عمدۃ الاحکام اور اس کے مؤلف کا مختصر تعارف ۔ فضل الرحمٰن

عمدۃ الأحكام في كلام خير الانام بظاہر یہ حدیث کی انتہائی مختصر کتاب ہے مگر اپنے نام کی طرح سردار کُتب میں سے ہے اور یہ ہر اس مسلمان کے لیے کسی انتہائی قیمتی خزانے اور تحفے سے کم نہیں جو احکام و مسائل کو صحیح ترین احادیث کی روشنی میں جاننا اور عمل کرنا چاہتا ہے جن احکام کا ہر مسلمان مکلف ہے وہ پانچ طرح کے ہیں:

  • فرض و واجب (یہ دونوں لفظ ہم معنیٰ ہیں) یعنی ایسا حکم جس کا کرنا لازمی و ضروری ہے۔
  • مندوب : یعنی اس سے مراد ایسا حکم جو سنت ومستحب درجہ کا ہے۔
  • حرام: یعنی ایسا حکم جس کے کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ سخت ممنوع ہے۔
  • مکروہ: یعنی ایسا حکم جو حرام تو نہیں مگر شریعت نے اس کو پسندیدہ قرار نہیں دیا ہے۔
  • مباح : یعنی ایسا حکم جو حلال و جائز ہو ۔

ان پانچوں احکام کو فقہ کی اصطلاح میں تکلیفی احکام  کہا جاتا ہے یعنی وہ احکام جن کا ایک مسلمان مکلف ہے ۔

ان پانچوں قسم کے احکام کو جاننے کے لیے قران مجید اور احادیثِ رسول ہیں، ظاہر ہے کہ ہر ایک کے لیے پورے قرآن مجید اور تمام اَحادیث کو جاننا انتہائی مشکل عمل ہے مگر اس مختصر سی کتاب کے ذریعے سے یہ کام ایک عام مسلمان کے لیے انتہائی آسان ہے ، صاحب کتاب نے احکام کی احادیث جن کو بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں بیان کیا ان میں سے کچھ کا انتخاب کیا ہے ۔

عمدۃ الاحکام میں صاحب کتاب نے طہارت وپاکیزگی نماز، جنازہ ، زکاۃ، روزے، حج، خرید وفروخت، نکاح و طلاق، رضاعت، قصاص، حدود، کھانے پینے ، لباس، جہاد وغیرہ کے متعلق بیس سے زائد اہم اور روز مرہ پیش آنے والے مسائل کے عنوانات سے بخاری و مسلم سے منتخب احادیث کو 119 ابواب کی صورت میں جمع کیا اور اردو کے محاورے ’سمندر کو کوزے میں بند کرنا ‘ کے مصداق بنا دیا ۔  

عمدۃ الاحکام کے مولف الشیخ عبد الغنی﷫بیت المقدس کے علاقہ نابلس میں سنہ 541 ھ  میں علمی گھرانے میں پیدا ہوئے اور آپ نے بغداد،  مصر،  اصبہان،  موصل اور دمشق  وغیرہ کا علم کے حصول کے لیے سفرکیا۔ بہت سارے اہل علم اور آپ کے معاصرین نے آپکی بہت تعریف کی ہے ،  حتی کہ ابن رجب﷫ نے طبقات حنابلہ کی دوسری جلد کى ابتداء میں آپ کو امیر المؤمنین فی الحدیث کا لقب دیا ہے ۔ 

 امام ذھبی ﷫  نے سیر اعلام النبلاء میں ان کے حالات زندگی بیان کرنے سے پہلے اس طرح تعارف کروایا:” الإمام العالم الحافظ الكبير الصادق القدوة العابد الأثري المتبع عالم الحافظ تقي الدين أبو محمد عبد الغني بن عبد الواحد.”۔ یعنی  امام، عالم، حافظ کبیر، صادق،  متقی ، عابد، سلف کے پیروکار اور متبع سنت عالم الحفاظ تقی الدین ابو محمد عبد الغنی بن عبدالواحد ….

اور امام ذھبی ﷫ نے ہی  سیر اعلام النبلاء میں امام عبد العزیز بن عبد الملک الشيباني کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے التاج الکندی﷫ سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ  امام الدار قطنی﷫ کے بعد حافظ عبد الغنی ﷫ جیسا کوئی نہیں ہوا ”  کندی کہتے ہیں: ان کے جیسا حافظ الحدیث نہیں دیکھا گیا ”  وعن عبدالعزيز بن عبدالملك الشيباني، قال: “سمِعت التاج  الكندي يقول: لم يكن بعد الدارقطني مثل الحافظ عبدالغني وعن الكندي قال: “لم ير الحافظ مثل نفسه. “ (سير أعلام النبلاء)

ابن نجار آپ کے بارے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اَئمہ میں سے تھے ، بہت زیادہ احادیث انھیں حفظ تھیں، حدیث میں ان کی بہت سی بہترین تصنیفات ہیں، حافظہ کمال تھا، حدیث کے اصول وعلل، صحت و ضعف، ناسخ و منسوخ اور غریب وحسن، نیز حدیث کے معانی کا فہم اور فقہ، اس کے راویوں کے ناموں اور ان کے احوال کا علم سب کچھ اچھی طرح حاصل تھا۔ 

ابن العماد حنبلی کہتے ہیں  کہ آپ حفظ حدیث متن اور سند دونوں میں اس کے فنون پر مہارت کے ساتھ منتہیٰ تھے، ساتھ ساتھ تقویٰ، عبادت، سلف کی پیروی، اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اپنی مثال آپ تھے۔

آپ کے اَساتذہ میں الشیخ الفقیه نصر بن فتیان بن المنی ،  الحافظ أبو طاهر السِّلَفي، الحافظ أبو موسى المديني، أبو الفضل الطوسي، أبو الفتح ابن البطي، وأبو الحسن علي بن رباح الفراء، الشيخ عبد القادر الجيلانی، أبو زرعة المقدسي  رحمھم اللہ جمیعا  وغیرہ ہیں۔

اور آپکے مشہور شاگردوں میں سے جنہوں نے آپ سے حدیث بیان کی ہے ان میں سے چند یہ ہیں،الشيخ موفق الدين ، الحافظ عز الدين محمد ، الحافظ أبو موسى عبد الله ، الفقيه أبو سليمان ، الحافظ الضياء ، الخطيب سليمان بن رحمة الأسعردي ، البهاء عبد الرحمن ، الشيخ الفقيه محمد اليونيني ، الزين بن عبد الدائم ، أبو الحجاج بن خليل ، التقي اليلداني ، الشهاب القوصي ، عبد العزيز بن عبد الجبار القلانسي ، الواعظ عثمان بن مكي الشارعي ، أحمد بن حامد الأرتاحي ، إسماعيل بن عبد القوي بن عزون اور أبو عيسى عبد الله بن علاق الرزاز ۔ رحمھم اللہ جمیعا۔ وغیرہ۔

آپ نے پچاس سے زائد کتب تصنیف کی ہیں ، ان میں سے ایک عمدۃ الاحکام ہے جو دراصل الشیخ والعلامہ نے بعض طلاب العلم کی درخواست پر احکام کی احادیث پر بخاری و مسلم سے منتخب ایک مختصر رسالہ لکھا جس کا نام عمدۃ الاحکام ہے اس میں تقریباً چار سو بیس آحادیث ہیں۔

علم و تقوی کے اس پہاڑ اور نبی ﷺ کی وراثت (علم ) کے وارث نے 23 ربیع الاول بروز سوموار 600ھ میں 59 سال کی عمر میں وفات پائی۔  رحمہ اللہ تعالی ، اللہ تعالیٰ جنات الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے اور ہمارے والدین، بھائی، عزیز واقارب، اساتذہ، اور تمام مسلمانوں کو بھی جنات الفردوس میں نبی کریم ﷺ کا پڑوس نصیب فرمائے۔آمین

وصلی اللہ وسلم ، علی نبینا محمد وعلی آله و أصحابه أجمعین.

٭٭٭

تبصرہ کریں