عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 6) فضل الرحمٰن خطیب وامام محمد مسجد نیلسن یو کے

گیارہویں حدیث:

عن أنس بن مالك رَضي الله عَنْهُ أنَّ النبي صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلاءَ قَاَلَ: «اللهُمَّ إني أعُوذُ بِك من الْخُبثِ والْخَبائثِ»

(رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب ما يقول عند الخلاء، برقم: 142، و مسلم، كتاب الطهارة، باب ما يقول إذا أراد دخول الخلاء، برقم: 375)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا انس بن مارک سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ کلمات کہتے: ’’ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ناپاک جنوں اور ناپاک جننیوں سے۔‘‘

(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مفردات الحدیث

a الخُبُثُ: خاء اور باء پر پیش یہ خبیث کی جمع ہے اور ’’الخبائث‘‘ الخبیثۃ کی جمع ہے، اس سے مراد شیاطین ہیں، خواہ وہ نر ہوں یا مادہ۔

b إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ: اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ ﷺ بیت الخلاء میں جانے کا ارادہ کرتے۔ امام بخاری﷫ نے اپنی کتاب الادب المفرد میں یہ الفاظ ذکر کیے ہیں: إِذَا أَرَادَ أَنْ يَّدْخُلَ الْخَلَاءَ اس روایت سے مفہوم واضح ہو گیا کہ جب آپ بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے۔

c الخَلَاءُ: الخلاء سے مراد وہ جگہ جو قضائے حاجت کے لیے تیار کی گئی ہو۔

حدیث مبارکہ کی مختصر تشریح اور اس سے اخذ ہونے والےبعض مسائل

a حدیث کے مطابق جنات میں ناپاک جنوں کا وجود اور جنات میں مذکر اور مؤنث ہونے اور دونوں کا ضرر رساں ہونے کا ثبوت۔ اور ناپاک جنات سے رسول اللہ ﷺ کا اللہ کی پناہ طلب کرنا عقیدۂ توحید کو واضح کرتا ہے کہ پناہ صرف اللہ کی ہے وہی دیتا ہے حتیٰ کہ رسل ﷩ بھی اللہ کی پناہ کے محتاج ہیں اور اللہ سےہی مانگتے ہیں۔

b ایک مسلمان کو شیطان کے شر سے بچنے کی زیادہ فکر کرنی چاہیے اور اس کے لیے ہمیشہ مسنون اذکار کو اپنا نا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کا خود اپنے لیے شر، فتنہ، شیطان وغیرہ سے بچاؤ کے لیے اللہ کی پناہ طلب کرنے میں ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی ان سے اللہ کی پناہ اور حفاظت طلب کریں کیونکہ ہم اس کے زیادہ محتاج ہیں۔ حتی کہ قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ سے پہلے أعوذ بالله من الشيطن الرجيم یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کا حکم ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ شیطان ہر وقت ایک مؤمن پر حملے کی پلاننگ کرتا رہتا ہے اور مؤمن کو ہر وقت شیطان کے حملے سے چوکنا رہنا چاہیے اور اس سے بچنے کے لیے مسنون اعمال کرنے اور اذکار پڑھنے کا معمول بنانا چاہیے۔

c ناپاک جنات سے پناہ طلب کرنے سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ مؤمن ہر حال میں پاک ہوتا ہے۔ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے اور پلیدگی سے نفرت کرتا ہے اور اس سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ایمان اور پلیدگی دونوں اکٹھے جمع نہیں ہو سکتے ہیں۔

d نبی کریم ﷺنے ہر خیر اور اس کے حاصل کرنے اور ہر شر اور اس سےبچنے کا طریقہ بتایا ہے اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دین مکمل اور اکمل ہے۔ ہر وہ شخص جو خیر کو حاصل کرنے کا متمنی ہے اور شر سے بچنے کا خواہشمند ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت واتباع کو لازم پکڑ لے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔

e وہ اعمال جو بظاہر معمولی لگتے ہیں، درحقیقت وہ غیر معمولی ہوتے ہیں۔ عموماً بیت الخلاء میں جاتے اور نکلتے وقت شرعی آداب کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے جبکہ شرعی آداب کا لحاظ رکھنا انتہائی ضروری، اہم اور مفید ہے۔

بارہویں حدیث:

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – ﷺ – «إذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا»

قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: ” فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا، وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ “.

(رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب قبلة أهل المدينة، وأهل الشام، والمشرق، برقم: 394، ومسلم، كتاب الطهارة، باب الاستطابة، برقم: 264)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو ایوب انصاری نے بیان کیا ہے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو بول و براز کرتے قت نہ قبلے کی طرف منہ کرو ارو نہ ہی پیٹھ۔ البتہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو۔سیدنا ابو ایوب نے فرمایا کہ ہم شام آئے تو وہاں ہم نے بیت الخلاء دیکھے کہ وہ قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو ہم قبلہ کی طرف سے منہ پھیر لیتے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مفردات الحدیث

a اَلْغَائِطُ: قضائے حاجت کے لیے مخصوص کی گئی جگہ۔

b فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ: بول براز کرتے وقت قبلے کی طرف منہ نہ کرو۔

c وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا: اور نہ ہی اس کی طرف پیٹھ کرو۔

d اَلْمَرَاحِيضَ: مِرحاض کی جمع ہے۔ ٹائلٹ کو کہتے ہیں۔

e شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا: مشرق کی طرف منہ یا پیٹھ کرو یا مغرب کی طرف۔

حدیث مبارکہ کی مختصر تشریح اور اس سے اخذ ہونے والے بعض مسائل

a اسلام کی خوبصورتی ہے کہ اس میں ہر چیز کے مکمل آداب موجود ہیں حتیٰ کہ قضاء حاجت کرتے وقت منہ اور پیٹھ کرنے کے احکام وآداب بھی۔

b قبلہ کے انتہائی محترم ہونے کا ذکر اور مسلمانوں کا قبلہ کعبہ ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے اور پوری زمین کے مقابلے میں مکہ مکرمہ شہر کو خاص فضیلت حاصل ہے ، اسی طرح حرم اور کعبہ کی فضیلت اور حرمت درجہ بدرجہ زیادہ ہے۔ قبلہ کے احترام میں سے یہ بھی ہے کہ قضاء حاجت کرتے وقت اس کے طرف منہ اور پیٹھ نہ کی جائے۔

c مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے جنوب میں واقع ہے اس لیے اس حدیث میں مدینہ منورہ والوں کے لیے قضاء حاجت کرتے وقت مشرق اور مغرب کی طرف منہ یا پیٹھ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

d سیدنا ابو ایوب انصاری کا یہ بیان کرنا کہ ہم فتح مکہ کے بعد جب ملک شام گئے تو وہاں دیکھا کہ بیت الخلاء قبلہ رخ بنائے گئے تھے اور جب ہم ان میں قضاء حاجت کرتے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہیں کرتے بلکہ ہم اس سے پھر کر بیٹھتے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری کے نزدیک کسی بھی حال میں قبلہ رخ ہو کر قضاء حاجت نہیں کی جا سکتی ہے۔

e قضاء حاجت کے وقت منہ یا پیٹھ کرنے کے بارے اہل علم کے مختلف اقوال و آراء ہیں:

ایک رائے یہ ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا حرام ہے چاہے کھلی جگہ ہو یا عمارت ہو۔

دوسری رائے یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، اب قضاء حاجت کے وقت قبلہ رخ منہ یا پیٹھ کرنا جائز ہے۔

تیسری رائے یہ ہے کہ کھلی فضاء میں حرام ہے، عمارت میں جائز ہے۔

چوتھی رائے یہ ہے کہ قضاء حاجت کے وقت منہ کرنا حرام ہے، پیٹھ کرنا حرام نہیں ہے۔

پانچویں رائے یہ ہے کہ یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے یعنی قضاء حاجت کے وقت منہ یا پیٹھ کرنا اولیٰ وبہتر نہیں ہے۔

راجح مؤقف

اس میں راجح موقف یہ ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرنا زیادہ احوط ہے یعنی مسلمان کو قضاء حاجت کے وقت منہ یا پیٹھ نہیں کرنی چاہیے کھلی فضا ہو یا عمارت، البتہ کھلی فضا میں حرام ہے اور عمارت یا اوٹ وغیرہ میں کراہت کے ساتھ جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

نوٹ: بعض عوام الناس قضاء حاجت کے وقت سورج کی طرف منہ اور پیٹھ کو ناجائز سمجھتے ہیں، اسی طرح بعض عوام الناس بیت المقدس کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں اور بعض کئی اور طرف بھی منہ یا پیٹھ کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں جبکہ دین اسلام میں یہ تخصیص صرف اور صرف قبلہ یعنی کعبہ کو حاصل ہے، قبلہ کےعلاوہ کسی بھی رخ وغیرہ کی طرف منہ وپیٹھ کو ناجائز کہنا بلادلیل ہے اور اس سے کسی بھی دوسرے مقام و جگہ وغیرہ کو قبلہ جیسا مقام ومرتبہ دینے کے مترادف ہے۔ واللہ اعلم

٭٭٭٭

سیدنا عبداللہ بن مسعود کا قول:

” مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا لا تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ ؛ إِلا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةٌ “

’’لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق بات کیا کرو،ورنہ ان میں سے بعض کے لیے یہ بات فتنہ بن جائے گی!‘‘

تبصرہ کریں