وبائی امراض سے بچانے میں معاون (دس وصیتیں) فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق البدر (مدرس مسجد نبوی)

اَلْـحَمْدُ لِلّٰهِ يُجِيبُ المُضْطَـرَّ إذا دعاهُ، ويُغِيثُ المَلهُوفَ إذَا نَاداهُ ويَـكْشِفُ السُّوءَ، ويُـفَـرِّجُ الكُرُبات، لا تحيا القلوب إلا بذكره ولا يقع أمر إلا بإذنه، ولا يُـتَخَلَّصُ مِنْ مَكْروهٍ إلا برحمتِهِ ولا يُحْفَظُ شيءٌ إلا بكلاءَتِه، ولا يُدْرَكُ مأمولٌ إلا بتَـيْسِيرِهِ ولا تُنالُ سَعَادَةٌ إلا بطاعتِهِ. وأَشْهَدُ أن لا إله إلاالله، وَحْدَهُ لا شريكَ له، رَبُّ العالمين، وإِلهُ المُرْسَلِـين، وقَـيُّومُ السَّماوات والأَرضين. وأَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عبدُهُ ورسولُهُ، المَبْعوثُ بالكتابِ المُبينِ، والصِّراطِ القَوِيم، صلَّى اللهُ وسَلَّمَ عليه، وآله وصَحْبِه أجمعين.

اما بعد! یہ دس مفید وصیتیں ہیں،جنہیں میں ان دنوں پھیلی ’کورونا‘ نامی وبائی بیماری اور اس کی وجہ سے لوگوں کے مابین واقع بے چینی کی مناسبت پر بطورِ تذکیر دہرانا چاہتا ہوں، اللہ سے دعا گو ہوں کہ اے اللہ ہم پر سے ہر طرح کی بلا وتکلیف کو دور فرما دے، سختی اور شدتِ مرض کو ہٹا لے اور ہماری ان چیزوں کے ذریعہ حفاظت فرما، جس کے ذریعہ تو نے اپنے صالح بندوں کی حفاظت فرمائی، بے شک تو ہی مدد گار اور اس پر قدرت رکھنے والا ہے۔

بیماری نازل ہونے سے قبل پڑھی جانے والی دعا

سیدنا عثمان بن  عفان﷜ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’’ جو شخص  شام کو یہ دعا  تین مرتبہ پڑھے اسے صبح تک کوئی ناگہانی آفت نہیں لاحق ہو گی: «  بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ» 

اور جو صبح کو تین مرتبہ  یہ دعا پڑھے اسے شام تک کوئی ناگہانی آفت نہیں لاحق ہو گی۔‘‘ (سنن ابی داؤد: 5088؛ سنن ترمذی: 3388)

﴿ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ کثرت سے پڑھا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ0 فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾

مچھلی والے (حضرت یونس﷤) کو یاد کرو! جبکہ وہ غصہ سے چل دیے اور خیال کیا کہ ہم اسے پکڑ نہ سکیں گے، بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیٍں تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔ تو ہم نے اس کی پکار سن لی  اور غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں۔

امام ابن کثیر﷫ (وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ)  کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ

’’یعنی جب مؤمن مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں، بالخصوص اس دعا کے ذریعہ تو ہم ان کی دستگیری فرما کر تمام مشکلیں آسان کر دیتے ہیں۔ نبیﷺ کا فرمان ہے: ’’ مچھلی والے  (سيدنا یونس﷤) کی دعا جو انہوں نے  مچھلی کے پیٹ میں  کی تھی وہ یہ ہے کہ ﴿ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾

 سو جو بھی کسی معاملے میں اس دعا کے  ذریعے اپنے رب سے فریاد کرے، تو اللہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔ ‘‘ ( سنن ترمذی: 3505؛ مسند احمد: 2641)

علامہ ابن القیم﷫ اپنی کتاب ’الفوائد‘ میں لکھتے ہیں: ’’ دنیا کی مشکلات کو دور کرنے والی توحید جیسی کوئی چیز نہیں، اسی لیے پریشانی کی دعا توحید قرار پائی، سیدنا یونس﷤ کی توحید بھری دعا کے ذریعے اگر کوئی پریشان حال دعا کرے تو اللہ اس کی فریاد ضرور سنتا ہے اور  اس کی پریشانی دور فرما دیتا ہے۔

واضح رہے کہ انسان کو بڑی مصیبتوں میں جھوکنے کا واحد سبب شرک ہے اور اس سے نجات کا واحد سبب بھی توحید ہے، معلوم ہوا کہ توحید کی مخلوق کی پناہ گاہ، ماویٰ و ملجا اور قلعہ کی حیثیت رکھتا ہے، اسی کے ذریعے اس کی فریاد رسی ہوتی ہے۔ بالله التوفيق  ‘‘ (الفوائد: 53)

سخت ترین آزمائش سے اللہ کی پناہ طلب کریں

سیدنا ابو ہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سخت ترین آزمائش، بدبختی، تقدیر کے شر اور دشمن کو  خوش کر دینے والی آزمائش سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم: 2707)

ایک دوسری روایت میں آپﷺ نے لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:

’’لوگو سخت ترین آزمائش، بدبختی، تقدیر کے شر اور دشمن کو خوش کر دینے والی آزمائش سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔‘‘ (صحیح بخاری: 6616)

چنانچہ ہم عربی میں ان الفاظ کے ساتھ دعا کریں:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَماتَةِ الأَعْدَاءِ

گھر سے نکلتے وقت کی دعا پر پابندی کریں

سیدنا انس بن مالک﷜ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’ جب آدمی اپنے گھر سے نکلے تو یہ دعا پڑھے: «بِسْم اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ » ’’ اللہ کا نام لے کر گھر سے نکل رہا ہوں، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، کسی شر اور برائی سے بچنا اور کسی نیکی یا خیر کا حاصل کرنا اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘

یہ دعا پڑھنے کے بعد اس سے یہ کہا جاتا ہے کہ تجھے ہدایت ملی، تیری کفایت کی گئی، اور تجھے (ہر بلا سے)  بچا لیا گیا۔ چنانچہ شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے اور دوسرا شیطان اس سے کہتا ہے کہ تیرا داؤ ایسے آدمی پر  کیونکر چلے جسے ہدایت دی گئی، اس کی کفایت کر دی گئی اور اسے (بلا سے) بچا لیا گیا۔‘‘ (سنن ابی داؤد: 5074؛ سنن ترمذی: 3727)

صبح وشام اللہ سے عافیت طلب کرتے رہیں

سیدنا عبد اللہ بن عمر﷠ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  شام اور صبح کے وقت یہ دعائیں پڑھنا نہ چھوڑتے ، (یعنی اس پر مداومت برتا کرتے):

«اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي، وَمَالِي، اَللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اَللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي»

’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے آرام اور راحت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں، اپنے دین و دنیا میں اور اپنے اہل ومال میں۔ اے اللہ! میرے عیب چھپا دے، مجھے میرے اندیشوں اور خطرات سے امن عنایت فرما ، یا اللہ! میرے آگے، میرے پیچھے، میرے دائیں، میرے بائیں اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کے ذریعے سے اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے کی طرف سے ہلاک کر دیا جاؤں، یا دھنسا دیا جاؤں۔‘‘ (سنن ابی داؤد: 5074؛   مسند احمد: 4785)

دعاؤں کا بکثرت اہتمام کریں

سیدنا ابن عمر﷠ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ تم میں سے جس کسی کےلیے دعا کا دروازہ کھولا گیا تو اس کے لیے (گویا) رحمت کے دروازے کھول دیے گئے اور اللہ سے مانگی جانے والی۔ اس کے نزدیک پسندیدہ چیزوں میں سے۔  اس سے زیادہ کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ اس سے عافیت مانگی جائے۔‘‘ ( سنن ترمذی: 3548)

نیز اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ»

’’ دعا اس مصیبت میں بھی فائدہ دیتی ہے جو نازل ہو چکی اور اس مصیبت سے بچانے کا بھی فائدہ دیتی ہے جو ابھی تک نازل نہیں ہوئی ہے۔ سو، اے اللہ کے بندو! تم اللہ سے برابر دعا کرتے رہو۔‘‘

 (سنن ترمذی: 3548، حسنہ الالبانی)

ان جگہوں پر جانے سے بچا جائے جہاں وبا پھیلی ہو

سیدنا عبد اللہ بن عامر سے روایت ہے کہ سیدنا  عمر بن خطاب﷜ شام کے لیے روانہ ہوئے، جب آپ سَرغ  نامی مقام پر پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے، پھر سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف﷜ نے انہیں بتایا کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ

’’جب تم کسی علاقے کے متعلق سنو کہ وہاں وبا پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب کسی ایسی جگہ پر وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے مت نکلو۔‘‘ (صحیح بخاری: 2937؛ صحیح مسلم: 2219)

سیدنا ابو ہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا يُورَدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ»

’’ بیمار کو صحت مند کے پاس نہ لاؤ، (یا بیمار اونٹ والا اپنے اونٹ کو صحت مند اونٹ کے پاس نہ لائے)۔‘‘  (صحیح بخاری: 5774؛ صحیح مسلم: 2221)

بھلائی اور احسان والے کام پر توجہ دیں

سیدنا انس ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«صَنَائِعُ المَعْرُوفِ تَقِي مَصَارِعَ السُّوءِ، وَالصَّدَقَةُ خَفِيّاً تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ زِيَادَةٌ فِي العُمُر، وَكُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَأَهْلُ المَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ المَعْرُوفِ فِي الآخِرَةِ »

’’اچھے کام کرنا بُرے انجام، آفتوں اور ہلاکتوں سے بچاتا ہے اور جو دنیا میں بھلے ہیں وہی آخرت میں بھی بھلے ہوں گے۔‘‘ (مستدرک الحاکم: 492)

امام ابن القیم﷫ لکھتے ہیں کہ

’’ مرض کا سب سے عظیم ترین نسخہ علاج  یہ ہے کہ خیر وبھلائی کا کام کیا جائے اور ذکر و دعا، خشوع وخضوع اور اللہ کے سامنے گڑ کڑاتے ہوئے توبہ واَنابت کیا جائے۔ ان امور کا دفع مرض اور حصولِ شفا میں کافی اثر ہے اور یہ طبعی  دواؤں سے زیادہ عظیم و پُر تاثیر ہیں۔ البتہ یہ (الٰہی نسخہ) نفس کی استعداد، اسے دل سے قبول کرنے اور اس کے اندر  نفع کا پختہ عقیدہ اور یقین رکھنے کے اعتبار سے فائدہ دیتا ہے۔ (زاد المعاد: 4؍132)

قیام اللیل (تہجد) کی پابندی کریں

سیدنا بلال ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:  ’’ لوگو! قیام اللیل یعنی تہجد کی پابندی کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے صالحین کا تہجد کے تئیں یہی طریقہ رہا ہے اور رات کا قیام یعنی تہجد، اللہ سے قریب ونزدیک ہونے، گناہوں سے دور ہونے، برائیوں کو مٹانے اور بیماریوں کو جسم سے دور بھگانے کا ایک ذریعہ ہے۔‘‘ (سنن ترمذی: 3549؛ صحیح ابن خزیمہ: 1135)

کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانک کر رکھیں: سیدنا جابر بن عبد اللہ ﷜ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’برتن کو ڈھک کر رکھو، مشکیزے کا منہ باندھے رکھو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی آتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔ پھر جس بھی اَن ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے، تو اس وبا میں سے (کچھ حصہ) اس میں اُتر جاتا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: 2041)

امام ابن القیم﷫ کہتے ہیں: “وهذا مما لا تناله علوم الأطباء ومعارفهم.” ’’ایسا علم ہے کہ جس تک اطباء کے علوم ومعارف کی (اب تک) رسائی نہ ہو سکی۔‘‘ (زاد المعاد: 4؍213)

اَخیر میں عرض ہے کہ ہر مسلمان واجبی طور پر  اپنے اُمور کو اللہ کے سپرد کرے، اس سے فضل کے حصول کی اُمید  اور اس پر کامل بھروسہ رکھے، کیونکہ  سارے اُمور کی  باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے، اور سب اسی کے تابع ہے اور صبر واحتساب کے ساتھ لاحق شدہ مصائب سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ اللہ کا اس شخص کے لیے ثواب عظیم اور اَجر جزیل کا وعدہ ہے جو مصائب میں صبرواحتساب کا دامن تھامے رکھے۔ 

فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾

’’یقیناً صبر کرنے والے ہی کو ان کا پورا پورا اجر دیا جاتا ہے۔‘‘  (الزمر: 10)

اور سیدہ عائشہ﷞ سےروایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’طاعون (اللہ کا) عذاب ہے، وہ اسے جس پر چاہتا ہے بھیج دیتا ہے، اللہ تعالیٰ  نے اس کو اہل ایمان کے لیے باعثِ رحمت بنا دیا، اب کوئی بھی اللہ کا بندہ اگر صبر کے ساتھ  اس شہر میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون پھوٹ پڑا ہو اور یقین رکھتا ہو  کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے وہ اس کو ضرور پہنچ کر رہے گا تو اس کو شہید کے برابر ثواب ملے گا۔‘‘ (صحیح بخاری: 5734)

اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں ایسے اعمال واقوال کو بروئے کار لانے کی توفیق دے جن سے وہ راضی اورخوش ہوتا ہے، اللہ کاقول  برحق ہے اور وہی راہِ راست کی ہدایت دینے والا ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں