عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 16)۔ فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر: 30

عَن مَيْمُونَةَ بِنْتِ الحَارِثِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا , – زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ – أَنَّهَا قَالَتْ : «وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ وَضُوءَ الجَنَابَةِ، فأَكْفَأَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ مَرَّتَيْنِ – أَو ثَلاَثاً – ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ بِالأَرْضِ، أَو الحَائِطِ، مَرَّتَيْنِ – أَوْ ثَلاَثاً – ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وذِراعَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأَسِهِ المَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ جَسَدَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا، فَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ بِيَدِهِ.»

[رواه البخاري، كتاب الغسل، باب من توضأ في الجنابة، ثم غسل سائر جسده، برقم 274، واللفظ له، ومسلم، كتاب الحيض، باب صفة غسل الجنابة، وعنده في آخره: «ثم أتيته بالمنديل فرده»، برقم 317]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام المومنین میمونہ بنت حارث رسول اکرمﷺ سے بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے غسل جنابت کے لئے پانی رکھا تو آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر دو یا تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا پھر اپنا ہاتھ زمین یا دیوار پہ دو یا تین مرتبہ ملا پھر کلی کی ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنا چہرہ اور دونوں بازو دھوئے۔پھر اپنے سر پر پانی ڈالا۔پھر اپنا سارا جسم دھویا پھر الگ ہوئے تو اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ میں آپ کے پاس کپڑے کا ٹکڑا ( جسم خشک کرنے کے لیے) لائی آپ نے اس کا ارادہ نہ کیا آپ پانی اپنے ہاتھوں سے جھاڑنے لگے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : اَفْرَغَ : انڈیلا ،جھکایا ۔

2 : ضَرَبَ يَدَهُ : اس نے اپنا ہاتھ مارا ۔

3 : اَفَاضَ: بہایا، انڈیلا ۔

4 :يَنْفُضُ : وہ جھاڑتا ہے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ ہاتھوں کو دھوۓ بغیر اس برتن میں نہ ڈالنا جس برتن کے پانی سے وضوء یا غسل کرنا ہو۔

2۔ وہ برتن جس کے پانی سے طہارت حاصل کی جاۓ گی اس کا پاک و صاف ہونا ضروری ہے جیسے نبی کریم ﷺ نے طہارت شروع کرنے سے پہلے ہاتھوں کو دھویا۔

3۔ طہارت و صفائی کیلئے ہاتھوں وغیرہ کو کم از کم ایک بار اور ضرورت ہونے پر دو اور تین مرتبہ دھونا۔

4۔ شرم گاہ دھونے کے بعد پھر ہاتھوں کو صاف کرنا جیسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ زمین یا دیوار پر رگڑے اور موجودہ دور میں صابن وغیرہ کا استعمال بھی مناسب ہے۔

5۔ غسل جنابت کا جب کوئی ارادہ کرے تو پہلے وضوء کرے البتہ پاؤں مکمل غسل کے بعد دھوئے جائیں۔ خصوصا جب غسل خانہ کچا ہو ۔

6۔ غسل کر لینے کے بعد جسم کو خشک کرنا ضروری نہیں ہے البتہ جسم پر موجود پانی کو ہاتھوں سے بھی جھاڑا جاسکتا ہے ۔ اور تولیہ وغیرہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس مسئلے میں وسعت ہے جس طرح انسان کی طبیعت و مزاج ہو اس طرح کیا جاسکتا ہے۔

7۔ غسل سے پہلے اگر وضو کر لیا جائے تو وہ نماز کے لیے کافی ہو گا اس کیلئے الگ وضو کرنے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ شرم گاہ کو چھوا نہ ہو۔ یا کوئی اور سبب ایسا نہ پایا گیا ہو جس سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔

8۔ اسلام میں طہارت کی اہمیت

9۔ غسل کرنے کا مسنون طریقہ باقی تمام طریقوں سے بہتر ہے ۔ ایک مسلمان کو ہر عمل میں سنت کو تلاش کرنا اور اس کے مطابق کرنا چاہیے۔

حدیث نمبر : 31

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، رَضِىَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ.» [رواه البخاري، كتاب الغسل، باب نوم الجنب، برقم 287، ومسلم، كتاب الحيض، باب جواز نوم الجنب واستحباب الوضوء له، وغسل الفرج إذا أراد أن يأكل، أو يشرب، أو ينام، أو يجامع، برقم 306]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم میں سے کوئی سو سکتا ہے اس حال میں کہ وہ جنبی ہو،آپ نےفرمایا:ہاں :جب تم میں سے کوئی وضو کر لے تو وہ سو جائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : يَرْقُدُ : وہ سوتا ہے ۔ 2 : جُنُبُ: جنبی ۔

3 : أَحَدُنَا : ہم میں سے کوئی ایک۔

4 : اِذَاتَوَضَّاَ : جب وہ وضو کر لیتا ہے۔

5 : نَعَمْ : ہاں۔

حدیث سے حاصل ہونیوالے مسائل اور احکام:

1۔ شرعی مسائل اہل علم سے پوچھنا۔

2۔ عالم کا مسئلہ کا اصل حکم بتانے کے ساتھ مستحب اور افضل عمل کی راہنمائی کرنا۔

3۔ جنبی غسل کئے بغیر سو سکتا ہے ۔ اسی طرح باقی دنیاوی کام کاج بھی کرسکتا ہے۔

4۔ سونے سے پہلے جنبی کے لیے وضو کرنا بہتر ہے۔

5۔ کمال طہارت اور افضل یہ ہے کہ جنبی غسل کر کے سوئے اس کے بہت سارے فوائد ہیں مثلا دل کا اطمینان ، صبح کی نماز پڑھنے میں آسانی ، طبیعت میں ہشاشی و بشاشی وغیرہ۔

تبصرہ کریں