عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 8) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر : 17

عن أبِي هريرة رَضِي الله عَنْهُ عن النبيﷺ قال: « لَوْلاَ أنْ أشُقَّ عَلَى أمتي لأمَرْتُهُمْ بِالسَّوَا كِ مَعَ كُلِّ وُضوءٍ عِنْدَ كُل صَلاةٍ »

(رواه البخاري، کتاب الجمعة، باب السواك يوم الجمعة، برقم 887، وفي كتاب التمني، باب ما يجوز من اللو، برقم 7240، ومسلم، کتاب الطهارة، باب السواك، برقم 252، واللفظ له، وفي رواية: «لولا أن أشق على المؤمنين»)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو ہريره بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت پر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ ‘‘

مفرداث الحديث:

لَوْلاَ : اگر نہ ۔ یہ کلمہ پہلے کے وجود کی بنا پر دوسرے کی نفی پر دلالت کرتا ہے ۔

2۔ أنْ أشُقَّ : کہ میں مشقت ڈالوں۔

عَلَى أمتي : اپنی امت پر ۔

لأمَرْتُهُمْ : میں ضرور انہیں حکم دیتا ۔

بِالسَّوَا كِ: مسواک کرنے کا ۔

مَعَ كُلِّ وُضوءٍ : ہر وضوء کے ساتھ ۔

عِنْدَ كُل صَلاةٍ : ہر نماز کے وقت ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

مسواک اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے سے دانتوں وغیرہ کو صاف کیا جاتا ہے، برش بھی مسواک ہی ہے مگر ہر وضوء کے ساتھ اس کو کرنا انتہائی مشکل عمل ہے اور جو فوائد لکڑی کی مسواک میں ہیں وہ برش میں نہیں ہیں۔ خصوصاً تازی مسواک کثیر الفوائد چیز ہے۔ البتہ ہاتھ کی انگلی سے صفائی سے مسواک کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی کیونکہ انگلی کو بطور مسواک بنانے کی کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔ والله اعلم

اس حدیث مبارکہ میں امت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی محبت، شفقت اور ہمدردی کا دلکش منظر سامنے آتا ہے۔ نہایت حکیمانہ انداز میں مسواک کی اہمیت کو اجاگر کر دیا گیا کہ

اس کی افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے امت کا ہر فرد از خود مسواک کرنے کی عادت کو اپنائے۔ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہوئے مسواک کا حکم اس لئے نہیں دیا کہ اس سے امت مشکل میں مبتلا ہو جاتی۔ البتہ انداز بیان ایسا اختیار کیا گیا کہ لوگوں کے سامنے مسواک کی اہمیت و افادیت واضح ہو جائے۔

1۔مسواک کرنا مستحب اور وضو کی سنتوں میں سے ہے۔

2۔ وضوء کے وقت مسواک کرنا زیادہ افضل ہے۔

3۔ مسواک کرنے سے منہ کی صفائی ستھرائی ہوتی ہے، جس سے منہ اور پورا جسم صحت و تندرست رہتا ہے، اس سے منہ کی بدبو ختم ہوتی ہے اور منہ سے خوشبو آتی ہے، مسواک کرنے سے ثواب ملتا ہے ۔ مسواک کرنا ، مسنون عمل ہے اس سے اتباع رسول کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

4۔ اسلام میں طہارت و پاکیزگی کی اہمیت اور اس کی تعلیم کا حکم۔

5۔ جس نماز کے لئے وضو میں مسواک استعمال کی جائے وہ زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔

6۔ مسواک کو فرض اس لئے نہیں کیا گیا تاکہ امت مشقت میں مبتلا نہ ہو جائے۔

7۔ نبی کریم ﷺاپنی امت کے حق میں کمال درجے مہربان، شفیق اور ہمدرد تھے۔

6۔ اسلامی شریعت آسان ہے مشکل نہیں اور نہ اس میں کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی گئی ہے۔

8۔ اس حدیث مبارکہ سے اہل علم نے ایک اصول اخذ کیا ہے کہ مفاسد کو دور کرنا مصالح کو حاصل کرنے پر مقدم ہے۔ مسواک کرنا انتہائی مفید عمل ہے مگر اگر یہ فرض ہوتا تو نہ کرنے کی صورت میں بڑا گناه و فساد ہوتا۔

حدیث نمبر :18

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.» (رواه البخاري، کتاب الوضوء، باب السواك، برقم 245، واللفظ له، وكتاب الجمعة، باب السواك يوم الجمعة، | برقم 889، ومسلم، کتاب الطهارة، باب السواك، برقم 47۔(255))

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا حذیفہ بن یمان نے فرمایا کہ رسول اللهﷺ جب رات کو نیند سے بیدار ہوتے تو اپنے منہ میں مسواک ملتے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

مفردات الحديث:

إذَا قَامَ : جب اٹھتے، بیدار ہوتے ۔

يَشُوصُ : رگڑتے، ملتے ۔

فَاهُ : اپنا منہ ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

نبی کریم ﷺ ہر وقت ہر طرح کی صفائی و ستھرائی اور پاکیزگی کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔ حتی کہ جب آپ رات کو نیند سے بیدار ہوتے تو منہ کی صفائی کے لیے مسواک کا ستعمال کیا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ کثیر الفوائد چیز ہے اور ہمیں بھی اس عمل کو اختیار کرنے کی رغبت دلائی گئی۔

1۔نیند سے بیداری کے بعد مسواک کا استعمال مشروع ہے اس سے منہ میں نظافت پیدا ہوتی ہے۔ دانت اور مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں اور مسواک سے معدے پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان سب کو ملائےجائے تو مجموعی صحت و تندرستی میں مسواک کا بڑا عمل دخل ہے۔

2۔ مسواک کا استعمال الله تعالیٰ کی رضا اور منہ کی پاکیزگی کا باعث بنتا ہے۔

3۔ ہر وقت ہر حال میں پاکیزگی اور صفائی و ستھرائی کو اختیار کرنا سنت ہے۔

تبصرہ کریں