عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 18) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

یث نمبر : 39

عَن عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا : أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِى حُبَيْشٍ، سَأَلَت النَّبِيَّ ﷺ، فقَالَتْ : إِنِّى امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ؟ فَقَالَ: «لاَ، إِنَّ ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَكِنْ دَعِي الصَّلاَةَ قَدْرَ الأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي.»

وَفِي رِوَايَةٍٍ: «وَلَيْسَتْ بِالحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلاَةَ فِيْهَا، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي.»

[رواه البخاري، كتاب الحيض، باب إذا حاضت في شهر ثلاث حيض بلفظه، برقم 325، رواه البخاري، كتاب الحيض، باب الاستحاضة، برقم 306، ومسلم، برقم 333]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ ام المومنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حُبَیْش نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیاکہ مجھےاستحاضہ کا عارضہ لاحق ہے کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ فرمایا :نہیں یہ رگ کا خون ہے لیکن تو نماز چھوڑ دیا کر اتنے دنوں کے مطابق جتنے دن تجھے حیض آیا کرتا تھا پھر تو غسل کر اور نماز پڑھ۔اور ایک روایت میں ہے تو اپنے سے خون دھو لیا کر اور نماز پڑھ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: امْرَأَةٌ : عورت۔

2: أُسْتَحَاضُ: استحاضہ کا خون آنا۔

3 :عِرْقُ: رگ، آنت ۔

4 : اِذَا اَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ : جب حیض آئے۔

5 : دَعِی الصَّلَاةَ : نماز چھوڑ دے ۔

6: الدَّمَ : خون۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1: اہل علم سے مسائل کا پوچھنا جیسے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے پوچھا۔

2۔ عورت کا مرد سے مسائل پوچھنا جائز ہے جیسے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے پوچھا۔

3۔ اکیلی عورت مرد سے خلوت میں مسائل نہ پوچھے بلکہ اس مرد کی بیوی یا محرمہ کی موجودگی میں یا اپنے کسی محرم کی موجودگی میں پوچھے۔ جیسے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش نے پوچھا۔ البتہ آج کل فون پر مسائل پوچھے جا سکتے ہیں بشرطیکہ کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔

4۔استحاضہ اور حیض کے خون کے نکلنے کی جگہ ایک ہی ہے مگر ان کے حکم میں فرق ہے حیض کے دن مخصوص ہوتے ہیں جبکہ استحاضہ ایک بیماری ہے جس کی کوئی حد بندی نہیں۔

5۔استحاضہ کے خون سے نماز و روزہ اور دیگر عبادات کا فریضہ اسی طرح سر انجام دیا جاۓ گا جیسے عام دنوں میں۔

6۔حیض کے دنوں میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا ممنوع و حرام ہے۔ البتہ باقی کام اور ذکر و اذکار وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں ۔

7۔جو خاتون استحاضہ میں مبتلا ہے وہ اپنے حیض کے دنوں کا حساب لگا کر نماز و روزہ چھوڑے گی اور جب وہ دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز کی ادائیگی کرے گی۔

8۔استحاضہ اور حیض کے خون کی رنگت میں فرق ہوتا ہے۔استحاضہ کا خون زردی مائل جبکہ حیض کا خون سیاہی ماہل اور بدبودار ہوتا ہے۔

9۔حیض کا خون پلید ہوتا ہے جس کا دھونا واجب ہے۔

10۔ حیض کا خون رحم کے اندر سے جبکہ استحاضہ کا خون رحم کے باہر کسی رگ کے زخمی وغیرہ ہونے کی صورت میں آتا ہے۔

11۔ حیض کے دنوں کے فرض روزوں کی قضا ضروری ہے۔ البتہ اس دوران کی نمازوں کی قضا نہیں ہے۔

12۔ حیض کی وجہ سے صرف عورت کو نماز و روزہ سے منع کیا گیا ہے اس وجہ سے عورت کا باقی جسم پلید نہیں ہوتا ہے وہ کھانا وغیرہ پکا سکتی ہے اور اپنے خاوند سے جماع کے علاوہ سب کچھ کرسکتی ہے۔ حدیث میں فلا أطهر ( میں پاک نہیں رہتی ) سے مراد نماز کے قابل ہونے والی طھارت ہے ۔

حدیث نمبر : 40

عَن عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، قَالَتْ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ.

[رواه البخاري، كتاب الحيض، باب عرق الاستحاضة، برقم 327، بلفظه، ومسلم، كتاب الحيض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، برقم 334.]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ ام المومنین عائشہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ سات سال تک استحاضہ میں مبتلا رہیں اس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا آپ نے اسے غسل کرنے کا حکم دیا تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ (بخاری ومسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اُسْتُحِيضَتْ : استحاضہ میں مبتلا ہوئی۔

2 : سَبْعَ سِنِينَ : سات سال

3 : أَمَرَهَا : اسے حکم دیا ۔

4 : أَنْ تَغْتَسِلُ: غسل کرنا۔ ( أَنْ مصدریہ سے فعل مصدر کے معنی میں ہو جاتا ہے )

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ حیض کے ایام گزر جانے کے بعد غسل فرض ہو جاتا ہے۔

2۔ استحاضہ میں مبتلا خاتون کے لیے غسل ہر نماز کے لیے فرض نہیں ہے۔ البتہ ہر نماز کے لیے وضوء فرض ہے۔

3۔ سیدہ ام حبیبہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں اور افضل ہے کہ کوئی عورت اس بیماری میں ہر نماز کے لیے غسل کرے لیکن ایک بار غسل کے بعد ہر نماز کے لیے صرف وضوء ہی فرض ہے اور اس سے سیدہ ام حبیبہ کا کمال تقوی تھا کہ سات سال ہر نماز کے لیے غسل کرتی رہیں۔ اس میں ہماری خواتین کے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ عورت بھی کتنی مضبوط اور تقویٰ کی مالک ہوسکتی ہے۔

4۔سیدنا علی ، سیدنا عبداللہ بن عباس ، سیدہ عائشہ وغیرہ مستحاضہ عورت کے غسل واجب ہونے کے قائل نہ تھے۔امام ابو حنیفہ ﷫ ، امام مالک ﷫ اور امام احمد بن حنبل ﷫ کاموقف بھی یہی تھا کہ مستحاضہ عورت کے لیے غسل واجب نہیں۔وہ صرف حیض کے دن گذرنے کے بعد غسل کرے گی۔

5۔ بیماری لمبی ہونے کی صورت میں نا امید نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لیے شفا رکھی ہے اور شفا کا وقت کسی انسان کو معلوم نہیں ۔ مومن کو بیماری کی صورت میں بڑا اجر ملتا ہے۔ اس لیے کسی بھی بیماری میں صبر و شکر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

6۔ بعض صورتوں میں بعض لوگوں کی بیماری کا ذکر کیا جاسکتا ہے جب اس کے ذکر کرنے سے عوام کو فائدہ ہو۔ سیدہ ام حبیبہ کے اس واقعہ کے بیان سے جہاں استحاضہ والی عورت کا نمازوں کی ادائیگی کا افضل طریقہ معلوم ہوتا ہے وہاں باقی مسلمان خواتین کو ان کے عظیم صبر و شکر اور مضبوط ایمان و تقویٰ سے بہت حوصلہ ملتا ہے۔

تبصرہ کریں