نے بیان کیا کہ ایک دن میں سعد بن طریف کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں معلم کے پاس سے اس کا بیٹا روتا ہوا آیا۔ سعد نے پوچھا کہ بیٹے ! کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ تم نے مجھے مارا ہے۔ سعد نے کہا: آج میں اس کو رسوا کروں گا۔ مجھ سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس نے مرفوعا بیان کیا ہے کہ تمہارے بچوں کے معلم سب سے برے لوگ ہیں۔ ان میں یتیموں کے تئیں سب سے کم محبت ہوتی ہے اور یہ مسکینوں پر سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔

اسی طر ح سے کوئی شخص پولیس والوں سے نفرت کیا کرتا تھا تو اس نے یہ حديث گھڑی کہ میں جنت میں داخل ہواتو اس میں ایک لومڑی دکھائی دی۔ میں نے کہا:جنت میں لومڑی؟ اس نے کہا: میں نے ایک پولیس والے کے بچے کو کھایا تھا، اس وجہ سے میں جنت کی مستحق ٹھہری ہوں۔

(7) مصلحت کی حصولیابی

٭ کسی اندھے نے یہ حدیث گھڑی ہے کہ جو کوئی انسان 40 قدم کسی اندھے کی راہنمائی کردے گا، وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔

ایک شخص نے یہ حدیث گھڑی: ”جب عورت اپنے شوہر کے کپڑوں کو دھوئے گی تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں 2 ہزارنیکی لکھے گا۔‘‘

٭ کسی میوه فروش نے حدیث گھڑی:”کھانے سے پہلے میوے کھایا کرو۔‘‘

٭ کوئی شخص بلیوں کو بیچتا تھا تو اس نے یہ حدیث گھڑی کہ بلیوں سے محبت کرنا کمال ایمان کی دلیل ہے۔

٭ ایک گلاب بیچنے والے شخص نے یہ حدیث گڑھی کہ جس کسی نے سرخ گلاب سونگھا اور اس نے درود نہیں بھیجاتو اس نے مجھے پر ظلم کیا۔

جو کوئی شخص میری خوشبو سونگھنا چاہتا ہو، اسے سرخ گلاب سونگھنا چاہئے۔

٭ کسی فقیر نے یہ حدیث گھڑی کہ بھوک کافر ہے اور اس کو قتل کرنے والا انسان جنتی ہے۔

سخاوی نے کہاہے کہ یہ ۔۔۔ حدیث ہے۔

٭ کسی خباز (نان بائی) نے یہ حدیث گھڑی کہ روٹی کی عزت کیا کرو، کیونکہ الله تعالیٰ نے اسے عزت بخشی ہے۔

(8) شہرت کا حصول

ہر زمانے اور ہر دور میں لوگ سستی شہرت کے حصول کے لئے مضحکہ خیزکام انجام دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح سے پہلے زمانے میں بھی بعض افراد سستی شہرت کے حصول کے لئے اس طرح کے اعمال کی انجام دہی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ عموماً کوئی نص لیتے تھے اوراس کے لئے کوئی نص گھڑ دیا کرتے تھے اور لوگوں کو یہ باور کراتے تھے کہ انہیں اس حدیث میں ایک خاص خصوصیت حاصل ہے کہ ان تک یہ حدیث کم واسطوں سے پہنچی ہے۔ اب چونکہ شروع سے ہی ایسی حدیثیں لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں، جس کی سند عالی ہو، یعنی جھوٹی سند ہو، لہٰذا وہ شخص اس ذریعے سے شہرت حاصل کرتا۔

موضوع حدیث کی مثالیں:

1۔ عزوبت کی مدح و ذم پر مشتمل احادیث:

جیسے حدیث: شادی شدہ انسان کی دو رکعتیں غیرشادی شدہ انسان کی 70 رکعت نمازوں سے افضل اور بہتر ہیں۔ (الفوائد المجموعہ ، ح (6) ص(133)، اسی طرح سے وہ حدیث جس میں ہے کہ تم میں سب سے پہلے لوگ وہ ہیں، جو شادی شدہ نہ ہوں۔

2- کسی چیز کی تشہیر پر مشتمل احادیث:

جیسے: تربوز کا پانی (رحمت) اور اس کی مٹھاس جنت کی مٹھاس کی طرح ہے۔

امام ابن جوزی﷫ کے بقول: تربوزے کی فضیلت میں وارد کوئی بھی حدیث ثابت نہیں ہے، البتہ اس تعلق سے صرف اتنی بات ثابت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے کھایا ہے۔ (الفوائد المجموعہ: ص179)

٭ جنتیوں کے کھانے کا سردار گوشت ہے۔

٭ گائے کی عزت کیا کرو کیونکہ یہ جانوروں کی سردار ہے۔

٭ رسول اکرم ﷺکی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے آپ سے کم بچوں کی شکایت کی تو آپ نے اسے انڈا اور پیاز کھانے کی ہدایت کی۔

٭ شہد کھایا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جس گھر میں شہد ہوتا ہے، اس گھر کے لوگوں کے لئے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

٭ پگڑی پہن کر نماز پڑھنا، 10 ہزار نیکیوں کا ذریعہ ہے۔

٭ انگوٹھی پہن کر پڑھی جانے والی ایک نماز ، بغیر انگوٹھی کی 70نمازوں سے بہتر ہے۔

3۔ نبی ﷺ کی فضیلتوں پر مشتمل احادیث:

٭ سیدنا جبریل میرے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کیا ہے اور کہا ہے کہ میں نے جہنم کی آگ کو اس ریڑھ کی ہڈی پر حرام قرار دے دیا ہے، جس نے آپ کو گرایا ہے۔ اس پیٹ پر بھی جہنم کی آگ کو حرام قرار دیا ہے۔ جس نے بطور حمل آپ کو اٹھایا اور اس گود پر بھی جہنم کی آگ کو حرام قرار دیا ہے، جس نے آپ کی کفالت فرمائی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی سے مراد آپ کے والدِ گرامی عبداللہ ہیں۔ پیٹ سے مقصودآپ کی والدہ آمنہ ہیں اور گود سے عبد المطلب مراد ہیں۔

٭ میں اپنی ماں کے قبر کے پاس گیا اور الله تعالیٰ سے ان کے زندہ کئے جانے کی دعا مانگی تو الله تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا تو وہ مجھ پر ایمان لائیں۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے انہیں پہلی حالت پرلوٹا دیا۔

٭ اسی طرح سے وہ حدیث، جس میں ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ”اگر آپ نہ ہوتے تو مخلوقات کو پیدا نہ کرتا۔‘‘

4۔مہینوں اور دنوں کی فضیلتوں میں وارد احادیث

٭ ماہ ر جب کے دنوں کے روزے، راتوں کے نفل، اس مہینے میں بکثرت صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب اور عمرہ کرنے کی فضیلت کے تعلق سے وارد احادیث، جیسے حدیث: جو کوئی شخص ماہ ر جب کے تین دن روزے رکھے گا تو اس کے حق میں پورے مہینے روزہ رکھنے کا ثواب لکھا جائے گا۔ (الفوائد المجموعہ: 1126)

٭ اسی طرح سے حدیث:”جو کوئی حسین کے یعنی عاشورہ کے دن روتا ہے تو وہ قیامت کے دن اولوا العزم من الرسل کے ہمراہ ہوگا۔ ‘‘ (الفوائد المجموعہ: 457)

امت پر ضعیف اور موضوع روایتوں کے برے اثرات

ضعیف حدیثوں کے مسلم معاشرے میں پھیل جانے کی وجہ سے امت پر مختلف مفاسد اور مضرات مرتب ہوئے ہیں:

(1) معاشرے میں ضعیف اور موضوع حدیثوں کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں کے مامین صحیح اور ثابت شده حدیثوں پر عمل کا جذبہ کم ہوگیا ہے۔ لوگوں نے موضوع حدیثوں کوہی دلچسپی کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے اور اسی کو اپنی کوششوں کا محور بنارکھا ہے۔ کیونکہ عموماً ایسی حدیثیں عجیب و غریب معانی و مطالب پر مشتمل ہوا کرتی ہیں، نیز اس طرح کی حدیثوں میں سہولت اورنرمی کا گوشہ زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انسان ایسی حدیثوں کو بہت جلدی اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ انسان ثابت شدہ صحیح حدیثوں کے مخالف ضعیف حدیثوں پر عمل کرنے لگتا ہے اور اس طرح سے کئی برائیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ جیسے حدیث: کھانے کے وقت سلام نہیں ہے۔

(۲) ضعیف اور موضوع حدیث کے پھیلنے کی ایک اہم خرابی یہ ہے کہ انسان ان کی وجہ سے شرک جیسی گھناؤنی اور خطرناک برائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ایک موضوع حدیث میں آتا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی انسان پتھر سے اعتقادرکھے تو پتھر بھی اس کے حق میں سودمند ثابت ہوگا۔ گویا اس موضوع حدیث میں پتھرکی پرستش کی تعلیم دی گئی ہے۔

(3) لوگوں کو اس طرح کی حدیثیں مشروع وسیلے سے پھیر کر غیر مشروع اور حرام وسیلوں کا شکار بنادیتی ہیں۔ جیسا کہ حدیث : میرے جاہ و جلال کے ذریعے وسیلہ طلب کیا کرو ۔ کیونکہ ان کی نظر میں میرا جاہ و جلال عظیم المرتبت ہے۔

(4) ان حدیثوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے لوگوں میں بدعملی اور دین بیزاری عام ہوتی ہے۔ لوگ صلوات اور دیگر عبادات سے جو برگشتہ ہورہے ہیں، ان میں ان حدیثوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ جیسا کہ ایک موضوع حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص کی نماز اسے برائیوں اور بے حیائیوں سے نہ روکتی ہو تو اسے نماز پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔

(5) ان حدیثوں کے پھیلا ؤ کی وجہ سے اہم عقیدے کی چیزوں کا انکار ہوتا ہے اور انسانی عقیدے میں بگاڑ اسی چور دروازے سے پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک موضوع حدیث میں آتا ہے کہ سیدنا عیسی ہی مہدی ہیں ۔ جبکہ نزول مہدی کے بارے میں وارد حدیثیں تواتر کے درجے کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اسی طرح سے ایک دوسری موضوع حدیث میں آتا ہے کہ جو کوئی شخص مہندی لگا کر مرجاتا ہے تو جس وقت وہ قبر میں داخل ہوگا ، منکر نکیر اس سے سوال و جواب نہیں کریں گے۔ (الفوائد المجموعہ: ص 213)

(6) مسلمانوں کے بیچ بدعتوں کے پھیلا ؤ میں ان ضعیف اور موضوع روایتوں کا کافی حد تک عمل دخل ہے۔

برسبیل مثال

٭ مردوں کی قبروں پر قرآن خوانی ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ رسم بد ضعیف اور موضوع حدیثوں سے ماخوذ ہے۔ جیسا کہ ایک موضوع حدیث میں آتا ہے کہ جو کوئی انسان جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبروں کی زیارت کرتا ہے اورقبر کے پاس سورۃ یٰس کی تلاوت کرتا ہے تو ہر آیت اور حرف کے بدلے اس کی بخشش کردی جاتی ہے۔

٭ ایک بدعت یہ ہے کہ کھانے سے پہلے وضو کرنے کو باعث برکت تصور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایک انسان کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ دن کے 24گھنٹے باوضو رہے، البتہ کھانے سے پہلے اس عمل کو بابرکت قرار دینے کی بات موضوع حدیثوں سے ثابت ہے ۔ چنانچہ ایک موضوع حدیث میں آتا ہے کہ کھانے سے پہلے وضو کرنے سے فقیری اور غربت ختم ہوتی ہے۔

٭ اسی طرح سے وہ مشہور حدیث ، جو نہایت ہی خطرناک بدعت کی موجب بنی کہ جس نے حج کیا اور میری زیارت نہیں کی تو اس نے میرے اوپر ظلم کیا۔اسی حدیث کی وجہ سے بہت سارے افراد روضۂ نبی ﷺ کی زیارت کے لئے شدّرحال کو باعث خیر تصور کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

٭ نیز مختلف اوقات میں مختلف عبادتوں کی انجام دہی کی جو بدعت رواج پا گئی ہے، کہ فلاں وقت میں اتنی رکعتوں کی انجام دہی اور ان رکعتوں میں فلاں فلاں سورتوں کا پڑھنا وغیرہ ، یہ سبھی بدعتیں انہیں ضعیف اور موضوع روایات کی مرہون منت ہیں۔

(7) ایمان میں ایسی چیزوں کو داخل کردیا جاتا ہے، جو ایمان کا حصہ نہیں ہیں: جیسے حدیث: وطن سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔

(8) ان حدیثوں کی وجہ سے جزاء وسزا اور حساب وکتاب کے ایسے اصول مرتب کر لئے جاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے دلیل نازل نہیں فرمائی ہے۔ بطور مثال:

الله تعالیٰ گورے چہرے والوں کو سزا نہیں دیتا ہے۔ یا وہ حدیث، جس میں ہے کہ جس کسی کا نام محمد ہو یا احمد ہو، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو جہنم کی آگ میں داخل نہیں کرے گا۔

(9)شریعت مخالف اصول اور قواعد کی ترویج

جیسا کہ مشہور ضعیف حدیث میں ہے کہ میری امت کا اختلاف باعث رحمت ہے۔ حدیث ان صحیح حدیثوں کے مخالف ہے، جن میں اختلاف کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔امام ابن حزم ﷫ نے کہا ہے کہ یہ حد درجہ فاسد قول ہے۔ کیونکہ اگر اختلاف کو ہم باعث رحمت قرار دیتے ہیں تو گویا اتفاق باعث زحمت ہوگا۔ (الاحکام:5؍64)

(10) الله تعالی کی حلال کردہ چیزوں کی حرمت:

جیسے اونٹ کے گوشت کے سلسلے میں وارد احادیث۔ اسی طرح سے وہ حدیث، جس میں آتا ہے کہ شادی کیا کرو اور طلاق دینے سے گریز کیا کرو۔ کیونکہ طلاق دینے کی وجہ سے رحمٰن کاعرش ہل جاتا ہے۔ (الفوئد المجموعہ: ص155)

(11) نیز ضعیف اور موضوع احادیث کے اثراتِ بد میں سے یہ بھی ہیں:

٭ ان سے باطل اعتقادات اور غلط نظریات و افکار کو فروغ ملتا ہے۔

٭ صحابہ کرام اور ائمہ عظام کی غلط صورت ہماری نگاہوں میں گھر کر جاتی ہے۔ جیسا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کا واقعہ۔

(12) اخلاقی بگاڑنا

ضعیف اور موضوع روایات کے نقصانات کا دائرہ صرف اور صرف انسان کے دین و ایمان تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ چیزیں انسانی عادات و اطوار اور اخلاق و کردار کو بگاڑنے میں بھی اہم رول ادا کیا کرتی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک موضوع حدیث میں آتا ہے کہ جس نے عشق کیا اور اس کو چھپائے رکھا اور اسی حالت میں مر گیا تو وہ شہید ہوگا۔

(13) محدثین کی شان میں گستاخی

ضعیف اور موضوع روایات کو آپ پڑھیں تو آپ حیرت کریں گے کہ حدیث لڑنے والوں نے محدثین کو خصوصی طور پرمشقِ ستم بنایا ہے۔ بسا اوقات اس مقصد سے حدیثیں گھڑی گئیں کہ اس سے ذخیرۂ حدیث کومشکوک قرار دیا جائے۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ایک پیدا کرنا چاہا تو پہلے ایک گھوڑے کو پیدا کیا اور اس کو دوڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ گھوڑا دوڑا۔ اس کے دوڑنے کی وجہ سے جو پسینہ آیا، اسی سے الله تعالیٰ نے اپنے آپ کو پیدا کیا۔

یہ حدیث سراسر باطل اور کتاب وسنت کے خلاف ہے۔ اگر کوئی شخص اس حدیث کو پڑھے گا اور وہ حدیثوں میں کی گئی دشمنان اسلام کی خرد برد سے واقف نہیں ہو گا تو یقینی طور پر اس کے دل میں حدیثوں کے تعلق سے شک وشبہ پیدا ہوگا۔

(14) سنت نبوی ﷺ میں تحریف

ضعیف اور موضوع حدیثوں کی ایک خاص برائی یہ ہے کہ وہ سنت نبوی میں تحریف اور تغییر کی موجب بنتی ہیں۔ یعنی ان حدیثوں کی وجہ سے انسان ثواب سمجھ کر شریعت کے نام پر شریف مخالف اعمال کی انجام دہی کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک غیرثابت حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اپنی داڑھی لمبائی اور چوڑائی سے ادا کرتے تھے۔ اس کے برعکس صحیح حدیثوں میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امتوں کو داڑھی بڑھانے اور اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دینے کی تعلیم دی ہے۔ نیز آپ ﷺ کی داڑھی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ کافی حد تک لمبی تھی اور نہایت ہی خوبصورت اور دلکش بھی تھی۔ اب دیکھئے ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اپنی داڑھی سے کاٹا کرتے تھے اور دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے داڑھی کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ اس طرح سے حدیثوں میں شک وشبہ پیدا ہوتا ہے اور حقیقی معنوں یہ اور اس طرح کی حدیثوں کو بنیاد بنا کر بعض دانشوروں نے حدیثوں کو مشکوک قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ دشمنان اسلام کی ایک گھناؤنی سازش تھی کہ انہوں نے حدیثوں کو گھڑ کر حدیثوں میں تعارض دکھایا اور پھر انہوں نے حدیثوں کو مشکوک قرار دیا۔

ضعیف اور موضوع روایات اور ہماری ذمہ داریاں

جب حالت اس قدر نازک ہوچلی ہے کہ ان حدیثوں کی وجہ سے افرادِ امت مختلف برائیوں کے شکار ہوتے چلے جارہے ہیں، ایسی صورت میں ایک مسلمان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھے کہ موضوع اور نا قابل اعتبار حدیثوں پر کسی بھی صورت میں عمل کرنا درست اور جائز نہیں ہے۔ نہ ہی ان حدیثوں کے ثبوت کا اعتقاد رکھنا درست ہے اور لوگوں کے سامنے ان کا بیان کرنا اسی صورت میں جائز اور درست ہے جبکہ انسان کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کو ان کی حقیقت سے آگاہ کر دیں اور اس سے انہیں روکیں۔

٭ انسان جن حدیثوں کو خطبے اور دروس وغیرہ میں سنتا ہے، اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرے۔

٭ ایسی کتابوں کو پڑھنے سے گریز کرے، جن میں تحقیق اورتخریج کا اہتمام نہ کیا گیا ہو۔

٭ انسان علمائے کرام سے حدیثوں کی صحت اور ضعف کے بارے میں دریافت کرے۔

٭ انسان کو چاہئے کہ وہ صحيحين، سلسلة الأحاديث الصحيحة اور صحيح الجامع الصغير وغیرہ کو بکثرت پڑھا کرے۔

٭٭٭

‏اتباع کے بارے امام اوزاعی ﷫ کی نصیحت‬

’’سنت پر ڈٹ جاؤ ، وہاں ٹھہر جاؤ جہاں قوم ٹھہر گئی ، اور وہی کہو جو انھوں نے کہا ، اور اس کے کہنے سے رک جاؤ جس سے وہ رکے ، اور تمھیں وہ چیز کافی ہونی چاہیے جو ان کو کافی ہوئی ۔‘‘

تبصرہ کریں