عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 9)۔ فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر : 18

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الَّيْلِ يَشُوْصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.

(رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب السواك، برقم 245، واللفظ له، وكتاب الجمعة، باب السواك يوم الجمعة، برقم 889، ومسلم، كتاب الطهارة، باب السواك، برقم 47-(255)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب رات کو نیند سے بیدار ہوتے اور اٹھتے تو اپنے منہ میں مسواک ملتے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مفرداث الحديث:

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

إِذَاقَامَ : جب اٹھتے، بیدار ہوتے ۔

يَشُوْصُ : رگڑتے، ملتے ۔

3۔ فَاهُ : اپنا منہ ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احکام

حدیث مبارکہ کے الفاظ إِذَاقَامَ میں نماز تہجد کی طرف اشارہ نیند سے بیداری کے عربی میں استیقظ کے الفاظ ہیں یعنی نیند سے بیدار ہونے کے بعد اٹھ جانے کی صورت میں مسواک کا استعمال کرنا سنت ہے اس کے کثیر فوائد ہیں رات سونے سے منہ میں بدبو اور چکناہٹ پیدا ہوجاتی ہے اور نیند انسان کو سست کر دیتی ہے ایسی صورت حال میں مسواک سے منہ کی بدبو ختم ہوتی، مسوڑے مضبوط ہوتے ہیں، منہ کی چکنائی وغیرہ ختم ہوتی ہے، دانت سفید اور مضبوط ہوتے ہیں، جسم میں چستی پیدا ہوتی ہے جس سے عبادت میں مزید توجہ اور خشوع وخضوع پیدا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ بظاہر معمولی سا عمل اللہ کو بہت پسند ہے اور اسی وجہ سے رسول اللہﷺ کثرت سے مسواک کرتے۔اس میں باطنی طہارت کے ساتھ ساتھ ظاہری طور پر بھی صاف و ستھرا رہنے کی فضیلت ہے۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ جو زیادہ عبادت گذار ہے اس کو اتنا ہی زیادہ طہارت و پاکیزگی کا اہتمام کرنا چاہیے اور عبادت پوری توجہ و دلجمی اور چست حالت میں کرنے کی فضیلت ہے اور اس کے لیے مسواک کے عمل کا بہت بڑا کردار ہے۔

حدیث نمبر : 19

عَن عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، وَمَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سِوَاكٌ رَطْبٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَأَبَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَصَرَهُ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَقَضَمْتُهُ فَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَاسْتَنَّ بِهِ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ اسْتَنَّ اسْتِنَاناً أَحْسَنَ مِنْهُ، فَمَا عَدَا أَنْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، رَفَعَ يَدَهُ – أَوْ إِصْبَعَهُ – ثُمَّ قَالَ :

«فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى» ثَلاَثاً، ثُمَّ قُضِىّ عَلَيْهِ ، وَكَانَتْ تَقُولُ : مَاتَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي.

وَفِي لَفْظٍ : فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ، فَقُلْتُ : آخُذُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ.

هَذَا لَفْظُ البُخَارِيِّ، وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ.

(رواه البخاري، كتاب الجمعة، باب من تسوك بسواك غيره، برقم 890، وفي المغازي، باب مرض النبي ﷺ ووفاته، برقم 4438، واللفظ له. رواه البخاري، كتاب المغازي، باب مرض النبي ﷺ ووفاته، برقم 4449)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق ، نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور سیدنا عبد الرحمن کے پاس تازہ مسواک تھی جو وہ اپنے دانتوں پر مل رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی نظر ان کی طرف اٹھائی میں نے مسواک پکڑی اسے چبایا صاف کیا پھر نبی کریمﷺ کی خدمت میں پیش کی آپ ﷺ نے مسواک کی۔میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے بہتر انداز میں مسواک کرتے ہوئے نہیں دیکھا رسول کریم ﷺ مسواک سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ آپ نے اپنا ہاتھ یا انگلی اوپر اٹھائی اور تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا :(فِی الرَّفِیْقِ الْأَعْلَى) پھر آپ کی روح جسم مبارک سے نکل گئی۔ سیدہ عائشہ فرمایا کرتی تھیں: ’’آپ ﷺ نے میری گود اور ٹھوڑی کے درمیان وفات پائی۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ میں نے دیکھا کہ آپ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں اور میں نے پہچان لیا کہ آپ مسواک پسند کرتے ہیں میں نے عرض کی کیا میں آپ کے لئے یہ لے لوں؟ تو آپ نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں:یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور صحيح مسلم کی روایت بھی اس کی ہم معنی ہے۔ (صحيح بخاری و صحيح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1۔دَخَلَ عَبْدُالرَّحْمَن: سیدنا عبدالرحمن تشریف لائے۔

2۔ صَدْرِيْ : میرا سینہ ۔

3۔ أَنَا مُسْنِدَتُهُ : میں آپ کی ٹیک بنی ہوئی تھی ۔

4۔ سِوَاكٌ رَطْبٌ : تازہ مسواک ۔

5۔ قَضَمْتُهُ : میں نےاسے چبایا ۔

6۔ طَيَّبْتُهُ : میں نے اسے پاک صاف کیا ۔

7۔ دَفَعْتُهُ : میں نے وہ آپﷺ کو پیش کی ۔

8۔ اِسْتَنَّ بِهِ : میں نے اپنے دانتوں پر ملا ۔

9۔ اسْتَنَّ اسْتِنَاناً : اس نے مسواک کی ۔

10۔ اِصْبُعُ : انگلی ۔

11۔ قُضِىَ عَلَيْهِ : موت کے فیصلے کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ کہ آپﷺ کے لیے موت کے فیصلے کا وقت مقرر آ پہنچا۔

12۔ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي : میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان ۔

13۔ يُحِبُّ السِّوَاكَ : آپ مسواک کو پسند کرتے ہیں۔

14۔ أَنْ نَعَمْ : کہ ہاں۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1. بیمار آدمی کی عیادت کرنا۔ جیسا کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق آئے۔

2. بیمار آدمی کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے کی بھر پور کوشش کرنا جیسے سیدہ عائشہ صدیقہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس مشکل وقت میں اپنے سینے سے لگایا تھا۔

3. بیمار آدمی کی خواہش کو پورا کرنا جیسے سیدہ عائشہ صدیقہ نے مسواک آپﷺ کو دی۔

4. بیمار آدمی کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہ کرنا ۔

5. نیک لوگ بھی بیمار ہوتے ہیں جیسا کہ سب سے نیک شخص محمد رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں کئی بار بیمار ہوۓ اور آپﷺ کی وفات بھی بیماری کی حالت میں آئی۔ اور اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ بیماری اور شفا اللہ کی طرف سے ہے مخلوق میں کوئی کسی کو نہ بیمار کرسکتا ہے اور نہ شفا دے سکتا ہے بیماری کی تکلیف کی صورت میں صبر کرنا اور اللہ سے ہی شفا مانگنا توحید ہے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا۔

6. بیماری میں صحت یابی کے لیے ظاہری اسباب اپنانا توحید و توکل کے منافی نہیں ہے بشرطیکہ کہ اسباب پر ہی توکل نہ کیا جائے۔

7. اللہ کے فیصلے کے سامنےتمام مخلوق محتاج و بے بس ہے جیسا کہ مخلوق میں سب سے اعلیٰ و افضل کی موت کا مقررہ وقت آیا تو پھر وہ ٹلا نہیں۔

8. رسول اللہ ﷺ کے بشر و انسان ہونے کی دلیل کہ جس طرح آپﷺ سے پہلے انسانوں پر موت آئی آپﷺ نے بھی اسی کا ذائقہ چکھا۔

9. اللہ کے خوبصورت ناموں میں سے الرفیق دوست کا ہونا ۔

10. اللہ تعالیٰ کا تمام مخلوق سے جدا اور سب سے بلند ہونا جیسا کہ آپﷺ نے الرفیق الاعلیٰ فرمایا۔

11. رسول اللہ ﷺ کا اپنی انگلی یا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی ذات اوپر سب سے اعلی ہے۔

12. تازہ مسواک کی فضیلت اور اسکے فوائد کا زیادہ ہونا البتہ خشک مسواک بھی کی جاسکتی ہے۔

13. دانتوں پر ملنے کے لیے مسواک کو تیار کرنا اور جو خود نہ کرسکتا ہو اس کو کر کے دینا۔

14. کسی مصلحت و ضرورت کے تحت کسی دوسرے کی مسواک استعمال کرنا جائز ہے ۔

15. اشارہ گفتگو کے قائم مقام ہوتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے مبارک سر سے اثبات یعنی ہاں کا اشارہ فرمایا اور سیدہ عائشہ صدیقہ نے اس پر عمل درآمد کر دیا۔

16. جب بھی نیک عمل کا موقع ملے اسے کرنا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی مسواک کو پسند کیا ۔

17. مشکل ترین حالات میں بھی صبر کے دامن کو نہ چھوڑنا ایمان ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی وفات کے وقت موت کی تکالیف پر صبر کیا اور آپﷺ کی وفات پر آپ کے گھر والوں اور صحابہ کرام نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا ۔

18. دنیاوی زندگی کسی کو ہمیشہ کی حاصل نہیں ہے ہر ایک نے وقت مقررہ پر فوت ہونا ہے۔

19. موت اور زندگی اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی ہے جس کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔

20. موت کے وقت اللہ سے اچھی امید رکھنا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری لمحات میں اللہ کے لیے الرفیق مہربان دوست کا لفظ استعمال کیا۔

21. موت کے بعد ہر ایک کو مقام ومرتبہ کے لحاظ سے برزخی زندگی حاصل ہے۔

22. آخری لمحات میں اپنے پیارے کی خدمت کرنا باعث فخر و امتیاز ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ کہا کرتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ میری گود میں فوت ہوئے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں