عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 12) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

کتاب الطہارت ۔ مذی وغیرہ کے متعلق

حدیث نمبر: 25

عَنْ أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ , لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ , فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ , فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى ثَوْبِهِ , وَلَمْ يَغْسِلْهُ.

وَفَىْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أُتِيَ بِصَبِيٍّ , فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ , فَدَعَا بِمَاءٍ , فَأَتْبَعَهُ إيَّاهُ.

وَلِمُسْلِمٍ: فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ , وَلَمْ يَغْسِلْهُ.

[رواه البخاري، کتاب الوضوء، باب بول الصبیان، برقم 223، وفي لفظ له برقم 5693، ومسلم، کتاب الطهارة، باب حكم بول الطفل الرضيع وكيفية غسله، برقم 287. رواه البخاری، کتاب الوضوء، باب بول الصبیان، برقم 222 بلفظه، ومسلم، کتاب الطهارة، باب حكم بول الطفل الرضيع وكيفية غسله، برقم 286]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ام قیس بنت محصن اسدیہ بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کو رسول پاک ﷺ کی خدمت میں لائی جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔ رسول الله ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھایا تو اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، آپﷺ نے پانی منگوایا ، اسے اپنے کپڑے پر چھڑکایا اسے دھویا نہیں اور ام المومنین سیدہ عائشہ کی حدیث میں مذکور ہے کہ رسول الله ﷺ کی خدمت میں ایک بچے کو لایا گیا۔ تو اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔

صحیح مسلم کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے پانی کو اس کے پیشاب پربہایا اور اسے دھویا نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: أَجْلَسَ:اس ( آپ ) نے بٹھایا۔

2 : حِجْرِ: گود

3: بَالَ : اس نے پیشاب کیا۔

4 : ثَوْبِ: کپڑا ۔

5: دَعَا بِمَاءٍ : اس ( آپ) نے پانی منگوایا ۔

6 : فَنَضَحَهُ: اس پانی کے چھینٹے مارے ۔

7: لَمْ يَغْسِلْهُ : اسے دھویا نہیں ۔

8: أَتْبَعَهُ : اس کے پیچھے لگایا ۔ اس کے بعد کیا یعنی پانی بہایا۔

حدیث سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احكام

1۔ صحابہ کرام کا اپنے چھوٹے بچوں کو برکت حاصل کرنے کے لیے رسول الله ﷺ کے پاس لانا۔

2۔ رسول اکرم ﷺ کا چھوٹے بچوں سے پیار و محبت کرنا۔

3۔ چھوٹے بچوں کے پیشاب وغیرہ کرنے پر ان کو یا ان کے والدین کو برا بھلا نہ کہنا۔

4۔ دودھ پیتا بچہ ( لڑکا ) جس نے ابھی کھانا شروع نہ کیا ہو اگر کسی کے کپڑوں پر پیشاب کر دے تو اس جگہ پر پانی چھڑکا دیا جائے جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اسے دھونا ضروری نہیں، صرف چھڑکاؤ سے نجاست کا حکم ختم ہو جاتا ہے۔ البتہ بچہ اگر لڑکی ہے اور اس نے کسی کے کپڑوں وغیرہ پر پیشاب کردیا تو اس کپڑے وغیرہ کو دھونا ضروری ہے۔

قَالَ رَسُوْلُ الله ﷺ: «يُغسَلُ مِنْ بوْل الجاريَة، ويُرَشُّ مِنْ بوْل الغُلام» أخرجه أبو داود والنسائي، وصححه الحاكم.

سیدنا ابو السمح بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا : ’’ بچی کے پیشاب کو دھویا جائے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے ماریں جائیں۔ ‘‘ اور محدثین نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

5۔ جب بچہ کھانا کھانا شروع کردے تو پھر اس کے پیشاب کا حکم بڑے آدمی کے پیشاب کی طرح کا ہے۔

6۔ شریعت اسلامیہ سراپا رحمت ہے ۔ ظاہر ہے چھوٹے بچے عموماً بار بار پیشاب کردیتے ہیں اور پیشاب کے وقت بتانے پر قدرت بھی نہیں رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں شریعت نے کپڑوں کو دھونے کے بجائے چھینٹوں پر اکتفاء کافی قرار دیا ہے۔

طہارت کی کتاب ، مذی وغیرہ کے متعلق

حدیث نمبر: 26

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ – رضي الله عنه – قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَبَالَ فِي طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُ النَّاسُ ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَلَمَّا قَضَى بَوْلَهُ أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ , فَأُهْرِيقَ عَلَيْهِ.

( رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب ترك النبيﷺ والناس الأعرابي حتى فرغ من بوله في المسجد، برقم 219، وباب صب الماء على البول في المسجد، برقم 221، ورقم 6025، ومسلم، کتاب الطهارة، باب وجوب غسل البول وغيره من النجاسات إذا حصلت في المسجد، وأن الأرض تطهر بالماء من غير حاجة إلى حفرها، برقم 284، و285)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی شخص آیا، تو اس نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا ، نبی کریم ﷺ نے انہیں روک دیا جب اس نے پورا پیشاب کر لیا ، تو نبی کریم ﷺ نے پانی کا ایک ڈول لانے کا حکم دیا تو اس پر انڈیل دیا گیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مفرداث الحدیث:

أَعْرَابِيٌّ: بدوی، خانہ بدوش۔

فِي طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ : مسجد کے کونے میں۔

فَزَجَرَهُ النَّاسُ : لوگوں نے اسے ڈانٹا ۔

4 : ذَنُوبٍ : ڈول۔

5 : أُهْرِيقَ عَلَيْهِ : اس پر انڈیل دیا گیا ۔

6 : قَضَى بَوْلَهُ: اس نے اپنا پیشاب پورا کیا ۔ یعنی قضائے حاجت سے فارغ ہوا۔

حدیث سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احکام

1۔ جاہل ، فقہی مسائل میں شرعاً معذور ہے۔ البتہ توحید کے مسئلہ میں جہالت سمیت کوئی بھی عذر شرعا قبول نہیں ہے بلکہ عند الله اس کا مواخذہ ہے۔

2۔ لوگوں کے ساتھ نرمی کا حکم ہے خصوصا جب کسی کو مسئلہ معلوم نہ ہو۔ یہی حکم ان بچوں کے لیے بھی ہے جن کو شرعی مسائل ابھی تک معلوم نہیں۔ البتہ بچوں سمیت بڑے لوگ جو شرعی و فقہی مسائل سے ناواقف ہیں، ان کو احسن طریقے سے تعلیم دینا ضروری ہے۔

3۔ غلطی اور گناہ کے کاموں میں مکمل خاموشی درست نہیں ہے بلکہ غلطی اور گناہ کرنے والے کی اصلاح ضروری ہے جیسا کہ رسول الله ﷺ نے اس بدوی شخص کی کی۔ اس کو بتایا کہ مساجد بول براز کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ الله کے ذکر اور نماز اور قران مجید پڑھنے کے لیے ہیں۔

4۔ نماز والی جگہ پر پیشاب کرنا حرام ہے اور جہاں بھی پیشاب کیا جائے گا وہ جگہ پلید کے حکم میں ہو گی ۔

5۔ یہ حدیث انسان کے پیشاب کے پلید ہونے پر دلیل ہے۔

6۔ زمین پر اگر کوئی شخص پیشاب کر دے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر پانی بہا دیا جائے۔ وہاں سے مٹی کھرچنے کا حکم نہیں ہے۔ اور اگر پیشاب کا نشان موجود نہیں بلکہ دھوپ وغیرہ سے خشک ہوگیا ہے تو اس جگہ کو دھونے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ پاک کے حکم میں ہے۔

7۔ مساجد کا احترام کیا جائے اور انہی پاک رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔

8۔ مساجد کو پلید و بدبودار چیزوں سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ بلکہ مسجد کو صاف و ستھرا رکھنے کا حکم ہے ۔

9۔ اسلام کے بتائے ہوئے اخلاق کے مطابق کسی کو دوران حاجت ضروری کے روکنا نہیں چاہیے، اور طبی اعتبار سے بھی یہ نقصان دہ ہے۔

10۔ نبی کریم ﷺ بدوی کے ساتھ بڑی شفقت، پیار اور محبت سے پیش آئے۔ حالانکہ اس نے مسجد میں پیشاب کرنے جیسی نازیبا حرکت کا ارتکاب کیا تھا۔ اور اسی عالی اخلاق کا حکم ہر مسلمان کو ہے۔

11۔ نبی کریم ﷺ کی وسعت نظر اور لوگوں کی طبیعتوں کی پہچان بہت عمده و اعلیٰ تھی۔

12۔ تہذیب وتمدن سے نا آشنائی جہالت اور گنوار پن کا باعث بنتی ہے۔

طہارت کی کتاب ، مذی وغیرہ کے متعلق

حدیث نمبر: 27

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ – رضي الله عنه – قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: «الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الْخِتَانُ، وَالاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ ، وَنَتْفُ الإِبِطِ.»

(رواه البخاري، كتاب اللباس، باب قص الشارب، برقم 5889، وباب تقليم الأظفار، برقم 5891، ومسلم، کتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، برقم 257]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابوہريره بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے ہیں : ’’فطرتی عمل پانچ ہیں: ختنے کروانا، زیرناف ریزر استعمال کرنا، مونچھیں کترنا، ناخن کاٹنا،، زیر بغل بال نوچنا۔‘‘ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : الْفِطْرَةُ : طبعی عادت ۔

خَمْسٌ : پانچ ۔

الْخِتَانُ : ختنے کروانا ۔

4 : الاسْتِحْدَادُ: استرا یا بلیڈ وغیرہ استعمال کرنا ۔

5: قَصُّ الشَّارِبِ : مونچھوں کو کترنا۔

6: تَقْلِيمُ الأَظْفَارِ: ناخن تراشنا ۔

7: َنَتْفُ الإِبِطِ: بغل کے بال نوچنا ۔

حدیث سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احکام

1۔ انسان کی کچھ چیزوں اور اعمال کا فطرت سے تعلق ہونا۔ فطرت پر عمل کرنے سے الله راضی ہوتے ہیں اور انسان کو طبی وغیرہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

2۔ فطرت کو ترک کرنے کے طبعی نقصانات بھی ہیں۔

3۔ اسلام کی حقانیت کے دلائل میں سے ایک اس کا فطرت کے مطابق ہونا ہے اور اس کا اپنے ماننے والوں کو فطرت اختیار کرنے کا حکم و ترغیب دینا ہے۔

4۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ ہر اچھا کام کیا جائے اور ہر برے کام سے اجتناب کیا جائے۔

5۔ دین اسلام نظافت، پاکیزگی اور طہارت اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

6۔ ناخن بڑھانا فطرت کے منافی عمل ہے اس سے ہر مسلمان مرد اور عورت کو اجتناب کرنا چاہیے۔ اور اس کی مخالفت کی وجہ سے انسان جہاں الله و رسول کا نافرمان قرار پائے گا وہاں اس کو کئی طبی نقصانات بھی ہوں گے۔

7۔ زیر ناف بالوں کی صفائی کا اہتمام ہر مسلمان بالغ کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بھی کئی طبی فوائد ہیں۔

8۔ مونچھوں کا بلکل نہ کترانا یا بہت بڑی بڑی رکھنا غیر فطری عمل ہے، آتش پرست اس کے عادی تھے، مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

9۔ بغلوں کے بال اکھیڑنا فطرت میں ہے۔ اگر اکھیڑنا مشکل ہو تو کسی بھی چیز سے ان کو مونڈھا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا مقصود صفائی و ستھرائی ہے۔ البتہ اکھیڑنا افضل ہے کیونکہ حدیث میں اکھیڑنے کا ذکر ہے۔

٭٭٭

کر کے پھر بیدار ہم کو زندگی دیتا ہے کون؟

خاک کے پتلے کو علم و آگہی دیتا ہے کون؟

دل کو ایمان ویقیں کی روشنی دیتا ہے کون؟

نیند کی آغوش میں آسودگی دیتا ہے کون؟

کر کے پھر بیدار ہم کو زندگی دیتا ہے کون؟

احسنِ تقویم کی دے کر اسے شانِ عظیم

جو ہر انسان کو پاکیزگی دیتا ہے کون؟

ظلمتوں کو چیرتی ہے کیسے سورج کی کرن

روشنی کو تیرگی پر برتری دیتا ہے کون؟

خشک ٹہنی کی طرح جب گھٹ کے ہو جاتا ہے چاند

رفتہ رفتہ اس کو پھر سے چاندنی دیتا ہے کون؟

پھوٹتے ہیں ایک ہی وہ شاخ سے دونوں مگر

خار کو سختی تو گُل کو نازکی دیتا ہے کون؟

کون جگنو کو لڑاتا ہے اندھیری رات سے

کرمکِ کمزور کو تابندگی دیتا ہے کون؟

مردہ دل کو کر کے القا مژدۂ لاتقنطوا

اپنی رحمت کی نویدِ سرمدی دیتا ہے کون؟

کون کرتا ہے ہماری ہر خطا سے درگزر

توبہ کرنے پر ثوابِ بندگی دیتا ہے کون؟

کون کرتا ہے عطا عاشق کے دل کو اضطراب

حسن کو ناز وادائے دل بری دیتا ہے کون؟

اوک بھرمانگیں تو زم زم کون کرتا ہے عطا

آگ لینے جائیں تو پیغمبری دیتا ہے کون؟

کون سنتا ہے دعائے نیم شب عارف تِری

حرفِ پُر تاثیر وچشمِ شبنمی دیتا ہے کون؟

خواجہ محمد عارف، برمنگھم

تبصرہ کریں