عمدۃ الاحکام، کتاب الطہارۃ، طہارت وپاکیزگی کی کتاب (قسط: 01) ۔ فضل الرحمٰن

عَنْ أَمِيرِ الْمُؤمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّاب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إلَى مَا هَاجَرَ إلَيْهِ.

سلیس ترجمہ: ’’سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”عملوں کا اعتبار نیتوں سے ہے اور آدمی کے واسطے وہی ہے جو اس نے نیت کی، پھر جس کی ہجرت اللہ اور رسول کے واسطے ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور رسول ہی کے لیے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے۔“

شرح : کتاب الطھارۃ: لفظ کتاب کَتَبَ یَکْتُبُ سے مصدر ہے اس کا مادہ ’ک ت ب‘ ہے۔ کتاب بمعنی مکتوب یعنی لکھی ہوئی چیز مراد ہے۔ لغت میں اس کا ایک معنی لشکر بھی ہے کتاب بھی الفاظ اور حروف کے لشکر ( مجموعہ ) سے بنتی ہے۔

قران وحدیث میں لفظ کتاب کئی ایک معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

  • لکھے ہوئے پیغام کے لیے:

حضرت سلیمان علیہ السلام اور ہدہد کے واقعے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ کہنا کہ ﴿اِذْهَب بِّكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ﴾ (النمل:28) یہ میری کتاب ( لکھا ہوا پیغام ) لے جاؤ اور ان کی طرف پھینک کر آو۔

  • فرض کے معنی میں:

جیسے:﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾ (النساء:103)  ’’بے شک نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے۔‘‘

  • حکم کے معنی میں:

 جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں رسول اللہﷺکا ایک قضیہ میں فرمان ہے:«وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ، لأَقْضِيَنَّ بيْنَكُما بكِتَابِ اللهِ» ’’کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم دونوں میں اللہ کی کتاب (حکم )  کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘

  • موت کے معنی میں

﴿وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُومٌ﴾ ( الحجر: 4)  ’’اور ہم نے کسی بستی (والوں ) کو ہلاک نہیں کیا مگر ان کی موت کا وقت مقرر تھا۔‘‘

  • تقدیر اور قضا کے معنی میں

﴿لَوْ لَا کِتَابٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ لَـمَسَّکُمْ فِیْمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾ (الانفال:68 ) ’’اگر اللہ کی تقدیر میں یہ نہ ہوتا تو جو فدیہ تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔‘‘

  • عقد مالی کے معنی میں

﴿وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ (النور:33)’’اور جو غلام تم سے مکاتبت یعنی مالی معاہدہ کرنا چاہیں تو اگر تم ان میں صالحیت اور نیکی پاؤ تو ان کے ساتھ معاہدہ کر لو۔‘‘

  • قران مجید کے معنی میں

﴿إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِالْحَقِّ﴾ (النساء :105)  ’’بے شک ہم نے اپ کی طرف سچی کتاب یعنی قرآن مجید اتارا۔‘‘ اور  ﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ﴾  (البقرۃ: 2) ’’اس کتاب یعنی قران مجید میں کوئی شک نہیں۔‘‘

تورات ، انجیل اور آسمانی کتب کے معنی میں

﴿قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ….﴾ (الانعام:91) ’’کہہ دیجیئے کہ کس نے کتاب یعنی تورات جو موسیٰ علیہ السلام لائےاتاری جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی۔‘‘

  • لوح محفوظ اور اعمال نامہ کے معنی میں

﴿وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ﴾  (الكهف: 49)   ’’اور نامہ اعمال ( ہر کسی کے سامنے ) رکھ دیا جائے گا پس آپ دیکھیں گے کہ مجرم ڈر رہے ہوں گے جو اس میں ہے۔‘‘  ﴿كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا…﴾ (الجاثية: 28) ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامہ کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘

  • عورت کی عدت کے معنی میں

﴿وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ…﴾ (البقرة:235) ’’اور نکاح کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے۔‘‘

اس کے علاوہ بھی لفظ کتاب کئی ایک معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

الطھارۃ: لفظ طہارت طَهَرَ یَطْهرُ سے مصدر ہے لغوی طور پر میل کچیل اور گندگی کو دور کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اور اصطلاح میں حدث اور نجاست و پلیدی سے پاکیزگی حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔
حدث: ’’ جس حالت سے انسان کو وضوء یا غسل کرنا پڑے اس کو حدث کہتے ہیں۔‘‘

طہارت کی دو قسمیں ہیں:

1معنوی                 2 حسی

1طہارت معنوی:یہ ہے کہ دل کو شرک کی غلاظتوں سے مکمل پاک کرے اور عقیدہ توحید کو اپنے دل ودماغ میں بسائے اور اسی طرح دل کو اخلاقی برائیوں جیسے حسد،  بغض، کینہ ، ریا، تکبر سے پاک کرےاور اپنے دل کو اخلاقی محاسن اور فضائل سے مزین کرے۔

2حسی طہارت : پانی سے وضوء، غسل یا تیمم کرنا یا کسی بھی چیز سے نجاست و گندگی کو دور کرنا مثلاً جسم، کپڑا ، زمین اور جانوروں کی کھال وغیرہ۔

اسلامی اعتبار سے طہارت ایک جامع لفظ ہے جو ہر طرح کی پلیدگی و گندگی کو دور کر کے پاکیزگی اور صفائی حاصل کرنے کا نام ہے، مثلاً اپنے دل ، دماغ، زبان اور باقی اعضاء وغیرہ کو ظاہری صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنا اور نافرمانی سے بچنا طہارت ہے۔

اسلام میں طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«اَلطَّهُوْرُ شَطْرُ الْإیْمَانِ» ( صحیح مسلم ، ترمذی، نسائی اور مسند احمد وغیرہ )

’’کہ طہارت نصف ایمان ہے۔‘‘

امام تقی الدین ابو محمد المقدسی رحمہ اللہ نے عمدۃ الاحکام کی ابتدا کتاب الطهارة سے کی اور اس کتاب میں 7باب اور 43 احادیث لائے پہلے باب میں 10 احادیث بیان کیں اس سے طہارت و پاکیزگی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور کتاب الطھارۃ میں پہلی حدیث وہ ذکر کی جس میں معنوی طہارت کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوا کہ معنوی طہارت ظاہری اور حسی طہارت پر مقدم اور افضل ہے۔

حدیث سے اخذ ہونے والے مسائل

  • اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے درست نیت کے بغیر عمل قبول نہیں ہے اور نیت کی درستگی اخلاص ہے۔

نیت لغت میں ارادے کو کہتے ہیں اور شریعت میں عبادت کے فعل کو خالص اللہ کی رضا کے لیے کرنے کے پختہ ارادے کو کہتے ہیں۔

  • نیت کا محل دل ہے اور اس کو زبان سے ادا کرنا بدعت ہے سوائے حج و عمرہ کی نیت کے۔
  • سب سے بڑا عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔
  • بلاد کفروشرک سے بلاد اسلام کی طرف ہجرت کرنا افضل عبادات میں سے ہے بشرطیکہ نیت اللہ کی رضا ہو۔
  • ریاکاری سے عمل کا اجر وثواب ضائع ہوجاتا ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں