عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط37) فضل الرحمٰن حقانی

امامت سے متعلق

حدیث نمبر : 78

عَنْ أبي مسعود الأنصاري البدري رضي الله عَنْه قال : «جَاءَ رَجُلٌ إلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ : إنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ مِنِ أَجْلِ فُلانٍ، مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فيها، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ : إنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُوجِزْ، فَإِنَّ مِنِ وَرَائِهِ الْكَبِيرَ وَالصَّغِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ».

[رواه البخاري، كتاب الأحكام، باب هل يقضي القاضي أو يفتي وهو غضبان، برقم 7159، وفي كتاب العلم، باب الغضب في الموعظة والتعليم إذا رأى ما يكره، برقم 90، وفي كتاب الأذان، باب تخفيف الإمام في القيام، وإتمام الركوع والسجود، برقم 702، وفي باب من شكا إمامه إذا طوّل، برقم 704، وفي كتاب الأدب، باب ما يجوز من الغضب والشدة لأمر اللَّه، برقم 610، برقم 703، ومسلم، برقم 467]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو مسعود انصاری نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہاکہ میں فلاں امام کی وجہ سے صبح کی نماز میں پیچھے رہ جاتا ہوں چونکہ وہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتا ہے کہاکہ میں نے نبی کریم ﷺ کووعظ کرتے ہوئےاس دن سےزیادہ کبھی غصہ میں نہیں دیکھا آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’لوگوں تم میں سے بعض نفرت پھیلانے والے ہیں جو بھی تم میں سے لوگوں کی امامت کرائے اسے چاہیے کہ اختصارسے کام لے اس لئے کہ اسکےپیچھے بڑےبوڑھے، چھوٹےبچے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : جَاءَ : آیا۔

2: رَجُلُ: ایک مرد۔

2 : اَتَاَخَّرُ : میں دیر کر دیتا ہوں ۔

3 : يُطِيْلُ بِنَا : وہ ہمیں لمبی نماز پڑھاتا ہے ۔

4 : غَضِبَ : ناراض ہوا ، غصہ کیا ۔

5 : مَوْعِظَةٍ : وعظ و نصیحت ۔

6 : يَوْمَئِذٍ : اس دن۔

7 : مُنَفِّرِيْنَ : نفرت دلانے والے ۔

8 : اَمَّ النَّاسَ : لوگوں کی امامت کی ۔

9 : فَلْيُوْجِزْ : چاہیے کہ وہ مختصر کرے ۔

10 : الْكَبِيرُ : بڑی عمر کا ۔

11 : الصَّغِيْرُ : چھوٹی عمر کا ۔

12 : ذَا الْحَاجَةِ : ضرورت مند ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔امام کےلیےضروری ہےجماعت کراتے ہوئے نماز میں نمازیوں کا خیال رکھے، یعنی نہ بہت لمبی نماز پڑھائے کہ لوگ اکتا یا تھک جائیں اور نہ ہی اتنی مختصر پڑھائے کہ نمازی اپنی نماز کا سبق مکمل نہ پڑھ سکیں یا وہ نماز کے ارکان اطمینان و اعتدال سے ادا نہ کر سکیں۔

2۔ بہت لمبی نماز پڑھانے والے ائمہ کرام کو رسول اکرم ﷺ نے ناپسند کیا ہے۔

3۔ بہت لمبی نماز پڑھانے کو فتنے یعنی شر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

4۔ اکیلا آدمی جتنی اس کا دل چاہے، نماز لمبی کر سکتا ہے۔

5۔معذور، عاجز اور ضرورت مند نمازیوں کا خیال رکھنا امام کے لئے ضروری ہے۔

6۔انسان کو چاہیے کہ دوسروں کے لئے سہولت پیدا کرے ناکہ دوسروں کو مشکلات میں مبتلا کرے۔

7۔باجماعت نماز میں بوڑھوں، بچوں اور ضرورت مندوں کا شریک ہونا ۔

8۔ ضرورت کے تحت وعظ و نصیحت اور تعلیم و تربیت کے وقت غصہ کرنا جائز ہے۔

9۔غصہ کی حالت میں فیصلہ کرنا درست ہے اور وہ فیصلہ نافذ ہوگا بشرطیکہ غصے کی وجہ سے ناحق فیصلہ نہ ہوا ہو۔

10۔ دینی امور میں کسی ناپسندیدگی کو دیکھ کر غصہ اور سختی کرنا جائز ہے ۔

11۔ امام یا امیر وغیرہ کی جائز شکایت کرنا جائز ہے ۔

12۔ محض امام یا امیر وغیرہ کی کسی غلطی کی وجہ سے اسے برطرف نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی اصلاح کی جائے گی۔

13۔امام یا امیر وغیرہ کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کریں ۔

نبی کریمﷺکی نماز کے اوصاف

حدیث نمبر : 79

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه قال : «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ : أَقُولُ:

«اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنِ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنِ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ».

[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب ما يقول بعد التكبير، برقم 744، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة، برقم 598]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہﷺ نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے تو کچھ دیر خاموش رہتے پہلے اس سے کہ آپ قراءت کریں میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموش رہتے ہیں، اس میں کیا کہتے ہیں، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں یہ کہتا ہوں :

«اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنِ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنِ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ».

’’اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان دوری پیدا کر دے جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری پیدا کی ہے۔ اے اللہ ! میری خطاؤں کو صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میری خطائیں پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : سَكَتَ : وہ خاموش رہا ۔

2: هُنَيْهَةً: تھوڑی دیر ۔

3 :بِأَبِیْ اَنْتَ وَأُمِّیْ: میرے والدین آپ پر قربان۔

4 : بَاعِدْ : دوری پیدا کر ۔

5 : خَطَايَایَ : میری خطائیں ۔

6 : يُنَقَّى : صاف کیا جاتا ہے ۔

7: الثَّوْبُ الْاَبْيَضُ: سفید کپڑا۔

8 : مِنَ الدَّنَسِ : میل کچیل سے

9 : اِغْسِلْنِیْ : مجھے دھو ڈال ۔

10 : الثَّلْجُ : برف۔

11 : الْبَرَدُ : اولے، ٹھنڈک۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔تکبیر تحریمہ کے بعد قراءت سے پہلے دعائے استفتاح پڑھنا سنت و مستحب عمل ہے۔

2۔دعائے استفتاح سری ہے نماز خواہ سری ہو یا جہری۔

3۔اللھم باعد بینی و بین خطایای مسنون دعا ہے اور معنی و مفہوم کے اعتبار سے انتہائی شاندار اور جامع ہے مگر بدقسمتی سے بہت سارے مسلمان اس دعا سے محروم ہیں۔

4۔صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کی حرکات وسکنات کو کمال درجہ سے دیکھتے اور اتباع کیا کرتے تھے۔

5۔ گناہ کی تاثیر چونکہ گرم ہوتی ہے، لہٰذا اس مناسبت سے دعا کے دوران پانی، برف اور اولوں کے الفاظ استعمال کئے گئے جس طرح یہ اشیاء گرمی کو زائل کرتی ہیں، اسی طرح دعا سے گناہوں کی حدت جاتی رہتی ہے۔

6۔حدیث و سنت بھی اسی طرح دین ہے جس طرح قرآن مجید ۔ نماز میں جس طرح قرآن مجید کا اہتمام ہے بالکل اسی طرح حدیث کا بھی ۔

7۔ حدیث و سنت کی حفاظت بھی اللہ نے اسی طرح کی ہے جس طرح قرآن مجید کی جیسے نماز میں قرآن مجید پڑھا جاتا ہے اسی طرح حدیث بھی پڑھی جاتی ہے۔

8۔گناہوں سے دور رہنے کا حکم ہے بلکہ بہت دور کیونکہ گناہوں کے اثرات ہوتے ہیں جن سے گنہگار بھی متاثر ہوتا اور معاشرہ بھی۔

9۔ گناہ ہو جانے کی صورت میں ان کو صاف کرنے کا حکم ہے اور گناہوں کی صفائی توبہ و استغفار اور نیک اعمال سے ہوتی ہے ۔

10۔ نماز کے ذریعے سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔

٭٭٭

جمعہ کے دن ذکر اور دعا

امام نووی رحمہ اللّٰہ کا قول ہے کہ

’’جان لیجیے کہ جو اذکار عام دنوں میں کیے جاتے ہیں، وہ جمعہ کے دن بھی کیے جائیں گے. اس دن میں دیگر ایام کی نسبت کثرت ذکر زیادہ مستحب ہے. جمعہ کے روز رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر کثرت سے درود بھیجنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے. اسی طرح جمعہ کے پورے دن میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک زیادہ سے زیادہ دعا کرنا چاہیے کہ قبولیت کی گھڑی نصیب ہو سکے۔‘‘

تبصرہ کریں