عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 14) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

عمدة الاحکام کی کتاب الطہارت: غسل جنابت کے متعلق

حدیث نمبر: 28

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِى بَعْضِ طُرُقِ المَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْخَنَسْتُ مِنْهُ، فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» ، قَالَ: كُنْتُ جُنُباً، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ وَأَنَا عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، إِنَّ المُؤْمَنِ لاَ يَنْجُسُ»[رواه البخاري، كتاب الغسل، باب عرق الجنب، وأن المسلم لا ينجس، برقم 283، فهي رقم 285، ومسلم، كتاب الطهارة، باب الدليل على أن المسلم لا ينجس، برقم 371]

حدیث کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ان سے مدینے کے ایک راستے میں ملے اور یہ جنبی تھے فرمایا کہ میں آپ کے پاس سے چھپ کر کھسک گیا، غسل کیا پھر آیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ابوہریرہ تم کہاں تھے؟‘‘ عرض کی میں جنبی تھا میں نے ناپسند کیا کہ میں آپ کے پاس ناپاک حالت میں بیٹھوں تو آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ مؤمن پلید نہیں ہوتا۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اِنْخَنَسْتُ: میں پیچھے ہٹا، کھسکا، آنکھ بچا کر نکلا ۔

2 : كُنْتُ جُنُباً : میں جنبی تھا

3 : لَا يَنْجُسُ: پلید نہیں ہوتا ۔

4 : سُبْحَانَ اللهِ: اللہ پاک ہے یہ جملہ تعجب کے وقت بولا جاتا ہے ۔اور یہ بہت فضیلت والا ذکر بھی ہے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احکام

1۔ سیدنا ابو ہریرہ کا رسول اکرم ﷺ سے بےانتہاء محبت اور احترام کا ثبوت کہ آپ نے جنبی حالت میں نبی کریمﷺ سے ملنا مناسب نہیں سمجھا پہلے غسل کیا اور پھر آکر ملے۔ اس میں صحابہ کرام کی عظمت کا بھی ذکر کہ وہ کس قدر عظیم لوگ تھے ۔

2۔ جنابت سے مومن پلید نہیں ہوتا ہے بلکہ جنابت سے مومن کو غسل کا شرعی حکم ہے، حالت جنابت میں جنبی شخص کے سارے اعضاء مثلا ہاتھ پاؤں منہ وغیرہ پاک اور طاہر ہی ہوتے پیں جنبی کے کسی عضو کا کسی دوسرے شخص یا چیز سے لگنے سے پلید نہیں ہوتی ہے۔

3۔ مومن بذاتہ نجس نہیں ہوتا البتہ اگر کوئی پلید چیز اس کے جسم کو لگ جائے اس کا ازالہ ضروری ہے جنبی ہونے کی صورت میں عبادت کے لئے تو غسل واجب ہے البتہ حالت جنابت میں ملاقات اور کھانے پینے وغیرہ میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔

4۔ جنبی کا جلدی غسل کرنا افضل ہے مگر اس میں تاخیر حرام نہیں ہے بلکہ ضرورت کے تحت غسل کو مؤخر کیا جاسکتا ہے البتہ موخر کرنے کی صورت میں وضو کر کے سونے وغیرہ میں رخصت سنت سے ثابت ہے ۔

5۔ اہل علم و فضل اور بزرگوں کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا اسلامی اخلاق کا طرۂ امتیاز ہے۔

6۔ اپنے کسی محترم سے کسی وجہ سے عارضی طور پر الگ ہونا پڑے تو اطلاع دے کر کہیں جائے تاکہ اس کے دل میں کوئی رنجش پیدا نہ ہو۔

7۔ تعجب کے وقت کلمہ سبحان اللہ کہنا سنت ہے۔ بلکہ یہ زبان پر ہلکہ مگر بہت فضل و عظمت والا ذکر بھی ہے۔

8۔ رسول اکرمﷺ غیب نہیں جانتے تھے یہی وجہ ہے آپ نے سیدنا ابو ہریرہ پوچھا اور ان کی وضاحت پر آپ نے تعجب کیا۔ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ کہ اولیاء غیب جانتے ہیں درست نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نہ سیدنا ابو ہریرہ آپ سے دور ہوتے اور نہ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابو ہریرہ سے پوچھتے اور نہ ان کے بتانے پر تعجب کرتے۔

9۔ عالم و مفتی کا اس شخص کو علم سے روشناس کرانا جس کو مسئلہ کا پتا نہیں جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابو ہریرہ کو بتایا کہ جنابت سے انسان اور اس کے اعضا پلید نہیں ہوتے ہیں۔

10۔ علم سکھاتے وقت اعلی اخلاق اختیار کرنا اخلاق نبوی ہے اس میں اساتذہ اور علماء وغیرہ کے لیے بھی بہت اہم سبق ہے۔

حدیث نمبر : 29

عَنْ عَائِشَةَ، رَضِىَ اللهُ عَنْهَا : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِن الجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدَيْهِ شَعْرَهُ، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ، أَفَاضَ عَلَيْهِ المَاءَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، وَكَانَتْ تَقُولُ : كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِن إِنَاءٍ وَاحِدٍ، نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعاً.

[رواه البخاري، كتاب الغسل، باب تخليل الشعر، حتى إذا ظن أنه قد أروى بشرته أفاض عليه، برقم 272،273 ، ومسلم، كتاب الحيض، باب صفة غسل الجنابة، برقم 316، ومسلم، كتاب الحيض، باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة، وغسل الرجل والمرأة في إناء واحد في حالة واحدة، وغسل أحدهما بفضل الآخر، برقم 321]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب جنابت کا غسل کرتے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے۔پھر نماز کے وضو کی طرح کا وضو کرتے۔پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے بالوں میں خلال کرتے۔یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو جاتا کہ آپ نے اپنی جلد کوپانی سے تر کر دیا ہے تو اپنے اوپر تین مرتبہ پانی انڈیلتے پھر اپنا سارا جسم دھوتے اور سیدہ عائشہ نے فرمایا :میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے نہاتے ہم اس برتن سے ایک ساتھ چلو بھرتے۔

(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ : جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے ۔

2 :يُخَلِّلُ بِيَدَيْهِ شَعْرَهُ: اپنے ہاتھوں سے بالوں میں خلال کرتے ۔

3 :اِذَاظَنَّ: غالب رجحان، یقین ہو جاتا ۔

4 : أَفَاضَ عَلَيْهِ: اپنے اوپر انڈیلتے، بہاتے ۔

5 : اَرْوٰى بَشْرَتَهُ: اپنی جلد تر کر لی ہے ۔سیراب کر لی ہے ۔

6 : سَائِرَ جَسَدِهِ: اپنا پورا جسم ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔غسل جنابت فرض ہے خواہ جنابت کا سبب انزال منی ہو یا خلوت کامل۔

2۔غسل جنابت میں پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر وضو کیا جائے، پھر بالوں میں خلال کیا جائے اور پھر باقی سارے بدن کو دھویا جائے۔

اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو مکمل وضو کی جگہ محض کلی اور ناک کو صاف کرنا کافی سمجھتے ہیں۔

3۔ غسل جنابت میں پورے جسم کے ہر حصہ تک پانی پہنچانا اور اس کو دھونا ضروری ہے۔

4۔ خاوند اور بیوی کا ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل کرنا جائز ہے۔

5۔غسل جنابت کے وقت ابتدا میں وضو کرتے وقت پاؤں کو نہ دھونا بلکہ غسل کے آخر میں دھونا بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

6۔ عربی زبان میں ظن یقین کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ اس حدیث میں بھی استعمال ہوا ہے۔

7۔ تعلیم کے لیے مسائل کو تفصیل سے بیان کرنا جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔

8۔ اسلام میں صفائی و ستھرائی کی اہمیت۔

٭٭٭

تبصرہ کریں