عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 18) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر : 35

عَن أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بنِ عَلِيِّ بنِ الحُسَينِ بنِ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَأَبُوهُ عِنْدَ جَابِرِ بنِ عَبْدِ اللهِ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَسَألُوهُ عَن الغُسْلِ؟ فَقَالَ : صَاعٌ يَكْفِيكَ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا يَكْفِينِي، فَقَالَ جَابِرٌ : كَانَ يَكْفِي مَن هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَراً، وَخَيْراً مِنْكَ – يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ.

وَفِي لَفْظٍ : كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُفْرِغُ المَاءَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثاً.

قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : الرَّجُلُ الَّذِي قَالَ : ((مَا يَكْفِينِي)) هُوَ الحَسَنُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَبُوهُ مُحَمَّدُ بنُ الحَنَفِيَّةِ. (رواه البخاري، كتاب الغسل، باب الغسل بالصاع ونحوه، برقم 252. رواه البخاري، كتاب الغسل، باب من أفاض على رأسه ثلاثاً، برقم 255، و256، وأخرجه مسلم بنحوه، كتاب الغسل، باب استحباب إفاضة الماء على الرأس وغيره ثلاثاً، برقم 329)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو جعفر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے وہ اور اس کے باپ سیدنا جابر بن عبداللہ کے پاس تھے ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے انہوں نے آپ سے غسل کے بارے میں سوال کیا۔آپ ﷺنے فرمایا

’’تیرے لیے ایک صاع کافی ہے اس آدمی نے کہا میرے لئے کافی نہیں۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا :

’’جس کے بال تجھ سے زیادہ گھنے تھے اور وہ خود تجھ سے بہتر تھا اس کے لئے تو غسل کےلئےاتنا پانی کافی تھا۔‘‘

سیدنا جابر کی مراد رسول اللہﷺتھے پھر سیدنا جابر نے ایک کپڑے میں ہمیں نماز پڑھائی۔

ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتے۔

مصنف کا بیان ہے کہ وہ شخص جس نے یہ کہا کہ ایک صاع پانی میرے لئے کافی نہیں۔وہ حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب تھا اس کا والد محمد بن حنفیہ تھے۔(بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: يَكْفِيكَ : تیرے لیے کافی ہے ۔

2: صَاعٌ: چیزوں کے ماپنے کا ایک پیمانہ ہے ۔

3:مَا يَكْفِينِي: میرے لیے کافی نہیں ۔

4: اَوْفَرَ مِنْكَ شَعْرًا: تجھ سے زیادہ گنے بال تھے۔

5: أَمَّنَا : اس نے ہمیں (نماز کی) امامت کرائی

6: فِي ثَوْبٍ: ایک کپڑے میں۔

7: يُفْرِغُ: وہ انڈیلتا ہے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔آل رسول اور صحابہ کرام کی آپس میں محبت ایک دوسرے کی محافل و مجالس میں جانا اور ایک دوسرے سے مسائل پوچھنا اور مسائل میں رسول اللہ ﷺ کی ذات و عمل کو اپنے درمیان دلیل فیصل سمجھنا۔ اور یہی آج کے مسلمان کے لیے بھی درست طریقہ ومنہج ہے۔

2۔ غسل جنابت فرض ہے خواہ تھوڑے پانی سے ہو۔

3۔غسل جنابت کے لئے ایک صاع پانی کفایت کر جاتا ہے ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے۔ اور ایک مد ایک انسان کے دو ہاتھ بھر کر کسی چیز کی مقدار ہے ۔ ظاہر ہے چیزوں کے مختلف ہونے سے گرام میں وزن مختلف ہو گا ۔ پانی کا ایک صاع اڑھائی کلو گرام سے تین کلو گرام تقریباً ہے۔

4۔ایک صاع پانی موجود ہو تو اس شخص کو غسل کرنا فرض ہو گا جس پر غسل فرض ہے یعنی ایسا شخص تیمم نہیں کرسکتا ہے۔

5۔پانی کی اگر قلت ہو تو غسل کے لئے تھوڑا پانی استعمال کرنا مستحب ہے۔ اور عموما بھی پانی کو کم استعمال کرنا مستحب ہے۔

6۔غسل میں سر کے بالوں کو اچھی طرح دھونا اور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ تین بار سر پر پانی ڈالنا سنت ہے۔

7۔مرد کے لیے ایک کپڑے میں نماز پڑھنا پڑھانا درست ہے ، غربت وغیرہ کی وجہ سے کپڑے کم ہونے کی صورت میں مرد بڑی چادر وغیرہ کو ایسے پہنے گا کہ اس کے کندھے اس ڈھانپ جائیں البتہ فراوانی ہو تو نماز کے لیے مناسب اور عمدہ لباس پہن کر نماز پڑھنا پڑھانا افضل ہے ۔

8۔یہ حدیث مرد کے لیے ننگے سر نماز پڑھنے پڑھانے پر بھی دلیل ہے مگر ایسا لباس پہننا جو مناسب اور معززانہ ہو افضل ہے۔

9۔اتباع رسول کی فضیلت و مقام ۔

حدیث نمبر : 36

عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى رَجُلاً مُعْتَزِلاً لَمْ يُصَلِّ مَعَ القَوْمِ، فَقَالَ : «يَا فُلانُ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي القَوْمِ؟»، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، وَلاَ مَاءَ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ، فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ»

(رواه البخاري، كتاب التيمم، باب: برقم 348، واللفظ له، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها، برقم 682)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہﷺ نے ایک شخص کوالگ تھلگ بیٹھے دیکھا اس نےقوم کےساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’اے فلاں تجھے کس چیز نے روکا کہ تو قوم کے ساتھ نماز پڑھے؟ اس نے کہا:

یا رسول اللہ ﷺ! میں جنبی تھا اور پانی میسر نہیں تھا آپ نے ارشاد فرمایا :مٹی کو لازم پکڑو یہ تیرے لئے کافی ہے ( یعنی تیمم کر لو ) (بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: مُّعْتَزِلُ : الگ ہونے والا ۔

2:اَلصَّعِیْدُ: مٹی، میدان ۔

3:لَمْ يُصَلِّ فِی الْقَوْمِ: جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی۔

4:اَصَابَتْنِیْ جَنَابَةٌ: مجھے جنابت لاحق ہو گئی۔ (میں جنبی ہوں) ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ امیر کا اپنی قوم کے ہر فرد کا خیال رکھنا اور ضرورت پڑنے پر کسی سے پوچھ کچھ کرنا۔

2۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام غیب نہیں جانتے تھے۔

3۔رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور ان کا خیال رکھتے اور یہی طرز ہر عالم ، امیر و قائد وغیرہ کو اپنانا چاہیے۔

4۔بعض دفعہ نام کے بجائے فلاں کہ کر بلانا حکیم ہونے کی نشانی ہے۔

5۔ کسی مسئلہ کا پتا نہ ہونا عیب نہیں ہے۔ البتہ کسی مسئلہ کا علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھنے کا حکم ہے۔

6۔اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرنا درست ہے مگر جب دلیل مل جاۓ تو پھر اپنے اجتہاد کو چھوڑنا ضروری ہے۔

7۔ ازالہ جنابت میں تیمم غسل کے قائم مقام ہوتا ہے۔

8۔ تیمم اس صورت میں ہوگا جبکہ پانی میسر نہ ہو یا پانی کے استعمال سے نقصان کا اندیشہ ہو۔

9۔ دعوت و اصلاح میں اعلی اور عمدہ اخلاق کو اپنانا۔

10۔ دوسری روایات کے مطابق یہ واقعہ فجر کی نماز میں ہوا ہے اور نماز میں شریک نہ ہونے والے عظیم صحابی رسول سیدنا خلاد بن رافع بدری تھے۔

11۔ جنبی بغیر غسل یا تیمم کے نماز نہیں پڑھ سکتا ہے البتہ باقی کام مثلا بات چیت ذکر و اذکار وغیرہ کرسکتا ہے۔

12۔ مسلمان جنابت سمیت کسی حالت میں بھی پلید نہیں ہوتا ہے البتہ جنبی کو نماز کے لیے غسل یا تیمم کا حکم ہے۔ واللہ اعلم باالصواب

٭٭٭

تبصرہ کریں