یہ پھول یوں مہکتے رہیں!۔ محمد عبد الہادی العمری

جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے زیر انتظام مختلف شہروں میں مدا رس سلفیہ کی شاخیں نوجوان نسل کو زیور علم سے آراستہ کرنے کے لیے مصروف کار ہیں، ان کے لیے ابتدا ہی سے مستقل نصاب تعلیم ترتیب دیا گیا ہے، جس میں کوشش کی گئی کہ کم سے کم وقت میں نونہالوں کے قلب و دماغ کو زیادہ سے زیادہ دینی معلومات سے آ راستہ کیا جائے۔ طلبہ کے لیے نصابی کتب مرکز کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں اور ایک مناسب نظم کے تحت ان کے سالانہ امتحانات ہوتے ہیں۔ اسی اور نوے کی دہائیوں میں مرتب کردہ نصاب نوٹس کی شکل میں طلبہ کو دیا جاتا تھا، عقائد، حدیث، فقہ، سیرت وغیرہ پر مشتمل مضامین اردو زبان میں تھے۔

اس کی ایک اہم وجہ اس وقت مساجد میں زیر تعلیم طلبہ کی اکثریت کا پس منظر اردو سے ہی تھا، نیز والدین جو 60 اور 70 کی دہائیوں میں برطانیہ طلب روز گار کے لیے ہندو پاک سے آئے تھے ان کی اکثریت ان لوگوں کی تھی جو فیملی کے بغیر وراد ہوئے تھے، پھر مرور ایام کے ساتھ ان کے اہل وعیال بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے، یوں ان کے بچوں کا ابتدائی زمانہ اپنے اپنے علاقوں میں وہاں کے مدارس میں گزرا تھا، جہاں اردو ہی ذریعہ تعلیم تھی، ان کی اکثریت کے لیے اردو لکھنا پڑھنا نسبتاً آسان تھا، پھر اس پر مزید یہ کہ

والدین کی بھی شدید خواہش ہوتی کہ بچے اردو زبان سے مانوس رہیں تاکہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ رابطہ رکھنے میں سہولت ہو سکے، پھر بتدریج زبان کی یہ ضرورت اور سوچ بدلتی گئی، کیونکہ جو بچے یہاں آئے تھے اب ان کے بچے یعنی دوسری نسل مساجد کا رخ کر رہی تھی، ان کی زبان انگریزی تھی، ان کے لیے اردو میں پڑھنا اور سیکھنا ایسے ہی دشوار ہو رہا تھا، جیسے اردو والوں کے لیے انگریزی زبان سیکھنا، لہٰذا مدارس سلفیہ میں تیار کردہ نوٹس کی زبان بدلتی گئی اور ساتھ ہی مواد بھی بدلتا گیا۔

یہاں کی ضرورت کے مطابق زبان کے ساتھ ساتھ مواد میں بھی مناسب تبدیلی کی گئی۔ اس وقت شعبہ تعلیم کی جانب سے جو نصاب تیار کر کے شائع کیا گیا وہ اسی تبدیل شدہ ضرورت کا پہلا مرحلہ ہے، اس کی افادیت مسلم ہے، تاہم اس میں مزید آگے بڑھنے اور اگلے مرحلے کے لیے مواد تیار کرنے کی ضرورت ہے جو یہاں کے بدلتے ہوئے قوانین اور حالات کے مطابق ہو۔ ان جز وقتی قائم مدارس میں مستقل شعبہ حفظ بھی قائم ہے یہاں سے حفظ مکمل کر کے طلبہ سند فراغت پا رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ اسکاٹ لینڈ کے علاقہ کلمازک سے دو بچوں نے حفظ مکمل کیا اور ہیلی فیکس میں قائم مدرسہ سلفیہ سے سات طلبہ نے تکمیل کا شرف حاصل کیا۔

اس مناسبت سے ایک پُروقار تقریب جامع مسجد اہل حدیث ہیلی فیکس میں منعقد ہوئی، جس میں قرب وجوار کے کثیر تعداد میں مرد وخواتین نے شرکت کی، اس میں راقم کے علاوہ برادر وسیم، شیخ ابو عمر علی بصری نے شرکت کی۔

اس کلاس کے روح رواں الشیخ مصطفیٰ ارسلان مصری ہیں اور اسی ماہ اولڈھم میں ایک طالب علم نے حفظ کیا۔

اولڈہم کی برانچ جمعیت کی قدیم برانچوں میں سے ایک ہے، اس میں تحفیظ القرآن کا شعبہ اپنی کارکردگی اور ذمہ داری کی دلچسپی کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے، اس کی عمدہ کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ

ماضی قریب میں 15 طلبہ نے حفظ مکمل کیا اور کچھ حفاظ تراویح میں قرآن مجید سنا رہے ہیں اور کچھ نے مدینہ یونیورسٹی کا رخ کیا، ماشاء اللہ چند تو نیک نامی کے ساتھ وہاں سے فارغ ہو کر واپس آئے اور دعوتی میدان میں سرگرم عمل ہیں اور کچھ ابھی زیر تعلیم ہیں۔

اس شعبہ کی حسن کارکردگی کا سہرہ ہر دلعزیز استاذ قاری عطاء الرحمٰن صاحب کے سر سجتا ہے، جنہوں نے شبانہ روز محنت سے اس شعبہ کو چار چاند لگائے۔ اس قسم کی تقاریب سب کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے، جن میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حفظ قرآن ایک مرحلہ ہے، یہاں رکنا مناسب نہیں۔ اس کے بعد کا مرحلہ فہم قرآن اور تعلق بالقرآن کی طرف توجہ اور کوشش نہایت ضروری ہے تاکہ ان کا حفظ بھی سلامت رہے اور عملی وابستگی بھی برقرار رہے۔

لوگ یہاں کے ماحول کی خرابیوں پر شکوہ کناں ہوتے ہیں لیکن اسی ماحول سے کھلنے اور مہکنے والے ان پھولوں کی طرف توجہ نہیں جاتی۔

٭٭٭

تبصرہ کریں