عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 11) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر: 20

عَنْ أَبِيْ مُوْسَى الْأَشْعَرِيِّ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ يَسْتَاكُ بِسِوَاك رَطْبٍ، قَالَ: وَطَرَفُ السِّوَاك عَلَى لِسَانِهِ، وَهُوَ يَقُوْلُ: «أُعْ، أُعْ» وَالسِّوَاكُ فِيْ فِيْهِ، كَأنَّهُ يَتَهَوَّع.

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو موسی اشعری بیان فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ تازه مسواک کر رہے تھے اور مزید فرمایا کہ رسول الله ﷺ کی مسواک کا کنارہ آپ کی زبان مبارک ( حلق کے قریب ) پر تھا اور آپ مسواک کی وجہ سے آغ أغ کہہ رہے تھے اور مسواک آپ کے منہ مبارک میں تھی گویا کہ آپ قے کر رہے ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1: أَتَيْتُ : میں آیا ۔

2: طَرَفُ : کناره

3: لِسَانِ: زبان

4 : يَسْتَاكُ: وہ مسواک کرتا ہے ۔

5: يوا رظ : تروتازه مسواک ۔

6: أغ، أغ : یہ وہ آواز ہے جو قے کرنے والے کے منہ سے نکلتی ہے ۔

7: يتوغ آواز کے ساتھ قے کرنا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل:

1. صحابی رسول کا رسول الله ﷺ کے پاس تشریف لانا۔

2. صحابی رسول کا رسول الله ﷺ کے اس عمل کا ذکر کرنا جو انہوں نے دیکھا۔

3. صحابی رسول کا رسول الله ﷺ کے عمل کو انتہائی غور سے دیکھنا یہاں تک کہ مسواک کے تازہ اور پرانی ہونے کو بھی دیکھنا اور پھر جیسے دیکھا ایسے ہی بیان کیا۔

4. کسی کی موجودگی میں مسواک کرنا جیسا کہ رسول اللهﷺ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری کی موجودگی میں کی۔

5. رسول الله ﷺ کے ہر عمل کا دین ہونا۔

6. الله تعالی نے رسول الله ﷺ کے ہر عمل کو محفوظ رکھا۔

7. تازه مسواک کرنا اگرچہ خشک مسواک بھی کی جاسکتی ہے مگر تازه مسواک کے فوائد زیادہ ہیں تازه مسواک سے منہ کی صفائی بہتر ہوتی ہے، مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں اور منہ تروتازہ اور خوشبودار رہتا ۔

8. دانتوں کے ساتھ ساتھ زبان اور منہ کے باقی حصے کی بھی مسواک سے صفائی کرنا۔

9. مسواک کرنے میں مبالغہ کرنا یہاں تک کہ قے کی طرح کی آواز نکلے۔ اور یہ کیفیت تبھی ہوتی ہے جب مسواک حلق کے قریب تک کی جاۓ۔

10. طہارت و صفائی کا بہت زیادہ اہتمام کرنا۔

حدیث نمبر: 21

عن المغيرةِ بنِ شُعبةَ رَضِيَ اللهُ عنهُ قالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم فِيْ سَفَرٍ، فَأَهْوَيْتُ لأَنْزِعَ خُفَّيْهِ. فقالَ: «دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهمَا طَاهِرَتَيْنِ» فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.

(رواه البخاري، کتاب الوضوء، باب إذا أدخل رجليه وهما طاهرتان، برقم 206، واللفظ له، ومسلم، کتاب الطهارة، باب المسح على الخفين، برقم 79- (274))

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تھا پس میں جھکا تاکہ آپ ﷺ کے موزے اتاروں آپ ﷺ نے فرمایا:

’’انہیں چھوڑیئے رہنے دیجئے میں نے اپنے پاؤں طہارت یعنی وضوء کی حالت میں داخل کئے ہیں۔ تو پھر آپ ﷺنے ان دونوں موزوں پر مسح کیا۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: فِيْ سَفَرٍ: ایک سفر میں ۔

2 : فَأَهْوَيْتُ : میں جھکا ۔

3: لأَنْزِعَ: تاکہ میں اتاروں ۔

4 : خُفَّيْهِ : آپ کے دونوں موزے ۔

5: دَعْهُمَا : ان دونوں کو چھوڑیئے۔

6: عَلَيْهِمَا : ان دونوں پر

7: مَسَحَ: مسح کیا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل:

1. صحابہ کرام کا سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ رہنا اور آپ کی ضرورت و خدمت کے وقت اپنے آپ کو پیش کرنا یہ صحابہ کرام کی رسول الله ﷺ کے ساتھ کمال محبت و احترام کی نشانی ہے اور صحابہ کرام اس کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔

2. صحابہ کرام کا رسول الله ﷺ کے ہر عمل کو دین سمجھنا ، اس کو یاد رکھنا ، اس پر عمل کرنا اور اس کو بیان کرنا۔

3. موزوں پر مسح کرنا مشروع و مسنون ہے بشرطیکہ وہ وضوء کر کے پہنے گئے ہوں۔ یہی حکم راجح قول کے مطابق جرابوں کے متعلق بھی ہے۔ راجح قول کے مطابق موٹی اور باریک جرابوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ والله اعلم۔

4. مسح ایک ہاتھ سے ایک ہی بار موزے کے صرف اوپر والے حصے پر کرنا مشروع ہے موزے کے نچلے حصے پر مسح نہیں کیا جاۓ گا۔

5. بظاہر عقل اور وحی کے آپس میں مخالف ہونے کی صورت میں وحی پر عمل کیا جاۓ گا اور عقل کو چھوڑ دیا جائے گا۔ جیسا کہ بظاہر عقل کے مطابق موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا چاہیے۔

6. بظاہر سنت ثابتہ اور قرآن مجید میں مخالفت کو حقیقی مخالفت نہیں سمجھا جاۓ گا بلکہ اس کو عام و خاص یا مطلق و مقید وغیرہ سمجھا جاۓ گا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں وضوء میں پاؤں کے دھونے کا حکم ہے اور حدیث میں موزے پہنے ہونے کی صورت میں ان پر مسح کی رخصت ہے۔

7. ثابت شدہ حدیث بھی اسی طرح دین ہے جس طرح کہ قرآن مجید۔

8. علماء، فضلاء اور بزرگوں کی خدمت مستحب عمل

حدیث نمبر :22

عنْ حذيفةَ بنِ اليَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عنهُمَا قالَ: كنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. مُخْتَصَرٌ.

(رواه البخاري، کتاب الوضوء، باب البول قائماً وقاعدا، برقم: 224، ومسلم، کتاب الطهارة، باب المسح على الخفين، برقم 273)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا حذیفہ بن یمان بیان فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا آپ نے پیشاب کیا اور وضوء کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا :یہ حدیث یہاں مختصر بیان کی گئی ہے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1: بَالَ: اس ( آپﷺ) نے پیشاب کیا ۔

2 : تَوَضَّأَ : اس ( آپ ﷺ) نے وضو کیا ۔

3: مَسَحَ : اس ( آپﷺ) نے مسح کیا ۔

4 : عَلَى خُفَّيْهِ: اپنے دونوں موزوں پر۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل

1. کسی کی موجودگی میں پردے کے اہتمام کے ساتھ قضائے حاجت یعنی پیشاب کرنا جائز ہے۔

2. کسی ایسی جگہ قضائے حاجت کرنا جائز ہے جہاں بیٹھنا مشکل ہو۔

3. بعض وجوہات کے پیش نظر کھڑے ہو کر قضائے حاجت کرنا جائز ہے۔ البتہ عام حالات میں بیٹھ کر ہی قضائے حاجت کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللهﷺ کا یہی معمول تھا۔

4. قضائے حاجت جب ہو تو اسے جتنا جلدی ممکن ہو اس سے فراغت حاصل کرنی چاہیے۔ قضائے حاجت میں تاخیر کرنے کے طبی نقصانات ثابت ہیں۔

5. رسول الله ﷺ کا ہر عمل دین ہے حتی کہ قضاۓ حاجت کو پورا کرنے کے آداب اور اس سے طہارت وغیرہ کی۔ رسول الله ﷺ نے صحابہ کرام کو تعلیم دی اور صحابہ کرام ﷺنے اس کو یاد رکھا، محفوظ کیا اور امت تک پہنچا دیا۔

6. رسول الله ﷺ ہر حیثیت سے تمام امت کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

7. قضائے حاجت نواقض الوضوء یعنی وضوء کو توڑنے والے اسباب میں سے ہے۔

8. نماز کا وقت نہ بھی ہو تب بھی وضوء کرنے کی فضیلت۔

9. وضوء میں موزوں پر مسح کرنا مسنون و مشروع ہے بشرطیکہ کہ ان کو حالت وضوء میں پہنا ہو۔ حالت وضوء میں موزوں کو اتارنا اور پھر اسی وضوء کی حالت میں دوبارہ پہن لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ایسی حالت میں وضوء ٹوٹنے کے بعد نیا وضوء کرتے وقت موزوں کو اتار کر پاؤں دھونے ضروری نہیں ہیں بلکہ ان پر مسح کافی ہے۔

10. مقیم ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین راتوں کی مدت تک موزوں پر مسح کرسکتا ہے

11. بشرطیکہ ان کو حالت وضوء میں پہنا ہو اور ایسی حالت میں ان کو نہ اتارا ہو جب وہ حالت وضوء میں نہیں تھا۔

یہ ایک طویل حدیث ہے جس کا ایک مختصر حصہ صاحب کتاب نے یہاں بیان کیا گیا ہے جو باب یعنی موزوں پر مسح سے متعلق ہے ۔ وہ طویل حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ میں مختلف الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی امام بخاری ﷫صحیح بخاری کی کتاب الوضوء میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں۔۔۔

عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: ” رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى ، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ ، فَبَالَ ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَجِئْتُهُ ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ “

’’سیدنا حضرت حذیفہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ) میں اور رسول الله ﷺ جا رہے تھے کہ ایک قوم کی کوڑی ( ایسا ڈھیر جہاں کوڑا پھینکا جاتا ہے ) پر (جو) ایک دیوار کے پیچھے (تھی) پہنچے۔ تو آپ ﷺ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح ہم تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے۔ پھر آپﷺنے پیشاب کیا اور میں ایک طرف ہٹ گیا۔ تب آپ ﷺ نے مجھے اشارہ کیا تو آپ ﷺ کے پاس (پرده کی غرض سے) آپﷺ کی ایڑیوں کے قریب کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺقضائے حاجت سے فارغ ہو گئے۔ ‘‘

تبصرہ کریں