عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 12) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر: 23

طہارت کی کتاب: مذی وغیرہ کا بیان میں

عَنْ عَلِىِّ بْنِ أبى طَالِب رَضِيَ الله عَنْهُ قَال: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيتُ أنْ أسْألَ رَسُولَ الله ﷺ لِمَكَان ابنته منِّى، فَأمَرْتُ المِقْدادَ بْنِ الأسْوَد، فَسألهُ، فَقَاَل: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ »

وللبخاري: «اغْسِل ذَكَرَكَ وتَوَضَّأُ»

ولمسلم : «تَوَضَّأَ وَاْنضَحْ فَرْجَكَ»

(رواه البخارى، کتاب الغسل، باب غسل المذي والوضوء منه، برقم 269، واللفظ له، ومسلم، کتاب الحیض، باب المذي، برقم 303)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ میں بہت زیادہ مذی والا شخص تھا ،میں شرمایا کہ رسول اللهﷺ سے مسئلہ پوچھوں ان کی بیٹی سیدہ فاطمہ کے میرے ساتھ رشتے کی وجہ سے میں نے سیدنا مقداد بن اسود کو حکم دیا۔ اس نے آپ سے پوچھا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’وہ اپنی شرم گاہ دھو لے اور وضو کرے۔‘‘

صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں : ’’اپنی شرم گاہ دھو لو اور وضو کرو۔‘‘

صحیح مسلم کے الفاظ ہیں :

’’وضو کر اور اپنی شرم گاہ پر پانی کے چھینٹے مار۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

نوٹ: صحیح بخاری کی روایت میں « تَوَضَّأُ وَاغْسِل ذَكَرَكَ» وضو کر اور ذکر ( شرم گاہ ) کو دھو لے، کے الفاظ ہیں یعنی اس باب کی حدیث میں جو ترتیب الفاظ ہیں ، صحیح بخاری میں اس کے الٹ ہیں لیکن یاد رہے کہ واؤ ترتیب کے لئے لازم نہیں ہے۔

جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:

﴿وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ﴾ (سورۃ النحل:78)

اس سے یہ قطعاً مراد نہیں کہ ماں کے بطن سے پہلے الله تعالیٰ نے نکالا پھر بعد میں کان آنکھیں اور دل بنائے بلکہ یہ سب کچھ رحم مادر میں بنا کر باہر نکالا ہے۔ اس لئے واؤ میں ترتیب لازم نہیں ہوتی، البتہ یہ ترتیب کے لیے آتی ہے مگر ہمیشہ کے لیے یہ قاعدہ نہیں ہے۔ لہٰذا پہلے شرم گاه دھوئے بعد میں وضو کرے۔

حدیث مبارکہ کے بعض لفظی معانی

1۔ مَذَّاءً : زیاده مذی والا۔

2 ۔ وَاْنضَحْ فَرْجَكَ: اپنی شرم گاہ پر چھینٹے مارو ۔ اپنی شرم گاہ کو دھو ۔

يَغْسِلُ : وہ دھوتا ہے یا وہ دھو لے ۔

4 : فَاسْتَحْيَيتُ : میں شرمایا۔

5 : مَذْيٌ : وہ رقیق مادہ جو طبیعت شہوانی میں ہیجان پیدا ہونے کی وجہ سے شرم گاہ سے خارج ہوتا ہے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل

1۔مذی نواقض الوضوء میں سے ہے یعنی اس کے خارج ہونے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو سبیلین سے نکلے ناقض الوضو يعنی وضو کو توڑنے والی ہے۔

2۔مذی خارج ہونے کی صورت میں شرم گاہ کو دھو کر وضو کیا جائے، غسل ضروری نہیں۔

3۔شرم و حیا ایمان ہے، بعض صورتوں میں بعض مسائل اشارے کنائے سے پوچھنا یا بالواسطہ پوچھنا مستحب ہے۔

4۔ ایسی چیز جس کا نظر آنا ناپسندیدہ ہو اس کو دھونے کا حکم۔

جمہور اہل علم اس سے مذی کے نجس ہونے کا کہتے ہیں۔

5۔ جب تک مسئلہ کے حل صحیح معلوم نہ ہو تب تک اجتہاد کرنا۔ جیسے سیدنا علی نے غسل کی صورت میں کیا۔

6۔ مسئلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں اہل علم سے مسئلہ پوچھنا۔

7۔ انسانی طبیعت میں شہوت کی کثرت کا ہونا معیوب نہیں ہے۔

حدیث نمبر 24

طہارت کی کتاب: مذی وغیرہ کا بیان

عَنْ عَبّادٍ بنِ تَميمٍ، عَنْ عَبْدِ الله بنِ زَيد بنِ عَاصِمٍ المَازِني رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ اَلرَّجُلُ يُخَيَّلُ إلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «لَا يَنْصرفْ حَتّى يَسْمَعَ صَوْتاً أَوْ يَجِدَ رِيْـحًا»

(رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب من لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن، برقم 137، ومسلم، کتاب الحیض، باب الدليل على أن من تيقن الطهارة ثم شك في الحدث، فله أن يصلي بطهارته تلك، برقم 361، واللفظ)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عباد بن تمیم نے سیدنا عبد الله بن زید بن عاصم مازنی کے حوالے سے روایت کی ہے فرمایا کہ

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں شکایت کی گئی کہ ایک شخص کو خیال آتا ہے کہ وہ نماز کے دوران کچھ محسوس کرتا ہے ( یعنی کہ ہوا وغیرہ خارج ہو ئی ہے ) ۔

تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’تم میں سے کوئی ایک نہ پھرے ( یعنی نماز نہ توڑے ) یہاں تک کہ وہ آواز سنے یا بد بو محسوس کرے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

شُكِيَ: شکایت کی گئی ۔

يُخَيَّلُ إلَيْهِ: اسے خیال آتا ہے۔

يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ: وہ نماز میں کوئی چیز پاتا ہے یعنی اسے پیٹ سے ہوا خارج ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

لَا يَنْصرفْ : نہ پلٹے نہ پھرے ۔

صَوْتاً : آواز۔

رِيْـحًا: ہوا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل

1۔ محض شک کی نبیاد پر احکام لاگو نہیں ہوتے ہیں، کسی پر کوئی حکم لگانے کے لیے یقین کا ہونا ضروری ہے۔

2۔شک کی بنیاد پر نہ وضوء ٹوٹتا ہے اور نہ نماز باطل ہوتی ہے۔

3۔بلاسبب نماز کو توڑنا شرعا ممنوع ہے۔

4۔دبر و قبل سے ہوا خارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ہوا خواه آواز سے خارج ہو یا بغیر آواز سے۔

6۔ آواز یا بو پیٹ سے ہوا خارج ہونے کی علامتیں ہیں۔

6۔ وضو ٹوٹنے میں مذی کا حكم دبر یا قبل سے ہوا وغیرہ خارج ہونے کے برابر ہے۔

7۔ سبيلين یعنی دبر و قبل سے کچھ بھی خارج ہو، وضو ٹوٹ جاتا ہے، البتہ منی و احتلام کی صورت میں غسل فرض ہوگا۔

٭٭٭

ولی صفت نوجوان خضر رسول ہارٹ اٹیک سے چل بسے

نیک وصالح نوجوان جو ہمیشہ مسجد میں امام کے پیچھے پہلی صف میں نماز پڑھنے والے نوجوان برادر خضر رسول 36 سال کی عمر میں اچانک ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

ہمیشہ ہنس مکھ چہرہ سے ملنے والے اور ماں کے خدمت گار، ہر ایک کی مدد کرنے والے اچانک داغ مفارقت دے گئے۔ اس پر والدین، بھائی، بہن، اقارب واحباب سب حیران وپریشان ہیں اور سب کی زبانوں پر اس نوجوان کے لیے دعائیں ہیں، جامع مسجد کوئنس کراس ڈڈلی میں ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور مسجد سے قریبی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، جس میں ریکارڈ حاضری تھی، نماز جنازہ سے قبل ڈاکٹر ثاقب نے کہاکہ ایک غم بھولے نہیں ہیں، پھر ایک نیا غم آن پڑتا ہے، یا اللہ! ہمیں غموں سے اور دکھوں سے بچائے رکھ، اس موقع پر برادر خضر کی والدہ محترمہ ہمشیرہ صاحبہ اور برادر کامران وغیرہ نے مسجد کو ڈونیشن دیا، اللہ کریم قبول فرمائے۔ آمین

جنازہ میں بہت سے اقارب واحباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مولانا اثری نے بھی خطاب کیا اور آخرت کی تیاری کرنے کی تلقین کی۔

دعا ہے کہ اللہ کریم اس نوجوان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔آمین

تبصرہ کریں