امت کی توجہ کے مستحق، چینی مسلمان (اداریہ) محمد حفیظ اللہ خان المدنی

ایک خبر کے مطابق یورپین یونین سمیت کینڈا، برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر چین کی جانب سے مسلسل کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین پر مختلف اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سرفہرست چین میں آباد اویغور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی کا مسئلہ ہے۔

ان دنوں دنیا کے مختلف ممالک میں آباد مسلمانوں کی حالت زار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، آئے دن نت نئے مسائل اور چیلنجز نے انہیں حواس باختہ کر رکھا ہے۔ مسائل میں گرفتار مسلمانوں میں سرفہرست چین کے مسلمان ہیں۔ جو اس وقت چین کی حکومت کے ظلم وستم کا شکار بنے، گزشتہ ستر سال سے اسلامی شناخت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

جن کو دنیا آج اویغوری مسلمان کے نام سے جانتی ہیں، ان مسلمانوں کی اکثریت زنجیانگ نامی علاقہ میں آباد ہے۔ درحقیقت 1949ء سے قبل یہی علاقہ ایک مضبوط اور آزاد ملک ترکستان کا حصہ تھا جو کہ اتراک قوم کے لیے وحدت کی علامت مانا جاتا تھا۔ انیسویں صدی کے اخیر میں استعماری طاقتوں نے اپنے اپنے مفاد کی غرض سے اس ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ چنانچہ مغربی پاکستان کے علاقہ کو روس (سابق سوویت یونین) نے اپنے قبضہ میں لے کر مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا، جو کہ آج ازبکستان تاجکستان اور ترکمانستان کے نام سے جانی جاتی ہیں، اور مشرقی ترکستان پر چین نے قبضہ کر کے اس کو اپنے ملک کا حصہ بنا دیا۔ جس کا مجموعی رقبہ ایک ملین مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ بتلایا جاتا ہے کہ اس وقت چین میں مسلمانوں کی کل تعداد 30 ملین ہے۔ جن میں 23 ملین مسلمان اویغور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب کہ غیر حکومتی ذرائع کے مطابق چین میں مسلمانوں کی تعداد ایک سو ملین سے متجاوز ہے۔

ان اویغور مسلمانوں نے چین کے اس ناجائز قبضہ کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور ابتدا ہی سے اپنی دینی شناخت کی حفاظت اور بقا کی جنگ لڑتے چلے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب چین کی جانب سے ان پر روز بروز مختلف تحدیدات اور پابندیوں کے ذریعہ دائرہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے، مختلف حیلے بہانوں سے ان مسلمانوں کو ہراساں کرنا، نفسیاتی دباؤ کے ذریعہ ان کو ذہنی تناؤ اور کشمکش کا شکار بنانا حکومتی ہتھکنڈوں میں شامل ہے، جن میں مسلمان خواتین پر حجاب کی پابندی کا عائد کرنا، حتی کہ لمبے اسکرٹ کا زیب تن کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ نیز لفظ حلال پر پابندی، مختلف اسلامی ناموں پر پابندی، حتی کہ ان کی اپنی زبان پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

اور اب عالم یہ ہے کہ گزشتہ چند ایک سالوں میں مسلمانوں کی دینی شناخت کو ختم کرنے اور ان کی برین واشنگ کی غرض سے حالیہ حکومت نے ایک دو نہیں بلکہ 135 سے زائد ایسے کیمپس قائم کیے ہیں، جہاں ایک ملین سے زائد مسلمان مرد وخواتین نوجوانوں کو جبراً حراست میں رکھ کر ان سے جبری مشقت لی جا رہی ہے، نیز عالمی ذرائع کے مطابق مسلمان خواتین کو جنسی ہراسانی اور جبری نس بندی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کیمپس کو عموماً حراستی کیمپس بتایا جاتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ وہ عقوبت خانے ہیں جہاں ہر دن مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کیا جاتا ہے۔ ان کیمپس میں دو سال گزارنے والی ایک خاتون جو کہ اس وقت اٹلی میں پناہ گزین کی حیثیت سے مقیم ہے، کا کہنا ہے کہ یہ مراکز درحقیقت جہنم ہیں۔ انہوں نے مجھے زیر حراست رکھ کر میری زندکی برباد کر دی، میں اس سے قبل لباس تیار کرنے والی ایک چھوٹی فرم کی مالکہ تھی، حکومتی کارندوں نے بالجبر مجھے کیمپ میں منتقل کر کے مفت سلائی کا کام کرنے پر مجبور کر دیا۔ مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کر دیا گیا، جو باہر سے مقفل ہوتا اور سارا دن سلائی کے کام پر مجبور کیا جاتا۔ ان کیمپس کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مزید سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا، ناکردہ غلطیوں کو تسلیم کرنے پر دوبارہ نہ کرنے کاوعدہ کرنے پر مجبور کیا جاتا، ان عقوبت خانوں سے رہائی اسی کو ملتی، جو اپنی سوچ، عمل، عقیدے میں تبدیلی کا عملی ثبوت پیش کرتا، پھر اس کو چار سخت امتحانوں سے گزارا جاتا مسؤلین اس کی رہائی کا پروانہ اس وقت جاری نہیں کرتے، جب تک ان کو اس کے مکمل کیمونسٹ بننے کا یقین نہیں ہو جاتا، درحقیقت ان کیمپس کے قیام کا مقصد اویغور مسلمانوں کو ان کے دین، ثقافت اور زبان سے محروم کرنا ہے۔ جس پر چین بلا خوف وخطر اس ترقی یافتہ دور میں عمل پیرا ہے۔

دوسر ی جانب صورت حال یہ ہے کہ ان تمام حالات کا عالم اسلام کو بخوبی علم ہے۔ مگر سارے عالم اسلام پر سکوت کا ماحول طاری ہے۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن ہے۔ ایک امت ہونے کا تصور دھندلا رہا ہے، میدان حشر کا سماں ہے کہ جہاں ہر کوئی ﴿لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾ کا نمونہ بنا ہوا ہے۔

صرف چند دھیمی آوازیں یورپ امریکہ کی فضاؤں سے بلند ہو رہی ہیں۔ کیا ہماری اسلامی حمیت اور غیرت اس قدر مر چکی ہے کہ غیر کی جانب سے مسلمانوں کی حمایت میں بلند کی جانے والی ان صداؤں پر ہماری زبانیں گنگ اور ہمارے قلم چند تائیدی جملے لکھنے سے قاصر ہیں، اللہ تعالیٰ ہی اس امت کا محافظ ونگران ہے۔

تبصرہ کریں