عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 4) فضل الرحمٰن خطیب وامام محمد مسجد نیلسن یو کے

آٹھویں حدیث:

عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ((شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ ﷺ؟ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِﷺ فَأَكْفَأَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ التَّوْرِ , فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثاً، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثاً بِثَلاثِ غَرْفَاتٍ , ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثاً، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ , فَغَسَلَهُمَا مَرَّتَيْنِ إلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ)) .

وَفِي رِوَايَةٍ: ((بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ , حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ)) . وَفِي رِوَايَةٍ ((أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ)) . التَّوْرُ: شِبْهُ الطَّسْتِ.

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ: ’’سیدنا حضرت عمرو بن یحییٰ المازنی سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ یعنی حضرت یحییٰ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، میں حضرت عمرو بن ابو الحسن کے ساتھ حاضر ہوا، انہوں نے یعنی حضرت عمرو بن ابو الحسن نے سیدنا عبد اللہ بن زید سے نبی کریم ﷺ کے وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا۔ پھر ان کے لیے (بطور تعلیم) نبی ﷺ کے وضو کی طرح کا وضو کیا۔ پانی کے برتن سے پانی اپنے ہاتھوں پر انڈیلا اور ان کو تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن کے اندر تین بار ڈالا اور تین چلوؤں سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اس کو جھاڑا، پھر اپنا ہاتھ پانی کے اندر ڈالا اور اس سے اپنے چہرے کو تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو پانی کے اندر داخل کیا اور کہنیوں سمیت دو بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو پانی میں داخل کیا اور اپنے سر کا مسح کیا، دونوں ہاتھوں کو سر کے سامنے سے شروع کیا اور ان کو سر کے پچھلے حصے (گدی) تک ایک بار کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔‘‘

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ سر کا مسح سر کے سامنے یعنی پیشانی کی طرف سے شروع کیا، یہاں تک کہ اس کو گدی تک لے گئے، پھر دونوں ہاتھوں کو واپس اسی جگہ پر لوٹایا، جہاں سے مسح شروع کیا تھا اور ایک صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہم نے آپ کے لیے تانبے کےبرتن میں پانی پیش کیا۔ (متفق علیہ)

التورتھالی کے مشابہ برتن ہے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل واحکام

1۔ تابعین کا صحابہ کرام کے پاس جانا اور پھر وہاں دین کے مسائل سیکھنا۔ اس میں بعد والوں کے لیے بھی سبق ہے کہ وہ اس طرح کے طرز کو اپنائیں۔

2۔ خیر القرون کے لوگوں کا دین کی تعلیم وتربیت کا حریص ہونا۔

3۔ ایسے شخص سے مسئلہ پوچھنا جس کو قرآن وحدیث کا زیادہ علم ہو جیسا کہ اس حدیث میں تابعی نے صحابی سے مسئلہ پوچھا۔

4۔ عمل کے ذریعے سے تعلیم دینا، بعض دفعہ بعض عملی مسائل کی تعلیم زبان کے بجائے عملاً کر کے دکھانا زیادہ مفید اور بہتر ہوتا ہے۔

5۔ تابعی کا صحابی رسول سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا پوچھنا، اس میں بعد والوں کے لیے بھی سبق ہے کہ وہ بھی دینی امور میں رسول اللہ ﷺ کے قول وفعل کو تلاش کر کے ان کے مطابق اپنا عمل کریں۔

6۔ وضو کے پانی کے لیے تھالی نما برتن کا استعمال کرنا اور پھر اس کے اندر ہاتھ ڈال کر پانی لینے میں کئی ایک حکمتیں ہیں، مثلاً اس طرح پانی کم استعمال ہوتا ہے اور پانی کے ضیاع یا اسراف سے انسان بچ جاتا ہے، اسی طرح اس عمل سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو مستعمل پانی کو طاہر یا مطہر یعنی پاک یا پاک کرنے کی صلاحیت نہ رکھنے کا موقف رکھتے ہیں۔

7۔ اگر پانی کے برتن کے اندر ہاتھ ڈال کر وضو یا غسل کرنا پڑے تو پہلے دونوں ہاتھوں کو دھو کر پھر داخل کرنا چاہیے جیسا کہ صحابی رسول نے عملاً کیا۔

8۔ وضو میں کلی اور ناک میں پانی چڑھانا اور پھر اسے صاف کرنے کے لیےایک ہی ہاتھ کے چلو کو استعمال کرنے کی مشروعیت کا بیان۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لیا جائے، آدھے پانی کو کلی کے لیے منہ میں ڈالا جائے اور آدھے کو ناک صاف کرنے کے لیے ناک میں ڈالا جائے اور پھر ناک کو بائیں ہاتھ سے جھاڑا اور صاف کیا جائے۔

9۔ وضو کو ترتیب سے کرنا چاہیے، اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو بغیر ترتیب کے وضو کے اعضاء کو دھونے کے قائل ہیں۔

10۔ چہرے کو ایک ہاتھ سے بھی دھونے کا جواز جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہوا، البتہ افضل دونوں ہاتھوں سے ہے اور اسی طرح چہرے کو دھوتے وقت پہلے کلی اور ناک کو صاف کرنا۔

11۔ وضو کے اعضا میں پہلا عضو وضو چہرہ ہے اور ابتدا میں ہاتھوں کے پہنچوں کو دھونا اعضاء وضو میں شامل نہیں ہے بلکہ وہ صفائی کے لیے ہے۔ البتہ چہرے کے بعد ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم میں پہنچے ہاتھوں میں داخل ہیں اور اسی طرح ان کو دھونے کا حکم ہے جیسے باقی ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کا ہے۔

12۔ اعضاء وضو کے بعد دھونے کی تعداد کے مختلف ہونے کا جواز جیسا کہ صحابی رسول نے ہاتھوں کو دو بار دھویا۔ بعض اعضاء یا سبھی اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا جواز صحیح حدیث سے ثابت ہے، البتہ دو دو بار ایک ایک بار سے زیادہ بہتر ہے اور افضل تین تین بار ہے۔ یاد رہے کہ تین تین بار سے زیادہ اعضا وضو کو دھونا اسراف ہے۔ اسی طرح بعض اعضاء وضو کو ایک بار بعض کو دو بار اور بعض کو تین بار دھونا درست اور ثابت ہے۔

13۔ ایک حدیث کی مزید وضاحت دوسری حدیث میں ہونا، جیسا کہ اس حدیث میں سر کے مسح کا بیان ہے۔ اسی طرح کسی ایک ہی مسئلے پر ایک ہی حدیث سے ثبوت کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔ بعض احادیث بعض کی تفسیر کرتی ہیں، اسی طرح بعض مسائل بعض میں ذکر ہوئے ہیں اور بعض میں نہیں۔ لہٰذا کسی بھی مسئلہ کے ثبوت کے لیے اصل معیار صحیح حدیث کو بنانا چاہیے وہ چاہے مختلف رواۃ سے مختلف الفاظ میں بیان ہو۔

14۔ پورے سر کا مسح کرنا ہی سنت سے ثابت ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پیشانی کی طرف سے شروع کیا جائے اور سر کے پچھلے حصے گدی تک لے جایا جائےاور پھر وہاں سے واپس پیشانی کی طرف لایا جائے جہاں سے مسح شروع کیا گیا تھا۔

15۔ سر کے چوتھائی یا بعض حصے کا مسح کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ سر پر پگڑی کی صورت میں پگڑی پر مسح کرنا سنت سے ثابت ہے۔

16۔ ننگے پاؤں کو دھونا ہی مشروع ہے۔ ننگے پاؤں پر مسح کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ پاؤں پر موزوں اورجرابوں کی صورت میں مسح کرنا سنت سے ثابت ہے۔

17۔ تانبے کے برتنوں کے استعمال کا بلا کراہت جواز۔

مولانا ابراہیم میرپوی کے سسر وفات پا گئے!

امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ مولانا محمد ابراہیم میرپوری کے سسر مولانا عبد الحمید صاحب بعمر 85 سال فیصل آباد، پاکستان میں وفات پا گئے۔ مولانا کئی مرتبہ برطانیہ بھی آئے تھے، وہ کامیاب استاد اور امام تھے، نیک سیرت و کردار کے خوش خلق تھے۔

تبصرہ کریں