عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 13) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

عمدة الاحکام کی کتاب الطہارت: غسل جنابت کے متعلق

حدیث نمبر: 28

عنْ أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَقِيَهُ في بعْضِ طُرُقِ المدينَةِ وَهُوْ جُنُبٌ، قَالَ: فَانْخَنَسْتُ مِنْهُ، فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يا أَبا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: كُنْتُ جُنُبَاً فَكَرِهْتُ أَنْ أُجالِسَكَ وَأَنَا عَلَى غَيْرِ طَهارَةٍ، فَقَالَ: سُبْحانَ اللهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ»

[رواه البخاري، كتاب الغسل، باب عرق الجنب، وأن المسلم لا ينجس، برقم 283، فهي رقم 285، ومسلم، كتاب الطهارة، باب الدليل على أن المسلم لا ينجس، برقم 371]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان سے مدینہ شریف کے ایک راستے میں ملے اور یہ جنبی تھے فرمایا کہ میں آپ کے پاس سے چھپ کر کھسک گیا، غسل کیا پھر آیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ابوہريره تم کہاں تھے؟‘‘ عرض کی میں جنبی تھا، میں نے ناپسند کیا کہ میں آپ کے پاس حالت طہارت کے علاوہ بیٹھوں، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’سبحان الله مومن پلید نہیں ہوتا‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : انْخَنَسْتُ : پیچھے ہٹا، کھسکا، آنکھ بچا کر نکلا ۔

2 : كُنْتُ جُنُبَاً: میں جنبی تھا

3: لَا يَنْجُسُ : پلید نہیں ہوتا ۔

4 : سُبْحانَ اللهِ : الله پاک ہے یہ جملہ تعجب کے وقت بولا جاتا ہے ۔

حدیث سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احكام

1۔ صحابہ کرام طہارت و پاکیزگی کا بہت زیادہ اہتمام کرتے اور یہی شعار اہل ایمان کا ہے۔

2۔ وضوء اور غسل کے لیے طہارت کا لفظ معنوی طور پر ہے۔ بے وضوء اور جس شخص پر غسل فرض ہو اس کو پلید نہیں کہا جاسکتا ہے اور نہ وہ پلید ہے۔

3۔طہارت کا لفظ جامع ہے یہ بعض دفعہ نجس کے مقابل استعمال ہوتا ہے اور بعض دفعہ بے وضوء یا اس شخص پر بولا جاتا ہے جس پر غسل فرض ہو۔

4۔ مومن کسی حالت میں بھی نجس نہیں ہوتا البتہ اگر کوئی پلید چیز اس کے جسم کو لگ جائے اس کا ازالہ ضروری ہے جنبی ہونے کی صورت میں نماز کے لئے تو غسل واجب ہے البتہ حالت جنابت میں باقی زندگی کے امور سر انجام دینا مثلا ملاقات ، کھانے پینے، ذکر واذکار وغیرہ میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے

5۔ جنابت کے غسل کو جلدی کرنا افضل ہے ۔

6۔ اہل علم و فضل اور بزرگوں کی تعظیم و تکریم اور ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔ اور ایسی محفل میں باوضوء بیٹھنا افضل ہے ۔

7۔ ضرورت کے وقت اپنے فہم کے مطابق اجتہاد کرنے کا جواز جیسے سیدنا ابو ہريره نے کیا۔ مگر اپنے فہم و اجتہاد کے مخالف واضح دلیل آجانے کے بعد فہم و اجتہاد کو چھوڑ کر دلیل کی پیروی کرنا جیسا کہ رسول الله ﷺ نے سیدنا ابو ہريره کو کہا۔

8۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا عالم غیب نہ ہونے کا ثبوت۔ اگر نبی ﷺ کو سیدنا ابوہريره کے جانے کا پہلے سے علم ہوتا تو آپ ان کو روک لیتے اور اسی طرح اگر سیدنا ابو ہريرہ کو یہ معلوم ہوتا کہ ملاقات وغیرہ کے لیے غسل یا وضو شرط یا فرض نہیں ہے، تو آپ کبھی بھی رسول الله ﷺ کی محفل کو اس مذکورہ وجہ سے نہ چھوڑتے۔

9۔ اس طرح کی محفل و مجلس سے اٹھنا ہو تو اجازت لینا افضل ہے۔

10۔تعجب کے وقت سبحان الله کہنا سنت ہے۔ والله اعلم بالصواب۔

حدیث نمبر: 29

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: “كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدَيْهِ شَعْرَهُ، حَتَّى إذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ، أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، وَكَانَتْ تَقُولُ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ الله ﷺ مِنْ إنَاءٍ وَاحِدٍ، نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعاً”.

(رواه البخاری، کتاب الغسل، باب تخليل الشعر، حتى إذا ظن أنه قد أروى بشرته أفاض عليه، برقم 272273، ومسلم، کتاب الحیض، باب صفة غسل الجنابة، برقم 316، ومسلم، کتاب الحیض، باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة، وغسل الرجل والمرأة في إناء واحد في حالة واحدة، وغسل أحدهما بفضل الآخر، برقم 321)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

ام المومنین سیدہ عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول الله ﷺ جب جنابت کا غسل فرماتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے۔ پھر نماز کے وضو کی طرح کا وضو کرتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے بالوں میں خلال کرتے۔ یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو جاتا کہ آپ نے اپنی جلد کو پانی سے تر کر دیا ہے تو اپنے اوپر تین مرتبہ پانی انڈیلتے پھر اپنا سارا جسم دھوتے اور سیدہ عائشہ نے فرمایا :

’’میں اور رسول الله ﷺ ایک ہی برتن سے نہاتے ہم اس برتن سے ایک ساتھ چلو بھرتے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مفرداث الحدیث:

1: إذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ: جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے ۔

2: يُخَلِّلُ بِيَدَيْهِ شَعْرَهُ: اپنے ہاتھوں سے بالوں میں خلال کرتے ۔

3: إذَا ظَنَّ: غالب رجحان، یقین ہو جاتا ۔

4 : أَفَاضَ عَلَيْهِ : اپنے اوپر انڈیلتے، بہاتے ۔

5: أَرْوَى بَشَرَتَهُ: اپنی جلد تر کر لی ہے ۔ سیراب کر لی ہے ۔

6: سَائِرَ جَسَدِهِ : اپنا پورا جسم ۔

حدیث سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احکام

1:غسل جنابت ضروری ہے خواہ جنابت کا سبب انزال منی ہو یا خلوت کامل۔

2:غسل جنابت میں پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر نماز کی طرح کا وضو کیا جائے، پھر بالوں میں خلال کیا جائے اور پھر باقی سارے بدن کو دھویا جائے۔

3: وہ برتن جس کو پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونا ہے اس کا پہلے پاک و صاف کرنا ضروری ہے جیسے غسل شروع کرنے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے ۔ ابتدا میں ہاتھ دھونا ہاتھوں کی صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے لیے ہے اس کے بعد وضوء کو شروع کرنا اور وضوء میں پہلا عضو چہرہ ہے اور چہرے کے بعد ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے اور وضوء میں ہاتھوں کی ابتدا انگلیوں کے پوروں سے لیکر کہنیوں سمیت ہے۔

4: میاں بیوی کا ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل کرنا جائز ہے۔

5:غسل جنابت کے وقت ابتداء میں وضو کرتے وقت پاؤں نہ دھونا بلکہ غسل کے آخر میں دھونا بھی سنت ہے ۔

6: رسول الله ﷺکی ذاتی و نجی زندگی امت کے لیے ظاہر ہے اور یہ آپ کے خواص میں سے ہے ۔ یہ اس لیے تاکہ امت آپ ﷺ کے عمل کے مطابق اپنے اعمال کر سکیں۔

7: رسول الله ﷺ کے ہر عمل کا امت کے لیے شریعت ہونے کا ثبوت الا یہ کہ آپ کے کسی عمل کی تخصیص ثابت ہو۔

8: رسول الله ﷺکی زندگی کو تفصیل کے ساتھ الله نے محفوظ بنایا اور یہ بھی آپ ﷺ کے خواص میں سے ہے کیونکہ دنیا میں ایسا کوئی نہیں جس کی اس طرح زندگی محفوظ ملتی ہو۔

9: صحابہ کرام کا آپ ﷺ کے ہر عمل کو بغور اور باریک بینی سے دیکھنا اور پھر اس کو اسی طرح بیان کر دینا تاکہ باقی امت آپ کے عمل کو مشعل راہ بناسکے۔

10: خواتین کا معلمہ بننا ( شریعت کی حدود و قیود کے ساتھ ) درست ہے جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ وغیرہ تھیں۔ والله اعلم با الصواب

٭٭٭

مولانا حفیظ اللہ کے بھائی محمد سمیع اللہ وفات پا گئے

مولانا حفیظ اللہ المدنی کو صدمہ تمام احباب اور علمائے کرام کی تعزیت اور دعائے خیر۔ مدیر مسؤل ماہنامہ صراط مستقیم برمنگھم ونائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی کے بڑے بھائی محمد سمیع اللہ خان مختصر علالت کے بعد حیدر آباد دکن میں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحوم انتہائی خلیق اور باکردار شخص تھے، ان کے اچانک رخصت ہونے سے خاندان کو بڑا صدمہ ہوا ہے، مرحوم، زوجہ محترمہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ امیر جمعیت مولانا محمد ابراہیم میرپوری، ناظم اعلیٰ حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی، حافظ عبد الاعلیٰ درانی، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری عبد السلام عابد، حافظ عبد الودود، مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا شفیق الرحمٰن شاہین، ڈاکٹر خرم بشیر آمین، ڈاکٹر صہیب حسن، عبد الرحمٰن قریشی، عابد محمود جنجوعہ، آصف زرگر، ڈاکٹر محمد شبیر چوہدری، برادرتفضل حسین، حاجی محمد شرافت رحمانی، حافظ محمد اشرف رحمانی، برادر عجائب خان، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور برطانیہ اور بیرون برطانیہ سے بہت سے اقارب واحباب وعمری اور مدنی برادران نے مولانا المدنی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم مرحوم بھائی کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین

تبصرہ کریں