عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 17) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر: 32

عَن أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا – زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ – قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ – امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ – إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي مِن الحَقِّ، فَهَلْ عَلَى المَرْأَةِ مِن غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ المَاءَ»

[رواه البخاري، كتاب العلم، باب الحياء في العلم، برقم 130، ومسلم، كتاب الحيض، باب وجوب الغسل على المرأة بخروج المني منها، برقم 313]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

نبی کریم ﷺ کی بیوی ام المومنین سیدہ ام سلمہ سے روایت ہے، فرمایا کہ سیدنا ابو طلحہ کی بیوی ام سُلیم رسول اللہ ﷺکے پاس آئی اس نےعرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! بلاشبہ اللہ حق (بیان کرنے سے ) سے نہیں شرماتا ہے کیاعورت کے لیے غسل کرنا ہو گاجبکہ اسے احتلام ہو جائے۔رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’ہاں،جب وہ پانی دیکھ لے۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : جَاءَتْ : وہ آئی۔

2 : اِمْرَاَةُاَبِيْ طَلْحَةَ : ابو طلحہ کی بیوی ۔

3 : لَا يَسْتَحْيِي : وہ نہیں شرماتا ہے ۔

4 : اِحْتَلَمَتْ : وہ محتلم ہوئی۔(اسے احتلام آیا۔

5: رَأَت: اس نے دیکھا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ضروری مسائل پوچھنے میں جھجک اور شرم محسوس نہ کرنا۔

2۔ عورت کا مرد سے مسائل پوچھنا جائز ہے۔

3۔ مسائل کا تعلق اگر مفاد عامہ سے ہو تو وہ مسائل دوسروں تک پہنچانا مستحب ہے۔

4۔ عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے جیسے مرد کو ہوتا ہے ایسی صورت میں عورت پر غسل واجب ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ عورت احتلام کا پانی و اثرات اپنے جسم یا کپڑوں پر دیکھے ۔ اگر خواب میں عورت کو احتلام ہو اور نیند سے بیدار ہونے کے بعد احتلام کے پانی یا اثرات کو نہ پاۓ تو محض خواب سے اس پر غسل فرض نہیں ہو گا۔

5۔ ادب و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ گفتگو کا آغاز ایسے انداز سے کیاجائےکہ سننےوالے کی طبیعت پر کوئی ناگوار اثر نہ پڑے۔ ایسے مسائل کا جواب دینے کے لیے بہت مناسب الفاظ استعمال کرنے چاہئیں ۔

6۔ اللہ عزوجل کی صفات عالیہ میں سے ایک صفت حیا بھی ہے اس پر ایمان لانا اسی طرح واجب ہے جس طرح اللہ پاک کی باقی صفات پر ایمان لانا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں تاویل، تعطیل، تشبیہ ، تمثیل اور بے جا سوالات ایمان کے منافی ہے بلکہ اللہ تعالی کے متعلق ہر اس چیز کو اتنا ہی تسلیم کرنا جتنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بیان فرمایا ہے، واجب ہے۔

حدیث نمبر :33

عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ : كُنْتُ أَغْسِلُ الجَنَابَةَ مِن ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ ﷺ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ، وَإِنَّ بُقَعَ المَاءِ فِي ثَوْبِهِ.

وَفِى لَفْظٍ لِمُسْلِمٍ : لَقَدْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِن ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَرْكاً، فَيُصَلِّي فِيهِ.

[رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب غسل المني وفركه، وغسل ما يصيب من المرأة، برقم 229، و230، و231، و232، ومسلم بنحوه، كتاب الطهارة، باب حكم المني، برقم 289. رواه مسلم، كتاب الطهارة، باب حكم المني، برقم 288]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ عائشہ سے روایت ہے فرمایا :میں رسول اللہﷺ کے کپڑے سے جنابت دھو دیا کرتی تھی آپ نماز کے لئے نکلتے پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر ہوتا۔

صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں :میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے اسے اچھی طرح کھرچ دیتی تو آپ اس میں نماز پڑھ لیتے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اَلْجَنَابَةُ : مادہ منویہ مراد ہے ۔

2 : ثَوْبُ: کپڑا ۔

3 : بُقَعُ المَآءِ : پانی کے نشانات ۔

4 : أَفْرُكُهُ : میں اسے کھرچتی ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ منی کو کپڑے اور بدن سے زائل کرنا خواہ منی تر ہو یا خشک۔ یہ زائل کرنا بطور نفاست ہے یا طہارت اس میں اہل علم کا اختلاف ہے البتہ راجح یہ ہے کہ اس کو زائل کرنا بطور نفاست ہے۔ واللہ اعلم ۔

2۔ کپڑے پر اگر مادہ منویہ تر ہو تو اسے دھو کر زائل کیا جائے۔

3۔جس کپڑے کو منی لگی ہو اس کو دھونے کے بعد خشک کرنے سے پہلے نماز وغیرہ پڑھنا درست ہے۔

4۔ اگر مادہ منویہ خشک ہو چکا ہو تو کھرچنا کفایت کرے گا۔

5۔ یہ حدیث ان لوگوں کی مضبوط دلیل ہے جو منی کی طہارت کے قائل ہیں کیونکہ اگر یہ پلید ہوتی تو اس کو دھونے کا حکم ہوتا۔ واللہ اعلم

حدیث نمبر: 34

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِىَّﷺ قال: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.»

وَفِي لَفْظٍ: «وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ.»

[رواه البخاري، كتاب الغسل، باب إذا التقى الختانان، برقم 291 بلفظه، ومسلم، كتاب الحيض، باب نسخ الماء من الماء، ووجوب الغسل بالتقاء الختانين، برقم 348]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب کوئی شخص چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے پھر اس سے ملاپ کرتا ہے ( یعنی اس سے جماع کرتا ہے ) تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔‘‘

صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے : ’’خواہ اسے انزال نہ ہی ہو۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : شُعَبِهَا الْاَرْبع : اس کی چار شاخوں کے درمیان یعنی دو بازوؤں اور دو ٹانگوں کے درمیان۔

2 : ثُمَّ جَهَدَهَا : پھر اس سے کوشش کرتا ہے مراد اس سے جماع کرنا ہے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔شرم و حیا والے مسائل ایسے مناسب الفاظ سے کنایۃ بتانا جس سے سننے والے کو مفہوم سمجھ آجاۓ۔

2۔شرعی مسائل ہر صورت بتانا چاہیے وہ کتنے ہی حساس اور شرم و حیاء والے کیوں نہ ہوں۔

3۔ آلہ تناسل اگر شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے انزال ہو یا نہ ہو۔

4۔ مذکورہ بالا صورت میں میاں بیوی دونوں پر غسل واجب ہو گا۔

5۔یہ حدیث دوسری حدیث کی ناسخ ہے جس میں الماء من الماء یعنی غسل صرف انزال ہونے کی صورت میں ہے ۔ بعض اہل علم حدیث الماء من الماء کو احتلام پر محمول کر کے دونوں متعارض آحادیث میں تطبیق دیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

6۔ آحادیث میں بھی ناسخ و منسوخ ہے جیسے قران مجید میں ہے۔

٭٭٭

امام مالک بن دینار﷫ نے فرمایا :

’’جسم بیمار ہوجائے تو کھانا پینا اور آرام رخصت ہوجاتا ہے۔

اسی طرح اگر دل میں بیماری مستحکم ہوجائے تو وعظ و نصیحت لا حاصل ہوجاتی ہیں۔‘‘

(الزهد الكبير از بيہقی: 25)

دین کے اصول و مسلمات

دین کا وہ حصہ ہیں جس پر سمجھنا سمجھانے کے لیے گفتگو تو ہو سکتی ہے مگر یہ کسی کی ہار جیت سے بدلے نہیں جایا کرتے ۔

امام مالک ﷫ کے پاس ایک شخص آیا اور دین کے کچھ بنیادی امور میں آپ کو بحث و گفتگو کی دعوت دی۔ اُس نے امام مالک﷫ کو کہا :

’’ آؤ بات کر کے دیکھتے ہیں۔ اس شرط پر کہ میں جیتوں تو تم میرے ہم خیال ہو جاؤ گے اور تم جیتو تو میں تمہارا ہم خیال ہو جاؤں۔‘‘

امام مالک ﷫ نے اس تجویز پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا :

’’ اور اگر کوئی تیسرا شخص ہم دونوں کو خاموش کرا دے ؟‘‘ اُس شخص نے جواب دیا: ’’ تو ہم اُس کی بات تسلیم کر لیں گے ۔‘‘

بظاہر دیکھئے تو اس شخص کی بات سے بڑی ہی انصاف پسندی اور حق پرستی جھلکتی ہے، بظاہر بہت اصولی پیش کش ہے ۔ مگر امام مالک﷫ اس کا جو جواب دیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ جیسے آئمہ سلف کی ہی شان ہے، فرمایا :

’’ تو کیا جب بھی کوئی نیا شخص میدان میں آئے اور پہلے والے سے بڑھ کر دلیل دے لینے کی مہارت دکھائے تو ہم اپنا دین اور راستہ تبدیل کر لیا کریں؟ سنو!! میں اپنا دین یقینی طور پر معلوم کر چکا ہوں کہ وہ کیا ہے ۔ تمہیں اپنا دین تا حال معلوم نہیں تو جہاں چاہو تلاش کرتے پھرو ۔‘‘(اللالکائی: 1؍144)

یہ ہیں ہمارے ائمہ جو ایسا راستہ بتلا گئے کہ جس پر چلنے والا ایک روشن اور مضبوط راہ پر ہے۔ وہ اس راہ کا ہر پہلو امت کے سامنے رکھ گئے ۔ اللہ اُن پر رحمت فرمائے ۔

تبصرہ کریں