عمدۃ الأحکام؛طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 21) فضل الرحمٰن حقانی

حدیث نمبر: 41

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ : «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ ﷺ مِن إِنَاءٍ وَاحِدٍ كِلاَنَا جُنُبٌ، وَكَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ فَيُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.»

[رواه البخاري، كتاب الحيض، باب مباشرة الحائض، برقم 299،300،301، ومسلم، كتاب الحيض، باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة، وغسل الرجل والمرأة في إناء واحد في حالة واحدة، وغسل أحدهما بفضل الآخر، برقم 321، ومسلم، كتاب الحيض، باب مباشرة الحائض فوق الإزار، برقم 293، ومسلم، كتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها وترجيله، وطهارة سؤرها، والاتكاء في حجرها، وقراءة القرآن فيه، برقم 8- (297)]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت ہے فرمایا :میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے نہالیا کرتے تھے جبکہ ہم دونوں جنبی ہوتے آپ مجھے حکم دیتے تو میں تہبند باندھ لیتی آپ میرے ساتھ لیٹ جاتے اس حال میں کہ میں حائضہ ہوتی آپ اپنا سر میری طرف نکالتے اس حال میں کہ آپ حالت اعتکاف میں ہوتے تو میں اسے دھوتی اس حال میں کہ میں حائضہ ہوتی۔(بخاری ومسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : كُنْتُ اَغْتَسِلُ: میں نہایا کرتی تھی ۔

2 : كِلَان: دونوں ۔

3 : فَكَانَ يَأْمُرُنِیْ: آپ مجھے حکم کرتے تھے ۔

4 : فَاَتَّزِرُ: تو میں تہبند باندھ لیتی۔

5 : يُبَاشِرُنِیْ: مجھ سے مباشرت کرتے ۔

6: يُخْرِجُ رَأْسَهُ: وہ (آپ) اپنا سر نکالتے۔

6 : مُعْتَكِفُ : اعتکاف بیٹھنے والا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ خاوند بیوی کا اکھٹے ایک برتن سے غسل کرنا جائز ہے۔

2۔جنبی اور حائضہ کا جسم محض جنابت یا حیض کی وجہ سے پلید نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا پورا جسم اور لعاب پاک ہے۔

3۔ حائضہ عورت کے ساتھ مباشرت کرنا جائز ہے اور مباشرت کامعنی جماع کے علاوہ ہے حائضہ عورت سے جماع کرنا حرام ہے۔

4۔حائضہ عورت کا مسجد میں ٹھہرنا منع ہے۔ البتہ مسجد سے باہر رہ کر کوئی چیز وغیرہ مسجد سے پکڑنا، لینا، دینا جائز ہے۔ اسی طرح ضرورت کے تحت مسجد سے گذرنا بھی جائز ہے ۔

5۔حائضہ عورت کا خاوند کی خدمت کرنا جیسے بالوں میں گنگی وغیرہ کرنا یا خاوند کا بیوی کی گود وغیرہ میں سر وغیرہ رکھنا جائز ہے۔

6۔ حیض کا خون پلید ہے ۔ کپڑےیا جسم کے جس حصے پر لگ جائے اس کو دھونا ضروری ہے ۔ اور حیض کے خون کو حتی المقدور جسم اور کپڑے سے لگنے سے بچانا چاہیے۔

7۔ خاوند بیوی کا آپس میں پیار و محبت سے رہنے کی فضیلت ۔

8۔ اعتکاف کی جگہ مسجد ہے۔

9۔حالت اعتکاف میں غسل کرنا، گنگی وغیرہ کرنا ، بیوی سے گفتگو کرنا، بیوی سے خدمت لینا وغیرہ جائز ہے۔ البتہ حالت اعتکاف میں عام دنیاوی گفتگو کی کثرت سے بچے۔

حدیث نمبر : 42

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ : «كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَتَّكِىءُ فِى حِجْرِي، وَأَنَا حائِضٌ، فَيَقْرَأُ الْقُــرْآنَ.»

[رواه البخاري، كتاب الحيض، باب قراءة الرجل في حجر امرأته وهي حائض، برقم 297، ورقم 7594، ومسلم، كتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها وترجيله وطهارة سؤرها، والاتكاء في حجرها، وقراءة القرآن، واللفظ له، برقم 301]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ عائشہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہﷺ میری گود میں ٹیک لگا لیا کرتے تھے اور میں حائضہ ہوتی آپ اس صورت میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : يَتٍكِئُ:وہ ( آپ ) ٹیک لگاتے ۔

2: حِجْرِیْ: میری گود۔

2 : يَقْرَاُ الْقُــرْآنَ: وہ ( آپ ) قرآن پڑھتے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ بستر پر قرآن مجید کی تلاوت کرنا، لیٹ کر تلاوت کرنا، بیوی کی گود میں لیٹ کر تلاوت کرنا، یہ سبھی امور جائز ہیں۔

2۔حائضہ عورت کا ظاہری جسم حالت حیض میں نجس (پلید) نہیں ہے بلکہ پاک ہے ۔ اسی طرح حائضہ عورت کو صرف نماز اور روزہ سے منع کیا گیا ہے اس کے علاوہ عبادات مثلا ذکر و اذکار ، دعا، قران مجید کی تلاوت وغیرہ جائز ہے۔

3۔حائضہ عورت کھانے پینے وغیرہ سے پہلے بسم اللہ اور اخر میں الحمد للہ پڑھنا اور مسنون اذکار کرنا اسی طرح جائز و سنت ہیں جس طرح عام حالات میں تھے۔

حدیث نمبر: 43

عَن مُعَاذَةَ، قَالَتْ: «سَأَلتُ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ : مَا بَالُ الحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِي الصَّلاةَ؟ فَقَالَتْ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ فَقُلْتُ : لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ، وَلَكِنِّي أَسْأَلُ، فَقَالَتْ : كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكِ، فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلاةِ.»[رواه البخاري، كتاب الحيض، باب لا تقضي الحائض الصلاة، برقم 321، ومسلم، كتاب الحيض، باب وجوب قضاء الصوم على الحائض دون الصلاة، واللفظ له، برقم 335]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ معاذہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ سے دریافت کیا کیا وجہ ہے کہ حائضہ عورت روزوں کی قضاء دیتی ہے اور نماز کی قضاء نہیں دیتی؟ سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمایا :کیا تو حروریہ ( خوارج ) میں سے ہے؟ میں نے عرض کی نہیں میں حروریہ (خوارج ) میں سے نہیں ہوں میں تو مسئلہ دریافت کرتی ہوں سیدہ عائشہ نے فرمایا یہ حیض ہمیں بھی آتا تھا اور ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

نوٹ:یہ سیاق مسلم کا ہے بخاری شریف میں فَنُؤْمَرُ بِقَضَآءِ الصَّوْمِ کے الفاظ نہیں

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : مَا بَالُ : کیوں یا کیسے ۔

2 : تَقْضِی: وہ (عورت ) قضاء دیتی ہے ۔

3: الصَّوْمَ: روزہ۔

4 : حَرُوْرِیَّةُ: حرورا بستی میں رہنے والی مراد خوارج ہیں: حرورا نامی بستی کوفہ کے قریب واقع ہے خوارج کا پہلا گروہ سیدنا علی سے الگ ہو کر یہاں آباد ہوا تھا ۔

5 : كَانَ يُصِيبُنَا ذَالِكَ: ہمیں بھی یہ لاحق ہوتا ۔

6 : نُؤْمَرُ: ہمیں حکم دیا جاتا۔

7 : قَضَاءُ الصَّوْمِ: روزے کی قضاء.

8 : قَضَاءُ الصَّلَاةِ: نماز کی قضاء۔

مفہوم الحدیث

سیدنا معاذ بیان کرتی ہیں کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے دریافت کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ حائضہ عورت کو روزوں کی قضاء کا حکم ہے لیکن نمازوں کی قضاء کا حکم نہیں؟ آپ نے میرا سوال سنتے ہی ارشاد فرمایا :کہیں تیرا تعلق خارجیوں سے تو نہیں میں نے عرض کیا نہیں میں خارجی نہیں صرف مسئلہ دریافت کرنے کے لیے یہ سوال کیا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمایا :جب ہمیں حیض کا عارضہ لاحق ہوتا تو ہمیں بھی یہی حکم دیا جاتا ہے کہ روزوں کی قضاء دیں اور نمازوں کی قضاء نہ دیں۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ مسئلہ معلوم نہ ہو تو عالم سے پوچھنا۔

2۔ عالم کا سائل کے سوال کا جواب دینے سے پہلے وضاحت کے لیے اہم چیز کے متعلق مزید پوچھنا چاہیے خصوصاً اگر اس طرح کا اعتراض یا عمل گمراہ فرقے کرتے ہوں۔

3۔ عالم کو چاہیے کہ جواب عقل سے دینے کے بجاۓ قران وحدیث سے دے اور اگر کوئی مسئلہ قران وحدیث سے صراحت کے ساتھ ثابت نہ ہو تو وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے۔

4۔ سائل اگر مسلمان ہو تو اس کو ایسے مسائل جن میں قران وحدیث کی نصوص صریح ہوں ان میں قرآن وحدیث کی نصوصِ کو کافی و وافی سمجھے کیونکہ یہ مسلمان ایمان کا تقاضا ہے۔

5۔حائضہ عورت حالت حیض میں چھوڑے گئے فرض روزوں کی قضاء دے گی ۔لیکن فرض نمازوں کی قضاء نہیں دے گی ۔ اس کی اصل حکمت تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر اس حکم میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پہلو واضح ہے کیونکہ چند دنوں کی نمازوں کی قضاء انتہائی مشکل ہے مگر روزوں کی قضاء آسان ہے۔

6۔خوارج حیض کے دنوں میں چھوڑی گئی نمازوں کی قضاء کے قائل ہیں۔

7۔ خوارج حدیث رسولﷺ کا انکار کرتے تھے موجودہ دور کے منکرین حدیث اور بہت سارے بدعی اور تقلیدی فرقے جو حیلے حدیث کو رد کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں ان کا دارومدار اکثر خوارج اور دوسرے گمراہ فرقوں کے قواعدوضوابط پر ہے۔

8۔ اسلام کی تعلیم سرا سر رحمت ہے۔

9۔ صحابہ کرام جب یہ کہتے کہ ہمیں حکم دیا گیا تو اس سے مراد رسول اللہ ﷺم کا حکم دینا ہے۔

10۔ جس طرح قرآن مجید شریعت ہے بالکل اسی طرح حدیث بھی شریعت ہے، حائضہ عورت کو روزوں اور نمازوں کی قضاء کے متعلق حکم قرآن مجید میں موجود نہیں ہے۔ حکم کی اتباع میں دونوں کا درجہ برابر ہے۔

تبصرہ کریں