عمدۃ الأحکام؛ کتاب الطھارۃ:طہارت و پاکیزگی کی کتاب (قسط 7) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

حدیث نمبر: 15

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الحارث بن رِبْعِيِّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ:‏ «لَايُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ وَلاَ يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلاَءِ بِيَمِينِهِ وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ»

(رواه البخاری، کتاب الوضوء، باب لا يمسك ذكره بيمينه: برقم 154، ومسلم، کتاب الطهارة، باب النهي عن الاستنجاء باليمين، برقم 267، واللفظ له)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو قتاده حارث بن ربعی انصاری بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا ذَکر ( شرم گاه ) نہ پکڑے۔ نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے اور نہ ہی پانی پیتے وقت برتن میں سانس لے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

مفردات الحديث:

1۔ لَايُمْسِكَنَّ: ہرگز نہ پکڑے۔

2۔ ذَكَرَهُ: اپنا آلہ تناسل، شرم گاه

3۔ بِيَمِينِهِ : اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ۔

وَهُوَ يَبُولُ: اس حال میں کہ وہ پیشاب کرتا ہے۔

وَلاَ يَتَمَسَّحْ : اور وہ گندگی کو دور کرنے کے لیے ہاتھ نہ پھیرے مراد یہ کہ دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے ۔

وَلاَ يَتَنَفَّسْ: اور نہ سانس لے ۔

7۔ الإِنَاءِ: برتن۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احكام :

اسلام کی جامعیت کہ اس نے عبادات کے ساتھ اچھی تہذیب و تمدن اور آداب و اخلاق بھی سکھائے۔ اس حدیث میں رسول اقدس ﷺ نے اُمت کو تین قیمتی نصیحتیں کی ہیں۔

پہلی نصیحت یہ ہے کہ

کوئی شخص پیشاب کرتے وقت اپنا آلہ تناسل دائیں ہاتھ سے نہ پکڑے یہی حکم دبر اور خواتین کے لیے بھی ہے کہ وہ استنجاء کرتے وقت اور عام حالات میں بھی اپنی شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ پکڑیں ؍ چھوئیں بلکہ ضرورت کے وقت اس کام کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کریں ۔

دوسری نصیحت یہ ہے کہ

بول و براز کے بعد صفائی اپنے دائیں ہاتھ سے نہ کرے کیونکہ دایاں ہاتھ پاكيزه امور مثلا کھانا پینا اور تسبیح وغیرہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ہونا چاہیے اور اس میں دائیں ہاتھ کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے الله تعالی نے بعض چیزوں کو بعض چیزوں پر فضیلت دی ہے ۔

تیسری نصیحت یہ ہے کہ

امت کو یہ کی کہ پانی یا کوئی بھی مشروب پینے کے دوران برتن میں سانس نہ لے یہ عمل صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے اور صحت وتندرستی بہت بڑی الله کی نعمت ہے اس کا صحیح خیال رکھنے کا حکم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو ہر اچھا و بہتر اور مفید کام کرنے کی تلقین کی اور نقصان دہ کاموں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا۔ امت میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی بھرپور طاقت سے رسول اللهﷺ کی تعلیمات پر عمل کرے کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی ہے۔

حدیث نمبر: 16

عَنِ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّﷺ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ:

«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَايَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ»‏ فَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ:‏ «لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا»

(رواه البخاري، كتاب الوضوء، باب من الكبائر أن لا يستتر من بوله، برقم 216، واللفظ له برقم 218، ومسلم، کتاب الطهارة، باب الدليل على نجاسة البول، ووجوب الاستبراء منه، برقم 292)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا حضرت عبد الله بن عباس سے روایت ہے فرمایا :نبی کریم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے دونوں کو کسی بڑے گناه ( عام لوگوں کی نظر سے بڑے نہیں مگر درحقیقت وہ بڑے ہی ہیں ) میں عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ان میں سے ایک پیشاب کرتے ہوئے اس کے چھینٹوں سے بچتا نہیں تھا اور دوسرا چغل خور تھا آپ ﷺ نے ایک تروتازہ ٹہنی لی اسے دو حصوں میں چیرا اور ہر دو قبر پر ایک ایک ٹہنی گاڑ دی۔‘‘

صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول الله ﷺ آپ نے ایسا کیوں کیا آپﷺ نے فرمایا:

’’ ہو سکتا ہے جب تک یہ خشک نہ ہوں تب تک ان دونوں کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے۔ ‘‘

(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

مفردات الحديث

1۔ مَرَّ النَّبِيُّﷺ: نبی ﷺ گزرے۔

2 ۔قَبْرَيْنِ : دو قبریں۔

3۔ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ: بلاشبہ ان دونوں کو عذاب دیا جا رہاھے ۔

4۔ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ: کسی بڑے گناہ کی پاداش میں عذاب نہیں دیا جا رہا ۔ کبیر کی تفصیل حدیث کی شرح میں ملاحظہ فرمائیں۔

5 ۔ لَايَسْتَتِرُ: پیشاب کے چھینٹوں سے بچتا نہیں۔

6۔ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ : چغل خوری کرتا ہے۔

7۔ جَرِيدَةً : کھجور کی ٹہنی ۔

8 ۔ رَطْبَةً: تروتازه ۔

9۔غَرَزَ : گاڑ دیا ۔

10۔ فَشَقَّهَا: دونوں کو چیرا ۔

11۔مَا لَمْ يَيْبَسَا: جب تک دونوں خشک نہ ہوں۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1. دوران سفر وغیرہ جب بھی مناسب موقع و محل ہو اچھی چیز کی تعلیم و ترغیب دینا اور گناہوں سے بچنے کی ترهیب دینے کی ترغیب۔ قبرستان سے گذرنے یا راستہ ہونے کا جواز۔

2. اثبات عذاب قبر۔

3. قبر کے احوال کا مخفی ہونا اور بغیر وحی الٰہی کے حواس خمسہ کے ذریعے قبر کے حالات کا معلوم نہ ہونے کا ثبوت اور دین میں وحی الٰہی صرف نبی و رسول کا خاصہ ہے کیونکہ آپ کے اصحاب اعلی درجے کے اولیاء الله تھے مگر کسی کو قبر میں موجود اشخاص کے عذاب کا علم نہ ہوسکا تاوقتیکہ پیغمبر نے بتایا۔

4. کسی بات کا علم نہ ہو تو علم والے سے پوچھنا جیسا کہ صحابہ کرام نے رسول الله ﷺ سے کھجور کی ٹہنیوں کے گاڑنے کا سبب پوچھا۔

5. فضول اور بے مقصد سوال نہ کرنے کی تعلیم وترغیب کہ صحابہ کرام نے ان دو افراد کے نام نہیں پوچھے جن کی دو قبریں تھیں۔

6. صاحب علم سمیت ہر ایک کو دوسرے کے گناہوں کی پردہ پوشی کرنی چاہیے الا یہ کہ کوئی خود سرعام گناہ کرتا ہو یا حد سے تجاوز کرنے والا ہو یا اس کے گناہ سے کسی دوسرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کا گناہ اور نام وغيره عام و مشہور کیا جانا چاہیے ۔

7. اس حدیث سے اصل مسئلہ دو گناہوں کی سنگینی بتانا مقصود تھی نہ کہ ٹہنیاں لگانا ۔ دونوں گناہوں سے بچنا کوئی بڑا مشکل کام نہیں بلکہ آسان ہے اسی لیے آپ نے فرمایا وما يعذبان في كبير. کہ کسی بڑے کام و گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا تھا اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ گناہ صغیرہ ہیں بلکہ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ لوگ ان گناہوں کو بڑا نہیں سمجھتے یا یہ ہے کہ ان سے بچنا کوئی بڑا مشکل عمل نہیں ہے ۔والله اعلم۔

8. گناہوں کی صغیر و کبیر کے لحاظ سے تقسیم کا ثبوت۔

9. پیشاب کے چھینٹوں سے بچنا اور چغل خوری نہ کرنا واجب و فرض ہے اور یہ بھی ان کے کبیرہ گناه | ہونے کی دلیل ہے کیونکہ واجب کا تارک کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

10. رسول الله ﷺ سے ان دو قبروں کے علاوہ اپنی پوری زندگی کسی بھی دوسری قبر پر یہ عمل نہیں کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل عام نہیں ہے بلکہ یہ عمل رسول الله ﷺ کے ساتھ انہی دو قبروں کے ساتھ خاص تھا۔ آپ کی زندگی میں اور زندگی کے بعد صحابہ کرام اجمعین سے یہ عمل ثابت نہیں ہے

کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ قبر میں کس کو عذاب ہو رہا ہے اور کس کو نہیں ہمارے معاشرے میں آج کل اس عمل کا بہت رواج ہوگیا ہے بلکہ اب تو غیر مسلموں کی مشابہت میں ڈھیروں پھول وغیرہ رکھے جاتے ہیں اور ٹہنی کی جگہ بڑے بڑے پودوں اور درختوں نے لے لی بلکہ اب مسلمانوں کے قبرستان میں happy birthday کے غبارے اور چھنڈے وغیرہ بھی نظر آنے لگ گئے ہیں۔ اور بظاہر مسلمانوں کی قبروں اور کفار کی قبروں میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُوْن

مسلمانوں کی غلط روش کی وجہ سے اس حدیث مبارکہ کی اصل تعلیم کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچنا اور چغلی نہ کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں رہی اور نہ اس سے بچنے کی کی کوشش کی جاتی ہے بس قبروں پر خوب پودے و پھول رکھے اور اگائے جارہے ہیں جو دراصل مزید گناہ اور عذاب کا سبب ہو سکتے ہیں ۔

الله تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح سمجھ و عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭٭٭

تبصرہ کریں