عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 18) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر 37

عَن عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنِى النَّبِيُّ ﷺ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِى الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى اليَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ.

(رواه البخاري، كتاب التيمم، باب التيمم ضربة، برقم 347، ومسلم، كتاب الحيض، باب التيمم، برقم 368، واللفظ له)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺنے کسی کام کے لیےبھیجا میں جنبی ہو گیا میں نے پانی نہ پایا۔میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا جیسے چوپایہ لوٹ ہوٹ ہوتا ہے پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا: میں نے آپ کی خدمت میں اس صورت حال کا تذکرہ کیا۔آپﷺ نے فرمایا: تیرے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنوں ہاتھوں سے یوں کرتے پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ایک مرتبہ مارے پھر بائیں کو دائیں پر ملا اور اپنی ہتھیلیوں کے بیرونی جانب اور چہرے پر ملا۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : بَعَثَنِىْ : آپ نے مجھے بھیجا ۔

2 : فِیْ حَاجَةٍ : کسی کام کے لئے ۔

3 : اَجْنَبْتُ : میں جنبی ہو گیا ۔

4 : تَمَرَّغْتُ : میں لوٹ پوٹ ہوا ۔

5 : الصَّعِیْدُ : مٹی۔

6 : اَلدَّابَّةُ : چوپایہ، جانور ۔

7 : مَسَحَ : ملا۔

8 : ظَاهِرَ كَفَّيْهِ : اپنی ہتھیلیوں کا باہر والا حصہ ۔

9: وجھہ: اپنا چہرہ ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ مسئلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں نیک نیتی سے ایسے عمل کے لیے عامی کا اجتہاد کرنا درست ہے جس کی فوری ادائیگی ضروری ہو مگر جونہی کوئی عالم میسر آۓ تو اس سے متعلقہ مسئلہ پوچھنا ضروری ہے ۔ اور ایسی صورت میں عالم و مفتی کا مسئلہ کی وضاحت کرنا اور غلطی کرنے والے کو کوئی سرزنش یا ڈانٹ ڈپٹ نہ کرنا اخلاق نبوی میں سے ہے۔

2۔ تیمم حدث اصغر اور اکبر دونوں کے لیے ہے اور دونوں کے لیے ایک ہی ہے۔

3۔ تیمم کرنے سے پہلے پانی تلاش کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔

4۔ صحیح حدیث کے مطابق تیمم اس طرح کیا جاتا ہے کہ دونوں ہاتھ زمین پر ایک دفعہ مارے جائیں پھر ان کو جھاڑا جاۓ اور پھر انہیں اپنے چہرےاور دونوں ہاتھوں کی بالائی جانب مل لیا جائے۔ بعض لوگ تیمم کے لیے دو بار مٹی پر ہاتھ مارتے ہیں اور کہنیوں تک مسح کرتے ہیں یہ عمل کسی صحیح اور صریح حدیث مبارکہ سے ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم

5۔ تیمم کرنے کا طریقہ یکساں ہوگا خواہ غسل کی جگہ کیاجائے یا وضوء کی۔ اور دونوں کے لیے ایک ہی کافی ہو گا ۔

6۔ تیمم پانی کی عدم دستیابی یا پانی استعمال نہ کر سکنے کی صورت میں مشروع ہے۔

7۔ تیمم ہر اس چیز سے ٹوٹ جاتا ہے جس سے وضوء ٹوٹتا ہے اور اسی طرح پانی مل جاۓ یا پانی استعمال کرنے کی قدرت حاصل ہوجاۓ تو تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔

8۔ مسئلہ معلوم نہ ہو تو اجتہاد کرنا۔

9۔ اگراجتہاد غلط ہو اور وہ اس کی بناء پر کوئی عبادت کر لیتا ہے بعد میں صحیح مسئلہ معلوم ہوتا ہے تو عبادت لوٹانے کا حکم نہیں۔

حدیث نمبر: 38

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ : «أُعْطِيتُ خَمْساً لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِياءِ قَبْلِى: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسَيِرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الأَرْضُ مَسْجِداً وَطَهُوراً، فَأيُّمَا رَجُلٍ مِن أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ المَغَانِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ کَافَّةً»

(رواه البخاري، كتاب التيمم، باب، برقم 335، وكتاب الصلاة، باب قول النبي ﷺ: «جعلت لي الأرض مسجداً وطهوراً»، برقم 438، واللفظ من الموضعين، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، برقم 521)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :

مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں:

1۔ایک مہینے کی مسافت تک رعب ودبدبے سے میری مدد کی گئی۔

2۔ میرے لئے زمین ( ساری ) کو مسجد اور پاک بنا دیا گیا، لہٰذا میری امت کے جس شخص کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں نماز پڑھ لے۔

3۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھا۔

4۔ مجھے شفاعت کا حق دیا گیا۔

6۔ ہر نبی کو خاص طور پر اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف نبی بناء کر بھیجا گیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ : رعب کے ساتھ میری مدد کی گئ۔

2 : مَسِيْرَةَ شَهْرٍ : ایک مہینے کی مسافت ۔

3 :اَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ: جسے نماز پالے۔ یعنی نماز کا وقت ہو جائے۔

4 : الْمَغَانِمُ: غنیمت کی جمع ۔

5 : أُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ : مجھے شفاعت کا حق دیا گیا۔

6 : إِلَى النَّاسِ کَافَّةً : تمام لوگوں کی طرف ۔

7 : بُعِثْتُ : مجھے بھیجا گیا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ قرآن مجید کے علاوہ بھی رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی کیونکہ آپ کا یہ فرمانا کہ

پانچ چیزیں مجھے عطا کی گئی اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا کی گئیں بغیر وحی الٰہی کے آپ یہ نہ فرماتے ۔

2۔ حدیث مبارکہ کی صورت میں وحی الہٰہی کا شریعت تسلیم کرنا ایسا ہی ہے جیسے قران مجید ۔ کیونکہ اس حدیث میں جن پانچ چیزون کا ذکر ہے تمام مسلمانوں نے ان کو تسلیم کیا ہے۔

3۔ اس حدیث کے مطابق پانچ چیزوں کا نبیﷺ کے ساتھ خاص ہونے کا ذکر ۔

4۔ نبی ﷺ کا دشمن پر اللہ تعالیٰ نے اتنا رعب و دبدبہ ڈالا تھا کہ دشمن ایک ماہ دور کی مسافت سے بھی خوف کھاتا تھا باوجود اس کے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنایا تھا۔

5۔ کفار کے ساتھ جنگ کی صورت میں حاصل ہونے والا مال مال غنیمت ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے حلال ہے مگر حاکم و امیر کی تقسیم کے بعد۔

6۔ قیامت کے روز رسول اللہﷺ شفاعت فرمائیں گے ایک شفاعت کبری ہے جو صرف آپ کو ہی حاصل ہے اور شفاعت صغری میں دوسرے انبیاء کرام﷩ ، فرشتے، مومن، شہداء اور اولیاء اللہ وغیرہ شامل ہیں حتی کہ نیک اعمال اور قرآن مجید بھی شفاعت کریں گے۔ مگر شفاعت صغری صرف اہل توحید کے حق میں قبول ہو گی کسی مشرک کے لیے جہنم سے نکالنے کی سفارش نہیں ہو گی۔

7۔ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو بعض مخصوص چیزیں عطا فرمائی ہیں۔

8۔ نبی کریم ﷺتمام انبیاء و رُسل﷩ میں افضل ہیں اور آپ کی امت تمام امتوں سے افضل ہے۔ بشرطیکہ امت اس دین و طریقہ پر قائم رہے جو دین و طریقہ رسول اللہﷺ دے کر گئے۔

9۔ نبی کریم ﷺ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں تمام انسانوں میں یہود و نصاری ہندو ، سکھ، بدھ مت اور لامذھب وغیرہ سبھی شامل ہیں

10۔ شکر ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا سنت نبوی ہے۔

11۔ روئے زمین پر ممنوعہ مقامات کے علاوہ ہر جگہ نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسجد میں باجماعت نماز فرض نہیں ہے۔

12۔ پاک زمین پر تیمم کرنا جائز ہے۔ زمین خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں